منور حسنؒ کو میں نے کیسا پایا؟۔

Print Friendly, PDF & Email

شفیع نقی جامعی
سید منور حسن سے میری ملاقات اس سال فروری میں ناظم آباد کراچی کی ایک خصوصی تقریب میں ہوئی۔ اس کا اہتمام جامعہ کراچی کے رفیقِ دیرینہ شاہد اسلام نے کیا تھا۔
دورانِ تقریب، میں اپنے مشفق کے ساتھ اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بھی بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں ہلکا سا رعشہ اور آواز میں بھی ہلکی سی کانپ تو تھی لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ یہ میری ان سے آخری ملاقات ہوگی۔ اب منور صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ انا للہ واناالیہ راجعون
سید منور حسن مرحوم کے چاہنے والوں، دوستوں، معتقدین اور براہِ راست تعلق رکھنے والے صحافیوں اور سیاست دانوں کی جانب سے ان کی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ان کی شفقت، مدبرانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں بہت سے نئے پہلو بھی سامنے آئے جنہیں میں نے بھی پڑھا، رشتے داروں سے بھی براہِ راست سنا، ناقدین کے منور صاحب پر نت نئے تبصرے بھی دیکھے اور ان کو مقدور بھر یکجا بھی کیا،، تاکہ جو لکھوں اس کے بارے میں روزِ محشر جواب بھی دے سکوں۔
منور حسن سے 40 سال سے زیادہ کے عرصے پر محیط میری براہِ راست شناسائی میں متعدد موڑ آئے اور میں نے ان کے متعدد روپ بذاتِ خود دیکھے، لیکن میں اس تحریر میں ان کی شخصیت کے محض تین نادر پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں جو شاید اب بھی غور طلب ہیں اور جن کا حوالہ کسی بھی معقول گفتگو کا حصہ ہونا چاہیے۔

بحیثیت پڑھے لکھے ’خطیب (اوریٹر)۔

زندگی میں ایسے دو لوگوں نے مجھے بڑا متاثر کیا جن سے میں نے طویل گفتگو کی اور انہیں جامع اور مدلل پایا۔ دونوں ہی کا تعلق پہلے یا بعد میں، جماعت اسلامی سے رہا اور دونوں ہی وسیع المطالعہ، بحث و دلیل کے رموز سے واقف اور ایک سے زیادہ زبانیں بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
ان میں سے ایک ہیں کوثر نیازی اور دوسرے منور حسن۔ کوثر نیازی جماعت اسلامی چھوڑ کر سینٹر لیفٹسٹ پاکستان پیپلز پارٹی میں گئے (ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وزیر اطلاعات و نشریات رہے) اور منور حسن (بائیں بازو کی نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن یعنی این ایس ایف چھوڑ کر) پہلے اسلامی جمعیت طلبہ اور پھر جماعت اسلامی میں آئے۔
یہ تو مجھے نہیں معلوم کہ دونوں نے گفتگو، تحریر و تقریر اور فنِ خطابت پر کون کون سی کتابیں پڑھیں اور ان کا عملی استعمال کس نے سکھایا، مگر چونکہ تقریر اور فنِ خطابت میرے دل کے بھی قریب ہیں اور میں بھی اس قبیل کے بڑے اساتذہ کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرچکا ہوں اس لیے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ دونوں کو فنِ خطابت میں ملکہ حاصل تھا۔ دونوں جب بولتے تھے تو ان میں وہ نہیں بلکہ مطالعہ ہی کسی نہ کسی روپ میں بول رہا ہوتا تھاـ دونوں ہی ’راؤنڈ‘ یا دائرہ نما تقریر کرتے تھے اور دونوں ہمہ وقت بے تکی بولتے رہنے والوں سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔
کوثر نیازی اور منور حسن صاحب کا، بحیثیت مقرر اور خطیب، تقابلی مطالعہ کرنے میں لازمی طور پر ایک قدر مشترک نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ دونوں کا نسخہ کیمیا ایک سا نظر آتا ہے، یعنی فارمولا یہ ہوتا تھا کہ موضوع منتخب کیا جائے اور پہلے حصے میں محض مفصل تمہید باندھی جائے، جس میں موجودہ حالات و واقعات سے مماثلت اور نسبت جوڑنا لازمی ہو۔
دوسرے حصے میں کوئی حکایت، متعلقہ تاریخی واقعہ و تمثیل بیان کی جائے، اور اسی مقام پر حدیث و تفسیر مستعار لے کر سامع کی سوچ اور سمجھ کو بلندی پر لے جایا جائے۔ بڑے سے بڑے فلسفیانہ نکتے کو زود ہضم بنا کر اسے سمجھ لینے کے لیے سامع کو ذہنی طور پر تیار کرلیا جائے۔
تقریر کے تیسرے حصے میں طوفان آتا تھا جس کے تھپیڑے سامع کو جگائے رکھتے اور وہ ایک کے بعد دوسرے ’ذہنی سونامی‘ میں بہہ جانے کے لیے بھی تیار ہوجاتا تھا۔ اسی تیسرے حصے میں یہ دونوں مقرر اپنے تبصرے اور تجزیے کے دوران عقل کے دروازے اور فہم و ادراک کے تمام ذہنی ہوا دان کھول کر بڑی تیزی سے حملہ آور ہوتے تھے اور یہیں سے دیگر اسرار و رموز کا بیان ہوتا تھا کہ جس کی صداقت میں منتخب الفاظ، مترادفات اور تکرار کا ریلہ چلا آتا تھا۔ اسی موقع پر اشعار نثر میں بدلتے تھے اور پھر یہی نثر وہ سماں باندھتی تھی کہ جس سے سامع ان کی تقریر یا خطابت کے مقناطیسی میدان سے نکل نہ پاتا تھا۔
چوتھے اور آخری حصے میں سامع کا دماغ کسی دہکتے فولاد کی مانند ٹھنڈے پانی میں ڈبکی لینے کے لیے تیار ہوچکا ہوتا تھا اور دل بھی سرائیت کرجانے والی نئی روح کو بسا لینے کے لیے تیار ہوجاتا تھا۔ لیکن اس تمام تر کارگزاری کا وجود صرف اور صرف ایک وسیع تر مطالعے کا مرہونِ منت تھا۔ یہی مطالعہ دونوں کے پاس بدرجہ اُتم موجود تھا۔
کوثر نیازی کی یہی گونج اور تکینک آپ کو ’ذوالفقار علی بھٹو آف پاکستان‘ نامی کتاب، ’لاسٹ ڈیز‘ اور ’اقبال اور تھرڈ ورلڈ‘ کے صفحات میں بھی ملے گی، اور یہی رنگ ’زرگل‘ نامی مجموعہ کلام والی شاعری، غزلوں، نظموں، مرثیوں اور مثنویوں میں بھی بھرا نظر آتا ہے۔
تاہم کوثر نیازی کے برعکس، منور حسن صاحب کے زورِ خطابت میں آسمانی بجلی کی کوند سنائی دیتی ہے، جہاں خُلق و معرفت کے بادل گرجتے ہیں اور منور صاحب اپنی زبان و بیان کی ہم آہنگ لہروں پر رضائے الٰہی کا طوفان اٹھا دینے والے خطیب نظر آتے ہیں۔
کبھی وہ ’اے اللہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت‘ کے لیے کاندھوں سے بھی اوپر کیے دعائیہ ہاتھ بلند کرتے ہیں، تو کبھی مسلمانوں کے قتلِ عام، بالخصوص فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ظلم و سفاکی کے ٹوٹتے پہاڑوں پر جب ’بددعا‘ کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو ’سورۃ لہب‘ کی تفسیر بن جاتے ہیں۔
اگر شرک، بدعت اور کفر کا فتویٰ لگ جانے کا خدشہ نہ ہو تو دل چاہتا ہے کہ کہوں کہ ان دونوں خطیبوں، خاص طور پر منور حسن کے فنِ خطابت میں ایک الہامی کیفیت کا اظہار ہے۔

بحیثیت ’امین و صادق‘ انسان

یہ تفصیل عینی شہادتوں، حلفیہ اور مستند بیانات پر مبنی ہے۔
میں آئے دن اسمبلی، عدالتوں، اخباری اداریوں اور سیاسی بیانات میں آپ کی طرح فلاں کے ’صادق اور امین‘ ہونے یا نہ ہونے کے قصّے اور قضیے پڑھتا ہوں اور پھر سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ قرآن و حدیث میں اس کا ذکر کب، کہاں اور کیوں کر آیا، اور اس کے معیارات اور مدارج کون سے ہیں، اور اب جو ’بناسپتی عالم دین‘، ’بڑے پائے کے سیاست دان‘ سے لے کر بھانت بھانت کے چکور اور کبوتر اس موضوع پر نان اسٹاپ غٹر غوں کرتے ہیں ان کا کیا علاج ہے؟ لیکن اس کا علاج نہ میرے پاس ہے اور نہ ہی میں کرنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں صرف منور حسن کی امانت اور صداقت تک محدود رہنا چاہتا ہوں کہ اسی میں میری خیریت بھی ہے۔
منور صاحب ممکنہ حد تک، پائی پائی کا حساب رکھنے والے اور ہر پائی کے خرچ پر بھی عقابی نظر رکھنے والے انسان تھے۔ مثال کے طور پر دورئہ برطانیہ میں بھانجی کی جانب سے ذاتی حیثیت میں سگے خالو کو دی جانے والی عام استعمال کی چیزوں کے تحائف یہ کہہ کر بیت المال میں جمع کروا دیئے کہ ”بیٹا میں آیا تو تحریک کے کام سے اور جماعت کی جانب سے دیئے گئے سفری ٹکٹ پر ہوں، تو ان تحائف پر بھی میرا کوئی حق تو نہیں ہے نا۔ یہ تو بیت المال کا حق ہے۔“ منور صاحب کے ایسے ہی طرزعمل کی رپورٹیں متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے دوروں سے بھی ملی ہیں۔
ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ ایک فوجی آمر کے عالیشان مکان کے تہ خانے میں قائم ایک عجائب گھر میں رکھے وہ وہ نوادرات اور تحائف بھی ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھے ہیں کہ الاماں، جو موصوف کو ملے تو سرکاری یا فوجی دوروں میں تھے لیکن بڑی بےحیائی سے گھر میں سجا رکھے ہیں۔
یا نذرانے کے طور پر دیئے تو سربراہانِ مملکت، صدور، شہنشاہ، بادشاہ یا دیگر کسی ڈکٹیٹر یا اس کی بیگم نے پاکستان کے دورے میں پاکستان اور اس کے عوام کو تھے، لیکن موصوف کی اولاد نے باپ کا مال سمجھ کر ہتھیا رکھے ہیں۔
یہاں امانت اور صداقت کی ایک اور مثال بھی موجودہ اور سابق حکمرانوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچے سے کم نہیں۔ منور صاحب نے اپنے دونوں بچوں کی شادی پر ملنے والے سونے کے زیورات سمیت لاکھوں کے تحائف بھی بیت المال کا مقدر بناکر ہی چھوڑے۔ جو رشتے دار و عزیز آڑے بھی آئے اور ان کے ساتھ بحث اور تکرار بھی ہوئی لیکن منور صاحب کا یہ استدلال ان پر بھاری پڑا کہ ”جو تبلیغ کی جاتی ہے تو اس پر عمل بھی ہونا چاہیے، خاص طور پر اُن کی طرف سے جو داعی ہیں اور جو قابلِ تقلید بھی سمجھے جاتے ہیں۔“
کاش کہ آپ کو موقع ملے اور آپ بھی موجودہ اور سابق حکمرانوں کے مکان، بنگلے اور دائمی سرکاری رہائش گاہیں دیکھ سکیں جو جہنم کی آگ کو بھڑکانے والے ملکی اور غیرملکی، غیر قانونی و ناجائز ’تحائف‘ سے بھرے پڑے ہیں۔

بحیثیت ایک رہنما

منور صاحب ایک عادل، معاملہ فہم اور ’جھوٹ‘ نہ بولتے ہوئے بھی فساد پھیلانے والے ’سچ‘ سے گریز کرتے تھے۔ وہ کیسے؟
جامعہ کراچی میں 1974ء اور 1975ء کے سیشن کے بعد ’ٹروپک‘ نامی شرٹ کی ماڈلنگ کے بعد مبینہ طور پر مجھے ’اسلامی جمعیت طلبہ‘ سے خارج کردیا گیا۔ میں جمعیت کا حامی تھا اور جمعیت کی سپورٹ کے ساتھ، جامعہ کراچی اسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن بھی جیتا اور صدر بھی بنا، لیکن میں نے جمعیت کا کبھی کوئی فارم نہیں بھرا تھا۔ میں رکن وغیرہ بھی نہ تھا۔ ظاہر ہے مجھے جمعیت پر تاؤ بھی بہت آیا کہ یارو نکالو تو کسی ایسے کو جو کسی بھی طور پر تمہارا ممبر تو ہو۔
اکرم کلہوڑی میرے انتہائی عزیز دوست میرے پاس آج کا اخبار لے کر آئے تھے۔ میں ان دنوں دہلی کالونی کراچی میں رہا کرتا تھا۔ اکرم نے کہا: ”خبر تو پڑھ لی ہوگی۔“ جواباً نہ کہنے کے بعد ردعمل کے طور پر میں نے بازاری زبان میں جمعیت کو بے نقط بری بھلی سنائی اور اپنے فوری ارادے بھی بتادیئے کہ کیا کروں گا۔
بس یہیں سے منور صاحب کے ساتھ میری شناسائی کا ایک دور شروع ہوتا ہے جو کبھی ختم نہ ہوا۔ اکرم نے کہا چلو ”منور صاحب کے پاس چلتے ہیں، وہ بڑے ہیں اور بہتر مشورہ دیتے ہیں“۔ میں مان گیا۔ منور صاحب نے تحمل کے ساتھ سب کچھ سنا اور یہ بھی مانا کہ اصولی طور پر میرے ساتھ زیادتی تو ہوئی ہے لیکن وہ اس رائے سے بھی متفق نہ تھے کہ انتقاماً میں اس موقع پر جمعیت کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں، اور وجہ یہ کہ اس سے دونوں طرف صرف ٹوٹ پھوٹ ہی ہوگی۔
اور پھر حل یہ تجویز کیا کہ میں نیم گرم اور مہذب صحافت اختیار کروں، لکھوں لکھاؤں، ہو سکے تو ملک سے باہر چلا جاؤں اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد واپس آ کر ملک اور قوم کے کام آؤں۔ یقین کریں وہ پورا دن اکرم اور میں نے منور صاحب کے ساتھ گزارا اور ایک طویل عرصے کے بعد ظہر، عصر اور مغرب ایک ہی مسجد میں ادا کیں۔
دن تمام ہوا اور میں منور صاحب کی باتوں کو غالب کے شعروں کی طرح گرہ میں باندھ لایا اور عمل پیرا بھی ہو گیا۔ مختصراً یہ کہ برطانیہ آ کر پڑھنے کی مہمیز انہوں نے ہی لگائی تھی۔
منور صاحب مجھ جیسے کئی ایک کا دماغ ٹھنڈا کرنے اور اعتدال پسند بنانے کا کام بھی مرغا بنائے بغیر خوب کیا کرتے تھے۔ ان کے اس فن سے فائدہ اُٹھانے والوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے جو پاکستان اور بیرونی ممالک میں آج بھی خاموشی کے ساتھ فعال ہیں، اور کم از کم ایسے تین اراکینِ پارلیمان سے تو میں بذاتِ خود واقف ہوں جو موجودہ برطانوی پارلیمان کے رکن بھی ہیں، جبکہ برطانوی یونیورسٹیوں میں پڑھانے والوں اور برطانوی سینئر طبی عملے سے منسلک افراد کی فہرست ان کے علاوہ ہے جو کسی نہ کسی طرح منور صاحب کا دم بھرتے ہیں۔
منور صاحب سے ریڈیو پر آن اور آف ائر میری متعدد جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ ریڈیو پر میں نے آن ائر یہ یاد دلایا تھا کہ ”جب آپ نے شوکتِ اسلام“ نامی جلوس نکالا تھا تو لگا تھا کہ حمایت میں پورا پاکستان امڈ آیا ہے، سروں کا سمندر تھا، رکتا نہ تھا، تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور اس پس منظر میں منعقد ہوئے الیکشن میں آپ کو قومی اسمبلی میں نشستیں ملتی ہیں صرف چار، ایسا کیوں ہوا؟“
جواب تھا: ”ہاں، ہوا تو ایسا ہی تھا، تو یقیناً ہمارے پیغام میں ہی کوئی کمی رہ گئی ہوگی، ہم قائل نہ کرسکے ہوں گے اور شاید لوگ ڈرتے بھی تھے کہ اگر ہم اقتدار میں آئے تو اللہ جانے ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ تو ہمیں یہ ڈر بھی دور کرنا ہے اور اسلام مخالف پروپیگنڈے کا توڑ بھی کرنا ہے۔“
”تو یہ کیسے کیجیے گا؟“
جواب تھا: ”جہدِ مسلسل سے۔“
”یہ جہدِ مسلسل کب تک چلے گی؟“
”جب تک ہم کامیاب نہیں ہوجاتے اور ہمارا پیغام عوام تک نہیں پہنچ جاتا۔“
یعنی ایسے ترکی بہ ترکی جواب ملتے تھے کہ مجھے پینترا بدلنا پڑتا تھا۔
ایک اور موقع پر ریڈیو پر ہی، آن ائر لائیو تکرار میں سوئی یہاں آکر اٹکی کہ آپ کی جماعت نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ کہنے لگے ایسا ہرگز نہیں تھا اور جس سیاق و سباق کے تحت کہا گیا تھا وہ کل بھی درست تھا اور آج بھی درست ہے۔ ہوسکے تو ایک بار پھر مطالعہ کرلیں۔
ایک اور موقع پر آن ائر لائیو ریڈیو تکرار یہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں جنگ میں جماعت اسلامی اور اس کی چھاترو شنگھو (طلبہ شاخ) نے ’البدر اور الشمس‘ نامی تنظیموں کے توسط سے بنگالیوں کا خون بہایا، انہیں ریپ کیا اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیے رکھا۔ تو منور صاحب نے سیخ پا ہوئے بغیر جواب دیا کہ ”شفیع صاحب، البدر اور الشمس سمیت جماعت اسلامی، دراصل پاکستان کے نام پر اور پاکستان کے لیے لڑی تھی، اور یہ پروپیگنڈا مشرقی پاکستانی ہندوؤں یا پھر انڈیا کا تھا اور آج بھی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ البدر اور الشمس اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو چن چن کر مارا گیا اور جعلی مقدمات کے بعد ٹانگ دیا گیا۔“
منور حسن کی سیاسی بےباکی کا بھی میں بذاتِ خود گواہ ہوں۔ وہ فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں جماعت اسلامی کے حکومت میں شامل ہونے کا جم کر دفاع نہیں کرتے تھے اور نہ ہی فوج کی غیر فوجی سرگرمیوں کا۔ میں نے انہیں ایجنسیوں کے ہاتھوں لوگوں کو گمشدہ کیے جانے کی بھرپور مذمت کرتے دیکھا اور سنا، اور ایسی مذموم حرکتوں میں ملوث افراد کے لیے بھی بھرے مجمع میں دونوں ہاتھ اٹھا اٹھا کر بددعائیں کرتے سنا اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
سیاسی بے باکی کے ضمن میں ہی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ منور صاحب یہ کہتے اور پوچھتے دنیا سے چلے گئے کہ ”وہ امریکہ کی جنگ تھی جو ہم لڑے، اور یہی سلسلہ اب بھی ہے اور اس امریکی جنگ میں، مسلمانوں کو مارتے ہوئے، بذاتِ خود مارے جانے والے پاکستانی، بھلا کس بنیاد پر شہید قرار دیے جا سکتے ہیں؟“
ظاہر ہے کہ ان کے ایسے تیکھے بیان پر میڈیا نے بھی انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور فوج نے بھی سخت مذمت کی، لیکن اس کے بعد مسٹر عمران اور مسٹر باجوہ دونوں ہی اس جنگ کو امریکہ کی جنگ قرار دیتے نظر آئے۔
منور صاحب سیاسی بصیرت اور بصارت دونوں کے حامل تھے۔ ان کا دل فلسطینی اور کشمیری جدوجہد اور جہادی تنظیموں کی قربانیوں کے لیے دھڑ کتا تھا اور وہ موسیٰ کی سختی کے ساتھ امریکہ کو یہ جتاتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں سے اس کے پیٹ میں مروڑ نہیں اٹھنی چاہیے اور اگر امریکہ کو اس کا تدارک یا افاقہ درکار ہے تو وہ بھی دائود (ڈے وڈ) کی آواز بنے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے بھی صدا بلند کرے، اور اگر امریکہ تمام دنیا میں سلیمان (سولومن) جیسی شوکت اور جاہ و جلال چاہتا ہے تو پھر صبر ایوب (جاب) اور اپنی حرکتوں پر اسے یعقوب (جیکب) کا گریہ بھی درکار ہے اور وہ اسماعیل (اشمائیل) کی رضا اور مشیتِ ایزدی پر بھی یقین رکھے۔
(انڈی پینڈنٹ اردو-30جون2020ء)

Share this: