دسواں قومی مالیاتی کمیشن

Print Friendly, PDF & Email

بلوچستان کے لیے جاوید جبار کی تقرری عدالت میں چیلنج

متحدہ حزب اختلاف کی پریس کانفرنس، تحریک چلانے کا فیصلہ

بلوچستان کے وکلا، سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں نے دسویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ایوارڈ) کے لیے بلوچستان کے نمائندے کے طور پر جاوید جبار کی تقرری پر اعتراض کیا ہے، اور اس تقرری کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن اسلم بھوتانی، اسی طرح بلوچستان ہائی کورٹ میں کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ اور میر عطاء اللہ لانگو سمیت سات وکیلوں نے آئینی درخواست دائر کردی ہے۔ نیز 15 مئی 2020ء کو بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی، پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک، مسلم لیگ (ق) کے صوبائی صدر شیخ جعفر خان مندوخیل، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی سیکرٹری جنرل جمال شاہ کاکڑ، نیشنل پارٹی کے رہنما علی احمد لانگو اور چند دوسرے رہنمائوں و اراکینِ بلوچستان اسمبلی نے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی نمائندگی کے لیے جاوید جبار کی نامزدگی کو مسترد کردیا۔ ان رہنماؤں کے مطابق وفاقی حکومت اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ صوبے کے ان سیاسی رہنماؤں نے اس صورت حال میں عدالتوں سے رجوع کرنے اور تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بلوچستان کے اندر سے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر شدید تحفظات کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ صوبے کی سیاسی جماعتیں حتیٰ کہ بلوچستان حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی اور وفاقی حکومت کی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل بھی معترض ہیں۔ یہ تمام سیاسی حلقے اور رہنما کہتے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ کے ضمن میں بلوچستان کی طرف سے ایسے شخص کو ممبر بنایا گیا ہے جس کا تعلق نہ صوبے سے ہے اور نہ ہی معیشت کے موضوع پر وہ مہارت رکھتا ہے۔ اس نامزدگی کو صوبے کے ساتھ زیادتی قرار دیا گیا ہے، اور یہ کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق آئین میں موجود ہے کہ ہر چھے ماہ بعد اس کا اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد اجلاس کی کارروائی پارلیمنٹ بھجوائی جائے گی، مگر موجودہ وفاقی حکومت نے اس ضرورت کو نظرانداز کررکھا ہے۔ کوئی اجلاس طلب نہیں کیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ آئین کے مطابق وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبوں کا حصہ کم کرنے کے بجائے اس میں مزید اضافہ کرے، اور این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر بلوچستان کے حقوق کا ضامن ہے، اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو عدالت سے رجوع کے ساتھ ساتھ عوامی تحریک بھی چلائی جائے گی۔
15مئی کو وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سیاسی تنقید اور تحفظات سے متعلق اپنا مؤقف ٹویٹر کے ذریعے بیان کیا۔ اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب لوگ الیکشن کے لیے وکیل کرتے ہیں تو انہیں رنگ، زبان اور نہ ہی بلوچستان نظر آتا ہے، این ایف سی کی تقرری پر کچھ حلقوں نے بحث شروع کردی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سوال کیا کہ 2008ء سے 2018ء تک بلوچستان سے این ایف سی کے ممبرکون تھے، معلوم کر کے دیکھ لیں۔ وزیراعلیٰ نے قرار دیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ پہلے سے محفوظ ہے۔ ’’صوبے کے ممبرز کی قومیت دیکھ کر فیصلے نہیں کیے جاتے،البتہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی کتنی بہتری سے معاملات کو سامنے رکھ کر ان پر بحث کرسکتا اور دوسرے فریق کو دباؤ میں لا کر قائل کر سکتا ہے۔‘‘
14مئی کو بلوچستان اسمبلی میں متحدہ حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حزبِ اختلاف نے صدرِ مملکت عارف علوی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کو خطوط لکھ دئیے ہیں جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے موجودہ بلوچستان حکومت سے انہیں چھٹکارا دلوائیں۔ حزبِ اختلاف کے ان رہنماؤں نے کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں درپیش مسائل و مشکلات کو بھی موضوع بنایا ہے۔بہرحال حزبِ اختلاف کی بار بار کی استدعا پر 20 مئی کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ دریں اثناء رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے این ایف سی ایوارڈ کے ضمن یہ مؤقف اپنایا ہے کہ وہ این ایف سی کمیشن کو چیلنج نہیں کررہے بلکہ انہیں جاوید جبار کی تقرری پر اعتراض ہے۔ بقول اسلم بھوتانی ’’بلوچستان کی ایک کروڑ تیس لاکھ آبادی میں کوئی شخص نہیں ملا کہ حکومت کو جاوید جبار کو ادھار میں لینا پڑا!‘‘ بھوتانی کہتے ہیں کہ ایسا کرکے حکومت نے بلوچستان کے عوام کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاوید جبار کی نامزدگی میں وفاقی حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے، بلکہ یہ وزیراعلیٰ کا اختیار ہے کہ وہ کس کو نامزد کرتے ہیں۔ اسلم بھوتانی کہتے ہیں کہ جاوید جبار کو بلوچستان کے زمینی حقائق کا پتا نہیں ہے، لہٰذا وہ بلوچستان کا کیس کیسے لڑیں گے؟

Share this: