جس کا کام اسی کو سانجھے

Print Friendly, PDF & Email

ایک ٹی وی اینکر بتا رہے تھے کہ یہ پرانی کہاوت ہے ’’جس کا کام اسی کو سانجھے‘‘۔ یہ کہاوت تو ہے لیکن اس میں ’’سانجھے‘‘ نہیں ”ساجے“ ہے۔ ممکن ہے یہ سجنے سے ہو۔ سجنا ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے موزوں ہونا، آراستہ ہونا، مرتب ہونا۔ بطور فعل متعدی موزوں کرنا، آراستہ کرنا، یعنی جس کا کام ہے وہ ہی اسے ٹھیک طرح کرسکتا ہے۔ اس کہاوت کا دوسرا ٹکڑا ہے ’’کوئی اور کرے تو ٹھینگا باجے“۔ اس سے ظاہر ہے کہ باجے کے قافیے میں ساجے آئے گا۔ جہاں تک ساجھے کا تعلق ہے تو اس کی اصل بھی ہندی ہے اور اس کے کئی معانی ہیں۔ معروف معنیٰ اشتراک ہے جیسے ساجھے کی ہنڈیا جو بیچ چوراہے کے پھوٹ جاتی ہے۔ یا ساجھے داری۔ ساجھا لڑنا یعنی کوئی تدبیر ہاتھ آجانا۔ مقولہ ہے ’’ساجھے کا کام بُرا‘‘۔ ہمارے خیال میں ساجھے میں نون غنہ پنجاب میں شامل ہوگیا ہے اور سانجھا کہا جانے لگا ہے۔ ویسے ہندی میں ایک لفظ ”سانجھ“ بھی ہے جس کا مطلب ہے سورج ڈوبنے کا وقت یعنی شام۔ سانجھ سویرے کا مطلب ہے صبح، شام یا، شام سے صبح تک۔ ایک گیت ہے ’’یاد کروں تجھے سانجھ سویرے‘‘۔
اردو میں انگریزی الفاظ غیر ضروری طور پر ٹھونسے جارہے ہیں۔ مثلاً 15 جون کے ایک اخبار میں پڑھا ’’زمین ایکوائر کرنے کے لیے“۔ سامنے کا لفظ تھا زمین حاصل کرنے کے لیے۔ اسی طرح ایک اخبار میں اعلیٰ پولیس افسر نے ’’اچھی کارکردگی پر انعام ریکمنڈ کیا‘‘۔ اب اگر ”تجویز کیا“ یا ”منظور کیا“ لکھ دیا جاتا تو کیا انعام یا تغما یا اعزاز نہ ملتا! انگریزی کے یہ الفاظ ایسے نہیں ہیں جن کا معقول متبادل اردو میں موجود نہ ہو۔ کیا یہ سہل پسندی ہے، لاپروائی ہے یا کیا ہے؟ کوئی مناسب ترجمہ نہ ہو تو بھی بات سمجھ میں آسکتی ہے۔ ایک روش یہ چل پڑی ہے کہ انگریزی کے جو الفاظ اردو کا حصہ بن گئے ہیں ان کی جمع بھی انگریزی قاعدے کے مطابق بنائی جارہی ہے مثلاً ججز، اسکولز، اسمبلیز وغیرہ. اگر ان کو اردو قاعدے کے مطابق ججوں، اسکولوں، اسمبلیاں لکھا جائے تو کیا ہرج ہے۔
شعر میں ایسے الفاظ شامل کرنا جو غیر ضروری ہوں اور ان کو نکال دینے سے مفہوم متاثر نہ ہو، اصطلاح میں کاوک یا زاید کہلاتے ہیں۔ حسرت موہانی نے ”نکاتِ سخن“ میں اس کی کئی مثالیں دی ہیں۔ شعر میں تو وزن کی مجبوری ہے لیکن نثر میں ایسی کوئی مجبوری نہیں۔ اس کے باوجود یہاں بھی یہ صورت نظر آتی ہے۔ پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے اپنی کتاب ”کیفیہ“ میں اس کی مثالیں دی ہیں جن میں حرف جر کا غیر ضروری استعمال ہے۔ مثلاً ”وہیں پر تو وہ بیٹھا تھا، کتاب کو اسی جگہ میں رکھ دو، چار بجے پر چھٹی ہوتی ہے، اس طرح سے کام نہ ہوگا“ وغیرہ وغیرہ۔ ان جملوں میں پر، میں، سے اور کو حشو ہیں یعنی زاید ہیں۔ جیسے پہلا جملہ صحیح یوں ہوگا ”وہیں تو وہ بیٹھا تھا“۔ نثر میں غیر ضروری الفاظ کی بھرتی مضامین میں عموماً نظر آتی ہے جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
عربی کے جو متعلقات اردو میں استعمال ہوتے ہیں ان میں سے کچھ کا املا یا استعمال غلط ہے۔ مثلاً ”نسلاً بعد نسلاً“ عموماً پڑھنے میں آتا ہے۔ صحیح ”نسلاً بعد نسلِِ ہے“ (نس لِن)- اساتذہ نے ’’قریب المرگ‘‘ اور ”دایم المریض“ پر بھی اعتراض کیا ہے (اساتذہ کا یہی کام رہ گیا ہے)- قریب المرگ پر اعتراض یہ ہے کہ ”مرگ“ فارسی کا لفظ ہے اور اس کے ساتھ عربی کا ”ال“ غلط ہے۔ اس اعتراض کو ”قریب مرگ“ لکھ کر دور کیا جاسکتا ہے۔ دایم المریض کی ترکیب بھی عربی قواعد کی رو سے غلط ہے۔ پنڈت برج موہن نے تنازع للبقا پر بھی اعتراض کیا ہے کہ صحیح ’’تنازع البقا‘‘ ہے۔ لیکن ڈاکٹر بجنوری نے اسے درست قرار دیا ہے کہ مطلب ادا ہوجاتا ہے۔ ہم بطور طالب علم تنازع للبقا ہی کہتے، لکھتے اور پڑھتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی محاورے کا یہی ترجمہ کیا جاتا ہے۔ ہماری رائے ہے (ویسے ہم کیا اور ہماری رائے کیا) کہ جو
الفاظ اردو کا حصہ بن گئے ہیں ان کو ایسے ہی رہنے دیں کہ اس سے زبان کو فروغ ملتا ہے اور یہ کلیہ ہر زبان کا ہے۔ انگریزی میں بھی بہت سے الفاظ دوسری زبانوں سے لے کر شامل کرلیے گئے ہیں اور کہیں ان کا مفہوم بدل دیا ہے تو کہیں املا۔ عربی کے کئی الفاظ انگریزی میں شامل ہیں۔ سامنے کی مثال ”ایڈمرل“ ہے جو عربی کے امیرالبحر کا بگاڑ ہے۔ پاگل کو انگریزی میں Lunatic کہتے ہیں۔ یہ لفظ لاطینی زبان سے آیا ہے۔ لاطینی میں Luna کے معنی ہیں چاند۔ اس سے قدیم خیال کی عکاسی ہوتی ہے کہ چاند کا گھٹنا بڑھنا پاگل پن کا سبب ہوسکتا ہے۔ بعض لوگ انسانی چاند کو دیکھ کر پاگل ہوجاتے ہیں۔ عربوں کی طرح اہلِ روم بھی پرندوں سے فال نکالتے تھے۔ لاطینی زبان کا ایک لفظ ہے Auspicious۔ بمعنی مبارک، سعید، سازگار- اس کا کھوج لگایا جائے تو یہ لفظ دو اجزاء سے مرکب ہے۔ پہلا جزو AVIS بمعنی پرندہ ہے۔ اسی سے انگریزی میں Aviation بمعنی پرواز بنا۔ یہ لفظ اردو میں بھی دخیل ہوگیا ہے، چنانچہ پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی موجود ہے جس کا معقول ترجمہ شہری ہوا بازی ہے۔ لیکن انگریزی میں کہنے کا الگ ہی مزہ ہے، کہنے والا پڑھا لکھا معلوم ہوتا ہے۔ فرانسیسی میں AVION بمعنی ہوائی جہاز ایوی ایشن ہی سے مشتق ہے۔ اب تو ایک عرصے سے ڈاک کے لفافے نہیں دیکھے لیکن ہوائی ڈاک کے لفافوں پر PAR AVION لکھا دیکھا ہے جس پر زیادہ پڑھے لکھے لوگ BY AIR بھی لکھ دیتے ہیں تاکہ یقین پختہ ہوجائے۔ حاصل یہ نکلا کہ پرندوں کے مشاہدے کے بعد جو گھڑی مبارک سمجھی جائے وہ AUSPICIOUS کہلائے گی۔
اسلام سے پہلے عرب پرندوں کی اڑان سے فال نکالتے تھے۔ کسی مہم پر نکلنے سے پہلے شور مچا کر پرندوں کو اڑاتے اور ان کی اڑان دیکھ کر فیصلہ کرتے کہ مہم پر نکلنا ہے یا گھر لوٹ جانا ہے۔ فال نکالنے کے لیے تطّیر کا لفظ استعمال ہوتا تھا جو طیر بمعنی پرندہ سے ماخوذ ہے۔
یہ واضح ہے کہ ہر زبان میں دوسری زبانوں کے الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔ اردو میں تو ہر زبان کے الفاظ مل جائیں گے جن میں عربی، فارسی، ہندی، سنسکرت سے لے کر یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں۔ مثلاً ”میز“، یہ غالباً پرتگالی زبان کا لفظ ہے. الماری بھی باہر سے آئی ہے۔
پروفیسر غازی علم الدین نے ”لفظ اور معنیٰ کی تکرار کا عیب“ کے موضوع پر ایک وقیع مضمون تحریر کیا ہے۔ غازی علم الدین اردو کے عاشقوں میں سے ہیں۔ قصور سے تعلق ہے تاہم آزاد کشمیر کے ایک کالج میں پڑھاتے رہے ہیں اور اب ریٹائر ہوگئے ہیں، لیکن ’’کام کے پورے ہیں، دھن کے پکے‘‘۔ اب زیادہ فرصت سے علمی کام پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان کے مقالے کے کچھ اقتباسات شامل کرکے اپنے مضمون کو جان دار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:۔
’’اردو کی شکل بگاڑنے کا مذموم عمل، تیز تر ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ٹیلی وژن کے درجنوں اردو چینلز اور سوشل میڈیا کے گھنائونے کردار کو زیر بحث لانا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ ان کے سدھار کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ صاحبِ نظر اور سنجیدہ فکر لوگوں کو تشویش لاحق ہے کہ اخبارات میں برتی جانے والی اردو کا معیار نہایت پست ہوچکا ہے، حتیٰ کہ ادارتی صفحوں پر شائع ہونے والے مضامین بھی املا اور قواعد کی غلطیوں سے پُر ہوتے ہیں۔ اردو کے فروغ میں علمی اور ادبی رسائل و جرائد کا کردار بھرپور اور توانا رہا ہے مگر بدقسمتی سے آج کل اکثر رسائل میں اردو غلط لکھی جاتی ہے جس سے اس کا چہرہ مسخ ہورہا ہے۔ سرکاری اور نیم سرکاری ادارے اردو کے نام پر شہر شہر اور نگر نگر تقاریب منعقد کرتے ہیں۔ اردو کانفرنسیں، ثقافتی اجتماع اور بڑے بڑے کتاب میلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں بظاہر اردو کا نام نمایاں ہے لیکن افسوس! اردو کے اصل مسئلوں کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔ لسانی بگاڑ عفریت کی صورت اختیار کررہا ہے اور اس کے مداوے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ لوگ خدا جانے کہاں کہاں سے کیسی کیسی ترکیبیں، روزمرہ اور محاورے اٹھا کر لارہے ہیں۔ غلط تلفظ، غلط محاورے اور نت نئی اختراعاتِ بد رواج پذیر ہورہی ہیں جن میں ایک لفظ و معنیٰ کی غلط اور بے جا تکرار کا عیب ہے جو ذوقِ سلیم رکھنے والوں پر گراں گزرتا ہے۔ یہ عمل عبارت اور گفتگو کے حسن کو گہنا دیتا ہے۔
(باقی آئندہ)

Share this: