۔27 رمضان- یوم آزادی

Print Friendly, PDF & Email

27رمضان (14اور 15اگست) 1947ء کی نصف شب بارہ بجے جب ریڈیو سے انگریزی میں ظہور آذر اور اردو میں مصطفیٰ ہمدانی نے یہ اعلان کیا کہ ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے‘‘ تو ساری قوم خوشیوں اور جذبوں سے جھوم اٹھی۔ پھر مولانا زاہد قاسمی نے عظیم کامیابی کی مناسبت سے سورۃ الفتح کی پہلی چار آیات کی تلاوت اور ترجمہ کی سعادت حاصل کی۔ سورج طلوع ہونے پر پہلے یومِ آزادی کو 31 توپوں کی سلامی دی گئی۔ 27رمضان، 15اگست کو پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حلف برداری ہونا تھی۔ یہ تقریب گورنمنٹ ہائوس کے وسیع کورٹ یارڈ اور سرسبز لان میں منعقد ہوئی۔ جہاں نئی کابینہ کے اراکین کے علاوہ بہت سی اہم شخصیات اور سفارتی نمائندے بھی موجود تھے۔ قائداعظم پورے نو بجے اپنے تین اے ڈی سی کے ساتھ تشریف لائے۔ اسٹیج پر روسٹرم کے پاس دو کرسیاں رکھی تھیں، ایک گورنر جنرل کے لیے، دوسری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر میاں عبدالرشید کے لیے، جنہیں حلف لینا تھا۔ ٹی وی اینکرز اور کالم نگاروں نے خاکے میں سنسنی اور رنگینی کا رنگ بھرنے کے لیے یہ افسانہ تخلیق کرلیا ہے کہ قائداعظم آتے ہی کرسی پر بیٹھ گئے۔ سر عبدالرشید مسکرائے اور کہا کہ یہ کرسی گورنر جنرل کے لیے مخصوص ہے، آپ نے ابھی حلف نہیں اٹھایا، اس لیے آپ ابھی نہیں بیٹھ سکتے۔ قائداعظم نے کہا I AM VERY SORRY اور اٹھ کر دوسری کرسی پر بیٹھ گئے۔ تحقیق کی تو پتا چلا کہ سارا واقعہ افسانہ ہے جس کا آغاز روزنامہ احسان کے عبدالقدیر رشک نے 1999ءمیں کیا تھا۔ انٹرویوز، کاغذات، کتابیں اور یادداشتیں پڑھیں تو جھوٹ کا بھانڈا پھوٹا اور سچ سامنے آیا۔ اللہ بھلا کرے ایک مہربان کا کہ انہوں نے مجھے ویڈیو بھجوا دی جو حکومت پاکستان کے محکمہ تعلقاتِ عامہ نے اس تقریب کی کوریج کے لیے بنائی تھی۔ اسے کئی دفعہ دیکھ چکا ہوں۔ قائداعظم نو بجے تشریف لاتے ہیں، دو اے ڈی سی آگے ایک پیچھے چل رہا ہے۔ مہمان کرسیوں پر تشریف فرما ہیں۔ قائداعظم کے آتے ہی سارے مہمان احتراماً کھڑے ہوتے ہیں۔ قائداعظم انہیں اپنے مخصوص انداز میں سلام کرتے ہوئے ایک اے ڈی سی کے ساتھ روسٹرم یا اسٹیج پر تشریف لاتے ہیں اور کھڑے رہتے ہیں۔ چیف جسٹس بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ تقریب کا آغاز ہوتا ہے تو مسلم لیگی کارکن الٰہی بخش کو تلاوت کے لیے بلایا جاتا ہے۔ لاثانی فتح اور تاریخی کامیابی کے اس موقع پر الٰہی بخش سورۃ النصر کی تلاوت کرتے ہیں جو سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے مطابق نازل ہونے والی آخری سورۃ تھی۔ تلاوت کے فوراً بعد کابینہ کے سیکرٹری جنرل چودھری محمد علی نے حکم نامہ پڑھا، حلف برداری شروع ہوگئی۔ اگرچہ حلف برطانوی حکومت کی طرف سے ملا تھا لیکن قائداعظم نے خود اپنے ہاتھ سے اس میں کچھ ترامیم کی تھیں۔ قائداعظم پر برطانیہ کی وفاداری کے حلف کا الزام لگانے والوں کو علم ہی نہیں کہ قائداعظم کے حلف کے آخری الفاظ یہ تھے ’’میں پاکستان کے بننے والے آئین کا وفادار رہوں گا‘‘۔ میرے سامنے ویڈیو چل رہی ہے اور قائداعظم کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں۔ اس کے بعد قائداعظم نے نئی کابینہ سے حلف لیا اور پھر اسٹیج سے نیچے آکر پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔ جھنڈا فضا میں پھیلا تو اسے 31توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس کے بعد گورنر جنرل کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ قائداعظم کے حلف اٹھانے تک سارے مہمان کھڑے رہے۔ حلف اٹھانے کے بعد قائداعظم کرسی پر بیٹھے تو حاضرین بھی بیٹھ گئے۔ اس تحقیق کے بعد یہ طے ہوگیا کہ
1۔ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حلف برداری کی تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔
2۔ قائداعظم نے معمول کے حلف کے ساتھ اپنے مذہب اور مستقبل کے آئین پاکستان سے وفاداری کا عہد کیا۔
3۔ قومی پرچم قائداعظم نے خود لہرایا۔ یہ دعویٰ کہ پرچم کشائی مولانا شبیر احمد عثمانی سے کروائی گئی تھی، بالکل بے بنیاد ہے۔
4۔ قائداعظم کا کرسی پر بیٹھنا اور اٹھنا محض افسانہ ہے۔
۔(ڈاکٹر صفدر محمود۔ روزنامہ جنگ، 19 مئی 2020ء)۔

ماہ رمضان اور مطالعہ قرآن

اب حالیہ رمضان میں ایک باذوق دوست کی جانب سے شیئر کردہ دو مفید مشورے۔ یہ صاحب مطالعے کے بڑے شائق ہیں، بچپن ہی سے کتابیں پڑھنے سے دلچسپی رہی، مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں پڑھ رکھی ہیں، مناسب سی ذاتی لائبریری بھی بنا رکھی ہے۔ ہماری دوستی کی بنیادی وجہ کتاب دوستی کا تعلق ہے۔ پچھلے سال کی بات ہے، رمضان کے انہی دنوں میں ایک روز ملنے آئے، بڑی دل گرفتی سے کہنے لگے: یار میں چھوٹی عمر سے کتابیں پڑھتا آیا ہوں، افسوس کہ جس کتاب کو سب سے زیادہ پڑھنا چاہیے تھا، اس سے غافل رہا۔ پھر بتایا کہ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا ہے، ایک اچھوتا تجربہ ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا بھی شاید ممکن نہیں۔ انہیں اس پر باقاعدہ دکھی پایا کہ زندگی کا بڑا حصہ ضائع کردیا اور قرآن کی طرف اتنی دیر سے متوجہ ہوئے، حالانکہ جوانی کے زمانے سے اس پر غوروفکر کرنا چاہیے تھا۔ اس سال رمضان میں ہمارے ان دوست نے دو مفید شیئرنگ کی۔ ایک ویب سائٹ بتائی، ای قرآن لائبریری ڈاٹ کام (equranlibrary.com/)۔ اس ویب سائٹ پرقرآن پاک کی پینتیس مشہور تفاسیر موجود ہیں، ان میں مفتی محمد شفیع کی معارف القرآن، مولانا مودودی کی تفہیم القرآن، مولانا اصلاحی کی تدبر القرآن، مولانا شبیر احمد عثمانی کی تفسیر عثمانی، مولانا عبدالماجد دریابادی کی تفسیر ماجدی، ڈاکٹر اسرار احمد کی تفسیر بیان القرآن، مفتی تقی عثمانی کی آسان قرآن سمیت مصری عالم دین سید قطب کی ظلال القرآن اور کلاسیکل تفاسیر جیسے تفسیر ابن عباس، تفسیر جلالین، تفسیر ابن کثیر وغیرہ شامل ہیں۔ نہایت آسانی کے ساتھ انہیں پڑھا جا سکتا ہے۔ تفاسیر قرآن کے ساتھ صحاح ستہ (مسلم، بخاری، ترمذی، نسائی، ابودائود، ابن ماجہ) کے علاوہ موطا امام مالک، مشکوٰۃ اور مسند احمد بن حنبل بھی شامل ہیں۔ یہ ویب سائٹ جس دوست کو بتائی، اسے پسند آئی۔ دوسری شیئرنگ موبائل ایپس کی تھی۔ قرآن اور حدیث کے حوالے سے کئی عمدہ موبائل ایپس موجود ہیں، جنہیں فری ڈائون لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے دوست کی اولین پسند ”اسلام تھری سکسٹی“ (islam360) ہے۔ یہ بڑی عمدہ ایپ ہے، قرآن پاک ترجمے کے ساتھ اور ضرورت پڑنے پر تفسیری نوٹ کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی اور تقی عثمانی صاحب کی تفاسیر موجود ہیں، خاص بات یہ ہے کہ پندرہ بیس مشہور قاریوں کی آواز میں قرآن سماعت کیا جا سکتا ہے، قاری عبدالباسط سے عبدالرحمٰن السدیس صاحب تک عرب کے نامور قاری صاحبان کی آوازیں موجود ہیں، اردو ترجمہ بھی سنا جا سکتا ہے۔ ہمارے جیسے نالائق بھی اس ایپ سے چند منٹ استفادے کے بعد مداح بن گئے۔ ویسے موبائل کے حوالے سے کئی اور اسلامی ایپس بھی موجود ہیں، اپنے ذوق اور پسند کے مطابق ان سے استفادہ کریں۔
۔(محمد عامر خاکوانی۔ روزنامہ 92نیوز- بدھ 20  مئی  2020ء)۔

Share this: