عمران خان کی ریاستِ مدینہ میں “بت خانے” کی سیاست

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کے حکمران طبقے کو ’’روشن خیالی‘‘ کا ’’ہیضہ‘‘ ہے۔ اسے اپنے اسلام کی ’’رونمائی‘‘ سے شرم آتی ہے اور روشن خیالی کی نمائش پر فخر محسوس ہوتا ہے

عمران خان اپنے دعوے کے مطابق پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے آئے تھے، مگر اب وہ اپنی ریاست مدینہ میں ’’بت خانے کی سیاست‘‘ کرتے پائے جاتے ہیں۔ چونکہ عمران خان کی پوری سیاست ’’جرنیل مرکز‘‘ ہے، اس لیے اُن کی بت خانے کی سیاست بھی یقیناً ’’جرنیل مرکز‘‘ ہی ہوگی۔ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔ یہ انکسار کی انتہا ہے، اس لیے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں، ایک’’سیج‘‘ پر ہیں۔ اب کانٹوں کی سیج پر۔
ریاست مدینہ میں بت خانے کی سیاست کے اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے اسلام آباد میں ایک بڑا مندر یا ایک بڑا بت خانہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ مندر کی تعمیر کے لیے سرمایہ ہندو برادری نہیں خود ریاست پاکستان فراہم کرے گی۔
ہم نے یہ خبر پڑھی تو خیال آیا کہ اسلام آباد میں ہندوئوں کی تعداد لاکھوں میں ہوگئی اور ہمیں معلوم ہی نہ ہوا۔ پتا کیا تو اطلاع ملی کہ اسلام آباد میں بمشکل سو ڈیڑھ سو ہندو ہوں گے۔ تو کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان سو، ڈیڑھ سو ہندوئوں کے لیے مندر تعمیر کرنے چلا ہے؟ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اسلام آباد کا بت خانہ تعمیر کرنے کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ پاکستان کتنا ’’روشن خیال‘‘ اور ’’وسیع المشرب‘‘ ہے۔
اسلام دنیا میں بت شکنی کے لیے آیا تھا۔ ریاست مدینہ کے بانی سردار الانبیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خانہ کعبہ کے بتوں کو اپنے دستِ مبارک سے منہدم کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر بت شرک کی علامت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ” میں تمہارا ہرگناہ معاف کردوں گا مگر شرک کو معاف نہیں کروں گا“۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے بدترین سے بدترین حکمران نے کبھی شرک کو اختیار کیا نہ شرک کی علامتوں کو سینے سے لگایا۔ ہندوستان میں اکبر کو مغلِ اعظم کہا گیا ہے، مگر مسلمانوں کے نزدیک اکبر اور اُس کی سیاست کی رتی برابر بھی اہمیت نہیں۔ داراشکوہ بڑا ’’روشن خیال‘‘ تھا، مگر مسلمانوں کی تاریخ کے مرکزی دھارے نے اسے ہمیشہ ’’تاریک خیال‘‘ ہی باور کرایا۔ مسلمانوں کی تہذیب اور تاریخ کے مرکزی دھارے نے اپنایا اور چاہا تو اورنگ زیب عالمگیر کو… اس لیے کہ داراشکوہ شرک اختیار کرچکا تھا اور اورنگ زیب برصغیر میں توحید کی سب سے توانا آواز تھا، یہاں تک کہ اقبال جیسی شخصیت نے اُسے مسلم تہذیب کے ترکش کا آخری تیر قرار دیا ہے۔
ہمارے دین کا بنیادی اصول ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں کوئی مسلمان یا خود ریاست کسی ہندو، عیسائی، مجوسی یا یہودی کو دبائو کے تحت اسلام لانے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ ایک اسلامی ملک میں ہندوئوں کو اجازت ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کریں، مندر تعمیر کریں اور ان میں عبادت کریں۔ ایک اسلامی ریاست میں عیسائیوں کو گرجا تعمیر کرنے اور ان میں عبادت کرنے کی کامل آزادی میسر ہے۔ مگر اسلامی ریاست یا اس کے حکمران خود شرک کی علامتوں کو تعمیر نہیں کرسکتے۔ یہ اسلامی ریاست کی روح اور اُس کے مقاصد کے خلاف بات ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مفتی منیب الرحمٰن اور مفتی تقی عثمانی سمیت ملک کے ممتاز علماء نے اسلام آباد میں بت خانہ تعمیر کرنے کی مخالفت کی ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست مدینہ کے لوگو تلے بت کدے تعمیر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم غیر مسلموں کے حقوق تسلیم کرتے ہیں، جہاں جہاں ان کی آبادیاں ہیں وہاں وہاں وہ اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنے مالی وسائل سے بت کدے تعمیر کرے۔ اسلام کی 1450 سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ کسی اسلامی حکومت نے بت کدہ بنایا ہو۔ جسٹس (ر) تقی عثمانی نے کہاکہ حکومت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ نہ جانے ایسے نازک وقت میں ایسے شاخسانے کیوں کھڑے کیے جاتے ہیں جن سے انتشار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا! (روزنامہ 92 نیوز کراچی، 3 جولائی 2020ء)۔
پاکستان کے حکمران طبقے کو ’’روشن خیالی‘‘ کا ’’ہیضہ‘‘ ہے۔ اسے اپنے اسلام کی ’’رونمائی‘‘ سے شرم آتی ہے اور روشن خیالی کی نمائش پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ جنرل ایوب کہنے کو مسلمان تھے مگر وہ سود کو ڈاکٹر فضل الرحمٰن جیسے جدیدیوں کے ذریعے ’’حلال‘‘ قرار دلانے کے لیے سر توڑ کوششیں کرتے رہے۔ بھٹو صاحب جب تک اقتدار میں رہے ’’اسلامی سوشلزم‘‘ جیسی لایعنی اصطلاح کو قوم پر مسلط کیے رہے۔ جنرل پرویزمشرف نے بتایا کہ امریکہ ساتھ ہو تو جہاد ’’حلال‘‘ ہوجاتا ہے اور امریکہ ساتھ نہ ہو تو جہاد ’’حرام‘‘ ہوجاتا ہے۔ اب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ریاست مدینہ میں بت خانے کی سیاست کررہے ہیں۔ اب اگر ہمیں دنیا پر اپنی روشن خیالی ثابت ہی کرنی ہے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ مندر اسلام آباد میں نہیں بلکہ جی ایچ کیو، ایوانِ صدر یا وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں بنایا جائے۔ اور صرف مندر کیوں بنایا جائے، ان تینوں مقامات پر عیسائیوں، یہودیوں، بدھسٹوں اور آتش پرستوں کی عبادت گاہیں بھی بنائی جائیں۔ ذرا سوچیے تو، جب جی ایچ کیو، ایوانِ صدر اور ایوان وزیراعظم میں دنیا کے تمام بڑے مذاہب کی عبادت گاہیں تعمیر ہوجائیں گی تو ساری دنیا میں ہماری روشن خیالی کا کتنا چرچا ہوگا۔ اگر جی ایچ کیو، ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیراعظم میں صرف مندر بنے گا تو دوسرے مذاہب کے لوگ محسوس کریں گے کہ ان کی حق تلفی ہورہی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہندوئوں کی آبادی بھی کم ہے۔ اگر ہم بھارت سے دس بیس لاکھ ہندو ’’درآمد‘‘ کرکے پاکستان میں آباد کردیں تو دنیا میں ہماری روشن خیالی کا بڑا چرچا ہوگا۔ پاکستان میں سکھ اور بدھسٹ بھی بہت کم ہیں، چنانچہ بھارت سے پانچ سات لاکھ سکھ اور بدھسٹ بھی درآمد کرلیے جائیں تو ہماری روشن خیالی دنیا بھر میں ایک مثال بن جائے گی۔ یہ “Idea” بھی بڑا زبردست ہے کہ ہم پاکستان کو تین ماہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہہ کر پکاریں، تین ماہ اپنے ملک کو ہندو جمہوریہ پاکستان کہہ کر پکاریں، تین ماہ پاکستان ہمارے لیے عیسائی جمہوریہ ہو، اور تین ماہ پاکستان یہودی یا سکھ جمہوریہ ہو تو ساری دنیا ہماری ’’روشن خیالی‘‘ کو سر پر بٹھا لے گی۔ آدمی کو ایمان گنوانا ہو تو چڑیا کی بیٹ کیوں کھائے، ہاتھی کا گُو کیوں نہ کھائے! ہاتھی کا گُو کھانے سے کم از کم ہمارے حکمرانوں کا پیٹ تو بھرے گا۔ ہمارے حکمرانوں کے پاس ویسے بھی پیٹ کے سوا کچھ نہیں… نہ روح، نہ قلب، نہ تہذیب، نہ تاریخ، نہ علم، نہ اہلیت۔
پاکستان کے حکمران طبقے کی روشن خیالی کی سطح اتنی پست ہے کہ یہ طبقہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس تک کو بیچ کھاتا ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ یورپی یونین نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے توہینِ رسالتؐ کی مجرم آسیہ ملعونہ کو رہا نہ کیا تو اس کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات تمام یورپی ممالک میں ’’ٹیکس فری‘‘ نہیں رہیں گی۔ اس سے پاکستان کو کئی ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے حکمران طبقے کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ ناموسِ رسالتؐ کا تحفظ کیا جائے یا ٹیکسٹائل کی برآمدات کو بچایا جائے؟ پاکستان کے حکمران طبقے کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ملعونہ آسیہ کو چھوڑ دو، تحفظِ ناموسِ رسالتؐ سے دست بردار ہوجائو اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کو بچا لو۔ اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان، عمران خان، نوازشریف اور بھٹو خاندان میں کوئی فرق نہ تھا۔ سب نے ملعونہ آسیہ کی رہائی کو سراہا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ بلاشبہ ان لوگوں کی دنیا تو بچ گئی لیکن آخرت برباد ہوگئی۔
عمران خان اور ان کی ’’ہم صفحہ‘‘ اسٹیبلشمنٹ شوق سے اسلام آباد میں بت خانہ بنائے، مگر وہ ذرا قوم کو یہ بھی تو بتائے کہ دنیا کی کتنی سیکولر، لبرل، کمیونسٹ، عیسائی یا ہندو ریاستوں نے ایک ارب 80کروڑ مسلمانوں کو خوش کرنے اور اپنی روشن خیالی کا اشتہار دینے کے لیے اپنے اپنے دارالحکومتوں میں ریاستی وسائل سے مساجد تعمیر کرائی ہیں؟ اس سلسلے میں ’’روشن خیال امریکہ‘‘ اور روشن خیال یورپ کا یہ عالم ہے کہ ترکی کی عدالت نے ترکی میں ایا صوفیہ کا اسلامی تشخص بحال کرکے اسے مسجد بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر امریکہ اور یورپ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ایا صوفیہ کبھی ایک چرچ تھا مگر ترکی کے حکمران سلطان محمد فاتح نے اسے خرید کر مسجد بنادی۔ تاہم کمال اتاترک نے جو بدترین سیکولرسٹ تھا، ایا صوفیہ کو میوزیم بناکر اسے مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے لیے متبرک مقام قرار دے دیا۔ رجب طیب اردوان کی حکومت نے ایا صوفیہ کا اسلامی تشخص بحال کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی، اور عدالت نے ایا صوفیہ کا مسجد ہونا تسلیم کرلیا۔ ایا صوفیہ مسجد تھی، یہ ترکی میں تھی۔ اس کے سلسلے میں جو فیصلہ آیا ہے وہ ترکی کی عدالت کا ہے۔ امریکہ اور یورپ اس سلسلے میں پروپیگنڈے کا اختیار ہی نہیں رکھتے، مگر وہ مسجد کو مسجد بنانے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ یہ زہریلا پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ رجب طیب اردوان نے سیاسی فائدے کے لیے ایا صوفیہ کا اسلامی تشخص بحال کرایا ہے۔ یہ ہے وہ ’’روشن خیال‘‘ دنیا جسے خوش کرنے کے لیے عمران خان اپنی ریاست مدینہ میں بت خانے کی سیاست کررہے ہیں۔ پاکستان کے روشن خیال حکمران نہ پڑھتے ہیں، نہ غور کرتے ہیں، ورنہ قرآن نے صاف کہا ہے کہ مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کو اُس وقت تک خوش نہیں کرسکتے جب تک اُن کے جیسے نہ بن جائیں، یعنی اپنا ایمان نہ کھودیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا مگر ہمارے سیکولر اور لبرل جرنیلوں اور سیاست دانوں نے امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے کے لیے کبھی پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی نہ ہونے دیا۔ کہنے کو ہمارا آئین اسلامی ہے مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے آئین کو اسلام کا قید خانہ بنایا ہوا ہے، وہ اسلام کو آئین سے نکلنے ہی نہیں دیتا۔ ہمارا آئین کہتا ہے کہ ملک کو صرف امین اور صادق لوگ درکار ہیں، مگر ہمارے منتخب ایوان بد عنوان سیاست دانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی تعلیم میں اسلام کا کوئی دخل ہی نہیں۔ ہمارے عدالتی نظام کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم خود کو روشن خیال ثابت کرسکیں۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ ہم نے امریکہ کی جنگ کو گود لیا اور اپنے 75 ہزار افراد مروا دیے۔ 120 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم امریکہ کو خوش نہ کرسکے۔ امریکہ آج ہمارا نہیں، بھارت کا اتحادی ہے۔ امریکہ ہمارے ساتھ نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ تجارت کو بڑھا رہا ہے۔ امریکہ ہمیں نہیں، بھارت کو جدید ترین دفاعی سامان فروخت کررہا ہے۔ چنانچہ عمران خان اور ان کی ہم صفحہ اسٹیبلشمنٹ اسلام آباد میں ایک بت خانہ بناکر کیا حاصل کرلے گی!۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری تو پوری ریاستی اور سیاسی زندگی ہی بت خانہ ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ ایک بت خانہ ہے، اس میں جرنیلوں اور ریاستی اداروں کے بت رکھے ہوئے ہیں… مقدس بت۔ ہماری سیاسی جماعتیں چلتا پھرتا بت خانہ ہیں۔ پیپلزپارٹی بھٹو خاندان کا بت خانہ ہے۔ اس کے ایک کمرے میں ذوالفقار علی بھٹو کا بت رکھا ہے، دوسرے کمرے میں بے نظیر کا بت رکھا ہے، تیسرے کمرے میں بلاول کا بت رکھا ہے۔ نواز لیگ بھی ایک بت خانہ ہے۔ اس کے ایک کمرے میں میاں نوازشریف کا بت رکھا ہوا ہے، دوسرے کمرے میں مریم نواز کا بت رکھا ہوا ہے، تیسرے کمرے میں میاں شہبازشریف کا بت رکھا ہے۔ تحریک انصاف بھی ایک بت خانہ ہے، اس بت خانے کا ایک ہی کمرہ ہے، اور اس کمرے میں عمران خان کا بت رکھا ہوا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہماری پوری سیاست ہی بت خانوں کی سیاست ہے۔ ایسے میں عمران خان اور ان کی ’’ہم صفحہ‘‘ اسٹیبلشمنٹ نے اسلام آباد میں بت خانے کی سیاست شروع کی ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ مسلم تاریخ میں دو ہی طرح کے لوگ ہوئے ہیں: ایک حقیقی لوگ، یہ لوگ سب کے سب بت شکن تھے۔ دوسرے جعلی لوگ، یہ سب کے سب بت پرست تھے، ہیں اور رہیں گے۔
یہ سطور لکھی جاچکی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان سامنے آگیا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر حکومت اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کرے گی۔ اس کے معنی یہ ہیںکہ ریاست مدینہ میں بت خانے کی سیاست جاری ہے۔ ارے بھائی، ملک کے جید علماء نے مندر کی تعمیر کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے، اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ضرورت تھی تو اس بات کی کہ ایک خلافِ اسلام فیصلہ فوراً واپس لیا جائے اور اس احمقانہ فیصلے پر قوم سے معافی مانگی جائے۔ مگر عمران خان کی حکومت ریاست مدینہ میں بت خانے کی سیاست کو کروٹیں دینے میں لگی ہوئی ہے۔ اس سے حکومت کی نیت اور عقل دونوں ظاہر ہیں۔

Share this: