قائداعظم نے کیا کہا؟۔

Print Friendly, PDF & Email

(دوسرا اور آخری حصہ)

قرآن

’’صداقت کی جستجو اور اپنے عقائد کی آبیاری کے لیے ہمیں قرآن کی عقلی تعبیر سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے‘‘۔ (13نومبر 1939ء۔ ص 104)
’’ہماری ہدایت اور باطنی روشنی کے لیے ہمارے پاس قرآن کا عظیم ترین پیغام ہے۔ ہمیں اب صرف یہ کرنا ہے کہ ہم اپنی ذات اور خدا کی عطا کردہ اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کی آگاہی حاصل کرکے اس عظیم نصب العین کے مطابق عمل کریں‘‘۔ (4 اپریل 1943ء۔ ص 490)
’’یہ کتابِ عظیم یعنی قرآن مسلمانانِ ہند کا آخری سہارا ہے‘‘۔ (26 دسمبر 1943ء۔ ص 597)

مذہب

’’مذہبِ اسلام انسانی مساوات کے تصور پر مبنی ہے‘‘۔ (19 جنوری 1940ء۔ ص 123)
’’برطانوی لوگ عیسائی ہونے کے لحاظ سے بعض اوقات اپنی ہی تاریخ کی مذہبی جنگوں کو بھول جاتے ہیں۔ اور وہ آج مذہب کو خدا اور انسان کے درمیان ایک پرائیویٹ اور ذاتی معاملہ خیال کرتے ہیں۔ ہندودھرم اور اسلام کے بارے میں ایسا خیال نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ دونوں مذہب واضح سماجی نظام ہیں جو انسان اور خدا کے مابین تعلق سے زیادہ انسان اور اس کے ہمسایوں کے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہ دونوں مذاہب انسان کے قانون اور ثقافت ہی میں دخیل نہیں بلکہ یہ اس کی سماجی زندگی کے ہر شعبے کو اپنے ماتحت رکھتے ہیں۔ ایسے مذاہب بنیادی طور پر جامع ہونے کی حیثیت سے تشخص کے ادغام اور خیال کی وحدت کو خارج کردیتے ہیں جس پر مغربی جمہوریت کی اساس ہے‘‘۔ (19 جنوری 1940ء۔ ص 124)
’’آج کل انسان کی سرگرمیوں کا دائرۂ اثر ایک ناقابلِ تقسیم کُل کی تشکیل کرتا ہے۔ اس لیے تم سماجی، اقتصادی، سیاسی اور خالصتاً مذہبی کام کو مخصوص شعبوں میں تقسیم نہیں کرسکتے۔ میںکسی ایسے مذہب کو نہیں جانتا جس میں انسانی سرگرمی شامل نہ ہو۔ مذہب انسان کی دیگر تمام سرگرمیوں کے لیے ایک اخلاقی بنیاد مہیا کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زندگی شوروغضب کا گورکھ دھندا بن کر بے مطلب ہوجائے‘‘۔ (یکم جنوری 1940ء۔ ص 133)
’’مذہب… تو صحیح معنوں میں خدا اور انسان کے درمیان ایک معاملہ ہے‘‘۔ (25 جنوری 1943ء۔ ص 486)

مسلم قومیت

’’مسلمانوں کو اکثر اوقات غلطی سے اقلیت خیال کیا جاتا ہے، جیسا کہ عام معنوں میں مغرب میں تصور کیا جاتا ہے۔ وہ کراچی سے لے کر کلکتہ تک شمال مغرب اور بنگال میں اکثریت کے حامل ہیں۔ انڈین براعظم کا صرف وہ علاقہ برطانیہ عظمیٰ سے دگنی آبادی اور دس گنا سے زیادہ علاقے پر مشتمل ہے‘‘۔
(یکم اکتوبر 1939ء۔ ص 96)
’’مجھے دوبارہ یہ کہنے دیجیے کہ انڈیا نہ تو ایک قوم ہے اور نہ ہی یہ ایک ملک ہے۔ انڈیا کئی قوموں پر مشتمل ایک برصغیر ہے جس کی دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان ہیں‘‘۔
(یکم جنوری 1940ء۔ ص 132)
ہم کسی طرح بھی اقلیت نہیں ہیں بلکہ ہم اپنی تقدیر کے خود مالک ہونے کی حیثیت سے ایک مستحکم اور جداگانہ قوم ہیں‘‘۔
(25 فروری 1940ء۔ ص 146)
’’ہمارے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ایک سیاسی وجود کے حامل ہیں اور اس سیاسی وجود کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنا چاہیے۔ جداگانہ انتخاب مسلمانوں کے اس باطنی احساس کا مظہر تھا۔ اس اسپرٹ کو مدنظر رکھ کر معاہدۂ لکھنؤ پر دستخط کیے گئے تھے جس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ دو جداگانہ اور واضح وجود باہمی سمجھوتا کررہے ہیں… یورپی ممالک کی اقلیتوں کی طرح مسلمان (ہندوستان میں) اقلیت نہیں تھے‘‘۔
(25 فروری 1940ء۔ ص 145۔146)
’’اس بات کو ہمیشہ ہی سے فرض کرلیا گیا ہے کہ مسلمان اقلیت ہیں… مسلمان اقلیت کے حامل نہیں ہیں۔ (قومیت کی) ہر تعریف کی رو سے مسلمان ایک قوم ہیں… ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان سے متعلق برطانوی نقشے کے مطابق بھی ہم اس ملک کے بڑے بڑے حصوں مثلاً بنگال، پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان میں اکثریت رکھتے ہیں‘‘۔
(مارچ 1940ء۔ ص 164)
’’لندن ٹائمز جیسے مشہور جریدے نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ لکھا تھا:
بلاشبہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے اختلافات فی الاصل صرف مذہبی نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ ان کی ثقافت اور قوانین بھی مختلف ہیں۔ حقیقت میں وہ مکمل طور پر دو واضح اور جداگانہ تہذیبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس توہم کا خاتمہ ہوجائے گا اور ہندوستان ایک قوم کے سانچے میں ڈھل جائے گا۔
لندن ٹائمز کے مطابق صرف توہمات مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ روحانیت، معاشیات، سماج اور سیاست سے متعلق ان بنیادی اور خاصے گہرے اختلافات کو نرم انداز میں محض توہمات کا نام دیا گیا ہے۔ یقینی طور پر لندن ٹائمز کی یہ رائے برصغیر ہند کی سابقہ تاریخ اور سوسائٹی کے بارے میں اسلام کے اساسی تصورکی واضح غفلت ہے‘‘۔ (مارچ 1940ء۔ ص 167)
’’اس بات کو سمجھنا بے حد مشکل ہے کہ ہمارے ہندو دوست، اسلام اور ہندو مذہب کی اصلی نوعیت کا ادراک کرنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں۔ وہ اپنے حقیقی مفہوم کے لحاظ سے مذاہب نہیں بلکہ فی الحقیقت دو مختلف اور واضح سماجی نظام ہیں۔ یہ ایک خواب ہے کہ مسلمان کبھی بھی مشترکہ قومیت کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ ایک انڈین قوم کی غلط فہمی اپنی حدود سے باہر جا چکی ہے۔
(مارچ 1940ء۔ ص 169)
’’ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں، سماجی رسومات اور ادبیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ نہ تو آپس میں شادیاں کرتے ہیں اور نہ ہی اکٹھے ہوکر کھانا کھاتے ہیں۔ دراصل وہ دو مختلف تہذیبوں کے حامل ہیں جو زیادہ تر متضاد نظریات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ زندگی کے پہلوئوں کے بارے میں ان کے تصورات بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ یہ امر بالکل عیاں ہے کہ ہندو اور مسلمان تاریخ کے مختلف سرچشموں سے فیضان حاصل کرتے ہیں۔ ان کی رزمیہ نظمیں، ان کے ہیرو اور ان کے واقعات بھی یکساں نہیں ہیں۔ ایسی دو قوموں کو اکثریت اور عددی اقلیت کی حیثیت سے ایک ہی مملکت میں اکٹھا جوتنے کا نتیجہ بے چینی اور ایسی مملکت کی آخری تباہی کی صورت میں نکلے گا‘‘۔
(مارچ 1940ء۔ ص 169)
’’جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے مسلمان اقلیت نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنے گردو پیش کا جائزہ لینا ہوگا۔ آج بھی انڈیا کے برطانوی نقشے کے مطابق گیارہ میں سے چار صوبے ایسے ہیں جہاں کم و بیش مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ہندوکانگریس کی ہائی کمان کے عدم تعاون اور سول نافرمانی کی تیاری کے فیصلے کے باوجود وہ کام چلا رہے ہیں۔ قومیت کی کسی بھی تعریف کی رو سے مسلمان ایک قوم ہیں، اس لیے ان کا اپنا وطن، اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے۔ ہم ایک آزاد اور خودمختار قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ صلح و یگانگت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم کے افراد اپنے نصب العین اور اپنی ذہانت و فطانت کے مطابق احسن اور بھرپور انداز میں اپنی روحانی، ثقافتی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی زندگی کو پروان چڑھائیں‘‘۔ (مارچ 1940۔ ص 171)
’’یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم اقلیت نہیں ہیں بلکہ ہم ایک قوم ہیں۔ ایک قوم کے پاس اپنا خطہ ہونا چاہیے، (خطے کے بغیر) اپنے آپ کو قوم کہنا بے کار ہے۔ کوئی قوم بھی ہوا میں نہیں رہتی بلکہ یہ زمین پر رہتی ہے، اسے زمین پر حکومت کرنی چاہیے اور جغرافیائی ریاست کا مالک ہونا چاہیے۔ تم اس مقصد کو حاصل کرنے کے خواہش مند ہو‘‘۔
(2 مارچ 1941ء۔ ص 234)
’’یہ کہنا سراسر حماقت ہے کہ ہندوستان ہندوئوں کا ہے۔ ہندو لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ کسی وقت مسلمان ہندو تھے… ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا جب کہ زیادہ تر لوگ یہاں حلقہ بگوش اسلام ہو گئے تھے۔ تمہارے ہندو دھرم اور تمہارے فلسفے کی رو سے اسلام لانے والا ہندو برادری سے خارج ہوکر ملیچھ (اچھوت) بن جاتا ہے اور ہندو اس نومسلم کے ساتھ کسی طرح بھی کوئی سماجی، مذہبی اور ثقافتی رابطہ نہیں رکھتے، اس لیے وہ مختلف نظام سے تعلق رکھتا ہے… ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا کہ مسلمانوں کی اکثریت نے مختلف دنیا اور مختلف سوسائٹی میں زندگی بسر کی اور وہ مختلف فلسفے اور مذہب کے حامل رہے… کیا اب بھی تم بنیادی فرق کو نہیں دیکھ سکتے ہو‘‘۔
(2 مارچ 1941ء۔ ص 239۔240)
’’فی الحقیقت میں یہ نہیں سوچ سکتا کہ کوئی ایمان دار آدمی اس امر واقع سے انکار کرسکتا ہے کہ مسلمان ہندوئوں سے واضح طور پر علیحدہ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘۔
(2 مارچ 1941ء۔ ص 240)
’’انڈیا کے مسلمان ایک قوم ہیں اور وہ ہندوئوں سے الگ قوم ہونے کی حیثیت سے اپنے حقوق پر اصرار کرتے ہیں‘‘۔
(یکم جولائی 1942ء۔ ص 404)
’’ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان عمیق ترین اور ناقابلِ استیصال فرق پایا جاتا ہے۔ ہم اپنے مخصوص کلچر، تہذیب، زبان، ادبیات، آرٹ، فنِ تعمیر، نام اور اصولِ تسمیہ، احساسِ قدر و تناسب، قانونی نظام، اخلاقی ضوابط، رسومات، کیلنڈر، تاریخ و روایات، طبعی میلانات، مقاصدِ حیات کی حامل قوم ہیں۔ قصہ مختصر، زندگی کے بارے میں ہم اپنا امتیازی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی رو سے ہم ایک قوم ہیں‘‘۔
(یکم جولائی 1942ء۔ ص 405)
’’اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مسلمان ایک قوم ہیں۔ قومی گروہ کی حیثیت سے وہ اپنے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں میں تعداد کے لحاظ سے سات کروڑ سے کم نہیں۔ ہم اپنی تجویز کی رو سے ان علاقوں میں اپنی آزاد ریاستوں کے خواہاں ہیں اور ہم انڈیا کی جمہوری مرکزی حکومت پر مبنی کسی بھی آئین کو قبول نہیں کرسکتے‘‘۔ (9نومبر 1942ء۔ ص 441)
’’تم مجھے اسلام کی روشنی میں اپنی تاریخ، اپنی روایت اور اپنی ثقافت و زبان کے مطابق زندگی بسر کرنے دو اور تم اپنے علاقوں میں ایسا ہی کرو۔ آئیے ہم امن و امان کے ساتھ زندہ رہیں۔ بدقسمتی سے ہندو قیادت کا مقصد یہ ہے کہ ہم ان کے سامنے جھک جائیں اور ہندو راج کے غلبے کے تحت سارے ہندوستان میں اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر رضامند ہوجائیں۔ ہم کبھی بھی اس حالت کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔
(14 نومبر 1942ء۔ ص458۔459)
’’انڈیا کے مسلمان ہر تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں۔ ساری دنیا میں کبھی دس کروڑ انسانوں کو اقلیت نہیں سمجھا جائے گا۔ اس طرح یہ رعایت، صلح، پناہ اور تحفظات کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ اس برصغیر میں آباد قومی گروپ کی حیثیت سے مسلمانوں کی خودارادیت کے فطری اور پیدائشی حق کا سوال ہے، جس کی رو سے انہیں اپنے اکثریتی علاقوں میں اپنی آزاد ریاستوں کو قائم کرنا چاہیے۔ اس تنازع پر ہم کوئی مصالحت نہیں کرسکتے، اگر ہم نے مصالحت کی تو یہ بات ہمارے اپنے وجود کی سودے بازی کے مترادف ہوگی‘‘۔ (14 نومبر 1942ء۔ ص 458۔459)
’’اب یہ امر دنیا پر اظہر من الشمس ہوچکا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اقلیت کے بجائے ایک قوم ہیں۔ قوم کی حیثیت سے وہ اُن علاقوں میں اپنی آزاد ریاستیں قائم کرنے کے خواہاں ہیں جہاں پر وہ غالب اکثریت کے حامل ہیں۔ مسلمان قومی مرکزی حکومت نہیں چاہتے کیونکہ صحیح معنوں میں انڈین قوم ہی موجود نہیں۔ ہمارے بعض اہلِ وطن ہماری راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں، لیکن وہ اپنی ریشہ دوانیوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے‘‘۔ (22 نومبر 1942ء۔ ص 476)
’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمان الگ قوم ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی ریاستوں کا آپ مالک ہونا چاہیے‘‘۔
(25 جنوری 1943ء۔ ص 487)

ہندو مذہب

’’آج کل ہندو ذہنیت اور ہندو نقطہ نگاہ کی بڑی احتیاط کے ساتھ آبیاری کی جارہی ہے اور مسلمانوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ہندو تصورات کو قبول کریں۔ کیا مسلمانوں نے کہیں بھی اس طرح کا کوئی کام کیا ہے؟ کیا انہوں نے کہیں بھی ہندوئوں پر مسلم کلچر ٹھونسنے کی کوشش کی ہے؟ تاہم اپنے اوپر ہندو کلچر کے نفاذ کے خلاف مسلمانوں نے جب کبھی معمولی سی صدائے احتجاج بھی بلند کی ہے تو انہیں فرقہ پرست اور امن کو تباہ کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔
(26 دسمبر 1938ء۔ ص 78)
’’ہندو مت ذات پات کے اپنے مظہر سے ممیز ہے۔ ذات پات ہندوئوں کے مذہبی اور سماجی نظاموں کی بنیاد ہے… اس کے برعکس مذہبِ اسلام انسانی مساوات کے تصور پر مبنی ہے۔
(19 جنوری 1940ء۔ ص 123)

Share this: