دلوں کے حکمران سید منور حسن رحمۃ اللہ

Print Friendly, PDF & Email

منصورہ کے باہرایک ریسٹورنٹ پہ اسلم صاحب ویٹر کے طور پہ کام کرتے رہے ہیں۔ اورنج ٹرین بننے کی وجہ سے وہ ریسٹورنٹ بند ہو گیا ہے تواب وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں۔
منصورہ مسجد میں آتے ہیں تواکثر پہلی صف میں نماز پڑھتے ہیں، ہر سال اسی مسجد میں اعتکاف بیٹھتے ہیں۔سید منورحسن مرحوم سے انھیں والہانہ محبت تھی۔نماز میں ان کے قریب جگہ پانے کی کوشش کرتے، اور ان سے ملے بغیر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھاکہ وہ مسجد سے باہر نکلیں۔
سید صاحب بھی ان سے بڑی شفقت کا معاملہ فرماتے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلم بھائی کے چاروں بچوں کے نام سید صاحب نے رکھے ہیں……
معروف دانشور جناب مجیب الرحمان شامی لکھتے ہیں کہ جمعہ کا دن تھا، ایک بجنے والا ہوگا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر برادر عزیز سجاد میر کا نام طلوع ہورہا تھا۔ لپک کر اسے اٹھایا اور فوراً کان سے لگایا، لیکن کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ سسکیوں نے دستک دی، اور چند لمحوں بعد میر صاحب کی رندھی ہوئی آواز ٹوٹ ٹوٹ کر آئی ”منور صاحب اس دنیا میں نہیں رہے“۔ اس کے بعد پھر آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑا۔ وہ دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور مجھے بھی اپنے آپ پر قابو نہ رہا۔ دھاڑوں کا معاملہ دھاڑوں سے تھا۔ ہم دونوں ایک ہی کیفیت میں مبتلا تھے…
پاکپتن سے تعلق رکھنے والا نوجوان صلاح الدین انقلابی دیر کے نوجوان شفیق الرحمان کی تصویر شیئر کرتا ہے جو سید کی قبر کے پاس بیٹھا ہے، اور رو رو کر اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی ہیں۔ صلاح الدین کا کہنا ہے کہ شفیق بھائی سے میرے تعلق اور دوستی کی وجہ سید صاحب تھے۔ مجھے ان سے محبت اس لیے ہے کہ ان کو سید سے بہت محبت تھی…
سوشل میڈیا پر سب نے دیکھا کہ سید صاحب کے غم میں امیر کراچی حافظ نعیم الرحمان تو بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے ہیں۔
فیس بک کھولیں تو تقریباً ہر وال پر سید صاحب کی تصویر نظر آتی ہے اور لوگ ان کے جانے کا دکھ اور کرب بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں اور جا بجا چار سو ہمیں معاشرے میں بکھری نظر آتی ہیں۔ نہ صرف وطن عزیز بلکہ دنیا کے کونے کونے میں ان سے محبت کرنے والے خون کے آنسو رو رہے ہیں۔
اس محبت کو کیا نام دیں کہ چھابڑی والے سے لے کر دانش وروں اور لیڈروں تک ہر کوئی رنجیدہ اور غمگین ہے جیسے زندگی کی سب سے قیمتی متاع اس سے چھن گئی ہو۔
یہ محبت اللہ تعالیٰ نے ہی ان کے دلوں میں ڈالی تھی۔ جو بندہ اللہ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے، تو اللہ اسے مرجع خلائق بنا دیتا ہے، لوگوں کا محبوب بنا دیتا ہے، اور وہ اس کی خاطر اپنی جان تک نچھاور کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔
آہ!دلوں کے حکمران سید منور حسن آج دنیائے فانی کو چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلے گئے ہیں۔
وہ اللہ کے بندے تھے، ساری عمر انھوں نے اسی کی بندگی کی اور اسی کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلایا۔ دنیا میں رہ کر بھی انھوں نے دنیا سے دل نہیں لگایا۔ وہ اس حدیث کا عملی نمونہ تھے: کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل کہ دنیا میں ایک مسافر کی طرح زندگی گزارو۔ اسی لیے انھوں نے ہمیشہ ابدی زندگی کی نعمتوں پر نگاہ رکھی، دنیاوی آسائشوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔
وہ اجتماعات میں اکثر یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ میرے دوستو! وہ جو صحابی ہیں جن کا ذکر آپ نے سنا ہوگا کہ عین حالتِ جنگ کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جنگ جاری ہے، میں اگر اس جنگ کے اندر لڑا اور مارا گیا تو مجھے کیا ملے گا؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو جنت ملے گی۔ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، چمک پیدا ہوئی لیکن کہا کہ حضورؐ! ذرا اس بات کو دہرائیے تو سہی کہ اگر میں اس جنگ کے اندر لڑا اور مارا گیا تو مجھ کو کیا ملے گا؟ آپؐ نے پھر ارشاد فرمایا، اپنی بات کو پھر دہرایا اور فرمایا کہ تمھیں جنت ملے گی، اللہ کی رضا ملے گی، اس کی نعمتیں ملیں گی۔ جس جس کی لالچ اور حرص ہوسکتی ہے وہ سب کچھ تمھیں ملے گا۔
بس پھر تو منہ بھی کھلا کا کھلا رہا۔ دیکھا تو ہاتھوں میں کھجوریں تھیں، کھجوریں کھا رہے تھے۔ کھجوروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ اگر جنت ملنی ہے اور ایسی نعمتیں ملنی ہیں تو پھر یہ کھجوریں کھا کر یہ وقت کیوں ضائع کیا جائے۔ کھجوریں ہاتھ سے پھینکیں اور میدانِ جنگ کے اندر پہنچے۔ جنگ کے اندر شریک ہوئے، جام شہادت نوش کیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا مصداق بنے۔
ہمارا دل گواہی دیتاہے کہ اس مردِ مومن نے تو کھجوریں پکڑی ہی نہیں چہ جائیکہ پھینکنے کی نوبت آئے، اور ساری زندگی ابدی نعمتوں کی طرف بڑھنے کی تمنا پوری کرنے کے لیے انھوں نے بغیر کھجوریں پکڑے ہی اپنے رب کی طرف دوڑ لگائے رکھی۔
انھوں نے یہاں جائدادیں، کوٹھیاں، محلات، بنگلے، بینک بیلنس، گاڑیاں بنانے کا سوچا ہی نہیں، ان کی نظر ہمیشہ ابدی زندگی پر رہی اور بالآخر وہ اپنی تمنا اور خواہش کے مطابق اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف بڑھ گئے۔
یٰٓاَ یَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ۝ ارْجِعِیْٓ اِِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً۝ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۝ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۝۔
میرا ان سے پہلا تعار ف ان کی تقریر تھی۔ میٹرک سے فارغ ہونے کے بعد 1996ء میں ان کی ایک کیسٹ سنی

ہم بدلتے ہیں رخ ہوائوں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

بس اسی تقریر نے سید صاحب کا گرویدہ بنادیا۔ پھر تو سالہا سال پورے اہتمام کے ساتھ منصورہ میں ان کے خطباتِ جمعہ سنے۔ مختلف پروگراموں میں ان کی تقریریں سنیں۔
جمعہ کی نماز میں وہ اکثر اپنے مخصوص انداز میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی ٹھیر ٹھیر کر پُرسوز آواز میں تلاوت فرماتے۔ لگتا تھا زبان سے نہیں دل سے قرآن پڑھ رہے ہیں۔ جب بھی ان کی امامت کا خیال ذہن میں آتا ہے تو ان کے انداز میں تلاوت کرنے کو دل چاہتا ہے اور ایک سرور کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
چند سال پہلے تک گرمیوں کی راتوں میں مہمان خانے میں قیام کرنے والے اور مدرسے کے طلبہ منصورہ مسجد کے صحن میں سویا کرتے تھے۔ ہمیں بھی بہت سی راتیں مسجد میں گزارنے کا موقع ملا۔ فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے ہی خادمین مسجد لوگوں کو جگا دیتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنکھ کھلے اور سید منور حسن صاحب تہجد نہ پڑھ رہے ہوں۔
برسوں انھیں مرکزی دفاتر اور دارالضیافہ سے منصورہ مسجد کی طرف آتے جاتے دیکھا۔ عموماً ایک چابی (Key) ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ وہ منصورہ میں ہوں اور اذان کی آواز کے ساتھ ہی ان کے قدم مسجد کی طرف بڑھنے نہ لگیں، یہ ہو نہیں سکتا تھا۔
ایک مرتبہ قاضی حسین احمد محترم کے آخری دورِ امارت میں میاں نوازشریف منصورہ آئے۔ شاید واجپائی کے دورئہ لاہور کے موقع پر ان کے برادرِ خورد جناب شہبازشریف کی پنجاب حکومت نے کارکنانِ جماعت پر جو ظلم ڈھائے تھے، ان کی معافی تلافی کرانے اور مختلف سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے۔
ملاقات ذرا طویل ہوگئی۔ مرکزی دفاتر کے سامنے والے پارک میں پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پریس بریفنگ شروع ہونے ہی والی تھی کہ مسجد سے ظہر کی اذان کی صدا بلند ہوئی۔ اذان کی آواز سنتے ہی سید صاحب نے پریس بریفنگ چھوڑ دی اور مسجد کی طرف چل پڑے۔ انھیں پورا یقین تھا کہ اللہ اکبر اللہ اکبر کا مطلب واقعتاً یہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔
2013ء میں مجھے ہفت روزہ ایشیا کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے بعد جب بھی ملاقات ہوتی تو ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھتے: ایشیا سبز ہی ہے ناں؟
مصلحت نام کی کوئی چیز ان کے قریب سے نہیں گزری تھی۔ اتحادی سیاست کے نتائج دیکھنے کے بعد انھوں نے 2013ء میں جماعت کے اپنے پرچم اور اپنے نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت لوگوں کی طرف سے اس فیصلے پر تنقید بھی ہوئی، لیکن طویل مشاورتی عمل سے گزر کر آج پوری جماعت یکسو ہوچکی ہے کہ وہ آئندہ ہمیشہ اپنے زورِ بازو پر اپنے نام، نشان اور جھنڈے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے گی۔
2013ء میں الیکشن سے پہلے ایم ایم اے کو دوبارہ فعال کرنے کی بحث چھڑی تو انھوں نے مؤقف اپنایا کہ پہلے وہ وجوہات تلاش کی جائیں جن کی وجہ سے یہ غیر فعال ہوئی۔ اور وہ آخر تک اپنے اسی مؤقف پر ڈٹے رہے۔
2013ء کے الیکشن کے نتائج جماعت کے لیے زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھے۔ آئندہ حکمت ِ عملی کیا ہونی چاہیے، اس حوالے سے مجھے ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جو ایشیا کے صفحات کی زینت ہے، اور اس میں غور و فکر کے بہت سے پہلو پنہاں ہیں۔ انتخابات میں لہر کی اہمیت کیا ہوتی ہے؟ شخصیت کا کردار کیا ہوتا ہے؟ شخصیت سازی میں رکاوٹ کیا ہے؟ اس کے فائدے زیادہ ہوتے ہیں یا نقصانات؟ الگ سیاسی ونگ ہونا چاہیے یا نہیں؟ اس طرح کے دیگر اہم موضوعات پر سید صاحب نے تفصیلی بات کی ہے۔
مسلم سجاد مرحوم سے ان کی بے تکلفی تھی۔ مسلم صاحب گاہے بگاہے اپنے گھر پہ کھانے کا اہتمام کرتے تھے۔ ان کے دسترخوان پر ان کے آفس میں چائے پانی دینے والا عام کارکن بھی ہوتا اور امیر جماعت بھی اسی دسترخوان پر رونق افروز ہوتے۔ مسلم صاحب کے گھر کئی بارغیر روایتی بات چیت کا موقع ملا۔
کم کھانا، کم بولنا، کم سونا، باوقار چلنا، دلآویز مسکراہٹ، حق گوئی و بے باکی ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ تصنع، بناوٹ اور ذاتی پروجیکشن سے وہ کوسوں دور تھے۔
جماعت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، لیکن کوئی ہلہ گلہ نہیں، کوئی ہٹو بچو کی صدائیں نہیں، پھوں پھاں نہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف دھیان دینے کے بجائے بڑے مقاصد پر ان کی نظر ہوتی تھی۔ اپنے لیے تو وہ جیے ہی نہیں، نہ ہی وہ صرف پاکستان کے لیے جیے ہیں۔ وہ تو امت کے لیے جیے ہیں۔
”گو امریکہ گو“ کا نعرہ انھوں نے اس جواں مردی سے لگایا کہ بلاشبہ امریکہ کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوگیا، اور امریکہ کے پٹھو مسلمان حکمران، جنھیں وہ غلامانِ امریکہ اور غلام ابنِ غلام ابنِ غلام کے نام سے یاد کیا کرتے تھے، ان کے بھی ہاتھ پاؤں پھول گئے کہ وہ اپنے آقاؤں کو کیا منہ دکھائیں گے۔
ریمنڈ ڈیوس نے جب مزنگ چونگی لاہور میں دو پاکستانیوں کو شہید کیا تو اُسے سزا دلوانے کے لیے سب سے توانا آواز سید صاحب نے بلند کی۔
حالانکہ پاکستان اُس وقت امریکہ کی نام نہاد وار آن ٹیرر کا حصہ تھا۔ پاکستانی حکمران نائن الیون کے بعد سے امریکی مطالبات مانتے چلے آرہے تھے۔ پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کرنے سے لے کر ہوائی اڈوں کی فراہمی تک ہر مطالبہ پورا کیا جارہا تھا، لیکن پھر بھی امریکہ کی طرف سے بار بار ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔
ریمنڈ ڈیوس ایک عام امریکی شہری ہی نہیں بلکہ امریکی ریاست کا نمائندہ تھا۔ پورا امریکہ اُس کے پیچھے کھڑا تھا۔ ایسے حالات میں ریمنڈڈیوس کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ دراصل امریکی غیظ وغضب کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔
لیکن سید منور حسن نے اسی جگہ جہاں دو پاکستانیوں کو شہید کیا گیا تھا، ایک بہت بڑا جلسہ کرکے ریمنڈڈیوس کو سزا دلوانے کے لیے تحریک کا آغاز کیا۔ اپنے وکلا کے ذریعے قانونی جنگ بھی لڑنا شروع کی۔ انھیں سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ہمیں زمینی حقائق پر نظر رکھنی چاہیے۔ حالات بہت دگرگوں ہیں۔ امریکہ بہت بڑا ہے بلکہ بہت بڑے سے بھی زیادہ بڑا ہے، اس کو ناراض نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن سید کا مؤقف تھا کہ زمینی حقائق سے زیادہ اہم آسمانی حقائق ہیں، ایمانی حقائق ہیں، اللہ اور اس کے رسولؐ کے بیان کردہ حقائق ہیں۔ جو لوگ امریکہ کو بڑا سمجھتے ہیں، ان کے لیے یہ نعرہ کافی ہے کہ جو اللہ اکبر کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ جو اللہ کی کبریائی کی بات کرتے ہیں، ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں، ہانکے پکارے کرتے ہیں، کوٹھوں پر چڑھ کر کرتے ہیں، میدانوں میں نکل کر جان ہتھیلی پر لے کر کرتے ہیں۔ سر پہ کفن باندھ کر پیروں کو غبار آلود کرنے، ”یہ بندہ دو عالم سے خفا تیرے لیے ہے“ کا مصداق بننے کے لیے کرتے ہیں، ان کی طرف سے یہ بات معلوم ہوجانی چاہیے کہ زمینی حقائق کچھ نہیں ہوتے، آسمانی حقائق سب کچھ ہوتے ہیں۔
وہ تو ڈری سہمی پاکستانی حکومت نے دباؤ ڈال کر مقتولین کے ورثا سے معاملات طے کرلیے اور ریمنڈ کو رہا کرکے امریکہ بھیج دیا، ورنہ سید صاحب اور ان کی جماعت تو ڈٹ گئے تھے کہ اگر امریکہ پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کو بے گناہ اپنی قید میں رکھ سکتا ہے تو ہم پاکستانیوں کے قاتل امریکی کو کیوں سزا نہیں دے سکتے! پاکستانی حکومت میں ذرا بھی دم خم ہوتا تو ریمنڈ کبھی پاکستان سے جا نہیں سکتا تھا۔
رہائی پانے کے بعد ریمنڈ نے جو کتاب لکھی ہے اُس کے سرِورق پر جماعت کے پرچم لگائے ہیں اور اس میں وہ لکھتا ہے کہ جس وقت پاکستان کا صدر، آرمی چیف، حتیٰ کہ ڈی جی آئی ایس آئی بھی میری رہائی کے حق میں مہم چلانے اور مجھے رہا کروانے میں پیش پیش تھے، تو اُس وقت یہی ستّر سالہ منور حسن تھے جو میری رہائی کے خلاف پورے پاکستان میں سرگرم تھے۔ سچ بات بتاؤں تو آئی ایس آئی چیف کی حمایت سے زیادہ مجھے اس بوڑھے کی مخالفت سے ڈر لگتا تھا۔
وہ کسی سے نہیں ڈرتے تھے، صرف اللہ سے ڈرتے تھے۔
کراچی امارت کا حلف اٹھاتے ہوئے اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس سے ان پر رقت طاری ہوگئی اور حلفِ امارت کے الفاظ ان سے ادا نہیں ہو پا رہے تھے۔
شہدا کا ذکر کرتے ہوئے ان کی ہچکی بندھ جاتی تھی، لیکن جب باطل کو للکارنے کی بات ہوتی یا کلمہ حق کہنے کا موقع آتا تو ان کے الفاظ کی کاٹ اور ان کے لہجے کی گرج کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
انھیں پختہ یقین تھا کہ مسلمان گولی سے نہیں مرتا، مسلمان تو تب مرتا ہے جب اسے موت آتی ہے۔ یعنی جو وقت اللہ تعالیٰ نے اس کی موت کا مقرر کررکھا ہے، وہ تو اس وقت مرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ڈیزی کٹر بموں کی برسات سے بھی مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکے۔
ساری خدائی چاہے مخالفت پہ اتر آئے، لیکن جس بات کو وہ حق سمجھتے تھے اسے ببانگِ دہل کہتے تھے۔

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کوکبھی کہہ نہ سکا قند

وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے کہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ ہے، اور امریکی صدر جارج بش دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ہے۔
وہ ایک عظیم انسان تھے۔ پاکیزہ اور اجلے کردار کے مالک۔ وہ بڑے سوز سے یہ آیت پڑھتے تھے: قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ،اور پھر پورے جوش سے اس کی تشریح کرتے تھے: ”میرا جینا اس کے لیے، میرا مرنا اس کے لیے، میری نماز اس کے لیے، میری قربانی اس کے لیے، میرا وجود اس کے لیے، میرا تحرّک اس کے لیے، میرا جوش و جذبہ اس کے لیے، میرا اوّل و آخر اس کےلیے… کس کے لیے، وہ جو ملجا و ماویٰ ہے،اللہ رب العالمین، وہ جو سمیع و بصیر ہے، وہ جو علیم وخبیر ہے، وہ جو اوّل و آخر ہے، وہ جو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ وہ جو حی و قیوم ہے، لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ، وہ جس کو نیند نہیں آتی، وہ جس کو اونگھ نہیں ستاتی۔
وہ اسی کا بندہ تھا، ہمیشہ اسی کا بندہ بن کر جیا، عبدالدرھم یا عبدالدینار نہ بنا، یعنی دنیا کا بندہ نہ بنا۔ بے شمار اخلاقی خوبیوں کا مجموعہ۔ اسی لیے تو وہ دلوں کا حکمران بنا اور اس کا سفرِ آخرت بھی بہت سوں کی اصلاح کا ذریعہ۔
ایک نوجوان محمد عثمان غنی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ جب میں پانچ سال کا تھا تب اپنے والد مرحوم کے شفیق سائے سے محروم ہوگیا تھا، یقیناً وہ بہت بڑا نقصان تھا جس کا ازالہ پوری زندگی نہیں ہوسکے گا، لیکن لاشعوری اور بچپن کی وجہ سے شاید اس دکھ اور تکلیف کو محسوس نہیں کرسکا جس کا وہ تقاضا کرتا تھا۔
ہوش و حواس میں آنے اور شعوری طور پر میچور ہونے کے بعد سیدی مرشدی کی رحلت کا سانحہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں، ان کی رحلت نے فکر و نظر پر جس قدر چوٹ پہنچائی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ایسا سانحہ نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ کبھی ایسا ہوسکتا ہے۔ اس صدمے اور چوٹ کا اثر اتنا گہرا ہوا ہے کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنی زندگی کو بالکل، بالکل اسی سانچے میں ڈھالنا ہے جس طرح میرے مرشد کی زندگی تھی، یعنی صبغتہ اللہ والا سانچہ۔
اے پروردگار! تیرے بندے نے پوری زندگی تیری خوشنودی کے لیے بسر کی، اب وہ تیرے پاس پہنچ گیا ہے، تُو بھی اس سے راضی ہوجا۔

Share this: