امت مسلمہ رسومات میں کھو گئی ہے

Print Friendly, PDF & Email

پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد سے مکالمہ

دوسرا اور آخری حصہ

پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد عہدِ حاضر میں ہماری علمی اور دینی روایت کے وارث اور اہم اسکالر ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کی اُن چند شخصیات میں ہوتا ہے جو تاریخ کے ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اسلامی تحریکوں کی جدوجہد پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ آپ کا تعلق دلّی ’’جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب‘‘ کے ایک معزز علمی خانوادے سے ہے۔ ایڈمرل (سابق) ضمیر احمد مرحوم، پروفیسر خورشید احمد، اور ممتاز طارق مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کے سب سے بڑے بھائی ضمیر احمد نے سب سے پہلے کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کام کاآغاز کیا، اور اپنے بھائی خورشید احمد کو جمعیت میں متعارف کرایا۔ عملی زندگی میں پاکستان نیوی میں چلے گئے۔ یہ ایک معروف بات ہے کہ اگر آپ پروفیسر خورشید احمد کے بھائی نہ ہوتے تو پاک نیوی کے چیف ہوتے۔ آپ کے بھائی ممتاز طارق 20 مئی 1965ء کو قاہرہ میں پی آئی اے کی پہلی پرواز کو پیش آنے والے حادثے میں فوت ہوگئے۔
آپ کے والد نذیر احمد قریشی مرحوم کا تعلق بنیادی طور پر جالندھر سے تھا، جو دہلی کے معروف تاجر، اعلیٰ علمی، دینی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے دوست تھے۔ نذیر احمد صاحب مولانا مودودیؒ کے بے تکلف رفقا میں سے تھے، جنھوں نے متعدد علمی اور قیمتی کتابیں مولانا مودودیؒ کو تحفے میں دیں۔
ڈاکٹر انیس احمد 22 مارچ 1944ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ میٹرک سندھ مدرسۃ الاسلام سے، اور گریجویشن سندھ مسلم کالج سے کی۔ کراچی یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ تب کراچی یونیورسٹی میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا طوطی بولتا تھا۔ انیس احمد نے اسلامک اسٹڈیز سوسائٹی کی سرگرمیوں کو جامعہ میں اس قدر وسعت دی کہ وہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے مقابلے میں متحرک باڈی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ 1963ء میں ایم اے پاس کیا اور یہیں شعبہ اسلامی تاریخ میں 1969ء تک پڑھایا۔
1969ء میں پنسلوانیا اسٹیٹ کی ٹمپل یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر امریکہ چلے گئے اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ وہاں کچھ عرصہ بعض جامعات میں بھی پڑھایا۔ آپ اس کے علاوہ ملائشیا میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کا تصور پیش کرنا اور اس کو عملی جامہ پہنانا آپ کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ آپ اس اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں مختلف کلیات کے قیام میں آپ کا کلیدی کردار تھا۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہوگئی، آپ نے ٹیم ورک کے ساتھ اس کو بہترین انداز میں چلا کر بھی دکھایا اور عالمی سطح پر لوہا منوایا۔ اسی کے ساتھ چین، وسطِ ایشیا، لاطینی امریکہ سمیت کئی ممالک کی کتابوں کے ترجمے کرواکر مختلف زبانوں میں ان کے متعلقہ لوگوں کی اجازت سے چھپوانا بھی آپ کی محنت، لگن اور کاوش کا نتیجہ تھا۔ آپ آج کل رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ہیں، اور صرف روایتی وائس چانسلر نہیں بلکہ آپ یونیورسٹی کے انتظامی معاملات سے لے کر طالب علموں تک سے رابطے میں رہتے ہیں۔ آپ طالب علموں کو اچھا پاکستانی اور مسلمان بنانے کے ویژن اور مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی ذہنی و فکری سطح کو بلند کرنے کے لیے بھی ہر وقت پُرعزم اور عملی طور پر متحرک رہتے ہیں۔
آپ سے رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک ملاقات میں تفصیلی گفتگو ہوئی تھی جس کا پہلا حصہ پچھلے شمارے میں شائع کر چکے ہیں اور اب دوسرا حصہ پیش خدمت ہے۔ ڈاکٹر انیس احمد سے گفتگو کا سلسلہ ڈھائی گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ بات چیت کا یہ دورانیہ بھی کم تھا اور بات بھی بہت ہوسکتی تھی، لیکن وقت کی کمی دامن گیر رہی۔ ڈاکٹر انیس احمد سےادب اور اسلامی ادب کی بحث، نظریاتی جدوجہد کا فقدان، اسبابِ قحط الرجال، مخلوط تعلیم کا جواز،موبائل، انٹرینٹ کی دنیا،کتاب اور کاغذ کی اہمیت، میڈیا، اسلامی تحریکات، سید مودودیؒ کی تعلیمات کے دنیا پر اثرات، علمی و فکری بحران،انقلابی تحریکیں اور ان کی جدوجہد، مغربی اور اسلامی فکر کی آویزش، سماج اور اخلاقی مسائل،آج کا استاد اور آج کا شاگرد سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو کے اقتباسات نذرِ قارئین ہیں۔

فرائیڈے اسپیشل: کچھ لوگ اسلامی ادب کے عنوان کو ادب کو محدود کرنا کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ادب، ادب ہوتا ہے، کوئی اسلامی اور غیر اسلامی ادب نہیں ہوتا، اور یہ اصطلاح ردعمل کی وجہ سے پید اہوئی ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد:اسلامی ادب کو ادب نہ کہنا نہ صرف تعصب ہے بلکہ حقائق کا انکار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جوحفیظ جالندھری سے ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کا مطالبہ کیا کرتے تھے، اگر وہ حفیظ سے شاہنامہ اسلام سنتے تو اس کی شعریت اور تاثیر کو اس نظم سے زیادہ نقطہ کمال پر پاتے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ انکار کرتے ہیں تو یہ ان کا اپنی آنکھوں کا استعمال نہ کرنا ہے، کان کا استعمال نہ کرنا ہے، قلب کا استعمال نہ کرنا ہے، دماغ کا استعمال نہ کرنا ہے، اور اس کے لیے وہی مورد الزام ٹھیرائے جاسکتے ہیں، حفیظ جالندھری کو نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔ میرے خیال میں حفیظ کا ’’شاہنامہ اسلا م‘‘ اسلامی ادب کی ایک اعلیٰ مثال ہے، علامہ اقبال کا کلام اس کی اعلیٰ مثال ہے،اردو ادب میں ہر شعبے میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔فرحت اللہ بیگ سے لے کر نعیم صدیقی تک، ایسے ایسے بے شمار ادیب ہیں جن کی تخلیقات اخلاقی اصولوں کی پیروی کرتی ہیں، حتیٰ کہ بعض غیر مسلم ادیب مثلاًکنہیا لال کپور کے طنز و مزاح میں کوئی غیر اسلامی عناصر نظر نہیں آتے۔
فرائیڈے اسپیشل: برصغیر میں اقبال جیسی شخصیت پیدا ہوئی، جنہوں نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ اُن کی شاعری غیر معمولی ہے۔ اقبال بظاہر ہمارے نصاب میں بھی نظر آتے ہیں، ہمارے اخبارات میں بھی اُن کا موقع محل کی مناسبت سے ذکر ہوجاتا ہے، ٹیلی ویژن سے بھی شاعری سننے کو مل جاتی ہے۔ لیکن اقبال کے جو تصّورات ہیں ان کا ہماری زندگی سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ اقبال ہمیں اپنی عملی زندگی میں کہیں بھی نظر نہیں آتے، اس کا کیا سبب ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد:میں سمجھتا ہوں کہ ہماری امت رسومات میں کھو گئی ہے۔ ہم رسومات کے قائل ہیں، ہم کسی چیز کو سمجھنے کے قابل نہیں رہے۔ ہم رسمی طور پر نماز پڑھتے ہیں، رسمی طور پر اللہ کے رسولؐ سے عشق کا اظہار کرتے ہیں،اقبال کو بھی یوم ولادت اور یوم وفات پر یاد کرتے ہیں، رسمی طور پر خوشی مناتے ہیں بہت سے مواقع پر۔ رسم کا مطلب یہ ہے کہ سال میں ایک مرتبہ ایک چیز کرلیں تو ایک رسم پوری ہوگئی۔ جبکہ دین مطالبہ کرتا ہے مکمل زندگی کو ایک رخ پر لگانے کا، اور اقبال بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ہوسکتا تھا اگر ہم اقبال کو اپنے نصاب کا حصہ بناتے، اگر ہمارا شعری مجموعہ جو ہم پڑھاتے ہیں پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی تک وہ اقبال کے کلام کے ان ارتقائی مدارج کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا۔ اقبال نے آخر مکڑی پر، جگنو پر بھی لکھا ہے وہ کس کے لیے ہے؟ یہ بچوں کے لیے کہا ہے۔ایسے ہی و وہ بات کرتے ہیںشاہین کی بھی، یہ کس کے لیے کہا ہے؟ظاہر ہے نوجوان کے لیے۔ ہم اقبال کو بھی سال میں ایک مرتبہ محض رسماًخراج عقیدت پیش کر تے ہیں۔عملاً ہم نے اقبال کو بھلا دیاہے۔ اگر ہم اقبال کو صحیح طور پراپنے تعلیم و تربیت کے عمل میں شامل کرتے تو ہمارے ہاں ترقی ہوتی علم وفن کے اندر، سیرت و کردار کے اندر، معاشرت کے اندر، ہر جگہ ترقی ہوتی، کیونکہ وہ قرآن کریم کے مضامین کو اپنے اشعار میں پیش کرتے ہیں اور ترقی کا راز قرآن کریم کی تعلیمات کو اختیار کرنے میں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارے ہاں قحط الرجال ہے، نہ کوئی بڑا ادیب پیدا ہورہا ہے، نہ اچھی شاعری میں کوئی نام ہے، باقی چیزوں کی بھی صورت حال ایسی ہی ہے۔ کتابیں ہمارے ہاں پہلے دو ہزار چھپتی تھیں، وہ ہزار پر آئیں، اب پانچ سو چھپنے لگی ہیں۔ یہی صورت حال رہی تو اس سے بھی کم تعداد میں چھپیں گی۔ اس صورت حال کو آپ کیسے دیکھتے ہیں اور اس میں کیسے بہتری آسکتی ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد: علمی ترقی ہوتی ہے اُس وقت جب آپ علم کو ترجیحات میں اولین مقام دیں۔ اگر علم کو معلومات سمجھ لیا جائے تو وہ علم نہیں رہتا۔ ہم نے بجائے علم کے، معلومات کو بنیاد بنالیا ہے۔ یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مطلب ہم نے یہ لے لیا ہے کہ معلومات تیزی کے ساتھ جتنی زیادہ مل جائیں اتنی ہی اچھی بات ہے۔ لیکن ان معلومات میں علم کہاں ہے؟ حکمت کہاں ہیں؟ نتائج کہاں ہیں؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے برقی ابلاغ عامہ کے ذرائع ہیں، ان کو اصل فکر ہوتی ہے ریٹنگ کی، یہ فکر نہیں ہوتی کہ وہ کیا پیغام دے رہے ہیں، وہی طریقہ ہم نے علم کے حصول میں اختیار کرلیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے اوپر ایک ہوّا طاری کرلیا ہے کہ چونکہ یہ برقی دور ہے اس لیے ہر چیز برقی ہونی چاہیے۔ کتاب بھی برقی ہو، پیغام بھی برقی ہو، بجائے اس کے کہ میں ہاتھ سے کوئی نوٹ لکھوں، وہ میں رومن میں اپنے موبائل پر ٹائپ کرکے بھیج دوں۔ جب آپ رومن میں کوئی چیز لکھیں گے تو وہ شخص جس کی آنکھیں اردو پڑھنے کی عادی ہیں وہ پڑھ نہیں سکے گا۔ کم از کم میں تو نہیں پڑھ سکتا۔ میرے ایک قریبی دوست بھی ہیں، عزیز بھی ہیں، بڑی نامور شخصیت ہیں، وہ تقریباً روزانہ مجھے ایک پیغام بھیجتے ہیں جو ہوتا ہے اردو میں، وہ میں پڑھ لیتا ہوں۔ جو رومن میں ہوتا ہے میں نہیں پڑھتا، کیوں کہ میں پڑھ ہی نہیں سکتا۔ لیکن اب مشکل یہ ہے کہ آپ آگئے ہیں ای بُک پر، اور آئندہ وہ بھی مختصر ہوکر کوئی اور شکل بن جائے گی، کتاب سے دوری علم سے دوری ہے۔کتاب کی جگہ برقی ذرائع کا استعمال ہمارے اندر سے رہے سہے صبر اور تفکر کو بھی ختم کر دے گا۔اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب کو مرکزی مقام دینا ہو گا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس طرح سے کاغذ کی اہمیت ختم ہوجائے گی؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد:لازمی طور پر، جس رفتار سے کام ہورہا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا علمی زوال ہوگا۔ اور جب تک دوبارہ کتاب کو زندہ نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک علم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بعض روایتی چیزوں کو زندہ کرنا ہوگا جن میں کتاب بھی شامل ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ عالمی طور پر جوتحقیقات برقی ذرائع معلومات کے استعمال پر کی گئی ہیں وہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسکرین چاہے موبائل کاہو یاآئی پیڈ کا، انسانی ذہن پر منشیاتی اثر پیدا کرتا ہے اور اس کا زیادہ استعمال پورے نظام اعصاب کو گڈ مڈکر دیتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا ڈیجیٹل اسکرین سے واپس کاغذ کی طرف آنا ہوگا؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد: میری رائے میں ایسا کرنا لازمی ہے اگر آپ ترقی چاہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ تماشا دکھانا چاہتے ہیں تو وہ اسکرین پر بڑا اچھا ہوجاتا ہے، ایک سیکنڈ میں بٹن دبایا اور تماشا شروع۔علم جس گہرائی اور فکر کو پیدا کرتا ہے، ڈیجٹل سکرین سے وہ کام نہیں ہو سکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: ہماری ریاست نے اپنی تمام ذمہ داریوں سے دامن چھڑا لیا ہے، وہ نہ تعلیم دے رہی ہے، نہ صحت کی سہولت فراہم کررہی ہے، ہماری موجودہ حکومت کے ایک وزیر نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ روزگار کی فراہمی ریاست کا کام نہیں، حکومت روزگار فراہم نہیںکرسکتی۔ آخر ہماری زندگی میں حکومت اور ریاست کی کیا معنویت باقی رہ گئی ہے! اور یہ کتنی اسلام کے خلاف بات ہے، کیونکہ جو اسلامی ریاست ہے وہ روحانی معنوں میں بھی اور مادی معنوں میں بھی فلاحی ریاست ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد:آپ نے بہت اہم سوال اٹھایا جو بہت تفصیل طلب ہے۔ ریاست ذمہ داریوں سے کیوں بھاگ رہی ہے اور ریاست کا پھر کام کیا رہ جاتا ہے؟ یہ تو سوال پوچھنا چاہیے ذمہ داران سے جویہ کام کررہے ہیں، لیکن جو عقل کہتی ہے وہ یہ کہ ریاست کی ذمہ داریوں میں اوّلین بات یہ شامل ہے کہ اس کے شہریوں کے جان، مال اور عزت کا تحفظ، تعلیم اور صحت کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آپ کسی سڑک پر نکل جائیے، جگہ جگہ آپ کو کسی بھی مکان کے باہر سیکورٹی والوں کا ایک کھوکھا ملے گا، اس کے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صاحب مکان کوکوئی خطرہ ہے جو اس نے ایک ذاتی محافظ رکھا۔ ہر وہ گاڑی جو زمین سے ذرا بلندہوتی ہے اور چار پہیوں میںقوت رکھتی ہے، اس میں جھانک کر دیکھیے تو پیچھے ایک بندوق بردار بیٹھا نظر آئے گا، کس خوشی میں؟ کہ جو صاحب اس قیمتی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں، جس کی قیمت ایک مکان کے برابر ہے، ان کی جان کو خطرہ ہے۔ تو ریاست کا پہلا کام تحفظ فراہم کرنا ہے، تاکہ ایک عام شہری بغیر کسی خطرے کے جہاں چاہے جاسکے۔ دوسری چیز اس کا رزق اور تعلیم ہے جو اس کی ذمہ داری ہے۔ تعلیم کی ذمہ داری اس لیے ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر مسلمان کو تعلیم کا حصول زندگی کا مقصد بنانا چاہیے، وہ کہتا ہے کہ یہ دعا کرو کہ اللہ میرے علم میں اضافہ کرے۔ یہ اضافہ کیسے ہوگا؟ یہ اضافہ ایسے ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آتے ہی ایک ادارہ تعمیر کیا، وہ تھا صفہ کا، جہاں پر تعلیم ہوتی تھی اور ذمہ داری ریاست کی تھی۔ ایسے ہی معاملہ تھا روزگار کا۔ اگر لوگ فاقے سے مررہے ہیں یا ان کے پاس روزگار نہیں ہے تو یہ ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ ایسا معاشی نظام متعارف کرائے جس میں تقسیمِ زر اور پیداوارِ زر ان ذرائع سے ہو جو اسلام نے بتائے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انسان نہیں ایک حیوان بھی میری ریاست میں بھوکا مرتا ہے تو میں ذمہ دار ہوں گا۔ تو جو سینکڑوں ہزاروں سڑکوں پر، گلیوں میں فاقہ کش پڑے ہوئے ہیں کیا اُن کی ذمہ داری حکومت کی نہیں بنتی؟ گویا اسلامی ریاست جس چیز کا نام ہے اور جو مدینہ منورہ میں قائم کی گئی اُس کے بنیادی وظائف میں یہ بات شامل ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم، دینی رہنمائی، جان کا تحفظ، مال کا تحفظ،دین کا تحفظ،صحت اور عزت کا تحفظ فراہم کرے۔
یہی وہ چیزیں ہیں جن کو فقہائے امت نے مقاصدِ شریعت کہا ہے۔ شریعت کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ وہ شریعت جو جان کا، مال کا، عقل کا، عزت کا تحفظ دیتی ہے۔ تو قرآنی حیثیت سے بھی اور مدینہ منورہ کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے بھی یہ ذمہ داری ریاست کی بنتی ہے کہ وہ یہ سارے کام کرے۔ اسی بنا پر آپ دیکھیے کہ قائداعظم نے تصورِ پاکستان پیش کرتے ہوئے بارہا یہ بات کہی کہ ہم پاکستان کو ایک ویلفیئر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں، اور یہ بات بھی کہی کہ ہمارے سامنے تیرہ سوسال پہلے مدینہ منورہ کا نمونہ ہے۔ گویا آج اگر کوئی فلاحی اسٹیٹ بن سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر قائم کرنے سے ہی بن سکتی ہے جس میں تعلیم، صحت، دفاع، تحفظ دین، ان سب کو اسٹیٹ کو اپنے وظائف کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔ اگر یہ نہ کیا جائے تو اسٹیٹ کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے! اپنا دفاع بھی آپ خود کررہے ہیں، معیشت آپ کی اپنی ہے، تعلیم بھی جہاں جاکر آپ چاہیںحاصل کر لیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ چند افراد جو یہ کرسکتے ہیں کہ اپنے خرچے پر اپنی سیکورٹی، اپنے خرچے پر تعلیم اور سب کچھ کرسکیں، ان کو یہاں رہنے کا حق ہے جب کہ زندگی کا حق ہر شخص کو ہے اور اسلام چاہتا ہے کہ وہ ریاست قائم ہو جواسلامی رفاہی ریاست ہو۔
فرائیڈے اسپیشل: مدینہ کی ریاست کی عملی تصویر یہی ہوگی آج کے دور میں کہ جو ریاست ہے وہ روزگار، تعلیم اور صحت ایک عام آدمی کو فراہم کرے؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد:دین سب سے پہلے، اس کے بعد یہ سب چیزیں ہیں۔ یہ سب چیزیں اسی لیے ہیں کہ شریعت کے مقاصد ہیں۔ اس کا مطلب ہے شریعت کا نفاذ۔ شریعت کے نفاذ کا مطلب کیاہے ان افراد کار کی کردار سازی جو قرآن و سنت پر عامل ہوں، کیوں کہ وہی اس امانت اور ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کر سکتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں ایک طرح سے سیکولرازم اور لبرل ازم کی تعلیم دی جارہی ہے اور ایسا ماحول بھی فراہم کیا جارہا ہے، اور اس معاملے میں ریاست کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کیا معاشرے کو اس بارے میں نہیں سوچنا چاہیے؟ اور یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی اور اس کے تدارک کی کیا صورت ہوگی؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد: اس بارے میں تین باتیں ہیں۔ یہ بات نہیں ہے کہ والدین کو پتا نہیں کہ اداروں میں کیا ہورہا ہے۔ اگر ایک بچہ یا بچی صبح ساڑھے سات بجے یا سات بجے گھر سے نکلتی ہے، وہ خود جاتی ہے یا اس کے والدین اس کو پہنچاتے ہیں وہاں تک، اور پھر اسے شام کو اٹھاتے ہیں یا وہ خود آتی ہے، تو جو کچھ دن میں ہوا ہے کیا والدین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شام کو کھانے پر پوچھیںکہ آج آپ نے کیا کیا؟ اگر وہ جاننا چاہتے ہیں تو جان سکتے ہیں۔ کیا والدین پر پابندی ہے کہ وہ کبھی دن کے اوقات میں یونیورسٹی میں، کالج میں جاکر یہ دیکھیں کہ ان کا بچہ یا بچی کیاکررہے ہیں؟ وہ کلاس میں ہیں یا نہیں۔ کیمپس میں ہیں یا نہیں ہیں۔ اگر والدین اپنے فرائض بھول جائیں اور یہ سمجھیں کہ ہمارا کام صرف ہر کالج یا یونی ورسٹی تک چھوڑنا اور اٹھانا ہے، فیس دینا ہے اور ڈگری حاصل کرنا ہے تو یہ بہت ناقص تصور تعلیم ہے جس میں والدین برابر کے شریک ہیں۔ رہا اداروں کا معاملہ، تو ادارے چاہے سرکاری ہوں یا نجی، اگر وہ چاہیں تو بے شمار کام کرسکتے ہیں۔ میرے علم میں سرکاری ادارے ہیں جہاں پر اگر یہ پابندی ہے کہ آپ کو یونیفارم پہننا ہے تو وہاں پہنا جاتا ہے۔ آرمی میڈیکل کالج ہمارے پڑوس میں مثال ہے اس کی ہر طالبہ اور طالب علم یونیفارم پہنتا ہے اور یہ سرکاری ادارہ ہے۔ ہم نے رفاہ میں آغاز سے یہ کیا کہ طلبہ کے لیے الگ، طالبات کے لیے الگ یونیفارم کا اہتمام کیا، اور یہ بات لکھ دی ہے کہ طالبات اسکارف استعمال کریں کہ ان کے بال ڈھکے ہوئے ہوں گے، قمیص پوری آستین کی ہوگی، قمیص کی تراش خراش ایسی نہیں ہوگی کہ جسم کے ابھار نظر آئیں، بلکہ ڈھیلی ہوگی، چاک نیچے ہوگا۔ جو چیزیں ہمارے خیال میں ایک اچھے مہذب فرد کو کرنی چاہئیں ہم نے وہ لکھ دی ہیں اور ان پر 1996ء سے عمل کر رہے ہیں، اگر کوئی نہیں کرتا تو ہم کہتے ہیں کہ آپ واپس جائیے اور اپنا لباس ٹھیک کرکے آئیے۔ ہمارے ہاں جوگرزکی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے ہاںمخلوط سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ بچوں کے الگ لان ہیں، بچیوں کے الگ لان ہیں۔ لیب کے اندر طالبات اور طالب علموں کے لیے الگ الگ عملہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: جو چیزیں آپ بیان کررہے ہیں وہ نظر بھی آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس سے تعلیم پر کیا کوئی اثر پڑتا ہے؟ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس طرح لوگوں کو کھلا ماحول نہیں ملتا، آزادانہ خیالات کی ترویج کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد:ہمارے ہاں کے تعلیمی نتائج دیکھ لیں۔ ہمارے مقابلے میں کوئی اور نجی ادارہ جو طلبہ کو اسناد دے رہا ہے اُس کے جو سی جی پی اے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے، وہ کن گریڈز میں کامیاب ہورہے ہیں؟ دوسرے، کامیابی کے بعد عملی زندگی میں وہ کہاں پر ایڈجسٹ ہورہے ہیں؟ ان کا کن مقامات پر استعمال کیا جارہا ہے؟ یہ وہ پیمانے ہیں جن سے آپ طے کرسکتے ہیں۔ میں خود اپنے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، البتہ میری معلومات کے مطابق ہمارے طلبہ ملک سے باہر بھی گئے ہیں جہاں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئی، کیونکہ وہ الگ ہونے کے باوجود صلاحیت کے لحاظ سے، تعلیم کے لحاظ سے اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ گلا گھونٹنے کا معاملہ اُس وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب والدین یہ بات نہ جانتے ہوں اور ویب سائٹ پر لکھا ہوا نہ ہو کہ ہماری شرائطِ داخلہ یہ ہیں۔ جب ویب سائٹ اور مطبوعہ پراسپیکٹس پر لکھا ہوا ہے کہ جو طالب علم یا طالبہ آئے گی اسے یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا ہے، تو وہ گلا گھٹوانے خود آرہا ہے یا ہم گلا گھونٹ رہے ہیں؟ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی صحیح ماحول ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے، وہ اپنے بچوں کو اعتماد سے بھیجتے ہیں، اور بچے اس پر فخر کرتے ہیں۔ نہ گلا ان کا گھٹتا ہے اور نہ انہیں یہ احساس ہوتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اس کا مطلب ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں آپ کے ہاں طالب علم آرہے ہیں، اور ظاہر ہے آپ کی شرائط کے مطابق آرہے ہیں، اور دیگر یونیورسٹیوں سے بھی بڑی تعداد میں اس کے باوجود آرہے ہیں۔ مطلب یہ کہ معاشرے میں لوگ بڑی تعداد میں اس طرح کے اداروں کا قیام چاہتے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد:یہ وہ پہلو ہے جو ہمارے ہاں ذرائع ابلاغ پر نہ ہی دکھایا جاتا ہے اور نہ ہی پڑھایا جاتا ہے۔ آج بھی والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بچی یا بچہ ایسے ماحول میں ہو جہاں وہ نشہ آور اشیاء سے دور رہے، جہاں پر جنسی اشتہا انگیز سرگرمیاں اور ماحول نہ ہو اور یہ اُسی وقت ہوگا جب اسلامی اخلاقیات پر عمل کیا جائے۔ اگر والدین یہ چاہتے ہوں کہ ان کے بچے نیک ہوں اور تعلیمی لحاظ سے اعلیٰ معیار رکھتے ہوں توکیا وہ ایسے اداروں پر اعتماد کریں گے۔جہاں تعلیم گاہ کے اندر لڑکے لڑکیاں کلاس سے نکلتے ہی سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے سگریٹ پی رہے ہوں، گھنٹہ گھنٹہ گفتگو کررہے ہوں تو آپ خود سوچ لیں کہ نتائج کیا ہوں گے؟ اس کے مقابلے میں اگر طلبہ و طالبات کو تربیت کا شعبہ مختلف موضوعات پر تقاریر اور سرگرمیاں کروا رہا ہو۔اسٹوڈنس سروس ڈپارٹمنٹ ان کے لیے الگ سہولتوں کے ساتھ کھیل، تقریری مقابلے، سالانہ دن وغیرہ منعقد کر رہا ہو۔ اگر معلمین اور معلمات، طلبہ اور طالبات کو الگ الگ گروپ کی شکل میں ہر دو ہفتہ میں ایک نشست میں ان کے مسائل پر تبادلہ خیالات کریں جسے ہم Mentoring کہتے ہیں تو یہی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے کردار وسیرت کے لحاظ سے دیگر جامعات سے مختلف ہوں گے۔ہمارے ہاں ہر سرگرمی الگ ہوتی ہے اور کسی کو بھی آج تک دقت پیش نہیں آئی کہ جس بچی نے رفاہ میں ڈبیٹ میں حصہ لیا ہے چار پانچ سال تک، اگر وہ کسی مقابلے میں مخلوط یونی ورسٹی میں گئی ہے تو ٹرافی لے کر آئی ہے۔ یہ خیال بے بنیاد ہے کہ جب تک کاندھے سے کاندھا نہیں ٹکرائے گا اور وہ ساتھ نہیں پڑھیں گے اُن میں صلاحیت پیدا نہیں ہوگی۔ علمی اور تجرباتی بنیاد پر ایسی کوئی بات نہیں پائی جاتی۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارے الیکٹرانک میڈیا میں عریانی اور فحاشی کا ایسا سیلاب آگیا ہے کہ اُس کے لیے عریانی اور فحاشی کی اصطلاحیں بھی ناکافی محسوس ہونے لگی ہیں۔ اور ہمارے دو ڈراما نگاروں نے بھی اس صورتِ حال پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ شاہ نواز فاروقی نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ حسینہ معین نے کہا تھا کہ جو ڈرامے بن رہے ہیں وہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیںدیکھے جاسکتے، اسی طرح ہمارے ممتاز شاعر اور ڈراما نگار امجداسلام امجد نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اب ایسے ڈرامے پروڈیوس ہورہے ہیں جو میاں، بیوی بھی بیٹھ کر نہیںدیکھ سکتے۔کیا یہ کام کسی ایجنڈے کے تحت ہورہا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد: میں ان دونوں ادیبوں کی بے انتہا تائید کرتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ حق بات کہنا ہر صاحب ایمان کا حق ہے بلکہ ہر وہ فرد جو شعور رکھتا ہے وہی بات کہے گا جو ان دونوں نے کہی ہے، اور سچ بات یہی ہے کہ ہمارا ابلاغ عامہ، ہمارا ڈراما اور ہماری اسکرین ایسی بن گئی ہے کہ کوئی شریف آدمی اس کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجوہات تین ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مغرب سے در آمدشدہ نام نہاد آزادی کے عنوان سے ہر ہر برائی کو اسٹیج پر آنے کی اجازت دے دی ہے اور اگر حکومت کا مقرر کیا ہوا ایک ادارہ جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ نگرانی کرے، سنسر کرے اور تادیب کرے سخت ناکام رہا ہے۔ دنیا میں ہر جگہ فحاشی اور عریانی شیطان کا ایسا حربہ ہے جس کے جھانسے میں لوگ آجاتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں دنیا میں عریاں فلموں کی بڑی مانگ ہوتی ہے تو وہ بھی چاہتے ہیں کہ مالی فائدے کے لیے یہ کام عام ہواور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔ اس صورت حال میںریگولیٹری اتھارٹیز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی آئین و قانون کی روشنی میں نشر شدہ مواد کا ذمہ دارنہ جائزہ لیں۔دوسری ذمہ داری ناظرین کی ہے۔ میرے علم میں نہیں ہے کہ کوئی بھی پروگرام ایسا ہے جس میں ناظرین کی بڑی تعدادوہ پروگرام دیکھنا بند کر دے پھر بھی وہ پروگرام چل سکے۔ آپ کس بنا پر وقت دیتے ہیں یا فروخت کرتے ہیں۔ اس بنا پر کہ اتنے ناظرین نے اسے دیکھا اور اس کی قیمت آپ وصول کررہے ہیں۔ اگر دیکھنے والے یہ طے کرلیں کہ اس طرح کے پروگرام ہم نہیں دیکھیں گے، اور وہ اپنا ایک نیٹ ورک بنالیں جس میں کچھ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، نہ کوئی ہال کرائے پر لینا ہے نہ مظاہرہ کرنا ہے، صرف اپنے موبائل شریف سے پیغام نشرکرنا ہے، اپنے پچاس جاننے والوں سے کہنا ہے کہ جو فلاں پروگرام ہے یہ آپ نہ دیکھیں، اور وہ نہ دیکھیں۔ ان پچاس کو ضرب دیجیے آپ پانچ سو گھرانوں میں سے اگر کوئی بھی پروگرام نہیں دیکھ رہا تو وہ ڈرامہ کس بنیاد پر چلے گا؟ کون فنڈ دے گا؟ تیسری بات، جو حضرات کھلے طور پر بیرونی امداد کا اعتراف کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وائس آف امریکہ، نیویارک ٹائمز اور فلاں فلاں کے تعاون سے ہم یہ کام کررہے ہیں، تو اس کی کون اجازت دے رہا ہے؟ حکومت یا معاشرہ؟ ذمہ داری کس کی ہے؟ اگر حکومت یہ جانتی ہے کہ ان اداروں کی فنڈنگ کہاں سے ہورہی ہے، کس ذریعے سے ہورہی ہے، کس عنوان سے ہورہی ہے تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کا تدارک کرے۔ اور یہ لازمی طور پر ایک ایجنڈے کے تحت ہورہا ہے۔

کورونا وبا نے سائنس پر اعتماد کو کمزور کر دیا ہے

فرائیڈے اسپیشل :آج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ـ”کرونا وائرس ” جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے ۔ پوری دنیا میںلاکھوں افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ۔آپ اس کو عالم اسلام اور پھر پوری دنیا کے پس منظر میں کس طرح دیکھتے ہیں ؟ یہ عذاب ہے ، تنبہیہ ہے یا کچھ اور ہے؟
پروفیسرڈاکٹر انیس احمد:قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی جن دو صفات کو بار بار دوہراتا ہے ان میں رب کریم کے الرحمن اور الرحیم ہونا بقیہ تمام صفات پر غالب نظر آتا ہے۔حتیٰ کہ خود رب کریم یہ بات فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنی رحمت کی صفت کو اپنے آپ پر لازم کر دیا ہے ۔ اس لیے تمام تر معصیتوں اور گمراہیوں کے باوجود الرحمن اور الرحیم اپنی عیال پر مکمل طور پر غضبناک نہیں ہوتا ، ہاں اپنے عباد کو متوجہ کرنے اور انھیں ان کے کیے ہوئے بندگی کے عہد کی یاد دہانی کے لیے اکثر ایسے جھٹکے ضرور دیتا ہے جو جگانے کے لیے کافی ہوں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ کرونا وائرس کی وبا بذات خود کوئی مرض نہیں کہی جا سکتی ، یہ اسی طرح کا وائرس ہے جیسے اس سے پہلے آ چکے ہیں لیکن اپنی شدت اور وسعت کے لحاظ سے پہلے کے تمام وبائی وائرسوں سے شدید ہے ۔انسان کو رب کریم نے اعلیٰ ترین شکل میں تخلیق فرمایا ہے اور وہ سخت ترین حالات میں اپنے فطری نظام کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کی برکت سے بہت جلد اپنے مدافعتی نظام immune system کو بہتر بنا کر مرض کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرلیتا ہے ۔انشا ء اللہ اس وبا میں بھی مجھے پوری امید ہے کہ کچھ افراد جن کو قضائے الہی سے اس وبا کے ذریعے اپنی طبعی عمر پوری کرنی تھی ، ان کو چھوڑتے ہوئے بقیہ انسان انشاء اللہ اپنے اندراللہ تعالیٰ کی توفیق سے قوت مدافعت پیدا کریں گے اور زندگی کے معمولات بڑی حد تک سابقہ شکل پر آ جائیں گے ۔
یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ صورت حال بالکل سابق جیسی ہوگی یا مختلف ۔ہاں اس وبا نے بعض دینی ہدایات کی حکمت اور عملیت کی توثیق کر دی ہے کہ دن میں کم ازکم5 بار ان تمام اعضا ء کو اچھی طرح پاک صاف کرنا جو معاشرتی ضروریات کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ملاقات میں استعمال ہوتے ہیں ، وہ ہاتھ ہوں یا چہرہ اور وہ تمام ہدایات جو ہادی اعظم ﷺ نے دی ہیں کہ منہ کی صفائی ، چھینکنے کے آداب ، جماہی کے آداب، ان سب کی اہمیت بہت نمایاں ہو گئی ہے۔
اس سے قبل سیاہ طاعون کی وبامیں یورپ ہو یا دیگر ممالک بھاری جانی نقصان اٹھا چکے ہیں ۔انشاء اللہ اس وبا میں اگر بروقت احتیاطیں کی گئیں تو جانی نقصان پر قابو پایا جا سکے گا ۔ہسپتالوں میں اصل مسئلہ وہاں کے عملہ اور مالکان کے ایمان و اخلاق کا ہے ۔جس کی بنا پر دواؤںمیں محض نفع خوری کی بنا پر اضافہ یا وینٹی لیٹر کے استعمال کی قیمت میں اچانک اضافہ ،اس صورت حال میں اگر للہیت سے کام کیا جاتاتو مزید جانیں بچ سکتی تھیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب سے محفوظ رکھے ، عذاب جب آتا ہے تو پھر وہ کسی کو نہیں چھوڑتا ، بحر مردار میں غرق آبادیاں ، اردن میںجو اصلاً شام کہلاتا تھا تباہ شدہ پیٹرا کی وادیاں جو پہاڑوں کو تراش کر محلات کی شکل میں بنی تھیں ،ان کے کھنڈرات عذاب الہی کی نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ رکھے اور آزمائشوں میںاپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دے۔
فرائیڈے اسپیشل:اسلامی ممالک میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر بڑی تعداد میں اعتراض بھی موجود ہے ، یعنی وہ خانہ کعبہ ، مسجد نبویﷺ اور دیگر مساجد و عمرے پر پابندی یا محدود کرنے کو اسلام کی روح کے برعکس دیکھتے ہیں ، آپ اس پر کیا رائے رکھتے ہیں اور ہماری دینی روایت میں اس طرح کی وبا پر کیا راہنمائی موجود ہے؟
پروفیسرڈاکٹر انیس احمد:جہاں تک تعلق عالمی طور پر اجتماعات پر ممانعت کا تعلق ہے ، اس کو صیحح تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔اگر طبی اور قابل اعتماد شواہد پر مبنی تحقیق یہ بتاتی ہو کہ ایک مریض جو خود اپنے مرض سے آگاہ نہ ہو، ایک صحت مند کو سانس کے ذریعے ، چھینک کے ذریعے یا جسم مس کرنے کی شکل میں اپنا مرض اسے دے سکتا ہے تو عقل اور شریعت دونوں مطالبہ کرتے ہیں کہ مریض اور صحت مند کے درمیان فاصلہ قائم کیا جائے کیوں کہ اگر نہ صرف مساجد بلکہ تمام اجتماعات کی جگہوں پر انسانی جان کے تحفظ کے پیش نظر کوئی پابندی لگائی گئی تو یہ چاہے روایت کے خلاف ہو لیکن عین شریعت کے اصو لوں کے مطابق کہی جائے گی۔
بلاشبہ انسان کی زندگی اور موت کا تعین رب کریم نے کر دیا ہے جس کا علم اسی کو ہے ۔اس لیے یہ کہنا کہ جب موت کا ایک وقت متعین ہے تو پھر چاہے جان بوجھ کر آدمی موت کے منہ میں جائے پھر بھی بچ جائے گا،کیا یہ بات بالکل درست ہے ؟ سوال یہ ہے کس طرح بچے گا ، وائرس لگا کر ، اور اپنے ساتھ اپنے اہل خانہ کو وائرس میں مبتلا کر کے خود اور سب اہل خانہ کو ہراساں اور پریشان کرنے کے بعد ڈاکٹروںکی دوا وں کا تختہ مشق بننے کے بعد۔؟۔۔۔۔ اللہ پر توکل کیایہی ہے کہ جان بوجھ کر مرض کو دعوت دے ، دوسروں کو اس میں مبتلا کرے اور پھر جان بچا کر سر اونچا کر کے واپس آ جائے!۔۔۔۔اسلام کی روح بندگی رب ہے اور بندگی رب کا مطلب ہے کہ اگر رب کریم فرماتا ہے کہ ـ”خود کو اپنے ہاتھ سے ہلاک نہ کرو “تو کیا اس آیت کاصرف یہ مفہوم ہے کہ آدمی بندوق کی گولی یا چاقو سے اپنے آپ کو قتل نہ کرے یا اس ایک آیت میں وہ تمام معاملات شامل ہیں جن میں ایک شخص جانتے بو جھتے صحت اور طہارت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے جس کی ایک معروف مثال سگریٹ نوشی ہے یا زہر خورانی جو بہت سے انسان اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں اور انھیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ۔انسانی جان کے تحفظ کے لیے قرآن کریم اس حد تک اجازت دیتا ہے کہ اگرزندگی بچانے کے لیے ایک ممنوع چیز کھانی یا پینی پڑ جائے تو جان بچانے کی حد تک اس کا استعمال قابل گرفت نہیں ہے ۔ دینی طرز عمل اور قرآن کے واضح ا صول و احکام میں یگانگت ہونی چاہیئے ، ٹکراؤ نہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کورونا وائرس کی اب تک کی تباہ کاریوں نے جو نتائج پیدا کیے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے مستقبل کا منظر نامہ کیا نظر آ رہا ہے؟
پروفیسرڈاکٹر انیس احمد:جہاں تک اس وائرس کی تباہ کاریاں ہیں ، ان کا نمایاں اثر تجارت ، تعلیم ، سفر وسیاحت اور عوام کے لیے طبی سہولیات میں سب سے زیادہ نظر آ رہا ہے ،ان میں سے ہر شعبہ میں اگر ناگہانی حالات کے بارے میں سوچتے ہوئے پہلے سے مدافعانہ اقدامات کیے گئے ہوتے تو ان سب شعبوں میں ہماری کارکردگی دوسروں سے بہتر ہوتی ۔اب آپ کے بقول اس ـ”تباہ کاری ـ” کا دوسرا پہلو بھی دیکھئے ۔اب تک معلومات کے برقی ذرائع کا استعمال اس کثرت سے نہیں تھا ، جو آج ہو رہا ہے ۔ پہلے استاد کلاس روم میں جا کر درس دیتا تھا اب وہ برقی ذرائع سے یہ کام کر رہا ہے اور اس بنا پر اسے پہلے سے زیادہ محنت کرنی پڑ رہی ہے ، کیوں کہ معاملہ لیکچر یا خطاب کا نہیں ہے ، نفس مضمون کو سمجھانے کا ہے ۔ جن مضامین میں تجربہ گاہ کا استعمال ہوتا ہے وہ ابھی تک معطل ہیں اس کی بھی کوئی شکل انسانی ذہن نکال لے گا ۔اس لیے یہ ـ”تباہ کاری ـ” اختراع اور نئے راستے تلاش کرنے کی برکت ساتھ لائی ہے ۔ کل تک ایک داعی کسی کے گھر جا کر ، مسجد میں لوگوں کو جمع کر کے درس دیتا تھا ۔ اب آپ بیک وقت لاکھوں افراد کو اپنے موبائل شریف سے ایک پیغام ریکارڈ کر کے بمع تصویر بھیج سکتے ہیں ۔ گویا دعوت کے نئے راستے کھلے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر شر سے اللہ تعالیٰ کوئی خیر کا پہلو نکال دیتے ہیں ۔ اس لیے اس امتحان اور آزمائش میں بھی انشاء اللہ ہمارے لیے ہمارے رب کی طرف سے کوئی خیر کا پہلو ضرور نکلے گا ۔
فرائیڈے اسپیشل: اس وقت مغرب اور اس کے متاثرین جو ہمارے یہاں بھی پائے جاتے ہیں ، سائینس کو خدا سمجھتے رہے ہیں کیا کورونا وائرس نے ان کے اس بت کو پاش پاش نہیں کر دیا کہ سائینس بے بس اور رسوا نظرآ رہی ہے ؟کرونا کے بعد کی دنیا اور خاص طور پر امریکہ اور مغرب کے مستقبل کو کس طرح دیکھ رہے ہیں ؟
پروفیسرڈاکٹر انیس احمد :جی ہاں ،مغرب و مشرق میں ہر جگہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرتے تھے، وہ سڑکوں پر رکوع اور سجدے میں گر کر اپنے رب کے سامنے التجائیں پیش کرتے نظر آ رہے ہیں۔دنیا کے ہر خطہ میں ایسے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں ۔ مسلم دنیا میں ہی نہیں وہ مسلمان جو دیگر ممالک میں تعلیم یا کاروبار کے لیے مستقل طور پر مقیم ہیں ان سے سوشل میڈیا سے مصدقہ اور غیر مصدقہ اذکار کا تباد لہ ہو رہا ہے ۔ اسماء الحسنیٰ اور دیگر دعائیہ کلمات کو بچے ہوں ، یا جوان اور خواتین ہوں یا مرد عالمی طور پر کثرت سے استعمال کر رہے ہیں اور فضائیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے معمور ہیں ۔اس وبا نے سائنس پر اعتماد کو کمزور کر دیا ہے اور سائینس کے حتمی ہونے پر اور نہ صرف سائنسدانوں بلکہ حکومتوں کے اپنے وقت کے فرعون (انا ربکم الا اعلیٰ)ہونے کے دعوؤں کو چکنا چور کر دیا ہے ۔سب سے زیادہ وہ یک قطبی طاقت جسے اپنی برتری پر ناز تھا ، وہ سب سے زیادہ اس وبا کا شکار ہوئی ہے ۔ اس کے پاس نہ ہسپتالوں کی کمی تھی نہ مال کی ، نہ دواؤںکی ، نہ ڈاکٹروں کی لیکن یہ سب اللہ کی مشیت کے سامنے بے بس ہو گئے ۔ دنیا ٹھوکریں کھا کر آخر اپنے رب کی طرف لوٹ آئی ۔
فرائیڈے اسپیشل: آئیندہ کی دنیا کیسے نظر آ رہی ہے ؟ کچھ اہم تبدیلیاں ہوں گی یا ٓفت کے نتیجے میں پیدا صورت حال پر قابو پا لیا جائے گااور دنیا کا نظام پہلے جیسا ہی چلتا رہے گا؟
پروفیسرڈاکٹر انیس احمد :اس وائرس کے تناظر میں مجھے یہ احساس ہے کہ صالح ارواح کے لیے اس قسم کی یاد دہانی انھیں حق سے قریب لائے گی اور ان کا ضمیر انھیں اپنے رب کے سامنے استغفار کرنے اور پلٹنے کی دعوت دے گا لیکن جس کی آنکھوں اور کانوں پر پٹیاں بندھی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے خود باندھی ہیں ان کے لیے کلام نرم و نازک کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ قرآن ایسے افراد کو گائے ، بھینس نہیں بلکہ ان سے بد تر کہتا ہے ۔لیکن ان حالات میں بھی ہمارا فریضہ ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی اللہ کی طرف بلانے سے دریغ نہ کریں، آخر کچھ پتھر ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو شق ہو جاتے ہیں اور ان میں سے پانی ابلنے لگتا ہے۔ میرے خیال میں ہر انسان میں اسلام قبول کرنے، اللہ کی طرف آنے کی غیر معمولی صلاحیت پائی جاتی ہے ۔ ہمیں ان مواقع پر دعوتی سرگرمی کو حالات کے تناظر اور عصری ذرائع کے ذریعے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ ہو یا کوئی اور ملک ہم انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں ۔مجھے اللہ کی ذات سے پوری امید ہے کہ وہ اپنے بندوں پر رحم و کرم فرمائے گا اور جلد حالات معمول کی طرف پلٹ آئیں گے ۔واللہ اعلم بالصواب۔

Share this: