مولانا عبداللہ حمادی

Print Friendly, PDF & Email

عبداللہ نام اور اپنے مورثِ اعلیٰ شیخ عماد الدین سے نسبی تعلق کی بنا پر عمادی کہلاتے اور لکھتے تھے۔ جونپور کے قریب ایک گائوں امرتھوا میں پیدا ہوئے۔ ایک علمی خانوادے سے تعلق تھا۔ گھر میں عربی بول چال معمول تھا۔ قرآن و حدیث اور صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم گھر پر دادا، دادی اور والد سے حاصل کی۔ درسیات مولوی ہدایت اللہ خاں رامپوری سے پڑھیں، مختلف فنون اور طب کی تعلیم بھی حاصل کی۔ لکھنؤ میں مولوی عبدالحئی فرنگی محلی کے شاگردِ خاص مولوی عبدالعلی آسی کے سامنے بھی زنوائے تلمذ تہہ کیا۔ یہ صاحب شعر و سخن اور ادب و تاریخ میں کاملِ فن تھے، جن سے مولانا عمادی نے بھی استفادہ کیا۔ یہ صاحب ”اصح المطابع“ کے مالک تھے اور عربی کتابوں کی تصحیح خود کرتے تھے۔ یہی فن انہوں نے مولانا عمادی کو بھی سکھایا اور اس میں ماہر بنادیا۔ مولانا عمادی کا حافظہ بلا کا ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں کتب و مضامین ان کی نظر سے گزر کر ذہن میں محفوظ تھے۔ مولانا برصغیر کے پہلے شخص تھے جنہوں نے عربی صحافت سے ناتا جوڑا اور مصر و بیروت کے رسائل میں مضامین لکھے۔ پہلے ”الریاض“ کے نام سے ایک عربی ماہنامہ شروع کیا، پھر ”البیان“ جاری کیا۔ عالم اسلام اور عربی ممالک میں اس رسالے کی مانگ تھی۔ 1906ء میں علامہ شبلی نعمانی نے ”الندوہ“ شروع کیا تو اس کی ایڈیٹری مولانا ابوالکلام آزاد کے سپرد کی۔ جب مولانا آزاد چند ماہ بعد اخبار ”وکیل“ امرتسر میں چلے گئے تو اس کی ایڈیٹری مولانا عمادی کے حصے میں آئی۔ 1908ء یا 1909ء میں مولانا آزاد اپنے والد کی علالت کے باعث ”وکیل“ کی ایڈیٹری بھی چھوڑ گئے تو ”وکیل“ کے مالک غلام محمد نے انہیں ایڈیٹر بنادیا، اور یوں وہ کئی سال تک امرتسر میں رہے۔ یہاں انہوں نے سرسید کے رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ کو پھر سے زندہ کیا اور عمدہ مضامین لکھے۔ 1912ء میں مولانا آزاد نے کلکتہ سے ”الہلال“ جاری کیا تو مولانا عمادی کو اپنے ہاں بلوا لیا۔ مولانا عمادی نے بعض عربی کتب کے تراجم بھی کیے ہیں۔ کچھ عرصے بعد مولانا لاہور میں ”زمیندار“ کے عملہ ادارت میں آگئے۔ جب یہ ضبط ہوا تو ”ستارئہ صبح“ کی ادارت بھی کی۔ حیدرآباد دکن میں دارالترجمہ قائم ہوا تو وہاں چلے گئے۔ اسی شہر میں جب 1922ء میں مولوی عبدالرزاق نے ”کلیاتِ اقبال“ شائع کی تو اس پر مولانا تمنا عمادی نے تقریظ لکھی۔ اسی شہر میں ستّر برس کی عمر میں ستمبر 1947ء میں انتقال کیا۔ علامہ اقبال نے اس دیباچہ میں ان سے بعض مطالب کی تحقیق پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

ایفائے وعدہ

ایک دن حضرت عمر فاروقؓ (644ء) عدالت کررہے تھے کہ دو نوجوان ایک تیسرے کو پکڑ کر لائے اور کہنے لگے: اے عمر! اس شخص نے ہمارے باپ کو قتل کردیا ہے، اس سے قصاص لیجیے۔ خلیفہ نے وجہِ قتل پوچھی تو ملزم کہنے لگا کہ میں آج ایک باغ کے پاس سے گزر رہا تھا کہ میری ناقہ ایک درخت کے پاس رک کر پتے کھانے لگی۔ ایک شخص بھاگتا ہوا آیا، اس نے میری ناقہ کے سر پر اس زور سے پتھر مارا کہ وہ لڑکھڑا کے گری اور مرگئی۔ میں نے غصے میں وہی پتھر اٹھا کر اس آدمی کو دے مارا اور وہ بھی مرگیا۔ خلیفہ نے کہانی سن کر ان نوجوانوں سے دیت کے متعلق پوچھا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ اس پر خلیفہ نے موت کا حکم دے دیا۔ وہ شخص کہنے لگا کہ گھر میں سب سے بڑا میں ہی ہوں، مجھے صرف تین دن کی مہلت دیجیے کہ میں جائداد کا انتظام کر آئوں۔ فرمایا: اگر تم واپس نہ آئے تو پھر؟ حضرت ابوذر غفاریؓ (652ء) بھی وہیں موجود تھے، اٹھ کر کہنے لگے کہ میں ضامن بنتا ہوں، اگر یہ واپس نہ آئے تو اس کی سزا مجھے دیجیے۔ چنانچہ اسے مہلت دے دی گئی۔ تیسرے دن عصر تک اس کا انتظار کیا گیا لیکن وہ نہ آیا۔ مجبوراً حضرت ابوذرؓ کو نوجوانوں کے حوالے کردیا گیا۔ وہ تلوار کھینچ کر آپ کی گردن اڑانے ہی کو تھے کہ ایک شور بلند ہوا: ٹھیرو ٹھیرو، میں آگیا ہوں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نوجوان ایک تیز رفتار اونٹنی پر سورا اڑتا ہوا آرہا ہے۔ قریب آکر ناقہ سے اترا، دوڑ کر حضرت ابوذرؓ کے قدموں میں گر پڑا اور تاخیر کی معافی مانگی۔ یہ عالم دیکھ کر ان نوجوانوں نے کہاکہ اس شخص کی جان لینا وفا، صداقت اور شجاعت کو قتل کرنا ہے، اس لیے ہم اسے معاف کرتے ہیں۔ (ماہنامہ” چشم بیدار“۔ نومبر2019ء)

بے عقلی کی تدبیر

ایک نیک بخت بیگم کا یہ دستور تھا کہ بہت سویرے اٹھ کر اور ضرورت سے فارغ ہوکر خدا کی عبادت کیا کرتی۔ لونڈیوں کو بھی اس کے ساتھ بہت تڑکے اٹھنا پڑتا، اور سویرے کا جاگنا ان کو ناگوار ہوتا تھا۔ لونڈیوں نے آپس میں صلاح کی کہ کوئی تدبیر ایسی ہو کہ بیگم سویرے کا اٹھنا موقوف کریں۔ تب اس بات کی تفتیش کی کہ بیگم دن کو بھی نہیں سوتیں، پھر اتنی رات سے کیوں اٹھ بیٹھتی ہیں!
آخر کو لونڈیوں نے سمجھا کہ مرغ جو گھر میں پلا ہے، ہو نہ ہو یہی اذان دے کر بیگم کو جگاتا ہے۔ یہ خیال کرکے بیچارے مرغ کو ناحق مار ڈالا۔ لیکن مرغ کے جیتے جی تو بیگم کے اٹھنے کا وقت بھی مقرر تھا، اب تو یہ صورت ہوئی کہ کبھی آدھی رات سے بیگم صاحب کی آنکھ کھل جاتی اور لونڈیوں کے سر پر آفت نازل ہوتی۔
حاصل: بے عقلی کی تدبیر مطلب کے خلاف اثر کیا کرتی ہے۔
(” منتخب الحکایات“…نذیر احمد دہلوی)

مومن

حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ مومن کی مندرجہ ذیل نشانیاں ہیں:
-1ایسے لوگوں کی صحبت میں رہے جن سے دین کی اصلاح ہو۔
-2دنیا کی کوئی بڑی چیز حاصل ہو تو اسے برا سمجھے اور دین کی کوئی چھوٹی سی چیز بھی ملے تو اسے بڑا سمجھے۔
-3ایسی حلال چیز کے کھانے سے بھی بچے جس میں کسی حرام چیز کی آمیزش کا شبہ نہ ہو۔
٭مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم)
٭مومن اپنے اہل و عیال کو اللہ کے بھروسے پر چھوڑتا ہے اور منافق اپنے اہل و عیال کو اپنے درہم و دینار پر۔

Share this: