کبوتر اور بوتیمار

Print Friendly, PDF & Email

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دریا کے نزدیک ایک ماہی خور بگلا رہتا تھا کہ نام اس کا ’’بوتیمار‘‘ تھا۔ بوتیمار بڑا وہمی اور سخت محتاط تھا۔ کئی کئی دن بھوکا، پیاسا رہتا۔ نہ پانی پیتا، نہ مچھلی پکڑتا۔ جب بھوک پیاس سے سخت عاجز آجاتا تو ایک قطرہ پانی پی لیتا اور ایک چھوٹی سی مچھلی پکڑ لیتا۔
حیوان بھی اس صورتِ حال سے واقف تھے۔ وہ آتے اور کہتے: ’’میاں بوتیمار! تم کچھ کھاتے پیتے کیوں نہیں؟‘‘ بگلا جواب دیتا: ’’میں انسانوں کا غم کھاتا ہوں۔ اگر میں پانی زیادہ پی جائوں اور ہر روز مچھلی کھائوں تو پانی کے ذخیرے خشک ہوجائیں گے اور مچھلی کی نسل ناپید ہوجائے گی۔ اس وقت دوسرے پیاسے اور بھوکے رہ جائیں گے‘‘۔
پرندے کہتے: ’’نہ ڈر، کچھ بھی ختم نہ ہوگا۔ دریا پانی سے لبالب ہے اور سمندر مچھلیوں سے پُر۔‘‘ بگلا کہتا: ’’نہ میرے عزیزو، ہر شے کی فکر کرنی چاہیے۔ ذرا پانی کے ان ذخیروں کو دیکھو جہاں مچھلی کا نام و نشان نہیں۔ آخر مچھلی کہاں گئی؟ یہی کہ لوگ باگ مچھلیاں چٹ کرگئے۔ ذرا ان دریائوں پر نگاہ کرو جن کا پانی خشک ہوچکا۔ کیسے خشک ہوگیا؟ اس لیے کہ لوگ ان کا پانی لے گئے۔ میں نے فرض کررکھا ہے کہ میں ان کا مالک ہوں۔ سو میں نہیں چاہتا کہ ہر شے ختم ہوجائے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر شے باقی رہے تاکہ میرے بعد دوسرے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ میں ایک خیر خواہ، خیر اندیش اور خیر شناس پرندہ ہوں۔ بھلائی اور مصلحت اسی میں ہے کہ آدمی ہر چیز کی فکر کرے‘‘۔ پرندے کہتے: ’’اللہ مبارک کرے، آفرین۔ تُو بڑا محتاط پرندہ ہے‘‘۔ انہوں نے بگلے کا نام رکھ دیا تھا: ’’مالک حزیں یعنی ’’غم خوار‘‘۔
شاید یہی وجہ تھی کہ بعض پرندوں کا خیال تھا کہ بوتیمار بہت عقل مند اور زمانے کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہے۔ وہ کبھی کبھی اس کے پاس جاتے اور اپنے بعض معاملات میں اس سے مشورے کرتے۔ بوتیمار کی ناقص عقل میں جوآتا، کہہ دیتا۔ وہ انہیں نصیحت کرتا اور اپنے ذاتی تجربوں سے آگاہ کرتا۔ کبھی کبھی یہ مشورے ان کے لیے مفید بھی ثابت ہوتے۔
آہستہ آہستہ خود بوتیمار کو بھی یقین سا ہوگیا کہ وہ سب سے بہتر سمجھتا ہے اور سب سے زیادہ عقیل و فہیم ہے۔ وہ جب کسی جگہ سے گزرتا، سب کی احوال پرسی کرتا اور سوال کرتا: ’’میرے لائق کوئی خدمت؟ کوئی مسئلہ تو نہیں کہ میں اسے حل کروں؟ کوئی مسئلہ تو نہیں کہ جس کے بارے میں، مَیں مشورہ دوں؟ میں بوتیمار ہوں۔ ہر ایک کا غم خوار… اور ہاں مجھے کبھی غلط فہمی نہیں ہوتی‘‘۔
دن گزرتے گئے کہ ایک روز ایک کبوتر کے لیے ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ ہوا یہ کہ اُس نے ایک درخت کے تنے کے اوپر ایک کھکھل میں گھونسلا بنا رکھا تھا اور اس میں اُس کے چھوٹے بچے تھے جو ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے پیدا ہوئے تھے۔ ابھی وہ پرواز کرنے کے قابل نہ تھے۔ اسی صحرا میں ایک لومڑی بھی رہتی تھی جسے یہ سب کچھ معلوم تھا۔
لومڑی کہ درخت پر چڑھنا نہیں جانتی تھی، اپنے آپ سے کہنے لگی: ’’میں کبوتر کو ڈراتی ہوں اور اس سے ایک بچہ لے لیتی ہوں‘‘۔ وہ درخت کے نیچے آئی اور اس نے کبوتر کو آواز دے کر کہا: ’’یہ درخت میری ملکیت ہے۔ تم نے میری اجازت کے بغیر اس کے اوپر اپنا گھونسلا کیوں بنایا؟‘‘ کبوتر بولا: ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ درخت تمہاری ملکیت ہے۔ ابھی میرے بچے چھوٹے چھوٹے ہیں اور پرواز نہیں کرسکتے۔ اگلے چند دن میں، مَیں یہاں سے چلا جائوں گا‘‘۔
لومڑی بولی: ’’یہ نہ ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ ابھی اسی وقت درخت کو خالی کرکے اپنا رستہ لو‘‘۔
کبوتر بولا: ’’کیا کروں، اس صحرا میں کہیں درخت یا دیوار نہیں۔ میں ہر جگہ آشیانہ نہیں بناسکتا۔ میرے بچے بھی ابھی چھوٹے ہیں اور اڑنے کے قابل نہیں‘‘۔
لومڑی بولی: ’’یہ باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یا تو درخت خالی کرو یا پھر میں اوپر آکر تمہارے سارے بچوں کو ہڑپ کرتی ہوں‘‘۔
کبوتر ڈرا اور لجاجت سے بولا: ’’کیا یہ ممکن نہیں کہ تم مجھے چند دن کی مہلت دو؟‘‘ لومڑی بولی: ’’اگر تم اپنا ایک بچہ مجھے گروی کردو تو میں تمہیں ایک روز کی مہلت دیتی ہوں‘‘۔ کبوتر نے اپنا ایک بچہ لومڑی کو دے دیا اور اسے تاکید کی کہ اسے حفاظت سے رکھنا۔
لومڑی بولی: ’’اگر کل تک چلے جائوگے تو اپنے بچے کو دیکھ پائوگے، لیکن اگر یہیں رہوگے تو اسے نہ دیکھ پائوگے‘‘۔ لومڑی کبوتر کے بچے کو لے گئی، اسے کھا گئی اور اگلے دن صبح واپس آکر بڑی خوف ناک آوازیں نکالنے لگی۔
کبوتر سوراخ کے قریب آگیا اور بولا: ’’ہم جانے کی فکر میں ہیں لیکن ابھی کوئی جگہ ڈھونڈ نہیں پائے۔ مجھے مزید ایک دن کی مہلت دے دو‘‘۔ لومڑی بولی: ’’اگر اپنا ایک بچہ مجھے گروی کردو تو میں تمہیں مزید ایک دن کی مہلت دیتی ہوں۔ اگر ایسا نہیں کروگے تو میں سب کو کھا جائوں گی‘‘۔ کبوتر نے دوبارہ ایک بچہ اسے دے دیا۔ لومڑی نے بچہ لے لیا اور یہ جا وہ جا۔
اسی دن بوتیمار دوپہر کے وقت ادھر سے گزرا اور اسی درخت کی شاخ پر جا بیٹھا۔ اس نے دیکھا کہ کبوتر بڑا غمگین ہے۔ اس نے کبوتر کا حال پوچھا اور بولا: ’’میں تمہیں بہت غمگین دیکھ رہا ہوں۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتائو کہ میں اسے حل کروں‘‘۔
(جاری ہے)

Share this: