کورونا وائرس اورایک مسلمان کا طرزِ عمل

Print Friendly, PDF & Email

غوروفکر کے لیے چند نکات

ارشد احمد بیگ
کورونا وائرس کی موجودہ بیماری کو ایک عالمی وبا قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ادارئہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیدروس ایڈہانوم نے اعلان فرمایا ہے کہ یہ ایک عالمی وبا (پینڈیمک)ہے جس نے دنیا کے بڑے خطے اور بیشتر آبادی کو متاثر کیا ہے۔ کورونا کی اس عالمی وبا کے ساتھ ہی عالمی افق پر ایک لامتناہی بحث کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ ہر خاص و عام اپنی معلومات اور مشاہدات کی بنیاد پر اس پراسرار بیماری پر رائے زنی کرتا نظر آتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ بیماری تو حقیقت ہے مگر بحران مصنوعی ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ دنیا ایک بڑی سازش کا شکار ہوئی ہے۔ کسی کی رائے میں یہ انسانوں کی اپنی بنائی ہوئی مصیبت ہے۔ اور کوئی اسے عذابِ خداوندی قرار دیتا ہے۔ بہرحال حقیقت شاید چند مہینوں میں سامنے آجائے،لیکن اس وقت تکنیکی کے بجائے چند اصولی باتیں پیشِ خدمت ہیں:۔
1۔ اوّلین بات یہ ہے کہ تنگی آسانی، یسرعسر، صحت تندرستی، بیماری سب اللہ کی طرف سے ہے۔ چنانچہ نجات کا راستہ بھی اسی کی چوکھٹ سے وابستہ ہے، اور اسی ہستی کی جانب رجوع ہی میں مسئلے کا حل ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے اور دیکھ کر یہ دعا پڑھے: الحمدللّٰہ الذی عافانی مماابتلاک بہ وفضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا یعنی تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ کو اس چیز سے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی۔۔۔ تو وہ اس مصیبت میں مبتلا نہیں ہو گا“۔ سبحان اللہ۔ الفاظ پر غور فرمایئے۔ کوئی شخص بیماری میں مبتلا ہوا تو وہ تقدیر سے باہر نہیں گیا، اور جو بچ گیا تو اس میں اُس کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اُس نے بہترین حفاظتی اقدامات اختیار کیے تھے اس لیےمحفوظ رہا۔ شفاء وہیں سے ملنی ہے۔ اسباب اپنی جگہ، حالات وہیں سے ٹھیک ہوں گے۔ یوں سمجھیں کہ اگر معاملات کو درست کرنے کا کوئی بٹن ہے تو بہرحال وہ بٹن اُدھر ہی ہے۔
2۔ یاد رکھیے پریشانی حالات سے نہیں، خیالات سے ہوتی ہے۔ ان حالات میں مایوس اور پریشان ہونے کے بجائے مطمئن اور پُرسکون رویہ ہی ایک مسلمان کے شایانِ شان ہے۔ ہم کیا اور کیسے سوچتے ہیں، یہ اہم ہے۔ طرزِ فکر درست ہوگا تو امید کی جاسکتی ہے کہ طرزِعمل بھی درست ہوسکے گا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کا علاج موجود نہ ہو، پس یقین رکھنا چاہیے کہ کورونا بھی لاعلاج مرض نہیں ہے۔ آخر بڑی تعداد میں لوگ شفا یاب بھی ہورہے ہیں۔
3۔ یقیناً یہ عالمی وبا ہے، لیکن اس وقت دنیا میں دیگر کئی بیماریاں ہیں جن کے متاثرین کی تعداد کورونا وائرس سے کہیں زیادہ ہے، اور ان کی شرح اموات بھی بڑھ کر ہے۔ کیا آپ ان کے لیے بھی ایسے ہی پریشان ہوئے ہیں؟ جی نہیں، اس لیے کہ ان بیماریوں کو اس طرح پیش نہیں کیا گیا۔
4۔ عالمی ادارئۂ صحت کے مطابق کورونا وائرس کے متاثرین میں شرح اموات صرف تین اعشاریہ چار فیصد ہے۔ جتنے لوگ اس بیماری سے متاثر ہیں وہ تیزی سے صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں۔ چین جہاں سے یہ بیماری شروع ہوئی، خود اس کی بہترین مثال ہے۔ ووہان میں اب زندگی معمول پر آرہی ہے۔ کیا یہ ایک خوش کن پہلو نہیں ہے!
5۔ حفاظتی اقدامات اختیار کرنا اپنی جگہ بالکل درست ہے، لیکن مایوسی، پریشانی اور خوف و ہراس کا شکار ہوجانا کسی مسلمان کو زیبا نہیں ہے۔ کل کیا ہوگا؟ اور یہ حالات کب ختم ہوں گے؟ اس ڈپریشن اور انگزائٹی سے باہر آنا ضروری ہے۔ اسباب کی دنیا میں اسباب اختیار کے جائیں گے لیکن معاملات اللہ کے سپرد ہی تصور ہوں گے۔ یہی سکون کا راستہ ہے۔ ایک لمحے کو یہ سوچ کر دیکھیے، دوسرے ہی لمحے ہم ذہنی سکون میں آجائیں گے۔
6۔ کورونا وائرس نے جس بڑے پیمانے پر اور جتنی تیزی سے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ دنیا کا حد سے زیادہ تحرّک شاید غیر فطری تھا اور اسے دھیما ہونے اور فطرت سے قریب آنے کی ضرورت تھی۔ مصنوعی طرزِ زندگی اور مادیت کی دوڑ نے کرئہ ارض کو ہر لحاظ سے نقصان پہنچایا۔ کورونا کہیں سے بھی آیا ہے اس سے قطع نظر، قدرت نے حضرتِ انسان کی حد درجہ تیز رفتار زندگی کو یکدم دھیما کردیا۔ یہ اقوام متحدہ کے بس کی بات تو نہیں تھی۔ دنیا میں اب خاموشی کا راج ہے، ہوائی جہاز بند، ٹرینیں بند، بسیں، کاریں بند، فیکٹریاں کارخانے بند۔ اب بے ہنگم شور ہے، نہ فضا میں دھول اور دھواں ہے۔ سیٹلائٹ سے کرئہ ارض اب زیادہ اجلا اور نکھرا نظر آتا ہے۔
7۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ کورونا سے متاثر ممالک میں سرفہرست انتہائی ترقی یافتہ ممالک ہی ہیں۔ آپ کو اس فہرست میں پسماندہ ملکوں کے نام آخری درجوں پر نظر آئیں گے۔ ٹیکنالوجی کے بے سمت استعمال کے نتائج بہرحال بھگتنا ہی ہوں گے۔ آج دنیا کے ان ممالک میں فائیوجی ٹیکنالوجی کی تنصیب پر انہیں زبردست عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ یاد رکھیے ٹیکنالوجی کا بھی ایک ”ایتھیکل پرسپیکٹو“ ہوتا ہے، یہ حفظِ نفس کے کام نہ آئے، حفظِ عقل کو نقصان پہنچائے تو اس کے بداثرات ظاہر ہو کر ہی رہیں گے۔
8۔ سلام دعا کا انداز تبدیل ہوگیا، لباس، پوشاک میں تبدیلی آگئی، کھانے پینے کی اشیاء پر نظرثانی ہورہی ہے، طہارت و نظافت کے معیارات مرتب کیے جارہے ہیں۔ آج ”مسلم وے آف لائف“ کا تصور یورپی ممالک میں مقبول ہورہا ہے۔
9۔ آج پوری دنیا میں ہی لاک ڈاؤن ہے، یورپی ممالک نے ایک دوسرے کے لیے اور امریکہ نے یورپ کےلیے اپنی سرحدیں بند کردی ہیں۔ مگر یہ لاک ڈاؤن اختیاری اور متعین مدت کے لیے ہے۔ کل جب اسی زمین کے ایک خطے میں لاک ڈاؤن ہوا تو دنیا نے اس پر توجہ نہیں دی تھی، یہ لاک ڈاؤن جبری تھا اور وہاں آج تک ظالموں نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔ اب اس لاک ڈاؤن کو وہاں تین سو دن ہورہے ہیں۔ کشمیر میں، اور ایسی کیفیت دنیا میں جہاں جہاں بھی ہے، کرب و بلا میں دہائی دیتے ہاتھ تو اٹھے ہوں گے، مہذب دنیا میں نہ سہی مگر عرش پر ان کی بپتا تو سنی گئی ہوگی۔ لاک ڈاؤن ہوتا کیا ہے دنیا نہیں جانتی تھی، لیکن کورونا وائرس نے ہمیں اس کرب کا بھی احساس دلادیا ہے۔
10۔ کورونا وائرس حضرتِ انسان کی بے بسی کا اظہار ہے۔ دنیا کا سپر پاور ملک بھی آج قدرت کے نظام کے سامنے لاچار ہے۔ اگر کورونا سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہونے والا لباس دیکھا جائے تو اس ترقی یافتہ دور کے انسان کی بے بسی ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ اس کا مقابل دشمن اتنا چھوٹا ہے جو انسانی آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا۔ اگر قدرت کے نظام کے سامنے سب بے بس ہیں تو سرِ تسلیم خم کیوں نہیں کرتے!!
11۔ کورونا وائرس کے متعلق بتایا گیا کہ یہ چین کے شہر ووہان کی وائلڈ لائف مارکیٹ میں چمگادڑ کے ذریعے آیا، وہاں جو کچھ کھایا جاتا ہے کوئی سلیم الفطرت انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ دنیا نے حلال و حرام کی تمیز ختم کی اور نت نئی بیماریوں نے جنم لیا۔ جس نے تخلیق کیا ہے اسے ہی معلوم ہے کہ ہمارے لیےکیا بہتر ہے۔ لکیر کھینچ دی گئی اور حد باندھ دی گئی، مگر دنیا نے لکیر عبور کی اور حد کو پامال کیا۔ وہ کچھ کیا جو ایک باغی کرتا ہے۔ ہم جنس پرستی میں مبتلا ہوئے اور المیہ یہ کہ اس کے لیے قوانین بھی بنالیے، کپڑے اتارے اور بے حجاب ہوگئے، پوری زمین کو ہوس پرستی کا مسکن بنا
ڈالا، رشتوں کے تقدس سے بے پروا ہوگئے، عریانی و فحاشی کو عالمی کلچر بنادیا۔ سانپ اور بندر کھاتے رہے، کتّے اور بلیاں مرغوب غذائیں بن گئیں، چوہے اور چمگادڑیں کھانوں میں شامل رہیں، خنزیر گھٹی میں اور شراب خون میں شامل ہوگئی۔ آخر یہ ہوا کہ چین نے پورے ملک میں جنگلی جانوروں کی فارمنگ اور استعمال پر پابندی لگادی، اور دنیا میں جہاں ایسا معاملہ ہے اب وہاں اس پابندی پر غور ہورہا ہے۔ سبق یہ ہے کہ الہامی ہدایت کے اتباع میں ہی عافیت ہے۔ من چاہی زندگی چھوڑو اور رب چاہی زندگی میں آجاؤ، عافیت میں آجاؤ گے۔
12۔ کورونا وائرس غفلت میں ڈوبے انسانوں کے لیے ایک جھٹکا ہے۔ اس کا خوش کن پہلو یہ ہے کہ یہ پلٹنے کا بہانہ ہے۔ عالمی حالات پر ذرا سی نظر اور ہلکا سا تجزیہ بھی خبر دے رہا ہے کہ اللہ سے عفو وعافیت مانگی جائے، رحمت و سلامتی طلب کی جائے، کوشش ہو کہ ہر وقت باوضو ہوں، پانچ وقت کی نمازوں کا اہتمام کیا جائے۔ اذکارِ مسنونہ کو وردِ زبان رکھیں۔ اپنے رب کو ترجیحِ اوّل بنایا جائے۔
13۔ کورونا نے گھر میں بسنے والوں کو ایک دوسرے سے قریب کردیا ہے۔ گھر میں رہتے تھے لیکن بہت دور تھے۔ اب گھر آباد ہوگئے، گھر کے مکینوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہی وقت ہے۔ گھروں میں چھوٹے بڑے مل کر کھیلتے ہیں، ہنسی مذاق ہے، سب ہی کام سب ہی لوگ اب مل کر کررہے ہیں۔ دادا دادی کی محفلیں آباد ہوگئی ہیں، کہانیوں اور حکایتوں کی آوازیں ہیں، اجتماعی عبادتیں ہیں۔ یہی تو اصل زندگی تھی، سادہ طرزِ حیات جو کہیں گم ہوگیا تھا۔۔۔ ہاں مگر اب واپس آگیا ہے۔ کوشش ہو کہ لاک ڈاؤن کے بعد بھی اس معمول کو برقرار رکھا جائے۔
14۔ کئی ممالک میں خورونوش کی اشیاء کی خریداری میں ہجوم آپے سے باہر ہوگیا اور لوٹ مار شروع کردی۔ ایک غیر یقینی کیفیت میں ہر کسی کی خواہش ہے کہ وہ مہینے بھر کا کھانے پینے کا سامان اپنے گھر جمع کرلے۔ چنانچہ اس طلب نے روزمرہ کی اشیاء کی فراہمی میں کمی پیدا کردی۔ اس افراتفری میں بحیثیت ایک مسلمان ہمارا طرزِعمل تو یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمارے گھر میں کھانے پینے کا سامان بھرا ہوا ہو اور ہمارا کوئی پڑوسی یا دیگر افراد محروم ہوں اور ہم بڑے مزے سے زندگی بسر کررہے ہوں۔ چنانچہ کسی قسم کی افراتفری اور خوف کے بجائے اللہ پر یقین اور حکومتی اقدامات پر اطمینان رکھنا چاہیے۔ الحمدللہ پاکستان میں کسی قسم کی غذائی اجناس، پھل، سبزیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
15۔ میڈیا کا جو کام ہے وہ کررہا ہے، اچھا یا برا جو کردار اسے سونپا گیا ہے اور جس کی قیمت وہ وصول کرتا ہے اسے وہ کام تو انجام دینا ہی ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اللہ کی جانب پلٹیں، اس سے مغفرت طلب کریں۔ اپنا طرزِ زندگی بدلیں۔ بے حقیقت تبصروں کے بجائے اصل پر توجہ مرکوز رکھیں۔ اسوۂ نبیؐ تو یہ ہے کہ کسی ناگہانی آفت اور پریشانی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب متوجہ ہوا جائے اور اسی سے عافیت طلب کی جائے۔۔۔ نہ خود مایوس ہوں اور نہ ہی مایوسی پھیلائیں۔ خبروں سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے، اس لیے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ کون سی خبر درست ہے اور کون سی جھوٹی خبر شعوری طور پر پھیلائی جارہی ہے۔
16۔ مسلمان کے لیے تو چھوٹی سی تکلیف میں بھی رحمت لکھ دی گئی ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ صبر اختیار کیا جائے۔ پورے وقار کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا جائے۔ نہ زبان پر کوئی شکوہ شکایت ہو، نہ دل میں کوئی ملال اور وسوسہ آئے، نہ رویوں میں کوئی بے چینی اور بے سکونی ہو۔ مسلمان کا معاملہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو مومنوں کے لیے رحمت بنادیا ہے۔ اگر کسی شخص کی بستی میں طاعون پھیل جائے اور وہ صبر کے ساتھ اللہ کی رحمت سے امید لگائے ہوئے وہیں ٹھیرا رہے کہ ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھا ہے، تو اُسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔
17۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اللہ پر توکل کے خلاف نہیں ہے۔ شریعت کی تعلیمات یہی ہیں۔ چنانچہ جو حفاظتی اقدامات حکومتی سطح پر بتائے جارہے ہیں اُن پر بلا تبصرہ عمل کیا جائے۔ اصل یہ ہے کہ اسباب کو اختیار کیا جائے مگر اپنی نظر اور توجہ مسبب الاسباب پر ہی ہو۔
18۔یہ امت، آخری امت ہے جو انسانوں کے درمیان شہادتِ حق کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ شہادتِ حق یہ ہے کہ دنیا کے انسانوں کو شائستگی اور حکمت سے سمجھایا جائے کہ الہامی ہدایت کے برعکس دوڑنے کا نتیجہ کبھی مثبت برامد نہیں ہوتا۔ خالق کی بنائی حدوں کو مخلوق پامال کرے گی تو انسانیت کے لیے خیر کی خبر کبھی نہیں آئے گی۔ دنیا کو ”ڈیوائن گائیڈنس“ کی ضرورت ہے۔ عافیت اور سکون اور خوشی اور آسودگی دراصل اسی طرز حیات میں پوشیدہ ہے۔
19۔ کورونا وائرس نے دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ڈالر کی مضبوط کرنسی متاثر ہوئی، تیل کی قیمتوں نے عالمی اقتصادی صورت حال کو متاثر کیا، دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹ میں مندی چھا گئی۔ ایک خوردبینی جرثومے نے انتہائی ترقی یافتہ دنیا کے جدید انسان کو اس کی اوقات یاد دلائی۔ پیغام یہ ہے کہ حد ِنگاہ پھیلی ہوئی یہ زمین تمہاری ہے، نہ بلند و بالا آسمان تمہارا ہے، یہ گہرے سمندر تمہارے ہیں، اور نہ جمے ہوئے مضبوط پہاڑ، گھنے جنگلات کے تم مالک ہو، اور نہ کھلے وسیع صحرا تمہاری ملکیت ہیں۔ کچھ بھی تو تمہارا نہیں ہے۔ عالمِ نباتات، عالم ِجمادات، عالم ِحیوانات، عالم ِجنات، عالم ِارواح، عالم ِ برزخ اور عالم ِ آخرت سب کا رب وہ ہے جو رب العالمین ہے۔ ہاں تمہیں تصرف کا اختیار دیا گیا تھا، مگر تم حد سے تجاوز کرگئے۔ تمہارا اختیار تو تمہارے اپنے جسم پر بھی نہیں۔ وہ رب نہ چاہے تو تم اپنے اوپر بیٹھی ایک مکھی کو بھی نہیں اڑا سکتے، نہ مکھی پر تمہارا اختیار، نہ جسم پر تمہاری مرضی۔ پس مان لو اور مطیع و فرماں بردار بن کر اپنے رب کی بارگاہ میں آجاؤ۔
20۔ ان حالات میں چند اذکار کا اہتمام کیا جائےجیسے
1) سورۃ الفاتحہ، 2) آیۃ الکرسی، 3) معوذاتین- سورۃ الفلق، سورۃ الناس، 4) لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین، 5) حَسبُنَا اللہُ وَ نِعمَ الوَکِیل نِعمَ المَولیٰ وَ نِعمَ النَّصِیر، 6) اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق، 7)بسم اللہ الذی لا یضرمع اسمہ شئی فی الرض ولا فی السماء وھوالسمیع العلیم
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنی عافیت میں رکھے، ہمیشہ صحت و تندرستی میں رکھے، اسلام پر زندگی ہو اورایمان پر خاتمہ ہو۔ آمین۔

کورونا ویکسین بنانے والی امریکی ٹیم کے سربراہ نامور مسلم سائنسدان ڈاکٹر السلاوی امیگریشن آف بریلینٹ مائنڈ کی المناک مثال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لیے ’’آپریشن ریپ اسپیڈ‘‘ کے نام سے ایک تیز ترین پروگرام تشکیل دینے کا اعلان کردیا ہے۔ آپریشن ریپ اسپیڈ جس کے معنی میزائل کی تیزی کے ہیں، اس آپریشن کا مقصد جلد ازجلد امریکی حکومت کی سرپرستی میں کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری ہے۔ لیکن اس سے اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے آپریشن ریپ اسپیڈ پروگرام کا چیف سائنٹسٹ جسے مقرر کردیا ہے وہ ایک مسلمان سائنسدان ہیں۔ منصف السلاوی کا تعلق شمالی افریقہ کے عرب اسلامی ملک مراکش سے ہے۔ وہ دنیا کے مشہور ترین امیونولوجسٹ ہیں اور امریکہ میں رہتے ہوئے اب تک مختلف خطرناک امراض کی 14 ویکسین تیار کرچکے ہیں۔ انہیں ملیریا کے لیے ستائیس برس کی تحقیق کے بعد دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ اس کامیاب تجربے کی بنیاد پر امریکہ نے انہیں نصف درجن سے زائد قومی سطح پر عالمی معیار کے اداروں کی ممبر شپ دے رکھی ہے جہاں سے انہیں سالانہ 30 لاکھ ڈالر سے زائد تنخواہ مل رہی ہے۔

Share this: