پاکستان میں تعلیمی اداروں کی بندش

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں کورونا وائرس وبا کی وجہ سے حفاظتی اقدام کے طور پر پانچ ماہ قبل تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا تھا۔ تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کی پڑھائی کا بہت نقصان ہوا ہے۔محدود تعلیمی اداروں نے متبادل طریقہ اختیار کرتے ہوئے آن لائن تدریس شروع کردی۔ لاکھوں طلبہ کو آن لائن تدریس کے نام پر بیوقوف بنایا گیا۔ بیشتر طلبہ کے پاس نہ کمپیوٹر ہے نہ کمپیوٹر چلانے کی تربیت ہے۔ بالخصوص اسکول سطح کے طلبہ میں بہت کم جو آن لائن تدریسی عمل سے کچھ استفادہ کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی رہتی ہے، کمپیوٹر چلانے کے لیے بجلی ضروری ہے۔ اسکول طلبہ کمپیوٹر پر گیمز کھیل سکتے ہیں لیکن کپیوٹر پر آن لائن تعلیم حاصل نہیں کرسکتے نہ اسکول اساتذہ اتنے ماہر ہیں کہ وہ کمپیوٹر پر آن لائن پڑھا سکیں۔ یہ اساتذہ طلبہ کو سامنے بیٹھا کر زیادہ نہیں پڑھا سکتے۔ تعلیمی معیار پہلے ہی بہت پست ہے، گزشتہ 5 ماہ میں سندھ میں کئی نجی اسکول جو کرائے پر تھے وہ بند ہوچکے ہیں۔ پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کی کوشش ہے کہ 15 اگست سے اسکولوں کا دوبارہ آغاز کریں لیکن سندھ انتظامیہ کی طرف سے اب تک اسکول کھولنے کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔
15 اگست سے اسکولوں کا باقاعدہ آغاز ممکن نظر نہیں آتا۔ بالفرض اگر اسکولوں کا آغاز 15 اگست سے ہوجائے تب بھی مارچ سے اگست تک اسکول سیشن کے 6 ماہ ضائع ہوچکے ہوں گے۔ اسکول انتظامیہ کے پاس تدریسی عمل کے لیے ستمبر تا جنوری 5 ماہ کا وقت ہوگا۔ گزشتہ سیشن میں تمام طلبہ کو بغیر امتحان پروموٹ کرکے اگلی کلاسوں میں ایڈمیشن دے دیے گئے تھے اور تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں تو آئندہ فروری، مارچ 2021ء میں کس طرح امتحانات ممکن ہوں گے۔ اسکولوں نے ایک اور متبادل طریقہ اختیار کیا ہے۔ طلبہ اور ان کے والدین اسکول آکر ہوم اسائنمنٹ (گھر کا کام) لیتے ہیں ہفتہ میں ایک دن۔ یہ طریقہ آن لائن سے بہتر ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ کئی نجی اسکول بند ہوچکے ہیں۔ زیادہ تر طلبہ اسکول نہیں جارہے نہ اسکول فیس دے رہے ہیں۔ ہوم اسائنمنٹ کرنے والے اور اسکول فیس دینے والے طلبہ بہت کم ہیں۔ اسکول کے علاوہ کوچنگ سینٹرز بھی بند ہیں۔
اگر 15 اگست سے اسکول کھل جائیں تب تمام طلبہ دوبارہ سے داخلہ نہیں لیں گے۔ ابھی وہ اسکول متبادل طریقہ تعلیم دے رہے ہیں جو مستحکم ہیں یا کرائے کی جگہ پر ہیں۔ اس صورت حال میں طلبہ کے لیے واحد طریقہ گھر پر پڑھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہوم ٹیوٹر یعنی ان اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا ہوگی جو گھر آکر پڑھا سکیں۔ طلبہ اپنی پڑھائی گھر پر ہی جاری رکھیں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔
محض اسکول دوبارہ کھولنے سے تعلیمی عمل ریگولر نہیں ہوسکتا جس کی وجوہات اوپر بیان کی گئیں۔ لہٰذا سندھ انتظامیہ اور اسکول ایسوسی ایشن والے ازسرنو پالیسی مرتب کریں۔

Share this: