مولانا جلال الدین رومی المعروف بہ مولانا روم

Print Friendly, PDF & Email

ابوسعدی
نام: محمد۔ لقب: جلال الدین۔ اور عرف: مولانا روم ہے۔ ان کی سوانح کا بنیای ماخذ ان کے بیٹے بہاولد کی کتاب ”ولد نامہ“ ہے۔ ان کا سلسلہ نسب حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ملتا ہے۔ ان کے دادا حسین ابن احمد خطیمی ایک نامور علمی شخصیت گزرے ہیں۔ حکمران بھی ان سے عقیدت رکھتے تھے۔ خوارزم کے سلطان علاء الدین محمد نے اپنی بیٹی ملکہ جہاں کی شادی ان سے کردی، جس کے بطن سے مولانا روم کے والد بہاء الدین محمد پیدا ہوئے۔ مولانا روم 6 ربیع الاوّل 604 ھ خراسان کے ایک شہر بلخ میں پیدا ہوئے، اس بنا پر بلخی بھی کہے جاتے ہیں۔ ان کے والد خوارزم شاہ سے ناراضی کے باعث 618ھ میں بلخ کو چھوڑ کر نیشاپور چلے آئے، جہاں شیخ فرید الدین عطار کی زیارت ہوئی۔ عطار نے اپنی مثنوی ”اسرار نامہ“ کا ایک نسخہ مولانا روم کو دیا۔ مولانا روم ابھی چوبیس سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوا تو ان کے ایک شاگرد سید برہان الدین محقق ترمذی سے کسبِ فیض کرنے لگے۔ بعدازاں شام اور حلب چلے گئے اور علوم و معارف میں مشغول ہوگئے۔ پھر قونیہ آئے اور یہاں وعظ و ارشاد کا آغاز کیا۔ جب عارفِ کامل شمس الدین تبریزی قونیہ آئے تو ان کے دیدار نے مولانا روم کو بدل کر رکھ دیا۔ وعظ و ارشاد چھوڑ کر شمس تبریزی کی ارادت و عقیدت میں ان کے حلقہ بگوش ہوگئے۔ مولانا کے شاگرد ان کی آشفتگی اور شوریدگی سے پریشان ہوئے اور اس امر کے کوشاں ہوئے کہ مولانا کو ان کے مرشد شمس تبریزی کے دیدار سے محروم کردیں۔ پس انہوں ے شمس تبریزی کو قونیہ چھوڑنے پر آمادہ کرلیا اور وہ قونیہ سے چلے گئے۔ مولانا بے تاب ہوگئے اور مرشد کو واپس لے آئے، لیکن 645ھ میں ان کے خلاف ایک ہنگامہ کھڑا کردیا گیا اور بعض روایات کے مطابق انہیں قتل کردیا گیا۔ مرشد کی محبت نے مولانا روم کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ ان کے قتل یا مسلسل غیبت کے سات سال بعد مولانا نے مثنوی لکھنا شروع کی اور اپنے خلیفہ، مرید اور شاگرد حسام الدین چلپی کی خواہش پر مثنوی کے چھ دفتر لکھے، جو قصہ کہانی اور حکایت کے انداز میں پند و نصائح اور حکمت و عرفان کا بہت بڑا خزانہ اور فارسی زبان کا شاہکار ہے۔ مثنوی کے علاوہ ان کی دیگر تصانیف میں ”دیوان کبیر غزلیات“، جو دیوان شمس تبریزی کے نام سے بھی مشہور ہے، نثر میں ”فیہ مافیہ“ اور ان کے مکتوبات شامل ہیں۔ 672ھ میں قونیہ میں وفات پائی اور اپنے والد کے مقبرے میں مدفون ہوئے۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

(PROSE)نثر

اگر نظم ’’ترتیب‘‘ اور موزوں کلام کا نام ہے تو نثر غیر موزوں کلام کو کہیں گے (نثر بکھیرنا ہے تو نظم پرونا)۔ نثر کو واضح کرنے کے لیے والٹر پیٹر کے اس قول کو نقل کردینا چاہیے کہ عظیم ترین خیالات کو لفظوں میں لکھ دینا نثر ہے، اور عظیم ترین خیالات کو عظیم ترین لفظوں میں لکھنا ’’نظم‘‘ ہے۔ یوں تو ہر غیر موزوں عبارت کو نثر کہتے ہیں لیکن ادبی اصطلاح میں نثر ادبی تحریر کو کہیں گے۔ اردو ادب میں نثر کا ایک بیش بہا ذخیرہ موجود ہے جس میں سے زیادہ تر طبع زاد داستانوں، ناولوں اور افسانوں پر مشتمل ہے۔ تحقیق و تنقید، طنز و مزاح اور علمی موضوعات کے سلسلے میں بھی اردو نثر کا دامن مالا مال ہے۔

لالچ

ایک چالاک لڑکا کسی سبب سے ایک کنویں پر بیٹھا رو رہا تھا۔ ایک لالچی آدمی ادھر سے گزرا اور لڑکے سے رونے کا سبب پوچھا۔ لڑکے نے کہا: ’’میں اس کنویں پر پانی بھرنے آیا تھا۔ تانبے کا گھڑا میرے ہاتھ سے چھٹ کر کنویں میں گر پڑا اور میں اس کو سنبھالنے کو جھکا تو میری کامدار ٹوپی بھی گئی‘‘۔
یہ سن کر وہ آدمی کپڑے اتار کر کنویں میں اترا۔ دیر تک تانبے کا گھڑا اور کامدار ٹوپی کنویں کی تہ میں ڈھونڈتا رہا۔ آخر کو ناامید ہوکر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ لڑکا اس کے کپڑے لے کر چمپت ہوا۔
حاصل: لالچ ایک پردہ ہے جو آدمی کو انجام کار نہیں دیکھنے دیتا۔

غصے کا علاج

تہران میں ایک آدمی اس قدر زود رنج تھا کہ ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہوجاتا اور بعد میں سخت پشیمان ہوتا تھا۔ ایک دن اسے ایک دوست نے کہا کہ میرے پاس اس مرض (زود رنجی) کی ایک مجرب دوا ہے، استعمال کرکے دیکھو، جونہی غصہ آئے گن کر چار گھونٹ پی لو، ان شا اللہ چند روز میں شفا ہوجائے گی۔ اس نے ایسا ہی کیا اور ایک ہفتے میں معتدل ہوگیا۔ اب وہ اصرار کرنے لگا کہ مجھے اس دوا کا نام بتائیے۔ بڑی منت خوشامد کے بعد اس نے بتایا: ’’’خالص پانی‘‘۔
(ماہنامہ چشم بیدار، نومبر 2019ء)

سازشی کا انجام

ہلاکو خان (1265ء) کا ایک درباری عالم نصیر الدین محقق طوسی (1274ء) سے بہت جلتا اور اس کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا۔ جب ہلاکو خان کی والدہ کی وفات ہوئی تو اس عالم نے ہلاکو سے کہا کہ قبر میں منکر نکیر بہت سے سوال پوچھتے ہیں، اس لیے طوسی کو اپنی والدہ کے ساتھ دفن کردیجیے تاکہ یہ ہر سوال کا جواب دے سکے۔ ہلاکو نے طوسی سے اس کا ذکر کیا تو اُس نے کہا کہ مجھے اپنے لیے مخصوص رکھیے اور اپنی والدہ کے ساتھ اس عالم کو بھیج دیجیے، یہ کام چلالے گا۔ ہلاکو نے یہ بات مان لی اور اس سازشی کو اپنی ماں کے ساتھ زندہ دفن کردیا۔

Share this: