انسان کی حیثیت

Print Friendly, PDF & Email

سید طاہر رسول قادری
۔”کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ قابل ذکر چیز نہ تھا… ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اسے راستہ دکھایا۔ خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا“۔
۔(تفہیم القرآن۔ جلد ششم ص 185-186)۔
سورہ دہر کی تین سطروں پر مشتمل یہ تین آیتیں بڑی مختصر اور فورا حافظے میں آجانے والی ہیں۔ لیکن اپنے مفہوم اور معنی کے لحاظ سے بہت ہی وسیع ہیں چند مختصر جملوں میں انسان کو اس کی اپنی حیثیت جتا دی گئی ہے کہ وہ معدوم محض تھا، پھر محض وجود پایا۔ بے حد حقیر تھا، پھر عظیم و اشرف بنا۔ انسان کو علم بھی دیا گیا ہے اور اس علم کا اس سے خاموش اقرار بھی لیا گیا۔ ان آیات میں انسان کی تاریخ بھی بیان کر دی گئی ہے، انسان کا مقصد وجود بھی بتا دیا گیا ہے اور حاصل زیست کے نتائج کا ذکر بھی واضح طور پر کر دیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ ان آیات میں انسان کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب وہ کچھ نہ تھا۔ پھر ایک مخلوط نطفے سے اس کی ایسی حقیر سی ابتدا کی گئی کہ اس کی ماں تک کو خبر نہ تھیکہ اس کے وجود کی بناء پڑ گئی ہے۔ کوئی اس خوردبینی وجود کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ کوئی انسان ہے جو اآگے چل کر اس زمین پر اشرف المخلوقات بننے والا ہے۔ اس کے بعد انسان کو خبردار کیا گیا ہے ک تیری تخلیق اس طرح کر کے تجھے یہ کچھ، ہم نے اس لیے بنایا ہے کہ ہم دنیا میں رکھ کر تیرا امتحان لینا چاہتے ہیں اس لیے دوسری مخلوقات کے برعکس تجھے ہوش و گوش رکھنے والا بنایا گیا ہے اور تیرے سامنے شکر اور کفر کے دونوں راستے کھول کر رکھ دیے گئے ہیں تا کہ یہاں کام کرنے جو وقت تجھے دیا گیا ہے اس میں دکھا دے کہ اس امتحان سے تو شکر گزار بندہ بن کر نکلا ہے یا انکار حق کرنے والا ناشکر گزار بندہ بن کر… پھر یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اختیارات کی اآزادی کا غلط استعمال کن نتائج کا حامل ہو گا۔
یہ آیتیں خزینہ حیات ہیں۔ فکر و فہم و بصیرت عطا کرنے والی ہیں۔ یہ انسانوں کو جھنجھوڑ کر کہہ رہی ہیں کہ اے انسان تو درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ تیرا مقصد تخلیق یہیں پورا ہو جائے اور قانونِ فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کاکام کر کے بس مر کر فنا ہو جائے۔ بلکہ اے انسان! یہ دنیا تیرے لیے نہ دارالعذاب ہے، جیسا کہ عیسائی راہب سمجھتے ہیں نہ دارالجزا ہے جیسا کہ تناسخ کے قائل لوگ سمجھتے ہیں اور نہ چراگاہ ہے جیسا کہ مادہ پرست سمجھتے ہیں۔بلکہ اے انسان! یہ دنیا تیرے لیے امتحان گاہ ہے جسے تو عمر، حیات اور زندگی کہتا اور سمجھتا ہے۔ یہ عمل کی مہلت ہے تجھ میں سے ہر ہر شخص کو جو بھی قوتیں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں، جن جن چیزوں کا مالک و مختار بنایا گیا ہے اور جن جن پر عمل و تصرف کے اختیارات دیے گئے ہیں اور جن حیثیتوں میں تو اور دوسرا ہر شخص یہاں کام کر رہا ہے اور جو تعلقات بھی تیرے اور دوسرے انسانوں کے درمیان ہیں وہ سب اصل میں امتحان کے بے شمار پرچے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک اس امتحان کا سلسلہ جاری ہے… مرنے کے بعد ہی آخرت میں ان تمام سرگرمیوں کے نتائج تیرے سامنے آئیں گے۔ اور تیری کامیابی یا ناکامی کا رزلٹ آئوٹ ہو گا۔ اگر ایک خدا اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر ان کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی کی ساری سرگرمیاں جاری رکھی ہوں گی تو نتائج اچھے آئیں گے ورنہ خراب اور خطرناک۔
تخلیق انسانی کی دوسری حقیقت یہ ہے کہ اس کو ہوش گوش والا۔ قوت سماعت اور قوت بصارت والا سمیع اور بصیر بنایا گیا ہے… جانوروں اور چوپایوں کی طرح صرف آواز سن لینے والا اور محض دیکھ لینے والا نہیں بنایا گیا بلکہ حیوانات سے مختلف تخلیق کیا گیا ہے۔ اس کی سماعت و بصارت میں علم اور عقل کی طاقتیں، اچھے برے کی تمیز، فہم و بصیرت کی روشنی اور ترک و اختیار میں فیصلے کی قوتیں بھی بخشی گئی ہیں تا کہ وہ امتحان دینے کے قابل ہو سکے۔
تیسری اہم ترین حقیقت کا اظہار تیسری آیت میں کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ عالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے تاریکی میں یونہی نہیں چھوڑ دیا ہے کہ وہ کارگہہ حیات میں ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرے بلکہ ہدایت کے ظاہری سامان، مثلا پیغمبروں کی بعثت، کتابوں کے نزول اور جماعت المسلمین کے وجود اور دوسری بے شمار نشانیوں کے علاوہ خود ہر انسان کے اندر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کر دی گئی ہے۔ سورہ الشمس آیت نمبر 8 میں کہا گیا ہے کہ فالھمھا فجورھا و تقوھا۔ یعنی ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کر دیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی، اچھے اخلاق و اعمال اور برے اخلاق و اعمال یکساں نہیں ہیں۔ بدکرداری و بداخلاقی ایک قبیح چیز ہے۔ اچھا کردار اور اخلاق تقویٰ اور پاکیزگی اچھائیاں ہیں۔ اسی طرح سوہ بلد میں فرمایا گیا ہے وھدیناہ النجدین یعنی ہم نے انسان کو پیدا کر کے اور سماعت وبصارت دے کر محض عقل و فکر کی طاقتیں عطا کر کے اسے چھوڑ نہیں دیا کہ اپنا راستہ خود تلاش کرے بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی اور اس کے سامنے بھلائی اور برائی، نیکی اوربدی کے دونوں راستے نمایاں کر کے رکھ دیے۔ تا کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ان میں سے جس کو چاہے اپنی ذمہ اری پر اختیار کرے۔
ہر انسان کو راہ ہدایت دکھانے کے لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے الہام کا ذریعہ اختیار کیا ہے، ہر انسان کو علم و عقل کی طاقتیں، ہوش و گوش اور حقیقت شناس سماعت و بصارت دی ہے، وہاں اخلاقی حس بھی دی ہے۔ جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے۔ بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے، اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو۔ اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے، اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہ ہدایت دکھانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہر انسان کے اندر اس نے ضمیر کی قوت رکھ دی ہے۔ ضمیر کیا ہے؟ نفس لوامہ نام کی ایک چیز ہے۔ جو انسان کو ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے، جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کر چکا ہو۔ اس ضمیرکو انسان خواہ کتنی ہی تھپکیاں دے کر سلائے اور اس کو بے حس بنانے کی چاہے کتنی ہی کوششیں کر لے، لیکن وہ اس کو بالکل فنا کر دینے پر قادر نہیں ہے۔ وہ دنیا میں ڈھیٹ بن کر اپنے آپ کو قطعی بے ضمیر ثابت کر سکتا ہے۔ وہ حجتیں بگھار کر دنیا کو دھوکا دینے کی ہر امکانی کوشش کر سکتا ہے۔ وہ اپنے نفس کو بھی فریب دینے کے لیے اپنے افعال کے لیے بے شمارعذرات تراش سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں جو محاسب بٹھا رکھا ہے، وہ اتنا جاندار ہے کہ کسی برے سے برے انسان سے بھی یہ بات چھپی نہیں رہتی کہ وہ حقیقت کیا ہے۔”بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے“ ۔۔۔ ورہ القیمہ، آیت 15-14۔
یعنی ضمیرکی قوت اور حقیقت کا علم ہر انسان کے اندر اتنا وسیع اور گہرا ہوتا ہےجو کھرچ کر بھی نہیں نکالا جا سکتا ہے۔۔۔ ایک جھوٹا دنیر بھر کو دھوکہ دے سکتا ہے لیکن اسے خود تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ایک چور لاکھ حیلے بہانے اپنی چوری چھپانے کے لیے اختیار کر سکتا ہے مگر اس کے اپنے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں ہوتی کہ وہ چور ہے۔ ایک گمراہ آدمی ہزار دلیلیں پیش کر کے لوگوں کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ وہ جس کفر یا دہریت یا شرک کا قائل ہے، وہ درحقیقت اس کی ایماندارانہ رائے ہے۔ لیکن اس کا اپنا ضمیر تو اس سے بے خبر نہیں ہوتا کہ ان عقائد پر وہ کیوں جما ہوا ہے، اور ان کی غلطی سمجھنے اور تسلیم کرنے سے دراصل اسے کیا چیز روک رہی ہے۔ اسی صورت سے ایک ظالم، ایک بددیانت، ایک بدکردار، ایک حرام خور اپنی بداعمالیوں کی چاہے جتنی بھی معذرتیں پیش کرے، دوسروں اور خود اپنے ضمیر کی بے چینیوں اور دل کی دھڑکنوں کو تسکین دینے کی کوشش کرے، دل دھڑکنے سے رک نہیں سکتا۔ اور ضمیر ملامت سے باز نہیں آسکتا۔
۔(52 دروس قرآن، (انقلابی کتاب حصہ دوئم) ص 66-63)۔

Share this: