گوجرانوالہ:عوام پریشان تاجر بدحال

Print Friendly, PDF & Email

گوجرانوالہ پنجاب کا بڑا اور وسطی علاقہ ہے۔ صنعتی شہر ہونے کے باعث صوبے بھر میں اسے اہمیت حاصل ہے۔ سیاسی اور تاریخی اعتبار سے یہ بہت معروف شہر ہے، لیکن یہ شہر ہر حکومت کے دور میں نظرانداز رہا۔ صنعت اور زراعت کے شعبوں میں یہاں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ چاول اور گندم کی فصل کا یہ مرکز کہلاتا ہے، صنعتی شعبوں میں برتنوں سے لے کر بجلی کا سامان تک تیار کرنے کے علاوہ یہاں کپڑے کے چھوٹے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں ہیں۔ جی ٹو روڈ ہی ایک زمینی راستہ ہے جو اس شہر کو لاہور سے ملاتا ہے، ریل دوسرا ذریعہ ہے، تاہم سڑک کے ذریعے لاہور سے رابطہ زیادہ ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ریلوے انتظامیہ نے عوام کی سہولت کے لیے پشاور سے براستہ لاہور۔کراچی کے درمیان چلنے والی عوام ایکسپریس کو گوجرانوالہ کینٹ ریلوے اسٹیشن پر 2منٹ رُکنے کی اجازت دے دی ہے، مگر عوام کو یہ سہولت 3ماہ کے لیے عارضی بنیادوں پر حاصل ہوگی، اس فیصلے پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ ریلوے کا دعویٰ ہے کہ وہ مسافروں کی سہولت اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کرکے بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے، یہ سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
شہر میں چونکہ صنعتی اور زرعی سرگرمیاں رہتی ہیں اس لیے یہاں کے کاروباری طبقے کی نظر بجٹ اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر رہتی ہے۔ حالیہ بجٹ پر یہاں کا کاروباری طبقہ تحفظات ظاہر کررہا ہے اور اسے غریب دشمن اور امیر دوست بجٹ کہا جارہا ہے۔ بجٹ سے پہلے مختلف اشیا کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے غریب آدمی کو مار دیا ہے۔ پیپلز ٹریڈرز کے صدر ملک بھٹو نے یہاں آل تاجر کانفرنس بلائی جس میں مرکزی انجمنِ تاجران کے جنرل سیکرٹری خواجہ صفی الرحمٰن، چیئرمین بازار حاجی پورہ ناصر بشیر، سینئر نائب صدر ملک ندیم، جمعیت علماء اسلام (ف) کے صدر بازار حاجی گلو والا امان اللہ بٹ، صدر رحیم مارکیٹ حاجی اکرم، صدر مشن مارکیٹ چاند گجر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات صغیر بٹ، نائب صدر رانا محمد حنیف ودیگر شریک ہوئے۔ ان سب کا مؤقف تھا کہ حکومتی دعووں کے باوجود مارکیٹ میں چینی اور آٹا مہنگا مل رہا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا پروڈکشن ہائوس چین ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے فروری 2020ء میں چین میں کارخانے بند ہونا شروع ہوگئے اور پیداوار میں کمی آئی، مارچ میں تو پوری دنیا ہی لاک ڈائون ہوگئی جس سے پوری دنیا میں طلب ہی ختم ہوگئی، صرف خوراک سے متعلق اشیاء کا کاروبار اور تجارت ہوئی، باقی ہر چیز کو بریک لگ گیا۔ اب جب کورونا کے اثرات کم ہونا شروع ہوئے اور مارکیٹ میں خوراک کے علاوہ چیزوں کی طلب ہوئی تو پتا چلاکہ طلب زیادہ ہے جبکہ اشیاء کم ہیں۔ پاکستان میں جہاں ترکی، جاپان اور تائیوان کی کراکری عام مل جاتی تھی اب امپورٹ نہ ہونے کی صورت میں کم مل رہی ہے، اور جو مل رہی ہے اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح AC، فریج،LED، گھریلو استعمال کی مشینری، الیکٹرونکس، الیکٹرک کے سامان سمیت امپورٹ ہونے والی 380 اشیاء جس جس کے پاس پاکستان میں اسٹور تھیں ان کے مزے ہوگئے اور ان کے چھکے چوکے لگ گئے۔ اگر کہا جائے کہ کورونا لاک ڈائون اور کورونا اسمارٹ لاک ڈائون کے دوران جب پاکستان میں ہر کاروبار متاثر تھا، امپورٹرز کے مزے ہورہے تھے، اور جو لوگ امپورٹ کی ہوئی چیزیں فروخت کرتے ہیں انہیں بھی بہت فائدہ ہوا۔
شہر میں صحتِ عامہ کے ادارے بھی مؤثر انداز میں کام نہیں کررہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی گوجرانوالہ کی اپنی رپورٹ ہے کہ یہ عمومی دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد نمونیا اور دست کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں نمونیا اور دست سے تقر یباً1.5 ملین بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، یہ دونوں امراض قابلِ علاج و تدراک ہیں، احتیاطی تدابیر اور بہتر علاج سے ان بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے اور شرح اموات کم کی جا سکتی ہے۔ محکمہ صحت حکومتِ پنجاب نے یونیسیف کے تعاون سے جنرل پریکٹیشنرزکے تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔ ماسٹر ٹرینر کی تربیتی ورکشاپ 22 جولائی کو ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی گوجرانوالہ کے دفتر میں ہوئی جس میں پنجاب کے نامور ماہرینِ امراض بچگاں، ضلع کے ہسپتالوں کے ماہر بچگاں کو آن لائن تربیت دی گئی۔ ورکشاپ میں صدر پی ایم اے ڈاکٹر زاہد جعفری اور ایم ایس سول ہسپتال گوجرانوالہ بھی شریک ہوئے۔ اس ورکشاپ سے نمونیا اور دست کے علاج کے سلسلے میں ضلع کے ماہرینِ بچگاں کی استعداد کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت گوجرانوالہ پی ایم ای کے ذریعے جنرل پریکٹیشنرزکے سیشن کا انعقا د کرے گا۔ یہ ورکشاپ جرنل پریکٹیشنرز کے نمونیا و دست کے علم کو بڑھانے میں مدد دے گی اور وہ بہتر طریقے سے بچوں کو ان بیماریوں سے بچا سکیں گے۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار بھی گزشتہ ہفتے یہاں آئے اور یوتھ پروگرام میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس نوجوانوں کے لیے منصوبہ ہے مگر بہت سارے نوجوانوں کے پاس کاروباری منصوبہ ہی نہیں، یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے کوئی گرانٹ نہیں ہے، اس لیے نوجوان اگر کاروبار نہیں کرسکتے تو منصوبے کا حصہ نہ بنیں۔ اس تقریب میں انہوں نے بہت سارے نوجوانوں سے انٹرویو کے دوران پوچھا کہ آپ کو پیسے ملے تو کیا کاروبار کریں گے؟ تو ان کے پاس جواب نہیں تھا۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ جب ہمیں پیسے ملیں گے تو سوچیں گے کہ کیا کاروبار کرنا ہے۔ کامیاب جوان پروگرام کے لیے 10 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ بہرحال گوجرانوالہ میں کامیاب جوان پروگرام کے فیز ٹو کا افتتاح ہوچکا ہے۔ پہلے فیز میں ہزاروں نوجوان مستفید ہوئے ہیں۔ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو 3 فیصد مارک اپ پر قرضے دئیے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق بھی گزشتہ دنوں یہاں دورے پر آئے اور قریبی شہرگجرات میں تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کو بار بار اقتدار کا موقع ملا مگر انہوں نے ہر بار قوم کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ حکومت نے بھی ایک کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے 5 لاکھ نوجوانوں کو نوکریوں سے فارغ کردیا۔ پی ٹی آئی نے پچھلی حکومتوں کی نسبت زیادہ قرض لے کر ایک نئی تاریخ قائم کی ہے۔ حکومت نے خود کو ہی کئی مسائل میں الجھا رکھا ہے، انہیں کسی مخالف کی ضرورت نہیں۔ حکومت احتساب نہیں سیاست کررہی ہے، حقیقی احتساب صرف جماعت اسلامی کرسکتی ہے۔ حکومت نے عوام کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی میں دے دیا ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے استحصال اور مہنگائی کے ظلم کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔

Share this: