پیسے کی دوڑ میں کہاں کا علم کہاں کی صحافت

Print Friendly, PDF & Email

درویش صفت صحافی، صحافت کے استاد اطہر علی ہاشمی
چیف ایڈیٹر روزنامہ جسارت کراچی کا آخری تفصیلی انٹرویو
اگر یہ سوال ہو کہ اطہر علی ہاشمی کون تھے؟ تو اس کا ایک ہی جواب ہے کہ ’’اطہر علی ہاشمی ایک بڑا آدمی تھا“۔ یہ تفصیلی انٹرویو ہاشمی صاحب کا آخری انٹرویو ہے،جو اب شائع ہورہا ہے، شاید ہاشمی صاحب بھی یہی چاہتے تھے کہ یہ اُن کی زندگی میں نہ چھپے۔ اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ انٹرویو مکمل کرکے کئی ماہ پہلے میں نے ہاشمی صاحب کو دیا کہ آپ اس کو دیکھ لیں، اُنہوں نے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ’’چھوڑو میاں! اس کو رہنے دو، مت چھاپو“۔ میں نے کہا ”اب یہ ممکن نہیں“۔ ”اچھا!چلو پھر بے فکر رہو‘‘- پھر ہر کچھ عرصے بعد میں پوچھتا ”دیکھ لیا؟“ کہتے ”ہاں یہ دیکھو کچھ دیکھ لیا ہے“۔ پھر کہتے ”چھوڑو میاں اس کو، میرے مرنے کے بعد چھاپ دینا۔“ آخری ملاقات انتقال سے دو تین، دن قبل ہی ہوئی تھی۔ میں آپ سے پوچھنے گیا تو کہا ”میاں کیا حال ہے، کہاں غائب ہو؟“ میں نے کہا ’’کورونا میں کم لوگوں سے ملنا چاہیے‘‘- کہا ”بیٹھو“۔ اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ ایک کتاب رکھی تھی، میں نے کہا یہ مجھے چاہیے۔ کہنے لگے ”فون آیا تھا، تبصرہ کرلوں تو لے لینا“۔ مجھے نہیں معلوم وہ تبصرہ کرپائے یا نہیں۔ سگریٹ کا ساتھ آخری وقت تک جاری رہا۔ ہاشمی صاحب میرے گھر کے قریب گلستان جوہر میں ہی رہتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے ’’میاں کبھی آجایا کرو، تم تو ہمارے بہت قریب رہتے ہو‘‘- میں ہمیشہ کہتا ”جی میری بھی خواہش ہے کہ آپ کے پاس آکر بیٹھا کروں اور کچھ لے کر اٹھا کروں‘‘۔ وہ معدودے چند لوگوں میں سے تھے جن کی صحبت سے کچھ سیکھ کر ہی سائل اٹھتا ہے، لیکن بدقسمتی رہی، اور یہ موقع کم ہی ملا۔ ہماری روایت میں اطہر علی ہاشمی عبدالکریم عابد کا تسلسل اور ہماری صحافت کی آبرو، درویش صفت اور عہد ساز شخصیت کے حامل صحافی تھے۔ آپ حقیقی معنوں میں ایک نظریاتی صحافی بھی تھے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ رواں دہائی کے ایڈیٹروں میں آپ کا سب سے بڑا مقام تھا۔ آپ صرف صحافت کے استاد نہیں تھے بلکہ آپ سے لوگوں کا تعلق محبت اور عقیدت کا تھا۔ اکبر الٰہ آبادی نے شاید آپ کے لیے کہا تھا کہ

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی
ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
اس خانہ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث
سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں

آپ اُن اخبار نویسوں میں سے تھے جو ہر خبر پر گہری اور عمیق نظر رکھتے تھے اور جنہیں قدرت کی طرف سے اظہار کا خوبصورت انداز عطا ہوا تھا۔ آپ سنجیدہ کالم کم لیکن فکاہیہ کالم بھرپور لکھتے تھے، حکومت کی پالیسیوں پر اپنے طنز و مزاح کے مخصوص انداز میں ناقدانہ رائے بھرپور طریقے سے پیش کرتے تھے۔ آپ کی تحریر پختہ، مؤٗثر، رواں، شستہ، اور سہل ہوتی تھی اور اس میں کسی طرح کی پیچیدگی اور ابہام نہیں پایا جاتا تھا۔ اداریوں میں مقامی مسائل، عصر حاضر کے مسائل کا ادراک، قوم و ملک کو درپیش چیلنجز، مسلمانوں کی حالتِ زار کا تجزیہ موجود ہوتا تھا جس میں بھی کبھی کبھی طنز و مزاح کے جملے پڑھنے کو ملتے تھے۔ آپ کا مزاح تحریر کے ساتھ عمل، تقریر، گفتگو… ہر جگہ موجود تھا، یہی وجہ ہے کہ دورانِ انٹرویو میرے بعض سنجیدہ سوالات کا بھی انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا اور لمبی چوڑی بات کرنے کے بجائے چند جملوں میں پوری بات کردی۔ طنز و مزاح، شوخی، ظرافت… یہ آپ کی شخصیت کا حصہ تھے۔ آپ خود کہتے تھے کہ ’’سنجیدگی میری فطرت میں نہیں ہے“ـ کیونکہ آپ ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے اور سیکھنا سکھانا آپ کی سرشت میں شامل تھا، اس سلسلے میں فرائیڈے اسپیشل میں حیدر علی آتش کے شعر

لگے منہ بھی چڑھانے، دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجے دہن بگڑا

سے استفادہ کرتے ہوئے ’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘کے عنوان سے زبان و بیان کی اصلاح کرنے اور زبان سکھانے کا سلسلہ شروع کیا، اور یہ ہر جمعہ کو فرائیڈے اسپیشل کے آخری صفحے پر شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ بہت مقبول ہوا۔ ڈان اخبار سمیت دنیا بھر کی کئی ویب سائٹس پر یہ کالم چھپتے رہے ہیں، جس پر مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ”خبر لیجے زباں بگڑی میرا پسندیدہ کالم ہے اور جب بھی فرائیڈے اسپیشل دستیاب ہوتا ہے، تو سب سے پہلے یہی کالم پڑھتا ہوں‘‘۔
اطہرعلی ہاشمی صاحب 44 سال تک صحافت سے وابستہ رہے، دل کے عارضے میں مبتلا تھے، آپ کی اہلیہ بھی ان دنوں سخت بیمار رہیں، لیکن انہوں نے دل کی اپنی اس بیماری کو کبھی’’دل‘‘ پر نہیں لیا۔ بیٹے حماد کے مطابق آپ 18 اگست 1947ء کو جھانسی (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھاولپور سے حاصل کی۔ آٹھ بھائی اور ایک بہن میں دوسرے نمبر پر تھے۔ والد ’وزارتِ صنعت‘ سے وابستہ تھے۔ والدہ کا انتقال بچپن میں ہوگیا، پھر خالہ کے ہاں تعلیم وتربیت پائی۔ 1977ء میں کراچی آئے، اسی دوران میں شادی ہوئی۔ تین بیٹے ہیں، جس میں بڑے محمد حماد صحافت سے وابستہ ہیں، کبھی کبھی جب میں ہاشمی صاحب سے انٹرویو کا پوچھنے جاتا تو دفتر میں سامنے نشست پر بیٹھے نظر بھی آتے تھے۔ دوسرے بیٹے احمد فواد اور چھوٹے صاحب زادے مصطفی صارم غیر شادی شدہ ہیں۔ آپ کے سب سے بڑے بھائی میجر سرور ہاشمی کا تعلق فوج سے تھا اور ملتان میں انتقال ہوا۔ ایک بھائی حیدر ہاشمی بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ایک سب سے چھوٹے بھائی حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب جامعہ دارالعلوم کراچی کے ناظمِ تعلیمات اور استاذ ہیں۔ ہاشمی صاحب نے علا ٔالدین خلجی کی معاشی پالیسی پر مقالہ لکھا تھا لیکن ایم فل مکمل نہیں ہوسکا تھا۔ آپ روزنامہ ”امت“ کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی رہے، جبکہ روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے، پھر جسارت سے وابستہ رہے۔ پھر اردو نیوز جدہ چلے گئے اور اس کے بانیوں میں سے تھے۔ پھر دوبارہ جسارت آگئے جس کا قصہ انٹرویو میں شامل ہے۔ پھر تادم مرگ جسارت کے چیف ایڈیٹر رہے۔ یہ انٹرویو ان کی داستانِ حیات ہے۔ اس انٹرویو میں وہ بہت کچھ کہہ گئے اور بہت کچھ شاید اپنی طبیعت کی وجہ سے نہیں کہہ پائے۔ سید شاہد ہاشمی نے ان کی شخصیت پر درست لکھا ہے کہ مرحوم اطہر علی ہاشمی صاحب ایک بَھلے، قناعت پسند، بے نیاز، نرم خُو، خوش مزاج اور صلح جُو انسان تھے! اس انٹرویو میں ان کی ابتدائی زندگی، والد والدہ، اساتذہ کے تفصیلی احوال کے ساتھ جسارت، اردونیوز، صلاح الدین صاحب کا استعفیٰ،صحافت کی صورت حال،مولانا مودودیؒ سے ملاقاتیں،نظریاتی اور غیر نظریاتی صحافت،ایم کیو ایم کی فسطائیت، اور جسارت،شاعری کا معیار سمیت کئی اہم صحافتی تاریخی موضوعات پر گفتگو ہوئی، جویقینا ًآئندہ کی نسل کے لیے سرمائے سے کم نہیں ہے۔
ہاشمی صاحب اب اس دنیا میں نہیں ہیں، اللہ اُن کی مغفرت فرمائے،آخرت کے مرحلوں میں آسانی عطا فرمائے۔

فرائیڈے اسپیشل:۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ پڑھنے لکھنے والے ایڈیٹر ہیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ بھائی میرا خیال ہے ایڈیٹر پڑھنے لکھنے والا ہی ہوا کرتا تھا۔ اب تک جتنے بھی آئے ہیں سارے پڑھنے لکھنے والے ہی تھے، میں تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ خاص طور پر عبدالکریم عابد صاحب، صلاح الدین صاحب… یہ پڑھے لکھے تھے یا نہیں تھے، لیکن پڑھنے لکھنے والے ضرور تھے۔ عبدالکریم عابد صاحب تو اسکول سے بھاگ لیے تھے، لیکن اُس کے بعد ساری عمر پڑھتے اور لکھتے رہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے۔
اطہر علی ہاشمی:۔اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہاولپور میں پیدا ہوئے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔آپ کا پیدا ہونا مسئلہ ہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ مسئلہ یوں ہوا کہ میں وہیں پیدا ہوا جہاں میری والدہ تھیں۔ ہماری خالہ اور خالو پاکستان بننے سے پہلے بھاولپور میں آباد ہوگئے تھے۔ وہ بھاولپور کے واحد کالج صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) میں کیمسٹری کے پروفیسر ہوگئے تھے۔ صادق صاحب وہاں کے نواب تھے اور ایجرٹن وہاں کا انگریز کمشنر ہوگا۔ وہاں پڑھنے لکھنے کا ماحول تھا۔ ہماری نانی اور والدہ بھی وہیں رہیں۔ ویسے ہمارا تعلق سہارنپور سے ہے۔ والد نے بھی بھاولپور سے میٹرک اور ایف اے کیا۔ہمارے دادا محمد علی بھی پارٹیشن سے پہلے سکھر آگئے تھے۔ دادا پولیس میں تھے، کوتوال کہلاتے تھے۔ اُس زمانے میں شہر کا انچارج کوتوال پولیس کہلاتا تھا۔آپ نے کوتوالی بلڈنگ وغیرہ کا نام سنا ہوگا۔ اب دادا سکھر کیوں آئے یہ مجھے معلوم نہیں۔ لیکن بہرحال آگئے تھے۔ منگی فیملی کے سامنے ہی بڑا سا مکان تھا، ہم وہاں بھی رہے، کیونکہ ہماری پیدائش کے سانحے کے بعد والد نے سکھر بھیج دیا تھا، کچھ دن وہاں رہے۔ اور والد ہمارے انڈیا سے بسلسلہ ملازمت کراچی آگئے تھے۔ وہ محکمہ بحالیات میں عارضی طور پر ملازم ہوگئے تھے۔ جو مہاجرین آرہے تھے اُن کو بسایا جارہا تھا۔ زمینیں، پلاٹ وغیرہ دیے جارہے تھے۔ اس کی وجہ سے لالوکھیت میں خود بھی اسّی گز کا پلاٹ لیا اور رشتہ داروں کو بھی دیا، حالانکہ وہ وہاں رہنے کو تیار نہیں تھے کہ اس ویرانے میں اپنے بچوں کو مروائیں گے کیا! والد سے لوگوں نے کہا بھی ایک سے زیادہ پلاٹ لے لو، لیکن اُس زمانے میں لوگوں کو دوسروں کا احساس زیادہ تھا۔ انہوں نے کہا اور مہاجر آرہے ہیں، یہ اچھا نہیں ہے کہ آپ زیادہ پلاٹ لے لیں، جو لوگ آئیں گے بستے چلے جائیں گے۔ چنانچہ اسّی گز کے پلاٹ پر جھونپڑی ڈالی تھی۔ اُس زمانے میں ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ پکے مکان بناتے۔ اور لوگوں نے بھی ایسے ہی جھونپڑیاں ڈالیں۔ ہم نے جو ابتدائی زمانہ دیکھا، صورت حال یہ تھی کہ جھونپڑی والے اپنی ملازمت پر چلے جاتے تھے، شام کو آئے تو پتا چلا کوئی اور قابض ہے۔ یا گائے بکریاں پھوس کی دیواروں پرمنہ مارتے چلی جاتی تھیں۔ یہ علاقہ لالوکھیت کہلاتا تھا۔ کسی لالو کا کھیت یا زمین ہوگی، پیچھے سندھی آبادی تھی۔ پھر ہماری والدہ اور دادی بھی وہیں جھونپڑستان میں آگئی تھیں۔ ہمارے دادا نے تین شادیاں کی تھیں، بڑی دادی لالوکھیت میں ابو کے پاس آگئی تھیں۔ اُس زمانے میں نلکوں میں پانی ہوتا ہی نہیں تھا، ٹینکر آیا کرتا تھا، ہم برتن لے کر ٹینکر کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے تھے۔ پھر والد نے کنواں کھدوا دیا، حالانکہ دوسروں کے لیے کنواں کھودنا اچھی بات نہیں ہے۔ پانی کی قلت ختم ہوگئی۔ کھارا پانی تھا لیکن بہت سے کام ہوجاتے تھے۔ وہیں ہماری والدہ کا انتقال ہوا، اُن کی قبر بھی لالوکھیت ہی میں ہے۔ دادی کی خواہش تھی کہ پکّے مکان میں مریں، تو والد صاحب نے اُدھار لے کر ایک کمرہ تعمیر کروانا شروع کیا، لیکن اُس کی تکمیل سے پہلے ہی ہمارے پڑوس کے پکے مکان میں دادی کا انتقال ہوگیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے دادا جو سکھر میں تھے اُن کی قبر بھی لالوکھیت میں ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ناں اپنی قبریں چھوڑ کر آگئے، ہم تو اپنی قبریں ساتھ لائے تھے۔ ایک قبر کی جگہ والد نے اپنے لیے رکھوائی تھی، وہ تو معلوم نہیں کس کے قبضے میں چلی گئی، والد صاحب کی قبر مفتی شفیع صاحب کے برابر کورنگی دارالعلو م میں ہے۔ لالوکھیت میں ہم تو مزے کرتے پھرتے تھے، دوپہر کا اسکول تھا، والد صاحب آفس چلے جاتے تھے، والدہ تھی نہیں، ہم گلیوں میں خوب کھیلتے پھرتے تھے۔ صبح کا ناشتا ایک ہوٹل سے ہوتا تھا۔ ملا وحید کا ہوٹل کہلاتا تھا۔والد صاحب جاتے ہوئے کھانے کے پیسے دے جاتے تھے، ہماری کوشش ہوتی تھی ان پیسوں سے کہانیوں کی کتابیں خرید لیں۔ اُس زمانے میں دو دو آنے کی کتابیں مل جایا کرتی تھیں، اسکول جانے سے پہلے ہی ہم نے اردو پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ہمارے پڑوس میں ایک عزیزہ نے کتابت سیکھی ہوئی تھی تو وہ ہمیں تختی لکھواتی تھیں۔ میں اسکول میں پہلی نہیں دوسری جماعت میں داخل ہوا، اور جب میں نے تختی لکھی تو ٹیچر نے سب کو دکھائی کہ تختی ایسے لکھتے ہیں۔ اس میں میری کوئی شیخی نہیں ہے، کیوں کہ میں دوسری جماعت کے بچوں سے اچھی تختی لکھتا تھا۔ (اس دوران ایک بچی السلام علیکم کہتے ہوئے داخل ہوئی، جس کے بارے میں بتایا کہ یہ ہماری پوتی اسمارہ ہے، اسکول سے آئی ہے) تو میاں ہم دوسری اور تیسری جماعت میں لالوکھیت کے اسکول میں پڑھے۔ اُس زمانے میں ڈاک خانے سے ناظم آباد کی طرف جاتی سڑک نہیں تھی، کچا راستہ تھا۔ بسیں بھی نہیں تھیں۔ بسیں تین ہٹی کا پل عبور کرنے کے بعد ملتی تھیں، اور تین ہٹی کا پل بھی نہیں تھا۔ جنہیں شہر جانا ہوتا تھا ندی سے گزرکر بسیں پکڑتے تھے۔ بعد میں بسیں چلنا شروع ہوئیں تو ہمارے گھر کے سامنے سے گزرا کرتی تھیں، ہم ان پر پتھرائو کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بڑے بھائی کو کنڈیکٹر نے پکڑلیا، میں بھاگ کر بچ گیا، اُس نے کہا میں تجھے انجن میں ڈالتا ہوں، میں خوف زدہ ہوگیا، والد سو رہے تھے، انہیں جگایا، وہ گھبراکر دوڑے۔ خیر کنڈیکٹر نے شکایت لگا کر چھوڑ دیا۔ پھر خوب ڈانٹ پڑی کہ ایسا کیوں کرتے ہو۔ ہمارا شغل تھا اور کیا کرتے۔والدہ کے انتقال پر ان کا غم دور کرنے کے لیے دفتر والوں نے انہیں لاہور بھجوا دیا۔ ہم دادی کے ساتھ تھے۔ اس عرصے میں ایسی زوردار بارش ہوئی کہ سچ مچ جل تھل ایک ہوگیا۔ بے چاری جھونپڑی کی کیا مجال کہ پانی کی راہ میں رکاوٹ بنتی! گھر کے برتن پانی میں بہہ رہے تھے اور ہم پکڑ پکڑ کر لاتے تھے۔ یہ شاید 1952-53ء کی بات ہے۔ ہمیں تو کوئی پریشانی نہیں تھی، پانی میں کھیلنے کا موقع مل گیا۔ مجھے یاد ہے کہ ہماری دادی نے پلنگ پر بیٹھ کر نماز پڑھی کیونکہ ہر طرف پانی تھا۔ اسی گلی میں ایک ماسٹر اصغر بیگ تھے جنہوں نے پکا مکان بنوا لیا تھا۔ وہ ہم تینوں بھائیوں اور دادی کو اپنے گھر لے گئے۔ اگلے دن ہمارے ایک عزیز آکر لے گئے جن کو جہانگیر کوارٹر میں سرکاری مکان مل گیا تھا۔
اسکول میں داخل کرانے کے لیے ابو نے اپنے ایک دوست کے ساتھ ہم تینوں کو بھیج دیا۔ انہوں نے ہم تینوں بھائیوں کو ایک کلاس میں بٹھایا اور خود ہیڈماسٹر صاحب سے بات کرنے چلے گئے۔ ہمیں کلاس روم کے ضابطوں کا کیا علم ہوتا۔ چھوٹا بھائی بڑے مزے سے باتیں کررہا تھا۔ ماسٹر صاحب کا انداز تھا کہ کلاس میں کوئی باتیں کررہا ہو تو وہ کسی دوسرے طالب علم کو کان مروڑنے کا اشارہ کرتے۔ اس کے لیے وہ خود اپنے کان اینٹھنے کا اشارہ کرتے۔ چنانچہ پیچھے بیٹھے ہوئے طالب علم نے چھوٹے بھائی کا کان مروڑ دیا۔ اس پر بڑے بھائی اُس لڑکے پر پل پڑے اور دھنائی کردی۔ ماسٹر صاحب ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔ بڑے بھائی سے پوچھا یہ کیا حرکت کی؟ انہوں نے کہا: یہ میرا بھائی ہے، اسے ہاتھ کیسے لگایا! بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی دونوں اللہ کو پیارے ہوگئے لیکن بڑے بھائی نے ہر موقع پر چھوٹوں کا دفاع کیا۔ ہتھ چھٹ تھے، اسی لیے فوج میں چلے گئے۔ بہرحال ماسٹر صاحب نے پوچھا کہ یہ بچے کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں؟ اتنے میں ہمیںلانے والے بھی آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ داخل ہونے کے لیے آئے ہیں اور عارضی طور پر کلاس میں بٹھا دیا تھا۔ ماسٹر صاحب منہ بناکر رہ گئے اور پھر بالترتیب تیسری، دوسری اور پہلی جماعت میں داخلہ ہوگیا۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ آپ کی یادوں میں لالوکھیت کی دنیا سے باہر کیا تھا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ ہماری یادوں میں تو لالوکھیت ہی ہے، پہلے لالوکھیت 2 نمبر میں اسکول کی بنیاد پڑی، پھر 4نمبر میں پڑی۔ ہم دوسری، تیسری جماعت میں پڑھے۔ والدہ اور دادی کا انتقال ہوگیا تھا، کوئی ہماری دیکھ بھال کرنے والا نہیں تھا۔ پھر ہمارے والد نے ہمیں بھاولپور بڑی خالہ کے پاس بھجوادیا، خود اُن کا تبادلہ بمبئی ہوگیا تھا۔ وہ منسٹری آف انڈسٹریز میں تھے، حکومت جو کچھ پرچیز کرتی تھی اُس کی انسپکشن کے شعبے میں تھے۔ اُس زمانے میں انڈیا سے کچھ چیزیں خریدی جارہی تھیں۔ بھاولپور میں ہمیں پانچویں جماعت میں داخلہ ملا، وہاں پروفیسر صاحب (ہمارے خالو) کے گھر کا ماحول تعلیمی قسم کا تھا۔ ہم تین بھائی ذرا جنگلی قسم کے تھے۔ مارنا، پیٹنا، شرارتیں کرنا… ہمیں اپنی خالہ کی حمایت حاصل تھی۔ ہم کچھ بھی کرتے، آواز آتی تھی ’’ارے میری مری ہوئی بہن کے بچے ہیں‘‘۔ ڈانٹ اُن کے بچوں کو پڑتی تھی جو ہمارے ہم عمر یا کچھ بڑے تھے۔ تو یہ رعایت ہمیں مل جاتی تھی۔ والد کو ڈیپوٹیشن پر بمبئی بھیج دیا گیا۔ 1955ء میں سکھر میں دادا سخت علیل ہوگئے تو والد نے بمبئی سے یہ ہدایت کی کہ سکھر جاکر دادا کی عیادت کرو۔
ہم تینوں بھائی جب سکھر پہنچے تو دادا اور تمام گھر والے کراچی جانے کے لیے سوار ہورہے تھے۔ دادا کو علاج کے لیے کراچی لے جایا جارہا تھا۔ ہم بھی سوار ہوگئے۔ طبیعت زیادہ بگڑی تو والد بھی بمبئی سے آگئے۔ اُس وقت دادا نے خواہش ظاہر کی کہ والد شادی کرلیں۔ اس موقع پر ایک عزیز بھی موجود تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ قبول کرلیا۔ جب والدہ کا انتقال ہوا اُس وقت والد کی عمر 32 سال تھی۔ انہیں دوسری شادی کر ہی لینی چاہیے تھی۔ چنانچہ شادی ہوگئی۔ میں گو کہ چھوٹا ہی تھا لیکن مجھے رنج ہونے کے بجائے خوشی ہی ہوئی۔ عمر کا زیادہ فرق نہیں تھا، کبھی وہ ہمارے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ سوتیلی ماں کا نام ہی بدنام ہے۔ میرے 5 سوتیلے بھائی اور ایک بہن، جب تک ہم لاہور میں رہے انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ سوتیلے ہیں۔ کراچی آئے تو کسی مہربان نے انہیں بتایا تو وہ لڑتے تھے اور یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے۔ اب بھی کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔ اس میں ہماری سوتیلی والدہ کی عقل مندی کو زیادہ دخل تھا، اللہ انہیں سلامت رکھے۔
بہرحال دادا کا انتقال ہوگیا، والد اپنی اہلیہ کو لے کر بمبئی واپس چلے گئے اور ہم بھاولپور، جہاں چھٹی جماعت تک صادق ڈین ہائی اسکول میں پڑھا۔ والد کا تبادلہ لاہور ہوا تو ہم بھی وہیں چلے گئے۔ میٹرک ، ایف اے، بی اے وہیں سے کیا، گریجویشن تک لاہور میں رہے، سن1965ء کی جنگ ہم نے لاہور میں ہی دیکھی۔ لڑی تو خیر ہم نے نہیں، لیکن دیکھی خوب اچھی طرح۔ لوگوں کا جوش و جذبہ بھی دیکھا۔ لاہوریے عام طور پر چھت پرچڑھ کر دیکھتے تھے، ہم بھی دیکھتے تھے۔ اس پر والد ہمیں ڈانٹا بھی کرتے تھے۔ پھر ہم لاہور سے کراچی آگئے، بعد میں کراچی یونیوسٹی میں جنرل ہسٹری میں داخلہ لے کر ایم اے کرلیا۔ اُس کے بعد ہم ایم فل کرنے اسلام آباد یونیورسٹی چلے گئے (جو اب قائداعظم یونیورسٹی ہے)۔ اسی دوران اسلام آباد میں پاکستان اسٹڈیز پڑھانے کی ملازمت مل گئی، ایم فل ادھورا ہی رہا۔ یوں گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا۔ پھر چھٹیوں میں سن 1977ء میں ایسے ہی کراچی آئے تھے۔ یہاں زاہد بخاری تھے، اُس وقت جسارت دوبارہ نکلنا شروع ہوا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ یہاں آجائیے۔ وہاں میں جب ایم فل کررہا تھا، اسلام آباد کالج فور بوائز میں پاکستان اسٹڈیز پڑھانا بھی شروع کردیا تھا۔ انگریزی میں پڑھانا پڑتا تھا۔ ایک لطیفہ ہوا، میری زبان پر’’گلف‘‘(Gulf)کے بجائے ’’گُلف‘‘چڑھا ہوا تھا، پڑھاتے ہوئے میں نے ’’گُلف‘‘کہہ دیا تو ایک لڑکا اٹھ کر کھڑا ہوگیا ’’سر یہ ’’گُلف‘‘ہے‘‘۔ میں نے کہا ’’ٹھیک ہے، میں تو یہ دیکھنا چاہ رہا تھا تم میں سے کون توجہ دے رہا ہے‘‘۔ اکثر ہماری زبان پر انگریزی اور اردو کے الفاظ غلط چڑھ جاتے ہیں۔ہم نے پنجاب کے اسکولوں میں پڑھا ہے، اور اردو ہم نے پنجابیوں سے پڑھی ہے، وہاں اچھے استاد تھے اور محنت کیا کرتے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی طلبہ کے دماغ میں کسی نہ کسی طرح کچھ ڈال ہی دیا جائے۔ پنجاب میں رہ کر ہمارا تجربہ رہا کہ پنجاب کے لوگ آپ کے اچھے دوست ہیں۔ حالانکہ عمومی تاثر تعصب کا ہے، لیکن ہم نے دیکھا کہ پنجابی دوست مخلص دوست ہوگا۔ وہ مہمان نواز ہوتے ہیں۔ ہمارا ساری عمر کے تجربے کا نچوڑ ہے کہ جو پنجابی دوست تھے انہوں نے ہمیشہ ساتھ دیا۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ بات رہ گئی، آپ جسارت آگئے تھے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ جی میاں! ہمارا جرنلزم کا کوئی تجربہ تھا نہیں، اور کوئی ایسا ارادہ بھی نہیں تھا، پہلی سیڑھی اخبار کی جسارت کی چڑھی۔ اسلام آباد میں جب میں پڑھا رہا تھا تو گریڈ 17کی تنخواہ بارہ تیرہ سو اُس زمانے میں بنتی تھی۔ بھٹو صاحب نے بنیادی تنخواہ پانچ سو بڑھا دی تھی۔ اچھا، اُس زمانے میں جب ہم اسلام آباد میں ہی تھے ایک سانحہ اور بھی ہوا، کراچی میں ہماری ایک کزن تھیں، اُن سے ہمارا نکاح ہوگیا، والد کو دل کا دورہ پڑا تھا، پہلے منگنی کا پروگرام تھا، پھر انہوں نے کہا نکاح ہی کرلو۔ ہماری بیگم صاحبہ کراچی میں گریڈ17میں ڈائو میڈیکل کالج میں پڑھا رہی تھیں، اُس وقت ہم اسلام آباد میں تھے، ہم نے یہی سوچا کہ چلو ہم بھی یہیں آجاتے ہیں۔ اور اُس وقت جو صحافی ویج بورڈ کے تحت تھے ان میں گریڈ تھری کی تنخواہ ساڑھے سات سو روپے تھی، جو نائٹ الائونس ملا کر آٹھ سو ہوجاتے تھے۔ وہاں تیرہ سو مل رہے تھے۔ تو تنخواہ کم ہونے کے باوجود ہم نے سوچا گزارا ہوجائے گا، مکان اور گھر بھی اپنا ہے اور بیگم بھی اپنی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ تو آپ نے اپنی رخصتی کروالی؟
اطہر علی ہاشمی:۔ ہاں، اور تھوڑی سی ہمارے ساتھ چیٹنگ بھی ہوئی۔ کس نے کی یہ نہیں معلوم، لیکن جب مہینہ گزر گیا تو کشش صدیقی صاحب نے کہا کہ لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے، آپ کو دو تین مہینے پروبیشن ٹائم کے گزارنے ہوں گے، پھر بعد میں ثابت ہوا یہ بات صحیح نہیں تھی، یہ سمجھا گیا کہ ہم زاہد بخاری کے لائے ہوئے اور سفارشی ہیں۔ یہ اُن کا خیال تھا، حالانکہ انگریزی کی ایک خبر دے کر ہمارا باقاعدہ امتحان لیا گیا تھا۔پھر ہم نے چار سو روپئے میں پروبیشن پیریڈ گزارا۔ ایک صاحب نے کہا بھی تھا، وہ سینئر تھے ’’پتا نہیں کہاں سے اُٹھ کر آجاتے ہیں‘‘۔ اُن کی بات غلط نہیں تھی، ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ خبر کیسے بنتی ہے،کیا ہوتا ہے نیوز میں، کیا نہیں ہوتا۔ انگریزی اور اردو اچھی تھی تو کام چل جاتا تھا۔ (نیا سگریٹ جلاتے ہوئے)کشش صاحب نے بعد میں کہا بھی کہ آپ کی اردو اچھی ہے، اس لیے آپ کے حق میں سفارش کی ہے، ورنہ میں منفی رپورٹ دیتا۔ پھرہم ڈیسک پر بیٹھ گئے اور کام چل پڑا۔ پھر مختلف شعبوں میں ہم کو آزمایا جاتا رہا۔ ایگزیکٹو ایڈیٹر عرفان غازی نے ہمیں جسارت کے میگزین میں بھیج دیا۔ نیاز مدنی مرحوم شعبہ اشتہارات میں تھے، وہ ایک مہینے کے لیے انڈیا چلے گئے تو ہمیں شعبہ اشتہارات میں بھیج دیا گیا۔ سٹی پیج پر بھی رہا۔ سوائے رپورٹنگ کے، ہر شعبے میں ہم کو آزمایا جاتا رہا۔ تو یہ ہوا جناب! پھر صلاح الدین صاحب نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھائی آپ کالم کیوں نہیں لکھتے؟‘‘ پھر ایک کُشتی ہوئی تھی، باہر سے انوکی پہلوان آیا تھا، تو اُس پر میں نے مزاحیہ کالم لکھ کردے دیا۔ فیض صاحب سٹی ایڈیٹر ہوتے تھے، انہوں نے باکس بناکر شایع کردیا۔ اُس کو دیکھ کر صلاح الدین صاحب نے کہا کہ بھائی کالم کیوں نہیں لکھتے؟ اس طرح ہم نے اُن کے کہنے پر کالم لکھنا شروع کردیا۔ اُن کی خصوصیت اور اچھی بات یہ تھی کہ وہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جونیئر قسم کے لوگوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ کو شاید حیرت نہیں ہوگی، اور اگر ہوگی تو میرا کیا بگاڑ لو گے! دس روپے ایک کالم کے ملا کرتے تھے۔ تین کالم میں لکھتا تھا، اور تین طاہر مسعود۔دونوں باری باری لکھا کرتے تھے اور دس، دس روپے ملا کرتے تھے۔ طاہر مسعود رپورٹنگ میںتھے، تو ڈیڑھ سو روپے ہوجاتے تھے، عیاشی ہوجاتی تھی۔ مزے آجاتے تھے۔ پھر طاہر مسعود نے ایک درخواست صلاح الدین صاحب کے نام لکھی کہ پیسے بڑھائے جائیں۔ مجھ سے بھی انہوں نے دستخط کروائے اور دونوں کی مشترکہ درخواست پر پندرہ روپے فی کالم ہوگئے تھے۔ ہوا یہ تھا کہ ہمارے یہاں بہت اچھے کالم نگار تھے احمد حمید، اردو اور انگریزی پر خاصا عبور تھا، وہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اس لیے ہماری بن آئی تھی۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ اُس قت ادارتی صفحہ بہت پڑھا جاتا تھا اور اس کا معیار بھی بلند تھا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ سگریٹ جلاتے ہوئے! میری وجہ سے ناں! میں لکھتا تھا۔
فرائیڈے اسپیشل:۔آپ تو آج بھی لکھتے ہیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ادارتی صفحہ کیا، دیگر صفحات خاص طور پر ادبی صفحے کا معیار بھی اچھا تھا۔ اپنے اپنے مقام پربڑے نامور لوگ جسارت میں رہے۔ پہلے دور میںشفٹ انچارج ہمایوں عزیز تھے، اجمل دہلوی بھی پہلے دور کے لوگ تھے۔ یہ 1970ء کی بات ہے۔ پھر بھٹو نے جسارت بند کردیا تھا۔ پھر جب بھٹو صاحب جیل گئے بقول پروفیسر عبدالغفور کے، جن سے سوال کیا گیا کہ جسارت کب نکلے گا؟ تو اُن کا تاریخی جواب تھاکہ ’’جب بھٹو اندر جائے گا جسارت نکلے گا‘‘۔ پھر 1977ء میں دوبارہ جسارت نکلا تھا۔ ادریس بختیار بی بی سی والے جسارت میں ہمارے سینئر تھے، اور کئی نام ہیں جو مختلف چینل اور اخبارات میں ہیں وہ جسارت سے وابستہ رہے ہیں۔ کالم نگاروں میں معین کمالی اب بھی کہیں لکھ رہے ہیں۔ ایک کالم نگار ابو ظفر زین تھے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ اُس وقت جہاں ادبی صفحہ نکلتا تھا، سنا ہے فلمی صفحہ بھی نکلتا تھا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ فلمی صفحہ مولانا مودودی کی زندگی میں بھی نکلتا تھا۔کسی نے اُس وقت کوئی اعتراض نہیں کیا، مولانا مودودی نے بھی کبھی نہیںکیا۔کیونکہ اُس وقت ذہن میں تھا اس کو اخبار بنانا ہے۔ پھر اُس وقت اخبار کی یہ ضرورت بھی تھی۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ پھر فلمی صفحہ ختم کیسے ہوگیا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ سیدھی سی بات ہے پالیسی تبدیل ہوگئی ہوگی، اس لیے فلمی صفحہ ختم ہوگیا۔ لیکن ادبی صفحہ بہت مشہور تھا اور بڑے اچھے لکھنے والے تھے۔ معین الدین عقیل صاحب اس کے انچارج تھے، رشید شکیب کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ لاہور سے انور سدید لکھتے تھے۔ مشفق خواجہ کا کالم بہت مشہور ہوا کرتا تھا، وہ بنیادی طور پر کالم نگار تو نہیں تھے، تحقیق کے آدمی تھے، اُن کا بڑا کام تھا، لیکن شہرت کالم نگاری سے پائی تھی۔ پھر وہ صلاح الدین صاحب کے ساتھ ہی چلے گئے تھے۔ کہا بھی کہ بھئی تمہارے پیسے بڑھا دیں گے اور دوسو روپے کردیے تھے جو جسارت میں بڑی بات تھی، لیکن انہوں نے کہا میں صلاح الدین کے لیے لکھتا تھا۔ پھر وہ تکبیر میں لکھنے لگے۔ اور بھی کئی بڑے لوگ تھے تحسین فراقی، انعام الحق جاوید، راغب شکیب، حسن نثار ، ہارون رشید وغیرہ لکھا کرتے تھے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ آپ کا سفر کیسے آگے بڑھا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ ہم بعد میں نیوز ڈیسک پر آکر بیٹھ گئے، پھر ادارتی صفحے کے انچارج بھی ہوگئے، اور مختلف کام بھی کرتے رہے۔ پھر صلاح الدین صاحب چلے گئے۔ میگزین ایڈیٹر ثروت جمال اصمعی ہوتے تھے، وہ بھی تکبیر میں چلے گئے تو ہمیں بھیج دیا گیا۔
اُس وقت میگزین آرام باغ میں تھا تو کشش صاحب کا فون آیا کہ بھئی آپ کو پتا ہے کہ میگزین ایڈیٹر اداریہ بھی لکھتا ہے؟ میں نے کہا مجھے اچھی طرح معلوم ہے، لیکن نہیں لکھتا۔ تو وہ ہنس پڑے! اور کہا: نہیں بھائی، آپ اداریہ لکھ دیا کریں۔ پھر وہاں سے ہم اداریہ لکھ کربھیج دیا کرتے تھے۔ اصل میں صلاح الدین صاحب کے ساتھ اصمعی صاحب بھی ناراض ہوکر چلے گئے تھے، ورنہ وہ بھی اداریہ لکھا کرتے تھے۔ جس اداریے پر صلاح الدین صاحب اور پبلشر ذاکر علی صاحب جیل بھیجے گئے وہ اصمعی صاحب کا لکھا ہوا تھا۔اب اداریہ ہمارے سر پڑگیا۔ ہم سمجھتے تھے اداریہ لکھنا پتا نہیںکتنا مشکل کام ہوگا۔ جب متین الرحمن مرتضیٰ صاحب لکھا کرتے تھے، تو کسی نے کہا فلاں موضوع پر اداریہ لکھوادو، ہم نے متین صاحب سے کہا تو انہوں نے کہا کہ میاں خود کیوں نہیںاُس وقت میگزین آرام باغ میں تھا تو کشش صاحب کا فون آیا کہ بھئی آپ کو پتا ہے کہ میگزین ایڈیٹر اداریہ بھی لکھتا ہے؟ میں نے کہا مجھے اچھی طرح معلوم ہے، لیکن نہیں لکھتا۔ تو وہ ہنس پڑے! اور کہا: نہیں بھائی، آپ اداریہ لکھ دیا کریں۔ پھر وہاں سے ہم اداریہ لکھ کربھیج دیا کرتے تھے۔ اصل میں صلاح الدین صاحب کے ساتھ اصمعی صاحب بھی ناراض ہوکر چلے گئے تھے، ورنہ وہ بھی اداریہ لکھا کرتے تھے۔ جس اداریے پر صلاح الدین صاحب اور پبلشر ذاکر علی صاحب جیل بھیجے گئے وہ اصمعی صاحب کا لکھا ہوا تھا۔اب اداریہ ہمارے سر پڑگیا۔ ہم سمجھتے تھے اداریہ لکھنا پتا نہیںکتنا مشکل کام ہوگا۔ جب متین الرحمن مرتضیٰ صاحب لکھا کرتے تھے، تو کسی نے کہا فلاں موضوع پر اداریہ لکھوادو، ہم نے متین صاحب سے کہا تو انہوں نے کہا کہ میاں خود کیوں نہیں لکھ لیتے! تو ہم جھجکے کہ معلوم نہیں کتنا بڑا کام ہے۔ پھر سر پر پڑی تو لکھنا شروع کردیا۔ بس ایسے ہی کام چلایا ہے۔ ورنہ بڑے لکھنے والے تھے، عبدالکریم عابد صاحب کے اداریے تھے۔ متین صاحب بھی اچھا لکھا کرتے تھے۔ اُن کے سارے مشہور اداریے صلاح الدین صاحب کے کھاتے میں گئے، ورنہ زیادہ تر اداریے متین صاحب کے ہوتے تھے۔ صلاح الدین صاحب تو شاید کسی دن لکھتے ہوں، متین صاحب ہی لکھا کرتے تھے۔ اور جس اداریے پر ’’پکڑ دھکڑ ہوئی‘‘ تھی، صلاح الدین صاحب ’’پکڑے ‘‘گئے تھے، وہ اصمعی صاحب کا لکھا ہوا تھا۔ صلاح الدین صاحب کے ساتھ پبلشر ذاکر علی پکڑے گئے تھے۔ اور کئی دن یہ لوگ جیل میں رہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ آپ جس زمانے کا ذکر کررہے ہیں، وہ علمی محفلوں، نشستوں اور صحبتوں کا دور تھا۔ آپ کن لوگوں کی محفل اور صحبت میں رہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ میں الحمدللہ کسی کی صحبت میں نہیں رہا۔ لوگ میری صحبت میں رہے ہوں گے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں فلاں سے ملے ہوگے، یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں شہر کے بڑے لوگوں سے نہیں ملا۔ سوچتا ہوں، سلیم احمد صاحب کو پڑھتا ہوں، ان کی محفلیں ہوا کرتی تھیں، مل لیا کرتا تو اچھا ہوتا۔ تو میں کسی سے مل نہیں پایا، یہ میری بدقسمتی ہے۔ موٹرسائیکل تھی ہمارے پاس، بس دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اور اُس وقت کچھ خیال بھی نہیں آیا کہ بھئی ان شخصیتوں سے ہم کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ حاصل کرلیتے تو آج شاہنواز کی طرح مفکر اور دانشور ہوتے۔ لیکن ہونہیں سکے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ وہ بھی تو نشستوں میں نہیں رہے، سلیم احمد سے بھی نہیں ملے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ (ہنستے ہوئے) بیٹی کی نشست میں تو رہے۔ مجھے یاد آیا میں اُس وقت ادارتی صفحے کا انچارج تھا، احمد سعید قریشی ڈسٹرکٹ صفحے کے انچارج تھے، تو یہ مضمون لے کر اُن کی سفارش لے کر آئے تھے۔ ان کے مضامین میں نے شایع کرنا شروع کیے۔ لیکن اُن میں بہت جان تھی اور جو مزاحیہ قسم کا کالم ’’ڈھول کا پول‘‘ کے نام سے لکھتے تھے وہ ہلکا پھلکا کالم ہوتا تھا، مجھے وہ پسند تھا۔ پھر وہ دانشوری کی طرف آگئے۔ لیکن ماشاء اللہ بہت اچھا لکھتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔کراچی میں کیا دیکھا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ کراچی نہیں دیکھا میں نے۔ میں نے لالوکھیت میں ایسے ہی زندگی گزاری۔ لوگوں نے مجھے دیکھا ہے، میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ شعرا حضرات جسارت کی وجہ سے آتے تھے ملنے کے لیے، میری وجہ سے نہیں۔ جاذب قریشی وغیرہ اپنی غزلیں لے کر بیٹھا کرتے تھے۔ بالکل مسکین سے آدمی تھے۔ وہاں لالوکھیت میں رہتے تھے، اب تو پہچانتے بھی نہیں ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔کیا مولانا مودودیؒ سے ملاقات ہوئی؟
اطہر علی ہاشمی:۔ ہاں! ان سے کئی ملاقاتیں اس لیے رہیں کہ ہم لاہور میں اچھرہ میں ہی رہتے تھے، اور سڑک کے پار مولانا کا گھر تھا۔ اِدھر ہم تھے اور اُدھر وہ تھے۔ ہمارے ایک دوست تھے، اُن کا خاندانی تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔ وہ جو جماعت اسلامی کی خاتون تھیں آپا حمیدہ سیکریٹری جنرل، اُن کے بھتیجے ہمارے دوست تھے، تو وہ مجھے زبردستی مولانا مودودی کی عصری نشستوں میں لے جایا کرتے تھے۔ وہاں ہم بیٹھتے تھے۔ لیکن وہ بھی عالَم جہالت کا تھا، بس اچھے لگتے تھے، سن لیا کرتے تھے، لیکن کچھ سیکھنے اور کرنے سے تعلق نہیں تھا۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ دیکھنے اور ملنے کے بعد پہلا تاثر کیا تھا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ پہلا تاثر بہت اچھا تھا، اُس زمانے میں سننے میں یہ آیا تھا کہ ایک نیا فرقہ وجود میں آیا ہے۔ بہت منفی چیزیں سننے میں آتی تھیں۔ لیکن جب اُن کو دیکھا تو مجھے لگا یہ آدمی غلط نہیں ہوسکتا۔ مجھے مولانا مودودی دھلے دھلائے، نفیس، ستھرے آدمی لگے۔ سفید کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہمارا دوست ان کے لیے پھول بھی لے جایا کرتا تھا، وہ اپنی پان کی ڈبیہ میں رکھ لیا کرتے تھے۔ ہم نے کوئی علمی استفادہ نہیں کیا، بس بیٹھ جایا کرتے تھے، اچھا لگتا تھا۔ اور پھر میاں طفیل محمد بھی ہماری سڑک سلطان احمد روڈ پر رہتے تھے۔ ایک آدمی وہاں گھر کے باہر لنگی باندھے، بنیان پہنے کھڑا ہوتا تھا، بعد میں پتا چلا یہ میاں طفیل محمد ہیں۔ بڑی شخصیت تھے۔ اُس وقت اتنا اندازہ نہیں تھا لیکن اُن کے ہم عمر بیٹوں سے دوستی ہوگئی تھی۔ بس علمی شخصیات کے پاس بیٹھنا، جانا، سیکھنا… یہ نہیں رہا۔
فرائیڈے اسپیشل:: علمی شخصیات سے دور رہے ؟
اطہر علی ہاشمی:۔ہاں دور ہی رہے !
س:آئیے اب کچھ صحافت پر آجاتے ہیں، اُس پر بات کرلیتے ہیں !
اطہر علی ہاشمی:۔ آجا وبھئی۔۔۔!
فرائیڈے اسپیشل:۔ یہ بہت پرانی بات نہیں کہ صحافت مشن تھی، لیکن اب کاروبار بن گئی ہے۔ یہ جو صحافت مشن سے کاروبار بن گئی اس کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اور اس سے صحافت پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ (سگریٹ کے لیے ماچس جلائی اور فرمایا) بنیادی سبب پیسہ ہے۔ جب اخبارات مولانا ظفر علی خان، یا حسرت موہانی کے زمانے میں نکلتے تھے وہ آئے دن بند ہوجاتے تھے، چندہ کرتے تھے پھر بحال کیے جاتے تھے۔ ان معاملات کا انہوں نے سامنا کیا اور سخت حالات دیکھے ہیں۔ پھر حمید نظامی وغیرہ نے اس چیز کو محسوس کیا اور سب سے پہلے وہ اخبارات کو انڈسٹری کی طرف لے کر آئے۔ مجید نظامی کے الفاظ یاد ہیں، اُنہوں نے صاف کہا تھا ’’یہ تو انڈسٹری ہے‘‘۔ پھر میاں طفیل محمد کا سخت بیان بھی آیا تھا۔ بنیادی بات یہی تھی کہ ان کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ پھر بڑے بڑے دفاتر بنے اور صحافت انڈسٹری بنتی گئی۔ اسٹیٹ بنالی اور وہ پھیلتی رہی۔ نوائے وقت کا دفتر مجھے یاد ہے لاہور میں تھا۔ معمولی سا تھا، لکڑی کے کیبن بنے ہوئے تھے۔ اب وہاں بہت بڑی اور شاندار عمارت بن چکی ہے۔ بس پھر جب پیسہ سب کچھ بن گیا تو صحافی یا مالکان پیسے کی دوڑ میں ہی شریک ہوگئے۔ اور جب پیسے کی دوڑ لگ گئی تو پھر مشن وشن کہاں رہ گیا۔ پھر ایک بات آپ کو معلوم ہے کہ صحافی حضرات اپنے آپ کو کچھ بھی کہیں، مالکان کے اسیر ہوتے ہیں۔ مالک کے خلاف تو نہیں جاسکتے۔ اس میں جسارت کو تھوڑا سا ایج حاصل ہے، اور تھوڑا سا فرق ہے کہ یہاں ایک تو پیسے کی دوڑ نہیں ہے، جو بھی مشن ہے اُس پر نظر ہے۔ خسارے میں جارہے ہوتے ہیں۔ اس میں مالک نہیں ہوتا۔ نقصان بھی ہے اور فائدہ بھی ہے۔ کیونکہ ایک معمولی دکان دار بھی ہوتا ہے اُس کو غرض ہوتی ہے نفع اور نقصان سے۔ اب یہاں کیونکہ کوئی ایک مالک نہیں ہے اس لیے نفع نقصان کی پروا نہیں ہے۔ خسارے میں جارہا ہے جانے دو۔ فائدہ آج تک ہم نے دیکھا نہیں ہے۔ آنے والے نگراں جسارت بغیر تنخواہ کے خلوص اور بہتری کے لیے کام کررہے ہوتے ہیں لیکن نفع اور نقصان کے بغیر۔ اُس میں خوبی یہ ہے کہ فائدہ ہمارا ہے۔ ہم پر کوئی دبائو نہیں ہے کہ یہ کیوں ہوگیا اور یہ کیوں نہیں ہوا۔ حالانکہ دیگر اخبارات میں مالکان ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے ہیں۔ ہم پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ پارٹی کے ترجمان اخبار میں کوئی دبائو نہیں ہے، آپ یہ کہہ رہے ہیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ جی ہاں میں یہی کہہ رہا ہوں،کوئی دبائو نہیں ہوتا۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ ضیاالحق صاحب سب کچھ تھے۔ میںنے اُن کے خلاف اداریہ لکھ دیا، اُس زمانے میں محمود مدنی صاحب آچکے تھے، وہ کہنے لگے ’’تم نے کیا لکھ دیا! بھئی میں نے تو 12بجے اخبار پڑھا اور مسجد میں جاکر لیٹ گیا۔ اللہ خیر کرے‘‘۔ کھلی پالیسی تھی جو ٹھیک لگا وہ لکھ دیتے تھے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ صحافت کو کاروبار بنانے کی ابتدا حمید نظامی صاحب نے کی؟
اطہر علی ہاشمی:۔ جی ہاں! کم از کم مجید نظامی نے تو کی ہے۔ میں حمید نظامی کے جنازے میں اتفاقاً شریک رہا۔ جب اُن کے انتقال کی خبر آئی تو ہمارے اسکول میں چھٹی ہوگئی تھی۔ ہم اسکول سے نکلے تو راستے میں قبرستان تھا، وہاں یہ مجید نظامی بھی باہر لندن یا کہیں سے آیا ہوا تھا۔ سوٹ بوٹ پہنے ہوئے، گورا چٹا سا تھا اور پسینے پسینے تھا۔ قبر کھودی جارہی تھی، وہاں ہم نے نسیم حجازی کو بھی دیکھا۔ ذہن میں ان کی شخصیت کا ایک خاکہ بنا ہوا تھا، اُن کے ناول پڑھے ہوئے تھے۔ وہ شخصیت ذہن میں الگ تھی کہ تلوار لگی ہوگی، ’’مجاہد‘‘ قسم کا آدمی ہوگا، لیکن وہاں دیکھا تو ایک دیہاتی پنجابی سادہ سا آدمی تھا۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ صلاح الدین صاحب نے کیوں استعفیٰ دیا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ جی، وہ متین الرحمن صاحب نے تمام جماعتوں کے خلاف اداریہ لکھ دیا تھا، محموداعظم فاروقی نے کہا ’’جماعت اسلامی بھی تو ایک پارٹی ہے۔ آپ معذرت کیجیے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’میں نہیں کروں گا‘‘۔ بس چھوٹی سی بات تھی بڑی ہوگئی، متین صاحب نے استعفیٰ دیا تو صلاح الدین صاحب بھی ساتھ چلے گئے۔ یہاں ایک بات اور بھی ذہن میں رکھو کہ تکبیرکا یہ ڈکلیریشن لے چکے تھے اور ڈمی تیار ہونا شروع ہوگئی تھی، ہمارے سامنے ہی جسارت کے بچے کھچے کاغذ پر ڈمی بنتی تھی۔ تو صلاح الدین صاحب کے عزائم اُسی وقت ظاہر ہوگئے تھے کہ یہ رکیں گے نہیں۔ یہ شخصیات کا تصادم تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ صلاح الدین صاحب کی منورحسن صاحب سے نہیں بنتی تھی۔ صلاح الدین صاحب خود بھی ذرا آزاد قسم کے آدمی تھے، جماعت اسلامی کی پالیسی آنے سے پہلے اپنا بیان دے دیا کرتے تھے۔ جماعت اسلامی کا ابھی کسی چیز پر فیصلہ نہیں ہوا اور وہ اداریہ لکھ دیا کرتے تھے۔ لیکن اس پر جماعت اسلامی نے کوئی گرفت یا پکڑ نہیں کی۔ اُس زمانے میں جسارت میں یونین بھی ہوا کرتی تھی، اور محمود اعظم فاروقی نے صلاح الدین صاحب اور متین صاحب کے حوالے سے کہا بھی کہ کمرہ کھلا ہے آکر بیٹھ جائیں، میں نے ان کو فارغ نہیں کیا۔ لیکن جن لوگوں نے تکبیر کے لیے پیسہ لگایا اُن کی کوشش تھی کہ صلاح الدین صاحب واپس نہ جائیں۔ نیاز مدنی صاحب وغیرہ یونین کے لوگ صلاح الدین صاحب کو منانے گئے بھی تھے اور صلاح الدین صاحب واپسی کے لیے مان بھی گئے تھے۔ لیکن ایک اور صاحب جو ہمارے دوستوں میں سے ہیں جنہوں نے پیسہ لگایا تھا، اُن کو لے گئے، سمجھایا اور بات ختم ہوگئی۔ مختصر یہ کہ صلاح الدین صاحب نے طے کرلیا تھا کہ جانا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے، لیکن پاکستان کے ذرائع ابلاغ جن میں اخبارات اور ٹیلی ویژن دونوں شامل ہیں، ان کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کا ایجنڈا ہمارے مذہب اور ہماری تہذیب کے مطابق ہے؟ اس کا بنیادی سبب کیا ہے، اور اس مسئلے سے کس طرح عہدہ براہوا جاسکتا ہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ اس خرابی کا اظہار پاکستان بننے سے پہلے مولانا مودودی نے کردیا تھا، کہ مجھے چھوٹی سی جگہ دے دی جائے جہاں اسلام ہو، میں وہاں جانے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ پاکستان بنانے جارہے ہیں وہ اس کو اسلامی نہیں بنا سکیں گے۔ اور وہی معاملہ ہوا کہ مفاد پرست آتے گئے، جاگیردار طبقے نے پاکستان بننے کا فائدہ اُٹھایا اور وہ قابض ہوگئے جن کا اسلام اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کو نکال دیں، باقی تو سارے مفاد پرست آئے۔ وہ محسن بھوپالی کا شعر ہے ناں کہ ’منزل انھیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے‘۔ غلام محمد کا تحریک پاکستان سے کیا تعلق تھا؟ وہ گورنر جنرل بن گیا۔ ایوب خان، یحییٰ خان… سارے ایسے لوگ آتے رہے جن کا نہ تحریک پاکستان سے تعلق تھا، نہ نظریہ پاکستان سے تعلق تھا۔ یہ سب حکمران بن گئے تو نیچے بھی یہی اثرات مرتب ہوئے۔ صحافت میں بھی ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ اردو صحافت کی اگر بات کریں تو اس کا جو ابتدائی زمانہ ہے اُس میں ہمیں علم بھی نظر آتا ہے، ادب بھی نظر آتا ہے، علوم وفنون کی کارفرمائی بھی نظر آتی ہے۔ مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا جرنلزم نوّے فیصد سیاست اور پانچ یا سات فیصد کھیلوں اور معیشت کے لیے وقف ہوکر رہ گیا ہے، اور زندگی کے دوسرے شعبوں کا نہ ہمارے ذرائع ابلاغ میں کہیں ذکر ہے اور نہ ان کا اثر ہماری صحافت میں نظر آتا ہے۔ اس کا کیا سبب ہے اور اس سے نکلنے کی کیا صورت ہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ دیکھو بھائی! جب انڈسٹری بن گئی تو پھر کہاں کا نظریہ، کہاں کا اصول! مالکان جو چاہتے ہیں وہ ہوتا ہے۔ اور ہر طرف زوال آیا ہوا ہے۔ ایڈیٹر میں بھی زوال آیا ہے، ان کے نیچے کام کرنے والوں میں بھی زوال آیا ہے۔ پیسے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ تو پھر کہاں کا علم اور کہاں کا ادب اور کہاں کی صحافت رہ گئی!
فرائیڈے اسپیشل:۔ زوال کا فرق کس طرح بتائیں گے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ (ایک اور سگریٹ سلگاتے ہوئے) پاکستان بننے سے پہلے دیکھیں، مولانا ظفر علی خان ’زمیندار‘ اخبار نکالتے تھے جو آئے دن بند ہوتا تھا۔ آخر بند ہونے کی وجہ تھی ناں، یعنی وہ جس مؤقف کو صحیح سمجھتے تھے وہ چھاپتے تھے۔ مولانا حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد… یہ لوگ جس مؤقف اور بات کو ٹھیک اور درست سمجھتے تھے اس پر ڈٹ جاتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ زوال پذیر رہے۔ پھر بعد میں مالکان نے دیکھا کہ یہ تو خطرے کی بات ہے تو اپنی روش بدل دی۔ مقصد پیسہ بنانا بن گیا تو سب بدل گیا۔ پھر صحافت میں ایسے لوگ آگئے جن کو صرف پیسے سے غرض تھی۔ اب رپورٹر سے یہ کہہ کر خبر بنوائی جاتی ہے کہ اس سے پیسے لینے ہیں۔ اور یہ عام بات ہے۔ اب صاف ستھرے لوگ مشکل سے ملتے ہیں۔ اور پھر ایک رپورٹر16، 17 ہزار میں گھر کیسے چلائے! جب مالک اُسے کہے کہ تم اس خبر سے اتنے پیسے لے کر آئو تو تمہیں تمہارا کمیشن اور حصہ مل جائے گا۔ اخبارکا مالک بلیک میل کرکے،دبائو ڈال کر پیسہ کما رہا ہے تو وہ بھی کمائے گا۔ تو صحافت اب رہی نہیں۔ انڈسٹری اور کارخانہ ہے، اور یہی چل رہا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔صحافت میں بھی بائیں بازو کے لوگوں نے اچھی مثالیں نہیں چھوڑیں اور خود فیض احمد فیض تعصب کا شکار رہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ فیض احمد فیض صاحب بڑے آدمی تھے، ان کو جب ’حریت‘ کا ایڈیٹر بنایا گیا تو انہوں نے وہاں موجود دائیں بازو والوں کو نکالنا شروع کردیا۔ عبدالکریم عابد وغیرہ دائیں بازو والے تھے، ان سب کو نکال باہرکیا، محض اس لیے کہ وہ کمیونزم کی پالسیسی نافذ کرسکیں۔ پاکستان بننے کے بعد منصوبہ بندی کے تحت بائیں بازو کے لوگ صحافت پر قابض ہونا شروع ہوگئے، اور میں سمجھتا ہوں کہ حکمرانوں کی منصوبہ بندی کے تحت انہیں آگے لایا گیا۔اور پھر بعد میں ان کی آپس میں بھی لڑائی شروع ہوگئی، پھر روس اور چین کی کشمکش صحافت میں بھی آگئی۔ عالمی منظرنامہ بدلنا شروع ہوا تو اُس میں بھی یہ خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں۔ پھر اُس وقت کے بڑے ناموں کی وابستگیاں ضرورت کے مطابق ہوگئیں۔ اب انہیں کہیں نا کہیں سے پیسہ تو ملتا ہوگا ناں! پھر پریس کلب میں بھی انہی کا زور تھا، دائیں بازو والے وہاں قدم نہیں رکھ سکتے تھے، پریس کلب میں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ پھر ردعمل آنا شروع ہوگیا اور دائیں بازو والے آگئے۔ لیکن وہ اب کتنا اپنے اصول اور نظریوں پر قائم ہیں یہ بھی سوال ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ کالم ہمارے زمانے کی مقبول صنف ہے اور کالم رائے سازی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن ہماری صحافت میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اہم لکھنے والوں کی عظیم اکثریت کسی نہ کسی پارٹی یا کسی نہ کسی طبقے کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، اور جو قومی مقاصد اور قومی نصب العین ہے، اُس کی ترجمانی اور نمائندگی ایک دو لوگوں کے سوا کہیں ہوتی نظر نہیں آتی۔ اس کا کیا سبب ہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ بات پھر وہی آجاتی ہے۔ اخبار کے مالک کی خواہش اور مفاد پر لکھا جائے گا تو کہاں سے لکھیں گے! جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی ہے تو ساری عمارت ٹیڑھی ہوگئی۔کون قومی تقاضوں کو پورا کرے گا! کالم نگار کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوتا ہے۔ آپ کالم نگاروں کو پیسے دیتے نہیں ہیں، وہ کب تک، کہاں تک لکھیں گے! اب تو پیسے دے کر اپنے نظریے کے مطابق کالم لکھوائے بھی جاتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔آپ نے مختلف حکمرانوں کے ادوار دیکھے ہیں۔ اُس میں بھٹوکا زمانہ بھی ہے، ضیاالحق کا زمانہ بھی ہے، بے نظیر اور نوازشریف کا زمانہ بھی ہے، جنرل پرویزمشرف کا زمانہ بھی ہے، وزیراعظم عمران خان کا زمانہ بھی ہے۔ آپ کے خیال میں ان میں سے کون سا زمانہ صحافت کو آزادی فراہم کرنے والا تھا اور سب سے زیادہ پابندی آپ کو کس دور میں نظر آئی؟
اطہر علی ہاشمی:۔ پابندیاں تو بھٹو صاحب کے دور سے ہی شروع ہوگئی تھیں۔ بھٹو صاحب نے کئی اخبارات کو بندکروایا اور کئی کے مالک اور ایڈیٹر کو بند کروایا۔ پکڑنا دھکڑنا، مارپیٹ وغیرہ… یہ کام بھٹو صاحب نے ہی شروع کروائے تھے۔ جسارت بند ہوا، ڈان تک کو بندکروایا۔ پھر اُس کے بعد ایک روش ہوگئی۔ ضیاء الحق نے خاصی چھوٹ دی تھی۔ آپ فہرست بنالیں ضیاء نے کتنے صحافیوںکو کوڑے لگوائے؟ چند جیالوںکو لگوائے ہوں گے۔ بھٹو نے تو صحافت کی انڈسٹری تباہ کردی۔ یہ اصل تاریخ ہے ہماری صحافت کی، لیکن کون بیان کرے! ایک بات اور، ہمارے حوالے سے ضیاء الحق کا پریس سیکرٹری محمود مدنی صاحب کو فون کرکے ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتا تھا۔ لیکن اُن میں ایک خوبی تھی، ایک خصوصیت تھی کہ انہوں نے کبھی مجھ پر بوجھ نہیں ڈالا، خود سہہ لیا کرتے تھے۔ یہ بڑی بات تھی۔ عام طور پر کہا کرتے تھے ’’ارے یار میں شوگر کا مریض ہوں، مجھے صبح سے شام تک عدالت میں بٹھایا جاتا ہے، تم لوگ ایسا کیوںکرتے ہو، کیوں لکھتے ہو؟‘‘ وہ یہ باتیں ایسے ہی ہلکے پھلکے انداز میں کیا کرتے تھے۔ آج نواسے آزادیِ صحافت کے نعرے لگا رہے ہیں اور نانا نے ہی پابندیاں لگائی تھیں۔ اب یہ تاریخ ہے لیکن اس پر کہاں لکھا جاتا ہے!
فرائیڈے اسپیشل:۔ ہمارے یہاں تاثر تو یہ ہے کہ ضیاء الحق نے صحافیوں کو زیادہ نقصان پہنچایا، اُن پر پابندیاں عائد کیں۔ لیکن آپ تو کچھ اور حقیقت بیان کررہے ہیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ حقیقت یہی ہے، میں کیا کرسکتا ہوں! آپ فہرست نکال لیں کہ ضیاء کے دور میں کتنے صحافیوں کو کوڑے پڑے، اور وہ صحافی تھے بھی یا نہیں؟ ہاں دو چار جیالے ایسے ہوں گے جن کی پکڑ دھکڑ ہوئی ہوگی اور کوڑے بھی مارے گئے ہوں گے۔ لیکن بھٹو صاحب نے تو صحافت کی پوری انڈسٹر ی کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ بس ضیاء الحق کو بدنام زیادہ کردیا گیا ہے۔ آپ کہتے ہیں جب بھٹو کو پکڑا، جیالے نکل آئے تھے۔کہاں نکل آئے تھے؟ وہ جو حفیظ پیرزادہ تھے، ان کو بھٹو کا سوہنا مُنڈا کہتے تھے، جب بھٹو صاحب پکڑے گئے تو وہ دوسری شادی کرکے غائب ہوگئے۔کوئی باہر نہیں نکلا تھا، یہ سب افسانے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ ہمارے ٹاک شوز کے بارے میں عام تاثر ہے کہ ان میں مرغے لڑانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا جاتا۔ ان کے جو موضوعات ہیں وہ اتنے سیاسی اور ہنگامہ خیز ہوتے ہیں اور پھر ان میں جو زبان استعمال ہوتی ہے وہ اتنی زیادہ غیر معیاری ہوتی ہے کہ ناظرین کی رہنمائی کم اور ان کے ذوق پر منفی اثرات زیادہ مرتب ہوتے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ٹاک شوز اسی طرح چلتے رہے جیسے چل رہے ہیں، تو ہمارے ناظرین کی ذہنی ساخت کو اتنا محدود کردیں گے کہ ٹاک شوز سننے والے کوئی سنجیدہ بات سننے کے قابل ہی نہیں رہ جائیں گے۔ آپ کیا فرمائیں گے، کیا ایسا ہی کچھ ہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ یہ تاثر بالکل ٹھیک ہے۔ آپ نے پوری بات تو کہہ دی، میرے کہنے کے لیے کیا رہ گیا! بھئی میں تو ڈراما دیکھ رہا ہوتا ہوں، اچھا نہیں لگتا تو’’ٹاک شو‘‘لگا لیتا ہوں۔ میں تو ٹاک شو کو ڈراما سمجھ کر انجوائے کرتا ہوں۔ لیکن اس کا ردعمل ہوگا۔ ہر چیز جب ایک خاص مقام تک پہنچ جائے تو ردعمل آتا ہے۔اب تو لوگ کہتے ہیں ٹاک شوز میں صرف ڈرامے بازی ہوتی ہے اور پھر مالکان کے اثرات بھی ہوتے ہیں، وہ بھی پیسہ کمانے آئے ہیں، کوئی ملک کی خدمت کرنے تو نہیں آئے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔آپ کو اپنی صحافتی زندگی میں دبائو کا سامنا رہا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ سیاسی جماعتوں کا تو کوئی خاص دبائو نہیں رہا۔ ان کو معلوم تھا کہ جماعت اسلامی کا ترجمان اخبار ہے، دبائو میں نہیں آئے گا۔ ہاں ایم کیو ایم کا دبائو ہم نے سہا ہے اور مقابلہ کیا ہے۔ وہ مجھے فون کرتے تھے کہ تمہاری بیوی بیوہ ہوجائے گی، بچے یتیم ہوجائیں گے، تمہارا گھر معلوم ہے، ٹھیک ہوجائو۔ وہ براہِ راست دھمکی دیا کرتے تھے، سلیم شہزاد بول رہا ہوں، حاجی جلال بول رہا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ آفاق احمد اور عامر خان کراچی سے باہر شاید لاہور میں تھے، پھر وہ نمودار ہوئے اور انہوں نے پریس کانفرنس کی تو سلیم شہزاد کا فون آیا کہ خبردار جو پریس کانفرنس لگائی، ورنہ تمہارا حشر بہت برا ہوگا۔ اُس زمانے میں معظم علی قادری جسارت کے چیف ایگزیکٹو ہوا کرتے تھے۔ میں نے انہیں فون کیا کہ دھمکیاں آرہی ہیں کہ پریس کانفرنس نہ چھاپو، اگر پریس اور اخبار وغیرہ جل گیا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ آیت الکرسی پڑھ کر لگادو۔ پھر ہم نے تین کالم کی جگہ چار کالم کی خبر لگا دی۔ مالکان بھی ڈرنے والے نہیں تھے۔ ویسے بھی نقصان اُن کا کیا ہوتا! مارے تو ہم جاتے، لیکن حوصلہ بہت ملا۔ اُس وقت عامر خان چھپ چھپا کر جسارت کے دفتر میں مجھ سے ملنے آتے تھے۔ وہ اسلحہ برداروں کے حصار میں ہوتے تھے۔ اِدھر اُدھر اسلحہ بردار کھڑے رہتے تھے۔ میں عامر خان سے کہتا بھی تھا کہ یار تم تو’’دہشت گرد‘‘ قسم کے لگتے نہیں۔ تمہاری تو بری شہرت تھی، الطاف حسین تو تم لوگوں کے حوالے سے دھمکیاں دیا کرتا تھا کہ یہ میرے شیر ہیں، میں ان کے حوالے کردوں گا۔ انہوں نے کہا ’’ایسے ہی اُس نے ہمارا رعب بٹھایا ہوا تھا‘‘۔ پھر آپ کو پتا ہی ہوگا لاہور میں یہ آئی ایس آئی کی حفاظت میں رہے، وہی لے کر آئے، انہوں نے ہی رکھا۔ لیکن یہ لوگ کچھ کر نہیں پائے۔ عامر اور آفاق بھی الطاف کی روش پر چلتے رہے۔ عامر اور آفاق کو جسارت نے چڑھانا شروع کیا۔ ایم کیو ایم حقیقی کا نام بھی جسارت نے ہی دیا۔ دونوں کی پریس ریلیز آتی تھی تو اے ایچ خان زادہ (کرائم رپورٹر) نے مشورہ دیا کہ ’حقیقی‘ لکھنا شروع کردو۔ میں اُس جلسے میں شریک رہا جس میں اُس نے اسلحہ خریدنے کی بات کی تھی کہ وی سی آر، ٹی وی بیچو اور اسلحہ خریدو۔ یہ جلسہ ایوب منزل میں ہمارے گھر کے قریب تھا، اس لیے ہم بھی چلے گئے تھے۔ جلسے میں اُسے پرچے بھیجے جاتے تھے کہ تم شیعہ تو نہیں ہو؟ وہ پڑھ کر باربار ناراض ہوتا تھا اور کہتا تھا کہ ارے بھائی مجھے یہ پرچے کیوں بھیجے جاتے ہیں کہ میں شیعہ ہوں یا نہیں ہوں۔ ایک اور جلسے میں اُس نے پی آئی اے کو پنجابی ائیرلائنز کہا تھا۔ تعصب تو اُس نے پیدا کیا۔ وہ الیکشن کے دوران ہم کو دیکھ کر غفورا ٹھاہ کے نعرے لگاتے تھے۔ ہم فیڈرل بی ایریا 14نمبر میں رہتے تھے۔ ایک دفعہ میں دفتر سے گھر آرہا تھا تو فائرنگ ہوئی، گلی میں داخل ہوا تو لڑکے پیچھے اسلحہ چھپا رہے تھے کہ اتنے میں رینجرز آگئی، انہوں نے پوچھا: یہاں سے فائرنگ کی آواز آئی ہے؟ میں پنجاب میں رہا تھا، تو میں نے پنجابی میںکہا کہ پیچھے کہیں سے آئی ہے۔ اس طرح انہوں نے لڑکوں کو کچھ نہیں کہا، جس کا بعد میں اثر یہ ہوا کہ ایک دن میں آرہا تھا تو کسی نے غفورا ٹھاہ کی آواز لگائی، اس پر ایک لڑکے نے کہا کہ ’’ابے چھوڑ، اس نے ہمیں رینجرز سے بچایا تھا۔‘‘
فرائیڈے اسپیشل: اگر میں یہ کہوں کہ آپ ایم کیو ایم کا تجزیہ کریں تو کیا کہیں گے؟
اطہر علی ہاشمی:۔دیکھو میاں! یہ تو ٹھیک ہے کہ مہاجروں کے ساتھ زیادتی ہوئی، اور اُن کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا جس سے وہ اپنی بات کرسکیں۔ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی وغیرہ قومی جماعتیں تھیں۔ ایک خلا تھا، اور اس خلا کو پُر کیا ایم کیو ایم نے اور الطاف حسین کو لیڈر بنانے کے لیے بہت سی قوتوں نے کام کیا۔
فرائیڈے اسپیشل: تو اس تاثر پر کیا کہیں گے کہ فوجی حکمراں ضیاء الحق نے پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی طاقت کو ختم کرنے کے لیے ایم کیو ایم بنوائی؟
اطہر علی ہاشمی:۔ ہاں ایسا ہی ہے۔ ان اداروں کی کوشش رہی کہ کراچی میں کسی ایک جماعت کا غلبہ نہ ہو۔ غوث علی شاہ یہاں کے وزیراعلیٰ تھے اور ان کے پیچھے ہمارے ضیاء الحق صاحب تھے۔ جو حکمراں طبقہ ہوتا ہے، چاہے وہ فوجی ہو یا سول… اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں میں اتحاد باقی نہ رہے، اُن کو آپس میں مجتمع نہ ہونے دیا جائے، پھوٹ رکھی جائے تاکہ اپنا کام چلتا رہے۔ کراچی پر غلبے کا یہی جھگڑا ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ایم کیو ایم بھی اسی لیے بنائی گئی۔ یہ پرانی بات ہے، وہ جو علا الدین خلجی تھا اُس کی کوشش ہوتی تھی کہ جو بڑے بڑے جاگیردار ہیں اُن کے آپس میں رشتے نہ ہونے پائیں۔ آپس میں رشتے ہوجائیںگے، یہ متحد ہوجائیں گے تو حکومت کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اُسی پندرہویں، سولہویں صدی کی پالیسی چلی آرہی ہے۔ یہ کون سی نئی بات ہے! وہی تاریخ کا تسلسل ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ پاکستان کے انگریزی اخبارات سے متعلق یہ تاثر ہے کہ انگریزی جرنلزم مذہب، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ کے خلاف ہے، یہاں تک کہ ملک کے نظریاتی تشخص کے خلاف بھی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ مغرب زدگان کا ایک کلب ہے جو پاکستان میں آپریٹ کررہا ہے۔ اس پس منظر میں آپ انگلش جرنلزم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
اطہر علی ہاشمی: جو باتیں آپ نے کی ہیں وہ ٹھیک ہیں۔ لیکن ان کا ابلاغ عام آدمی تک کتنا ہوتا ہے! عام آدمی تک انگریزی جرنلزم کا ابلاغ نہیں ہوتا۔ یہ اہم اور ایلیٹ کلاس کے اُن لوگوں کے پاس جاتا ہے جو اردو نہیں پڑھ پاتے۔ اردو اخبارات کی بات عوام تک پہنچ جاتی ہے۔ انگریزی کا ٹی وی چینل ڈان نہیں چلاسکا، بند کردیا گیا تو وہ اردو میں ہی شروع ہوگئے۔ دوسری یہ بات ٹھیک ہے کہ یہ ایک خاص پالیسی کے تحت مغربی ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں۔ اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنا بیرونی ایجنڈا ہے۔ یہ معلوم نہیں عورت کو کیا حق دینا چاہ رہے ہیں! آوارگی اور آزادی میں فرق نہیں کرپا رہے ہیں۔ یہ آہستہ آہستہ میٹھا زہر دے رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں دایاں بازو اور علماء کا طبقہ بہرحال مزاحمت کررہا ہے۔ ویسے گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمارے یہاں لوگ ٹھیک طریقے سے اردو نہیں پڑھ پارہے تو انگریزی کیا سمجھیں اور پڑھیں گے!
فرائیڈے اسپیشل:۔ ہمارے یہاں اردو جرنلزم میں رپورٹنگ کا معیار بہت خراب نظر آتا ہے۔ اس کی بہ نسبت انگریزی جرنلزم میں معیار بہتر ہے، اور اس کی رپورٹنگ میں ایونٹ کی روح موجود ہوتی ہے۔ علمی اور گہری باتیں رپورٹر رپورٹ ہی نہیں کرپاتا۔ تو ہمارے اردو جرنلزم میں رپورٹنگ کا معیار اتنا پست کیوں ہے؟ اردو جرنلزم آخر اپنے رپورٹر کے معیار کو کیوں بلند نہیں کرتا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ زوال پذیری صرف رپورٹنگ میں ہی نہیں، اخبارات کے ہر شعبے میں آئی ہے۔ جہاں عبدالکریم عابد بیٹھے ہوئے تھے وہاں اطہر ہاشمی بیٹھا ہوا ہے۔ جہاں اچھے رپورٹر تھے، جہاں نیوز ڈیسک پر اچھے لوگ تھے جن سے ہم نے سیکھا اب وہ نہیں ہیں، جاہل لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کو اردو بھی نہیں آتی۔ یہ میں بلامبالغہ کہہ رہا ہوں۔ رپورٹر بھی ایسے ہی ہیں جن کا کچھ معیار ہی نہیں ہے۔ ان میں اپنی زبان کو ٹھیک کرنے اور اپنے معیار کو بلند کرنے کی جستجو ہی نہیں ہے، اور اس کے بڑ ے ذمہ دار آپ کے صحافت پڑھانے والے کالج اور یونیورسٹیاں ہیں۔ وہ بہتر معیار اور تعلیم نہیں دیتے۔ اس میں ہمارا بھی قصور ہے کہ ہم نے ٹرینڈ نہیں کیا لوگوں کو۔ رپورٹنگ اور ڈیسک کے لوگوں کی تربیت کا انتظام ہونا چاہیے۔ جو سینئر رپورٹر اور صحافی ہر ادارے میںبیٹھے ہیں وہ توجہ دیں، اپنے ماتحت لوگوں کو سکھائیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔آپ کا کالم ’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘بہت مقبول ہے اور بہت پڑھا جاتا ہے۔آپ اپنے کئی کالموں میں خود کہہ چکے ہیں کہ آپ کو فلاں لفظ کا املا یا معنی صحیح طرح سے معلوم نہیں ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ آپ جیسا آدمی جس کو اردو بھی آتی ہے، انگریزی بھی آتی ہے، فارسی اور عربی کی بھی شد بد ہے، وہ اگر غلطی کرسکتا ہے تو ایک ایسے معاشرے میں جہاں بچہ نہ اسکول میں زبان سیکھ رہا ہے، نہ کالج میں اور نہ یونیورسٹی میں، اور نہ کوئی اخبار اس کو معیاری زبان سکھا رہا ہے، نہ کوئی ریڈیو اور ٹیلی ویژن زبان سکھا رہا ہے تو ایسے معاشرے میں زبان کی جہت پر اتنے اصرار کا کیا مطلب ہے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ میں عام غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہوں۔ علمی غلطیاں مجھ سے ہوجاتی ہیں وہ ایک الگ چیز ہے۔ مفتی منیب نے لکھ دیا مجھے عربی آتی ہے۔ مجھے عربی نہیں آتی۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ آپ جو عام گفتگو کررہے ہیں، زبان لکھ رہے ہیں اس کو ٹھیک کرلیں۔ بڑے بڑے کالم نگار ایسی غلطیاں کرتے ہیں جو نہیں کرنی چاہئیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔آپ املا درست کررہے ہیں اور اس کا ایک نتیجہ یہ نکل رہا ہے خاص کر جسارت پڑھنے والوں میں کہ، کنفیوژن پیدا ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر’’ی‘‘کے نیچے نکتے لگاتے ہیں، دوسرے اخبار میں ’’ء‘‘ لگاتے ہیں۔ اگر آپ کا املا درست بھی ہو تو اس سے معاشرے میں کنفیوژن پیدا ہوگا۔ کوئی شاعر، ادیب کچھ الفاظ میں ایک طریقے سے جملہ لکھ رہا ہے، آپ کے اخبار میں دوسرے طریقے سے لکھا جارہاہے تو عام لوگ کیا کریں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ اس میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے، آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ لوگ لغت دیکھ لیں۔ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اس کا اثر ہورہا ہے۔ یہ الفاظ ٹھیک ہورہے ہیں۔ ’’لیے، دیے‘‘ وغیرہ ٹھیک لکھے جارہے ہیں۔ اور میں اس میں اکیلا نہیں ہوں، آپ مولانا مودودیؒ کو دیکھ لیں، انہوں نے ان الفاظ کو کس طرح لکھا ہے۔ یہاں سیدھی سی بات ہے میں اکیلا نہیں ہوں۔ آج سے پچاس، سو سال پہلے ’’لیے، دیے‘‘ انہوں نے نقطے کے ساتھ لکھا ہے، میں کوئی نئی بات نہیں کررہا ہوں۔ آپ اصل چیز لکھیں، جو چیزیں غلط رائج ہوگئی ہے وہ ٹھیک بھی رائج ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر مفتی منیب الرحمٰن نے ’’میل‘‘کو مونث لکھا ہے جبکہ وہ مذکر ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی کہہ دوں جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے وہ بہترین اردو لکھتے رہے ہیں۔ میں نے اُن کی ایک دو غلطیوں کی نشاندہی کی تو انہوں نے تسلیم کیا۔ تو یار میں نے اگر غلطی تسلیم کی ہے تو اس میں کیا حرج ہے!
فرائیڈے اسپیشل:۔ آپ کے کالموں میں بسا اوقات یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ فکاہیہ کالم ہے یا سنجیدہ کالم۔ اس میں مزاحیہ رنگ اور سنجیدگی اتنی ہم آہنگ ہوتی ہے کہ فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہم اسے فکاہیہ یا طنزیہ کالم سمجھیں یا سنجیدہ کالم سمجھیں۔آپ فکاہیہ کالم الگ اور سنجیدہ کالم الگ الگ کیوں نہیں لکھتے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ دیکھو ! سنجیدگی میری فطرت میں نہیں ہے، اس کو چھوڑ دو۔ مزاح میری فطرت میں صحیح یا غلط، شامل ہوگیا ہے۔ سنجیدگی سے میں بات نہیں کرپاتا، آپ کالم لکھنے کی بات کررہے ہیں! ہلکی پھلکی چیزیں ہونی چاہئیں، اور یہ انداز لوگ پسند بھی کررہے ہیں۔ہلکے پھلکے انداز میں بات پہنچائیں، اس میں زیادہ اثر پذیری ہوتی ہے۔ لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ انٹرنیٹ اور موبائل کی دنیا نے بچوں کو کتابوں سے دور کررکھا ہے۔ والدین کیا کریں کہ بچے کتابوں کی طرف آئیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ پہلے والدین خود کتابیں پڑھیں۔ یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔ پہلے دادا، نانا بچوں کو اخبار اٹھا کر دے دیا کرتے تھے کہ خبریں، مضمون پڑھ کر سنائو، تو وہ جبراً پڑھتے تھے لیکن دلچسپی پیدا ہوجاتی تھی۔ اب ہمارے اپنے بچے نہیں پڑھتے۔ پھر پہلے گھر کا ماحول علمی ہوتا تھا۔ نانا، دادا کتابوں کی باتیں کرتے تھے۔ روک ٹوک بھی کررہے ہوتے تھے۔ اب وہ بات نہیں رہی، گھر میں سب نے اپنی اپنی دنیا قائم کرلی ہے۔ اب گھروں میں ایک جگہ بیٹھ کر سیکھنے والی صحبت ہی نہیں رہی کہ جس سے بچے سیکھتے تھے۔ اب جو ادبی محفلیں ہوتی ہیں اُن میں کون جاتا ہے؟ اور نوجوان تو جاتے ہی نہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔آپ نے شاعری بھی کی؟
اطہر علی ہاشمی:شاعری کی کوشش کی، لیکن پھر سوچا کہ بے تکے شعر کہنے سے بہتر ہے کہ جو اچھے اور بڑے شعرا ہیں اُن کو پڑھ لو۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ جو شاعری ہورہی ہے اس پر کیا کہیں گے؟
اطہر علی ہاشمی:۔آج شاعری چھپ زیادہ رہی ہے لیکن معیار اُس کا گرا ہوا ہے اور بہت ہی گھٹیا ہے۔ چار پیسے آجاتے ہیں تو لوگ کتاب چھپوا لیتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اچھی شاعری کم نظر آتی ہے۔ اچھی شاعری بھی ہورہی ہے، لیکن زیادہ تر بے تکی شاعری ہورہی ہوتی ہے جو ردی میں بک رہی ہوتی ہے۔ معیار گر رہا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ کن شاعروں کو پڑھیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ دیکھو، علامہ اقبال کو تو لوگ پڑھتے نہیں ہیں، حالانکہ اُن کو پڑھنا چاہیے۔ اُس میں آپ کی زبان بھی درست ہوگی، آپ کے نظریات اور خیالات بھی درست ہوں گے۔ فیض احمد فیض کو پڑھ لیجیے۔ منیر نیازی، احمد فراز کو پڑھ لیجیے۔ یہ نوجوانوںکی پسند کی شاعری ہے۔ اُن کے نظریات و خیالات کچھ بھی تھے، شاعر اچھے تھے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ آج کے شاعروں میں وہ کون ہیں جنہیں آپ سمجھتے ہیں کہ اچھی شاعری کررہے ہیں؟
اطہر علی ہاشمی:۔ یہ ہمارے یہاں جو اجمل سراج ہے قطعہ لکھتا ہے، قطعہ تو چھوڑ دیجیے، یہ شاعر بہت اچھا ہے۔ اس کے اندر نیا پن ہے۔ جو مجموعہ کلام آئے ہیں اُن کو پڑھ کر دیکھیں۔ بہت اچھا شاعر ہے۔ یہ میری صرف اپنی رائے نہیں، ناقدین کی رائے ہے کہ یہ شاعر بہت اچھا ہے۔ اُس کے علاوہ اساتذہ میں اعجاز رحمانی بہت اچھی شاعری کررہے تھے۔ تو اچھے شاعر بھی موجود ہیں۔ جو کتابیں چھپ رہی ہیں ان کو ہم دیکھتے بھی نہیں۔ اُن کو چھوڑو، ان پر کیا تبصرہ کریں! یاد رکھیں ہر جانور کی قربانی جائز نہیں ہوتی۔ ہر شاعر کو پکڑ کر نہیں بٹھا سکتے کہ تُو نے کیا لکھا ہے۔ یہ کام چھوڑ دیا۔ میں نے ایک دو شاعروں کی کتابوں پر تنقید کردی، بڑے ناراض ہوئے۔ پھر میں نے یہ کام چھوڑ دیا۔ ایک ہمارے دوست تھے، ہم جدہ سے آئے تھے، اُن کی شاعری کی کتاب کی تقریب تھی، وہ خوش ہوگئے کہ اطہر بھائی آگئے۔ ہم نے ان کی شاعری میں خرابیاں نکالنا شروع کردیں تو یہ ہم نے اچھا نہیں کیا۔ آدمی بہت اچھا تھا، لیکن شاعری بے تکی، بے کار اور گھٹیا تھی۔ ان کے چودہ پندرہ مجموعے چھپ چکے ہیں۔ تو ان کی بیگم کا فون آیا کہ آپ نے کیا کردیا، وہ دل کے مریض ہیں۔ پھر مجھے افسوس ہوا کہ میں نے برا کیا۔ لیکن کیا کرتا، سچ بات تھی کہہ دی۔
فرائیڈے اسپیشل:درمیان میں آپ جدہ چلے گئے جہاں اردو نیوز کو جوائن کیا۔ پھر کیوں چھوڑ دیا؟ اور یہ تجربہ کیسا رہا؟
اطہر علی ہاشمی:۔ پہلے سعودی حکومت ہر حج کے موقع پر سپلیمنٹ نکالنے کا کہہ دیتی تھی، یہ عرصہ پینتالیس دن کا ہوتا تھا۔ اس کے لیے عموماً ٹیم جاتی تھی اور لوگ پاکستان سے جاتے تھے۔ صلاح الدین صاحب یہ دیکھا کرتے تھے کہ کس کو جانا ہے اور کس کو نہیں جانا ہے۔ انہوں نے مجھے بھیجا تھا اور کہا تھا ٹیم کو لیڈ تم کروگے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے پرانے ساتھیوں کو بھولتے نہیں تھے، یہ ان کی مہربانی تھی۔ جدہ جانے سے پہلے میں ریاض گیا تھا، پھر واپسی میں جدہ گیا جہاں سے ’’اردو نیوز‘‘ نکلتا تھا۔ انہوں نے کہا آپ ہمارے یہاںآجائیے۔ وہاں میں نیوز ایڈیٹر تھا۔ چیف ایڈیٹر سعودی ہوتا ہے چاہے اُس کو اردوآتی ہو یا نہیں۔ جانے کا فائدہ یہ تھا کہ جدہ کے بہت قریب حرم شریف ہے، آپ حج کرلیجے، عمرہ کرلیجیے، روزانہ عمرہ کرلیجیے۔ بڑا چارم تو یہ تھا۔ دوسری بات یہ کہ نئے ماحول میں نئے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا بڑا اچھا تجربہ رہا۔ بیوی بچوں کو تین تین حج کروا دیے۔ ہم وہاں سے چھوڑ کر نہیں آئے بلکہ ایک طرح سے نکالے گئے۔ وہاں طریقۂ واردات یہ ہے کہ جب بھی سربراہ تبدیل ہوتا ہے وہ اپنی ٹیم لے کر آتا ہے۔ دوسرے لوگوں کو عام طور پر فارغ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو نیا ایڈیٹر آیا، اس نے نکالنے کی کوشش کی اور ہم واپس چلے آئے۔کچھ لوگوں نے کہا بھی کہ ہم اقامہ دے دیتے ہیں رک جائیے۔ میں نے کہا اس چکر میں نہیں پڑتا، بس واپس جارہا ہوں۔ بعد میں مظفر اعجاز کا فون آیا، وہ کراچی میں اردو نیوز میں تھے، میں نے کہا کہ کراچی میں پیسے کم ہیں، یہاں آجائو، حج عمرہ کرلینا۔ پھر وہ فیملی کے ساتھ آگئے۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ پھر لوٹ کر جسارت آگئے؟
اطہر علی ہاشمی:۔ جسارت میں نہیں آیا، امت میں آیا۔ جسارت معظم علی قادری کو سلام کرنے آیا، شکل دکھانے آیا تھا کہ میں آگیا ہوں۔ جاتے ہوئے شاہد ہاشمی نے الوداعی پارٹی دی تھی، جسارت میں خبر چھپی تھی کہ ’’میں جسارت میں واپس آئوں گا‘‘۔ لیکن اُس زمانے میں معظم علی قادری کا رجحان مظفر کی طرف تھا۔ امت کے رفیق افغان نے بار بار مجھے پیغام بھجوایا کہ آپ آجائیے۔ صرف اس لیے چلاگیا کہ ایک آدمی عزت دے رہا اور عزت سے بلا رہا ہے۔ اس نے بڑی عزت دی۔ پھر بعد میں چیف ایگزیکٹو افتخار صاحب اور معراج الہدیٰ صاحب گھر پر آئے کہ آپ آجائیے، تو میں آگیا۔ رفیق افغان نے روکنے کی بہت کوشش کی۔ میں نے کہا: میرے گھر پر آئے تھے۔ اُس نے کہا: میں آپ کے گھر آجاتا ہوں۔ یہ اُس میں اچھی بات تھی کہ مجھے عزت دی، حالانکہ اُس کے بارے میں مشہور تھا کہ بڑا بدمزاج ہے۔ بس وہ احترام کرتا تھا اور یہ اُس کی خاص بات ہے۔ پھر میں جسارت میں آکر بیٹھ گیا۔

Share this: