آدمی کی ہوس

Print Friendly, PDF & Email

ابوسعدی
شیخ سعدی کسی سرائے میں وارد تھے اور اسی سرائے میں ایک ملک التجار یعنی سب سے بڑا سوداگر بھی اتفاق سے اترا ہوا تھا۔ سوداگر نے شیخ سعدی کی خبر پا کر ان کو اپنی ملاقات کے لیے طلب کیا اور اپنا حال بیان کرتا رہا۔ صدہا تمسک اور قبالے دکھائے۔ بہت سے بہی کھاتے پیش کیے۔ جہاں جہاں کوٹھیاں تھیں سب کا حساب کتاب سنایا۔ غرض اتنا بکھیڑا شیخ سعدی کے روبرو بیان کیا کہ سنتے سنتے ان کا سر دُکھ گیا۔ تب شیخ سعدی نے کہا کہ: ’’اب آپ کی عمر زیادہ ہوئی۔ بہتر ہوگا یہ سب کارخانے وارثوں کے حوالے کرکے آپ باقی زندگی عافیت اور آرام کے ساتھ بسر کریں‘‘۔
سوداگر نے کہا: ’’میں خود اسی فکر میں ہوں۔ صرف ایک سفر باقی ہے۔ وہ انجام پا جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ دنیا ترک کرکے گوشہ عافیت میں بیٹھوں۔ ارادہ یہ ہے کہ پہلے چین جائوں۔ وہاں کے برتن بہت عمدہ ہوتے ہیں۔ برتنوں کا جہاز روم میں لے جاکر فروخت کروں۔ روم میں ریشمی کپڑا، جس کو دیبا کہتے ہیں، بہت اچھا ہوتا ہے۔ روم سے وہ کپڑا خرید کر حلب جائوں اور حلب سے آئینہ لے کر کشمیر۔ وہاں سے پشمینہ خرید کر انگریزوں کی ولایت میں جائوں اور وہاں سے ہر طرح کا انگریزی اسباب لائوں۔ پھر گھر بیٹھ رہوں۔ زیادہ ہوس خود مجھ کو نہیں۔ صرف یہ سفر جو میں نے بیان کیا ہے البتہ بہت ضروری ہے۔“
لیکن یہ سوداگر جس نے برسوں کے سفر کا ارادہ کیا تھا دو مہینے بعد سفرِ عاقبت کر گیا۔
حاصل: آدمی کی ہوس اتنی دراز ہے کہ اس کو عمرِ خضر بھی کافی نہیں ہو سکتی۔
[منتخب الحکایات، نذیر احمد دہلوی۔ حکایت نمبر 62]

(Short Story) افسانہ

افسانہ اصطلاحاً اردو ادب کی نثری صنف ہے جس میں قصہ، واقعہ، کہانی، حقیقت کا نقیض، جھوٹ، جھوٹی کہانی یا بات کو زیب ِ داستاں کے لیے بڑھانا مقصود ہوتاہے۔ افسانہ داستان کی ترقی یافتہ صورت ہے۔ داستان جو مافوق الفطرت اور غیر عقلی واقعات کا پلندہ تھی، نسبتاً حقیقی شکل میں ناول بنی، اور پھر بیسویں صدی کے مشینی دور نے اسے مزید نکھار کر ’’افسانہ‘‘ بنادیا، اگرچہ ناول اپنی جگہ ایک الگ صنف ِ نثر کے طور پر بحال رہا۔ افسانہ زندگی کے کسی ایک واقعے یا پہلو کی وہ خلاّقانہ اور فنی پیش کش ہے جو عموماً کہانی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ ایسی تحریر جس میں اختصار اور ایجاز بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ وحدتِ تاثر اس کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔ مغربی ادبیات میں ایڈگرایلن پو نے اولاً افسانے کو الگ صنفِ نثر کی حیثیت دی۔ اس نے قواعد و ضوابط مرتب کیے۔ اختصار اور وحدتِ تاثر کے خصائص اس کے لیے شرط ٹھیرائے۔ بعد میں یورپین ادیبوں موپساں، ٹالسٹائی، میکسم گورکی اور لارنس نے اس صنف کو عظمت دی۔ اردو افسانے کا آغاز بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ہوا۔ سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند اولین افسانہ نگار ہیں۔
(ادبی اصطلاحات، صفحہ 42۔43)

انقلاب

انقلاب یا ارتقا ہمیشہ قوت ہی کے اثر سے رونما ہوتا ہے، اور قوت ڈھل جانے کا نہیں ڈھال دینے کا نام ہے۔ دنیا میں کبھی نامردوں اور بزدلوں نے انقلاب پیدا نہیں کیا۔

نفس

نبوت پر ایمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک انسان کا نفس زندگی کے سارے معاملات میں نبیؐ کو اپنا رہنما نہ مان لے۔
(سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)

نعمت

٭ دو نعمتیں ہیں کہ ان میں اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔ ایک تندرستی، دوسرے کاروبار سے فراغت۔ (حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم)۔
٭ خدا کی بے انتہا نعمتوں اور اس کے احسانات کا شکریہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔ (حضرت ادریس)۔
٭ اللہ کی بہترین نعمت مخلص دوست ہے۔ (اقلیدس)۔

Share this: