مودی کے دو چہرے

Print Friendly, PDF & Email

چین کے لیے ’’سرینڈر مودی‘‘پاکستان کے لیے ’’نریندر مودی‘‘
دو چہرے والا مودی دو چہرے والے بھارت کو عالمی طاقت کے مرتبے تک لے کر جا سکتا ہے؟

ہندوستان کے ہمیشہ سے دو چہرے ہیں۔ گاندھی ایک جانب ہندو مسلم اتحاد اور ایک قومی نظریے کے علَم بردار تھے، دوسری جانب اُن کے زمانے میں شدھی تحریک چل رہی تھی جو مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنا رہی تھی۔ اس پر مولانا محمد علی جوہر چیخ اٹھے، انہوں نے گاندھی سے کہا کہ ہندو مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنا رہے ہیں، آپ انہیں روکتے کیوں نہیں؟ نہرو کے بھی دو چہرے تھے۔ ایک جانب وہ ’’غیر جانب دار تحریک‘‘ کے رہنما تھے جو نہ روسی کیمپ میں تھی نہ امریکی کیمپ میں تھی۔ دوسری جانب جب 1962ء کی جنگ میں چین نے بھارت کا بھرکس نکال دیا تو نہرو نے امریکہ کے صدر کینیڈی کو خفیہ پیغام بھیجا اور ان سے درخواست کی کہ وہ چین کے خلاف جنگ میں بھارت کی مدد کریں اور بھارت کو پائلٹوں سمیت 350 جنگی جہاز مہیا کریں۔ ہندوستان ایک جانب خود کو ’’بھگوان پرست‘‘ کہتا ہے، اور دوسری جانب بھارت کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بھی دو چہرے ہیں۔ وہ چین کے لیے ’’سرینڈر مودی‘‘ ہے اور پاکستان کے لیے ’’نریندر مودی‘‘۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں تو مودی ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کی بات کرتا ہے، جب کہ دعوے کی سطح پر سہی، وہ سرجیکل اسٹرائیک کر گزرتا ہے، یہ اور بات کہ ساری دنیا میں اس کا مذاق اڑ جاتا ہے، مگر چین کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو مودی ’’مذاکرات‘‘ کی بات کرتا ہے، کبھی ’’سول مذاکرات‘‘ کی بات کرتا ہے، کبھی ’’فوجی مذاکرات‘‘ کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں تو مودی کی زبان قینچی کی طرح چلنے لگتی ہے مگر چین گلوان وادی میں بھارت کے 20 فوجی مار ڈالتا ہے اور 60 سے زیادہ کو زخمی کرتا ہے تو مودی ’’چپ کا روزہ‘‘ رکھ لیتا ہے، یہاں تک کہ راہل گاندھی جیسا جونیئر رہنما مودی کو ’’سرینڈر مودی‘‘ کا خطاب عطا کرتا ہے۔ مودی اس توہین آمیز خطاب پر بھی خاموش رہتا ہے، اس لیے کہ اُس کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں۔
ہندوستان پر جب سے سپرپاور کی “Acting” کا بھوت سوار ہوا ہے اُس کے جرنیل کہا کرتے ہیں کہ ہم پر چین اور پاکستان نے ایک ساتھ حملہ کیا تو ہم بیک وقت دونوں کا مقابلہ کریں گے، مگر چین نے گلوان وادی میں بھارت کا حشر نشر کرکے بتادیا کہ بھارت صرف چین کے خلاف بھی جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ چین اور بھارت کی اقتصادی اور عسکری طاقت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چین کی مجموعی قومی پیدوار (GDP) 15 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے، جب کہ بھارت کا GDP صرف 2.7 ہزار ارب ڈالر ہے۔ چین کے زرِمبادلہ کے ذخائر ساڑھے تین ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہیں، جب کہ بھارت کے زرِمبادلہ کے ذخائر صرف 506 ارب ڈالر ہیں۔ چین کا دفاعی بجٹ 178 ارب ڈالر ہے، جبکہ بھارت کا جنگی بجٹ صرف 56 ارب ڈالر ہے۔ ان حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو مودی کے پاس چین کے مقابلے میں ’’سرینڈر مودی‘‘ بننے کے سوا اور کوئی امکان ہی موجود نہیں تھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پھر مودی نے چین کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟
اس سلسلے میں تین باتوں کی اہمیت بنیادی ہے۔ بھارت کا ایک ’’تصورِ ذات‘‘ ہے۔ اس تصورِ ذات میں بھارت ماضی میں بھی عظیم تھا، آج بھی عظیم ہے اور مستقبل میں بھی عظیم ہوگا۔ بلاشبہ یہ ایک “Myth” ہے، مگر کبھی کبھی Myth کی طاقت حقیقت سے بڑھ جاتی ہے۔ بھارت میں یہی ہورہا ہے۔ بھارت میں کروڑوں لوگوں کا خیال ہے کہ نریندر مودی اور اس کی جماعت بی جے پی بھارت کو عظیم بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس خیال کا اثر بھارت کی پالیسیوں پر بھی پڑ رہا ہے اور اُس کے رہنمائوں کے مزاج اور رویوں پر بھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بھارت گزشتہ چند برسوں میں دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں سے ایک معیشت بن کر ابھرا ہے۔ اس کی GDP چین سے بہت کم ہے مگر یہ برطانیہ کی GDP کے برابر ہے، حالانکہ برطانیہ کی پشت پر ڈیڑھ سو سال کی ترقی کا ماڈل موجود ہے۔ چین نے گزشتہ چالیس سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے، بھارت نے بھی گزشتہ تیس چالیس سال میں 25 کروڑ کی مڈل کلاس پیدا کرکے دکھائی ہے۔ یہ کامیابی بھارت کو یقین دلا رہی ہے کہ اس نے عظمت کا جو خواب دیکھا ہے وہ صرف خواب نہیں، بلکہ اس خواب کو تعبیر مہیا کی جا سکتی ہے اور وہ بھی آئندہ دس پندرہ سال میں۔ چنانچہ پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے لیے بھارت کا رویہ بہت جارحانہ ہوگیا ہے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی وقوع پذیر ہورہی ہے۔ ایک سپرپاور کی حیثیت سے امریکہ کا زوال ہورہا ہے اور چین ایک نئی سپر پاور کی حیثیت سے عالمی منظرنامے پر ابھر رہا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ منظرنامہ ناقابلِ برداشت ہے۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ تنِ تنہا چین کا مقابلہ کرے گا، مگر امریکہ ایسا نہیں کر پارہا، چنانچہ ایک جانب وہ یورپی اتحاد پر دبائو بڑھا رہا ہے کہ وہ چین سے مقابلے میں امریکہ کی مدد کرے، دوسری جانب بھارت کو چین کی متوازی طاقت بناکر ابھارنے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ بھارت کو پٹی پڑھا رہا ہے کہ عظمت تمہارا مقدر ہے، مگر تمہاری عظمت کا راستہ چین کے ساتھ محاذ آرائی سے ہوکر گزرتا ہے۔ چنانچہ تم اٹھو اور چین کے مقابلے پر خم ٹھوک کر کھڑے ہوجائو۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ چین کے خلاف اپنی جنگ بھارت کو Out Source کررہا ہے۔ وہ بھارت سے کہہ رہا ہے کہ تم میرے سپاہی بن کر چین کے خلاف جنگ لڑو۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت اتنا بے وقوف نہیں۔ وہ چین کے خلاف امریکہ کی جنگ ہرگز نہیں لڑے گا۔ لیکن اب تک کے حالات بتا رہے ہیں کہ بھارت چین کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑنے کے لیے ایک حد تک سہی، آمادہ ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو وادی گلوان میں وہ چین کے مقابل نہ آتا۔ چین کی پالیسی بھارت سمیت کسی کے ساتھ محاذ آرائی کی نہیں ہے۔ چین ایک ’’تجارتی ذہن‘‘ بن کر ابھرا ہے، اور تجارتی ذہن جنگ کو پسند نہیں کرتا۔ جنگ سے تجارت و معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے، چنانچہ چین وادی گلوان میں بھارت سے لڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن بھارت کے، عظمت کے خواب نے اُسے چین کے خلاف جارحانہ اقدام پر مجبور کردیا۔ بھارت کے خلاف چین کا ردعمل بہت نپا تلا ہے۔ اس نے ایک جانب بھارت کو اُس کی اوقات یاد دلادی ہے، دوسری جانب اس نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگی ماحول پیدا نہیں ہونے دیا، تیسری جانب اس نے بھارت کو بتادیا کہ اب علاقے میں چینی فوج کا انخلا ہوگا تو وہ بھارت کے علاقے سے چین کے علاقے کی طرف نہیں ہوگا، بلکہ اب چین بھارت کے علاقے ہی میں انخلا کرے گا۔ یعنی چینی فوجیں انخلا کے بعد بھی بھارتی علاقے میں موجود رہیں گی۔ یہ چین اور بھارت کے تعلقات کا “New Normal” ہے، اور اب بھارت کو اسی پر گزارہ کرنا پڑے گا۔ بھارت کو توقع تھی کہ چین کے ساتھ محاذ آرائی میں امریکہ کھل کر بھارت کی مدد کو آئے گا، مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرکے ثابت کردیا کہ ابھی وہ مرحلہ بہت دور ہے جب امریکہ بھارت کے لیے چین سے محاذ آرائی مول لے گا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دو چہرے والے مودی کے لیے امریکہ کے بھی ابھی تک دو چہرے ہیں۔ ایک چہرہ وہ ہے جو بھارت کو چین کے مقابلے کے لیے اکسا رہا ہے۔ دوسرا چہرہ وہ ہے جو ابھی تک بھارت چین محاذ آرائی میں کھل کر بھارت کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا دو چہرے والا مودی دو چہرے والے بھارت کو عالمی طاقت کے مرتبے تک لے کر جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کورونا نے بھارت کے، عظمت کے خواب کو سخت نقصان پہنچا دیا ہے۔ بھارت کی اقتصادی حالت کو ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ بھارت کی معیشت ابھی “Recession” میں مبتلا ہے۔ لیکن اگر کورونا بھارت میں مزید پھیلا تو بھارتی معیشت “Depression” کا شکار ہوکر منہ کے بَل گر سکتی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کے تعلقات پڑوسیوں سے تیزی کے ساتھ خراب ہوئے ہیں۔ بھارت پاکستان سے تو پہلے ہی پنجہ آزمائی کررہا تھا، اب اس نے چین کے ساتھ بھی جنگ جیسی صورتِ حال پیدا کرلی ہے۔ نیپال جو بھارت کی طفیلی ریاست تھا، چین کے زیر اثر بھارت کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات اتنے خراب تھے کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم پاکستان کا نام بھی سننے کی روادار نہیں تھیں، مگر عمران خان نے چند روز پیشتر انہیں فون کرڈالا ہے اور دورۂ پاکستان کی دعوت دی ہے۔ یہ چین کی سفارت کاری کا کرشمہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ چین خطے میں بھارت پر دبائو بڑھا رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ حقیقت عیاں ہے کہ اگر بھارت کے تعلقات تمام اہم پڑوسیوں سے خراب ہوں گے تو وہ چاہ کر بھی بڑی طاقت نہیں بن سکے گا۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ بھارت میں آزادی کی آٹھ دس تحریکیں چل رہی ہیں۔ ابھی ان تحریکوں کو پاکستان یا چین کی پشت پناہی حاصل نہیں، لیکن اگر بھارت نے خطے میں امریکی کھیل کو آگے بڑھایا تو چین بھارت کے اندر آزادی کی کئی تحریکوں کو قوت فراہم کرسکتا ہے، اور بھارت کا عالمی طاقت بننے کا خواب بکھر سکتا ہے۔
بھارت کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ 60ارب ڈالر خسارے کی تجارت کررہا ہے۔ چین بھارت کشمکش کے بعد بھارت میں چین کے خلاف بہت شور بلند ہوا۔ بے شمار بھارتیوں نے کہا کہ ہمیں چین کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ امریکہ بھی بھارت سے یہی چاہتا ہے۔ لیکن چینی مصنوعات پر بھارت کا انحصار اتنا زیادہ ہوچکا ہے کہ وہ چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کے بارے میں سوچنے سے بھی قاصر نظر آتا ہے۔ بھارت میں دوا سازی کی صنعت بہت بڑی ہے مگر یہ صنعت 70 فیصد خام مال کے لیے چین پر انحصار کرتی ہے۔ بھارت چین سے خام مال اور مصنوعات نہیں لے گا تو اس کا درآمدی بل کئی سو ارب ڈالر بڑھ جائے گا، اور بھارت اس کی تاب نہیں لا سکتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو چین بھارت کے منہ میں پھنسی ہوئی وہ چھچھوندر ہے جسے بھارت نے نگلا تو اندھا ہوجائے گا، اُگلا تو اس کا کوڑھی ہونا طے ہے۔ یہاں سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا چین بھارت کو سبق سکھانے کی حکمتِ عملی پر عمل کررہا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ چین بھارت کو پیغام دے رہا ہے کہ چین بھارت تعلقات کو دوطرفہ رکھو، انہیں سہ طرفہ نہ بنائو۔ ان تعلقات میں امریکہ کو نہ لائو۔ ان تعلقات میں امریکہ آئے گا تو تعلقات میں خرابی پیدا ہوگی۔ معلوم نہیں بھارت اس پیغام کو سمجھ پا رہا ہے یا نہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت یہ پیغام سمجھنا بھی چاہتا ہے یا نہیں؟ یہاں ایک مسئلہ اور بھی ہے۔
امریکہ کے پاس چین کو سپرپاور بننے سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہیں۔ امریکہ اس عرصے میں چین کا کام تمام نہ کرسکا تو چین سپرپاور بن کر ابھرے گا اور اس کا ابھار سپرپاور کی حیثیت سے امریکہ کی موت کا اعلان ہوگا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ چین کے خلاف عالمی اور علاقائی مہم کو تیز کرے گا۔ امریکہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو چین کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کو ختم کرنے کے امکان پر اصرارکررہے ہیں۔ امریکی کبھی چین کو ’’وائرس‘‘ کہہ رہے ہیں، امریکہ کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے چند روز پیشتر چین کو ’’طاعون‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ چین سے صرف امریکہ کی ’’نفرت‘‘ کا اظہار نہیں، یہ چین سے امریکہ کے ’’خوف‘‘ کا بھی اظہار ہے۔ ایسا خوف جو امریکہ کو سوویت یونین سے بھی لاحق نہیں تھا۔ امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بڑی حد تک ہموار کرلیا تھا۔ کمیونزم اور سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پورا یورپ امریکہ کے ساتھ تھا۔ مسلم دنیا کے ملکوں کی بڑی تعداد امریکی کیمپ میں تھی۔ لیکن امریکہ چین کے خلاف ابھی تک یورپ کو بھی شیشے میں نہیں اتار سکا ہے۔ جرمنی یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ چین کے خلاف امریکی مؤقف کو من و عن قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ برطانیہ امریکہ کا اتحادی ہے، مگر برطانیہ کی حکومت نے چند روز پیشتر ہی کہا ہے کہ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم امریکہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن کیسے پیدا کریں؟ اگر برطانیہ امریکہ کے لیے چین کو ترک کرنے پر تیار نہیں، تو پھر اور کون امریکہ کے لیے چین کو ترک کرے گا؟ چین امریکہ اور یورپ کے درمیان دراڑیں ڈال رہا ہے۔ چین افریقہ میں قدم جما چکا ہے۔ چین جنوبی ایشیا میں بھارت کو تیزی کے ساتھ تنہا کررہا ہے، اور خطے میں امریکی عزائم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔ اس وقت پوری دنیا ’’کورونا‘‘ کی گرفت میں ہے۔ امریکہ کی معیشت تک کا برا حال ہے۔ امریکہ میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوچکے، معیشت کساد بازاری میں مبتلا ہوچکی۔ البتہ چین کی معیشت دنیا کی واحد معیشت ہے جو مستحکم نظر آرہی ہے۔ یہی چین کی اصل طاقت ہے۔ اسی طاقت سے امریکہ خوف زدہ ہے۔ یہی طاقت یورپ کو اس بات پر مائل کررہی ہے کہ وہ چین کے سلسلے میں ’’امریکی افسانے‘‘ پر کان نہ دھرے۔ یہی طاقت دو چہرے والے بھارت کو چین کے ہاتھوں پٹوا رہی ہے۔ یہی طاقت مودی کو چین کے آگے ’’سرینڈر مودی‘‘ اور پاکستان کے آگے ’’نریندر مودی‘‘ بناتی ہے۔

Share this: