میاں نواز شریف کا ڈیل زدہ چہرہ اور ان کے صحافتی وکیلوں کی تحریروں کا آئینہ

Print Friendly, PDF & Email

میاں نوازشریف کے ہمیشہ دو چہرے رہے ہیں۔ ان کا ایک چہرہ وہ تھا جو جنرل ضیاء الحق کو اپنا روحانی باپ قرار دیتا تھا۔ ان کا دوسرا چہرہ وہ تھا جسے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ وابستگی سے اِبا کرتے دیکھا گیا۔ میاں نوازشریف کا ایک چہرہ وہ تھا جو جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کو اپنے گھریلو تنازعات میں ثالث مقرر کرتا تھا۔ میاں نوازشریف کا دوسرا چہرہ وہ تھا جس نے قاضی حسین احمد پر کشمیر کے سلسلے میں 10 کروڑ روپے لینے کا الزام لگایا۔ میاں نوازشریف کا ایک چہرہ وہ تھا جو طاہر القادری کو اپنی پیٹھ پر لاد کر خانہ کعبہ کا طواف کراتا تھا اور معصومیت سے پوچھتا تھا: آپ امام مہدی تو نہیں؟ میاں نوازشریف کا دوسرا چہرہ وہ تھا جس کو طاہرالقادری کی مذمت کرتے دیکھا گیا۔ میاں نوازشریف کا ایک چہرہ وہ تھا جس نے چودھری شجاعت کے ساتھ معاہدہ کیا اور قرآن پر حلف اٹھایا کہ ہم معاہدے کی ایک ایک شق پر عمل کریں گے۔ میاں نوازشریف کا دوسرا چہرہ وہ تھا جس نے چودھری شجاعت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل نہیں کیا۔ میاں نوازشریف کا ایک چہرہ وہ تھا جس نے جنرل پرویز کے خلاف مزاحمت کا علَم بلند کیا۔ میاں نوازشریف کا دوسرا چہرہ وہ تھا جس نے جنرل پرویزمشریف کے ساتھ ڈیل کی اور سعودی عرب فرار ہوگیا۔ میاں نوازشریف کا ایک چہرہ وہ ہے جس نے پہلے آرمی ایکٹ کی مزاحمت کی راہ اختیار کی۔ میاں نوازشریف کا دوسرا چہرہ وہ تھا جس نے آنکھ بند کرکے آرمی ایکٹ پارلیمنٹ سے پاس کرایا۔ میاں نوازشریف کا ایک چہرہ وہ تھا جس نے ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگایا۔ میاں نوازشریف کا دوسرا چہرہ یہ ہے کہ نواز لیگ کے ممتاز رہنما احسن اقبال نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ نوازشریف کے بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کے عمل کو ڈیل کہنا بڑی زیادتی کی بات ہے۔ (روزنامہ جنگ، 22 اگست 2020ء)۔
حقیقت یہ ہے کہ میاں نوازشریف کی پوری زندگی ڈیل کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ ان کی زندگی کا شاید ہی کوئی مرحلہ ایسا ہو جس میں انہوں نے کسی نہ کسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی ڈیل نہ کی ہو۔ اس سلسلے میں غیر جانب دار لکھاریوں کی تحریروں کا انبار لگایا جا سکتا ہے، مگر پھر میاں نوازشریف اور ان کے دیکھے اور اَن دیکھے سیاسی اور صحافتی وکیل کہیں گے کہ یہ لوگ تو اینٹی نوازشریف ہیں۔ اس لیے ہم ذیل میں میاں نوازشریف کے صحافتی وکیلوں، عاشقوں، دیوانوں اور پروانوں کی تحریروں کے اقتباسات پیش کررہے ہیں۔ ذرا دیکھیے تو میاں نوازشریف کے صحافتی وکیل اور عاشق میاں صاحب کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔
جاوید چودھری میاں شہبازشریف کے دوست اور میاں نوازشریف کے عاشق ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک کالم میں لکھا:۔
’’یہ کہانی 5 دسمبر 2019ء کو شروع ہوئی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے آٹھ سینئر لیڈروں کو لندن طلب کرلیا، یہ لیڈر خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، پرویز رشید، امیر مقام، رانا تنویر، مریم اورنگزیب، خرم دستگیر اور سردار ایاز صادق تھے۔ یہ لوگ 6 دسمبر کی شام برطانیہ پہنچ گئے، میاں شہبازشریف نے 7 دسمبر کو ان لوگوں کو ماروش گارڈن میں لنچ دیا، لنچ کی بعد ایون فیلڈ میں ان کی میاں نوازشریف سے ملاقات ہونی تھی، آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا تھا تاہم حکومت نے اپوزیشن سے رابطے شروع کردیے تھے، یہ لوگ قیادت سے آئندہ کا لائحہ عمل پوچھنا چاہتے تھے، قیادت بھی انہیں اپنے فیصلے سے مطلع کرنا چاہتی تھی، شاہد خاقان عباسی نے جیل سے میاں نوازشریف کے لیے خط تحریر کیا تھا اور اس خط میں اپنی رائے دی تھی، اُن کا خیال تھا ہمیں اس ترمیم کا حصہ نہیں بننا چاہیے، یہ ہماری بہت بڑی تاریخی غلطی ہوگی، حکومت کو یہ کام خود کرنے دیں۔ شاہد خاقان عباسی نے خط میں اپنے دورِ حکومت کے چند واقعات اور چند ڈویلپمنٹس کا ذکر بھی کیا تھا۔ میاں شہبازشریف نے لنچ کے دوران تمام لوگوں کی رائے لی۔ ارکان کا خیال تھا ہمیں صاف انکار کردینا چاہیے، میاں شہبازشریف متفق نہیں تھے، ان کا خیال تھا صاف جواب نہیں دینا چاہیے، ہمیں درمیان کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ خرم دستگیر نے مشورہ دیا ’’ہم ایکسٹینشن دے کر الیکشن لے سکتے ہیں‘‘، ہم حکومت کو آفر کردیں کہ ہم قانون سازی میں آپ کی مدد کرتے ہیں لیکن آپ پہلے مڈٹرم الیکشن کا اعلان کردیں۔ میاں شہبازشریف نے یہ تجویز بھی لکھ لی۔ یہ تمام لوگ اس کے بعد میاں نوازشریف کے پاس چلے گئے، اسحاق ڈار بھی ان میں شامل تھے۔ شہبازشریف نے بڑے بھائی کو تمام ارکان کی رائے سے مطلع کیا اور پھر فیصلہ ان پر چھوڑ دیا۔ میاں نوازشریف نے اشارہ کیا اور حسین نواز قرآن مجید لے کر آگئے۔ میاں نوازشریف نے سب سے کہا: آپ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کریں کہ اس کمرے کی گفتگو باہر نہیں جائے گی۔ اسحاق ڈار اور میاں شہبازشریف سمیت تمام نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ دیا۔ میاں نوازشریف نے اس کے بعد ترمیم کی غیر مشروط حمایت کا حکم دے دیا، صرف خرم دستگیر واحد شخص تھا جس نے اس فیصلے پر اعتراض کیا، اس کا کہنا تھا ہم غلطی کررہے ہیں، ہمیں اپنی ترامیم بھی ایوان میں پیش کرنی چاہئیں۔ میاں نوازشریف نے انہیں ترامیم کا ڈرافٹ تیار کرنے کا حکم دے دیا۔ خواجہ آصف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو قیادت کے فیصلے سے مطلع کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ خرم دستگیر نے اگلے دن چار ترامیم نوازشریف کو بھجوا دیں، میاں صاحب نے ان ترامیم کی وجوہات معلوم کیں، خرم دستگیر نے وجوہات کا پیپر بھی لکھ کر بھجوا دیا، لیکن میاں نوازشریف کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ یہ آٹھوں سینئر ارکان چند دن بعد پاکستان واپس آگئے۔ میاں نوازشریف کا فیصلہ پاکستان پیپلزپارٹی، جے یو آئی (ف) اور حاصل بزنجو کی پارٹی تک پہنچا تو تینوں نے اسے اپوزیشن اتحاد توڑنے کی سازش قرار دے دیا، ان کا کہنا تھا یہ فیصلہ متحدہ اپوزیشن کو کرنا تھا، میاں نوازشریف اکیلے فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں! لیکن نون لیگ نے اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا۔ 16 دسمبر 2019ء کو سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آگیا، حکومت نے 7 جنوری کو ترمیم کا فیصلہ کرلیا، پرویز خٹک نے اپوزیشن سی رابطہ کیا، میاں برادران نے پارٹی کو غیر مشروط حمایت کا حکم دے دیا، پاکستان پیپلزپارٹی نے ترمیم سے ایک دن قبل ترامیم کی تیاری شروع کردی لیکن 7 جنوری کو ترمیم کے دن صبح آصف علی زرداری کی طرف سے پیغام آگیا اور نوید قمر نے ترامیم کا فیصلہ واپس لے لیا، 7 جنوری کو قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی اور 8 جنوری کو سینیٹ سے بھی ترمیم کی منظوری آگئی۔ یوں یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا‘‘۔
جاوید چودھری اس کالم میں مزید لکھتے ہیں کہ انہیں نوازشریف سے اختلاف کرنے والوں پر شک تھا، لیکن پھر کیا ہوا جاوید چودھری کی زبانی سنیے:۔
’’آپ یقین کریں مجھے ماضی میں ان لوگوں کی رائے اور رویوں پر شک تھا، لیکن 7 جنوری کے بعد یہ لوگ مجھے سچے دکھائی دے رہے ہیں، میں یہ بھی مان گیا ہوں کہ میاں نوازشریف اپنے سگے بھائی میاں شہبازشریف کا سیاسی کیریئر تک نگل گئے ہیں۔ پارٹی کا کُل اثاثہ میاں شہبازشریف کی کارکردگی اور پرفارمنس ہے، لیکن یہ اس پرفارمنس کے باوجود آج لندن میں بیٹھے ہیں اور ان کا بیٹا حمزہ شہباز جیل میں، جب کہ میاں نوازشریف کے دونوں صاحبزادے لندن میں پھر رہے ہیں، صاحبزادی بھی عن قریب لندن پہنچ جائے گی۔ کیا یہ وہ اصول تھے، کیا یہ وہ اصولی مؤقف تھا آپ جس کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے؟ کیا یہ وہ ووٹ تھا آپ جس کی عزت کا پرچم لہراتے رہے؟ اور کیا یہ وہ سویلین بالادستی تھی جس کا لولی پاپ آپ پوری قوم کو دیتے رہے؟
میں دل سے سمجھتا ہوں کہ میاں نوازشریف نے اس فیصلے سے اپنی سیاست کا آخری باب بھی بند کردیا اور ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کا دل بھی توڑ دیا جو انہیں حقیقتاً اپنے دلوں کا قائد سمجھتے تھے۔ انہوں نے حاصل بزنجو جیسے وفادار دوست بھی کھو دیے اور مولانا فضل الرحمٰن کا سیاسی کیریئر بھی تباہ کردیا، میاں نوازشریف کو ان کی جلاوطنیاں، مقدمے اور جیل ختم نہیں کرسکے لیکن ایک غیر مشروط حمایت نے انہیں تاریخ کے قبرستان میں دفن کردیا، اور آج کے بعد اُن پر صرف اور صرف بے وقوف لوگ ہی اعتبار کریں گے، لوگ ان کے حلف پر بھی یقین نہیں کریں گے۔“
(روزنامہ ایکسپریس۔ 14 جنوری 2020ء)
جاوید چودھری نے اپنے ایک اور کالم میں اپنے ’’محبوب رہنما‘‘ میاں نوازشریف کی ذاتِ والا صفات پر کلام فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:۔
’’میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کو پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ سمجھتا ہوں، اس فیصلے نے پوری سیاسی قیادت کے منہ سے نقاب اتار دیا، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے میاں نوازشریف کی رضامندی سے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، اس ووٹ نے ثابت کردیا کہ میاں نوازشریف دو ہیں، برسراقتدار میاں نوازشریف اور اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف۔ میاں نوازشریف اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی آرمی چیف کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردیتے ہیں، اور اپوزیشن میں بیٹھے میاں نوازشریف ہمیشہ فوج کے ساتھ کمپرومائز کرتے ہیں، یہ جنرل پرویزمشرف کے ساتھ دس سال کا معاہدہ کرکے جدہ بھی چلے جاتے ہیں، اور یہ بیماری کا بہانہ کرکے لندن میں بھی پناہ گزین ہوجاتے ہیں۔ ترمیم نے ثابت کردیا کہ میاں نوازشریف نظریاتی لیڈر نہیں ہیں، یہ وقت کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ان کے فیصلے ضمیر نہیں وقت کرتا ہے۔ ترمیم نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قلعی بھی کھول دی، یہ ثابت ہوگیا کہ پارٹی سے بھٹو اور محترمہ دونوں کی روح نکل چکی ہے، یہ اب زرداری پارٹی ہے اور آپ اس سے کچھ بھی منوا لیں۔ اور ترمیم نے یہ بھی ثابت کردیا کہ پاکستان نیا نہیں بلکہ یہ پرانے سے بھی پرانا ہوچکا ہے، عمران خان پرانے لیڈروں کے بھی بزرگ ہیں۔ وہ لوگ تو پھر بھی کسی نہ کسی جگہ اَڑ جاتے تھے، جب کہ نیا پاکستان ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ ترمیم کو ہونا ہی تھا اور ہو بھی گئی، لیکن چلیں شکر ہے نظریاتی سیاست کا کیڑا تو نکل گیا، اداروں کے استحکام اور سسٹم کی بقا کی بحث تو ختم ہوگئی، ووٹ کو عزت دو کا بخار تو ختم ہوگیا، اور قوم کو یہ تو معلوم ہوگیا کہ ملک میں اگلے چند برسوں میں کیا ہوگا اور کیسے ہوگا۔ چنانچہ دائیں یا بائیں نہ دیکھیں، سیدھا دیکھیں اور چپ چاپ زندگی گزاریں۔ ہمارے ملک میں صرف قومی مفاد حقیقت ہے اور اس قومی مفاد پر ساری پارٹیاں ایک ہیں۔“
(روزنامہ ایکسپریس ۔ 9 جنوری 2020ء)
خورشید ندیم میاں نوازشریف کے صحافتی وکیل بھی ہیں اور صحافتی عاشق بھی۔ انہیں میاں نوازشریف کی ’’پنجابی عصبیت‘‘ تک سے محبت ہے۔ ان کا بس چلے تو وہ میاں نوازشریف کے “Speech Writer” بن جائیں۔ مگر میاں نوازشریف نے ڈیل اور سمجھوتے کی سیاست کی تو خورشید ندیم کو بھی لکھنا پڑ گیا کہ ان کا سیاسی رومان المناک انجام سے دوچار ہوگیا ہے۔ دراصل یہ ان کے کالم کا عنوان ہے۔ اس عنوان کے تحت خورشید ندیم لکھتے ہیں:
”یہ خوش گمانیوں کا موسم تھا جو رخصت ہوا۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔
نوازشریف اور عمران خان سے دو رومان وابستہ ہوئے۔ ایک عوام کی حاکمیت کا، دوسرا روایتی سیاست سے نجات کا۔ دونوں کو حقیقت پسندی کی سنگلاخ زمین پر ننگے پاؤں چلنا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں آبلہ پائی کا شکار ہوگئے۔ نئے سال کا آغاز ہوا تو دونوں نے حقیقت پسندی کے سامنے ہتھیار رکھ دیے۔ آرمی ایکٹ میں تبدیلی کا مجوزہ قانون اس کے سوا کچھ نہیں کہ دونوں کا زمینی حقائق کے روبرو اعترافِ عجز ہے۔ خان صاحب کے بارے میں تو کوئی ابہام نہیں تھا کہ وہ ”اسٹیٹس کو“ ہی کی نمائندگی کررہے تھے۔ خوش گمانی نوازشریف صاحب کے بارے میں تھی۔
نوازشریف نے اقتدار کی سیاست سے اقدار کی سیاست کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ 1999ء کے بعد ہم اس کے آثار دیکھ سکتے ہیں۔ کبھی سست روی سے، کبھی شتابی کے ساتھ۔ کبھی ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے۔ کبھی دو قدم آگے اور ایک قدم پیچھے، ان کا سفر جاری رہا۔ بحیثیتِ مجموعی انہوں نے خیر کی طرف قدم بڑھایا۔
مثال کے طور پر ان سے کرپشن کی جو داستانیں منسوب ہیں، ان کا تعلق 1980-90ء کی دہائیوں سے ہے۔ اس کے بعد تو داستان نگار بھی خاموش ہوگئے۔ تب ہی ان کو نااہل قرار دینے کے لیے ”اقامہ“ کا سہارا لینا پڑا۔ ان کے معاملے میں ریاست کے تمام اداروں نے مل کر، جس طرح زمین آسمان کو کھنگال مارا، لازم تھا کہ کوئی ایک آدھ، سچی جھوٹی کہانی ہی گھڑ لی جاتی، مگر یہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔
شعوری سطح پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ روایتی مذہب پسندی سے نکلے اور روشن خیالی کی طرف آئے۔ انہوں نے پاکستان کی نظری ساکھ میں موجود تضادات کو سمجھا اور یہ کوشش کی کہ اسے جدید قومی ریاست کے تصور سے ہم آہنگ بنائیں۔ یہ بھی امرِ واقع ہے کہ انہوں نے معاشی طور پر پاکستان کو توانا بنانے کے لیے ایک قابلِ عمل پالیسی ترتیب دی جس کے شواہد جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں شہبازشریف صاحب کا تعاون میسر رہا جن کی انتظامی صلاحیتوں کا سارا ملک معترف ہے، اِلّا یہ کہ کوئی سامنے رکھی چیزوں کے وجود سے انکار کردے۔
نوازشریف صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ عوام کی سیاسی توقیر کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ آسان کام نہیں۔ اس میں جان بھی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے دو سال ایک معرکہ لڑا۔ عوامی حاکمیت کا علَم سب سے پہلے پیپلز پارٹی نے اٹھایا تھا۔ اب لازم تھا کہ پنجاب سے اٹھنے والا کوئی راہنما بھی یہ ہمت کرتا، اور یوں یہ ایک قومی بیانیہ بنتا۔ نوازشریف نے ہمت کی، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسے ایک قومی بیانیہ بنادیا۔ جب یہ قومی بیانیہ بن گیا تو نوازشریف صاحب سے بیماری اور نون لیگ سے سیاسی حقیقت پسندی لپٹ گئی۔
نوازشریف صاحب کو اندازہ ہوچلا ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر نون لیگ کے مؤقف نے، ان توقعات کو شدید نقصان پہنچایا جو عوامی حاکمیت کے علَم برداروں نے ان سے وابستہ کرلی تھیں۔ بالخصوص وہ لوگ جن کا تعلق چھوٹے صوبوں سے ہے اور وہ ان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، انہوں نے آخری وقت پر مداخلت کی اور پارلیمنٹ کے وقار کو کم از کم علامتی طور پر بچانا چاہا۔ یوں یہ قانون جو ایک ہی دن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونا تھا، اب ایک باضابطہ کارروائی کے بعد منظور ہوسکے گا۔
معاملہ جو بھی ہو، عام آدمی اب اسی نتیجے تک پہنچا ہے کہ ”تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے‘‘۔ تحریکِ انصاف کے بارے میں تو کوئی ابہام نہیں تھا، اب نون لیگ کے بارے میں بھی یہی رائے مستحکم ہورہی ہے۔ یہاں بھی نوازشریف کے بیانیے پر شہبازشریف صاحب کا بیانیہ غالب آچکا۔ آج سب ایک ہی دربار کی خوشنودی کے طلب گار ہیں“۔
(روزنامہ دنیا۔ 4 جنوری 2020ء)
سلیم صافی میاں صاحب کے عاشق تو نہیں مگر ان کے وکیل ضرور ہیں۔ وہ میاں نوازشریف کے اتنے قریب ہیں کہ میاں صاحب انہیں ”مشورے“ کے لیے شرفِ ملاقات بخشتے رہے ہیں۔ مگر میاں صاحب نے ڈیل، ڈھیل اور سمجھوتے کی سیاست کی تو سلیم صافی نے ”بڑے بے آبرو ہوکر بیانیے کو ہم بدلے“ کے عنوان سے ایک کالم تحریر فرمایا۔ اس کالم میں سلیم صافی نے لکھا:
”2013ء کے انتخابات کے چند روز بعد میاں نوازشریف نے رائےونڈ میں اپنے گھر پر لنچ کے لیے مدعو کیا۔
وہ افغانستان اور طالبان جیسے ایشوز پر گپ شپ کرنا چاہ رہے تھے۔ نیشنل سیکورٹی کے معاملات ڈسکس ہورہے تھے تو دورانِ گفتگو گزارش کی کہ وہ جنرل پرویزمشرف کو چھیڑنے سے گریز کریں۔ دلیل میں نے یہ دی کہ چونکہ بارہ تیرہ سال فوج کے ساتھ اُن کے تعلقات خراب رہے اِس لیے اُنہیں اِس خلیج کو پُر کرنے پر توجہ دینا چاہیے، جبکہ پرویزمشرف کے خلاف کارروائی اِس خلیج کو دوبارہ وسیع کرسکتی ہے۔
اُنہوں نے بحث کی تو عرض کیا کہ جب تک وہ (میاں نوازشریف) اٹک جیل میں رہے تب تک پرویزمشرف حکمرانی کو انجوائے نہیں کرسکے تھے، لیکن اُن کو جدہ بھیجنے کے بعد ہی اُنہوں نے سکون سے حکمرانی پر توجہ دی اور اِس کو انجوائے کرنے لگے۔ اس لیے اگر وہ (میاں صاحب) سکون سے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں تو اِس کے لیے ضروری ہے کہ پرویزمشرف کو جانے دیا جائے۔
بہرحال اقتدار پر فائز لوگ کب ہم جیسے طالب علموں کی سنتے ہیں۔ چنانچہ چند نام نہاد انقلابیوں اور خوشامدیوں کی ایما پر جنرل پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ قائم کرلیا گیا۔ اِس اقدام کے خلاف اس وقت میرے کالم ریکارڈ پر ہیں۔ اسی طرح میرا یہ بھی موقف تھا کہ اگر مقدمہ قائم کرنا ہے تو پھر صرف پرویزمشرف کیوں، وہ جج اور سیاست دان کیوں نہیں جو سہولت کار بنے؟ بہرحال مقدمہ قائم ہوگیا۔
کچھ عرصے بعد میاں نوازشریف نے محترم بھائی میجر (ر) محمد عامر اور اس طالب علم کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر مشاورت کے لیے بلایا تھا۔ فواد حسن فواد بھی اس گفتگو کے گواہ ہیں۔ اُس دن اتفاقاً جنرل پرویزمشرف کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔
دورانِ ملاقات وزیراعظم سے عرض کیا کہ اُنہوں نے یہ پرویزمشرف والا تنازع کیوں مول لیا۔ وہ حق میں جبکہ میجر عامر اور یہ طالب علم مخالفت میں دلائل دیتے رہے۔ ایک موقع پر میاں نوازشریف نے طنز کرتے ہوئے میجر عامر سے کہا کہ میجر صاحب! فوجی آپ ہیں لیکن آپ سے زیادہ سلیم کو جنرل پرویزمشرف کے ساتھ ہمدردی ہے۔
میں نے جواباً عرض کیا کہ وزیراعظم صاحب! میں جنرل مشرف کی نہیں بلکہ ملک اور نظام کی ہمدردی میں آپ سے یہ گزارش کررہا ہوں۔ آپ اس کے بجائے ڈیلیوری پر توجہ دیں۔ نہ آپ طیب اردوان ہیں اور نہ آپ کی پارٹی ان کی پارٹی جیسی ہے۔ بہرحال میاں صاحب اپنے خوشامدی ٹولے کے ورغلانے پر طیب اردوان بننے کی کوشش کرنے لگے۔
چنانچہ ردِعمل میں عمران خان اور طاہر القادری کو میدان میں اُتارکر اُن کی حکومت کے خلاف دھرنے دلوائے گئے۔ نتیجتاً جو ہاتھ میاں صاحب گریبان میں لے کر گئے تھے، وہی ہاتھ قدموں میں لے گئے لیکن ان کی معافی قبول نہ ہوئی اور دوسرے فریق کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ اس شخص کا ذہن صاف نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اِس کے بعد ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ میڈیا کو اُن کے خلاف لگا دیا گیا۔
اُنہیں مودی کا یار باور کرایا گیا۔ لاک ڈائون سے ان کو مزید کمزور کردیا گیا، جبکہ پاناما کو اُن کے خلاف اِس طرح استعمال کیا گیا کہ اُن کو وزارتِ عظمیٰ سے بھی محروم ہونا پڑا۔
اِس دوران پھر شہبازشریف اور چودھری نثار علی خان ان کو سمجھاتے رہے کہ سزا کے بعد ہمیں اپنی حیثیت کو دیکھ کر معاملات سدھار لینے چاہئیں، لیکن اب اُن پر ایک طرف تو انتقام کا جذبہ غالب آگیا تھا اور دوسری طرف وہی خوشامدی اُن کو باور کراتے رہے کہ بس اُن کے جی ٹی روڈ پر نکلنے کی دیر ہے اور پاکستان راتوں رات ترکی بن جائے گا۔
ایک خوشامدی نے اُنہیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی تھما دیا، جبکہ مریم نواز صاحبہ نام نہاد انقلابی خوشامدیوں کے ورغلانے میں اپنے والد سے بھی زیادہ انقلابی بن گئیں۔ نتیجتاً مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں مزید ٹھکانے لگادیا گیا اور اس انتقام میں ہی عمران خان وزیراعظم بن گئے۔ میاں صاحب اور مریم صاحبہ کو نہ صرف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں بلکہ انہیں کلثوم نواز صاحبہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جیل جانے کے لیے پاکستان آنے کا ناقابلِ تلافی صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔
درمیان میں چند ماہ کے لیے چپ کا روزہ رکھ کر میاں صاحب اور مریم صاحبہ نے شہبازشریف کے کہنے پر دوبارہ سیاسی شریف بننے کی مشق کی، لیکن کچھ عرصے بعد دوبارہ انقلابی بننے لگے۔ چنانچہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ اور خواجہ سعد رفیق جیسے اُن کے مخلص ساتھیوں کی آزمائشیں مزید بڑھ گئیں اور قید و بند کا سلسلہ شہبازشریف اور اُن کے بچوں تک بھی دراز ہوا۔
اِس دوران فریق ثانی کو بھی ضرورت پڑ گئی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو بھی احساس ہوگیا کہ انقلابیت کا یہ بھاری پتھر وہ زیادہ دیر نہیں اٹھا سکتے۔ چنانچہ گزشتہ سال کے اواخر میں شہبازشریف اور فریق ثانی کے معاملات طے پائے۔
اب کی بار جو کچھ ہورہا تھا اُس میں میاں نوازشریف اور مریم نواز صاحبہ بھی پوری طرح شریک تھے، جبکہ خواجہ آصف جیسے انقلابی نہ صرف آن بورڈ تھے بلکہ خود معاملات کو یہاں تک لانے میں اُنہوں نے پوری کوششیں بھی کیں۔ اِسی اسکیم کے تحت شہبازشریف لندن میں ہیں جبکہ مریم نواز غائب اور خاموش ہیں۔
پرویز مشرف کے خلاف عدالت کے فیصلے پر خاموشی اور اب آرمی ایکٹ میں ترمیم پر حمایت دراصل اس مفاہمت کی کڑیاں ہیں جو ملک کے وسیع تر مفاد میں شریف فیملی کے ساتھ ہوچکی ہے۔ چھوٹے اور بڑے شریف ہلکے پھلکے اختلاف کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دفن کرنے میں رسوائی ضرور تاہم فائدہ بہت ہے، جبکہ اس سے چمٹے رہنے میں آزمائش ہی آزمائش ہے۔
ظاہری طور پر دونوں کی سوچ اور اپروچ کا اختلاف نظر آتا ہے لیکن میاں شہبازشریف نوازشریف کو نہیں چھوڑ سکتے، جبکہ شہبازشریف جو کچھ کررہے ہیں اُس میں اُنہیں میاں نوازشریف کی تائید حاصل ہے۔
حقیقی اختلاف اگر کوئی ہے تو وہ شہبازشریف اور نوازشریف کی اولاد میں سیاسی جانشینی کے معاملے پر ہے، باقی ملک کے وسیع تر مفاد میں مسلم لیگ (ن) نے مفاہمت اور تابع داری کی جو پالیسی اپنالی ہے اس پر میاں شہبازشریف، میاں نوازشریف اور مریم نوازشریف کے مابین وسیع تر مفاہمت پائی جاتی ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ جب یہی پیاز کھانے تھے تو پھر سو جوتے کھانے کی کیا ضرورت تھی؟
اسی طرح شریف فیملی کے وسیع ترمفاد میں لیے گئے اِس یوٹرن سے پہلے کیا ضروری نہیں تھا کہ مریم نوازشریف، اپنے انقلابی اتالیقوں کو ساتھ لے کر پہلے چودھری نثار علی خان کے گھر جاکر اُن سے معافی مانگتیں اور پھر معذرت کے لیے شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ، حنیف عباسی اور خواجہ سعد رفیق وغیرہ کے پاس چلی جاتیں۔
شاید اسے کہتے ہیں بڑے بےآبرو ہوکر بیانیے کو ہم بدلے“۔
(روزنامہ جنگ۔ 4 جنوری 2020ء)
یاسر پیرزادہ معروف مزاح نگار اور کالم نویس عطا الحق قاسمی کے فرزند ہیں۔ عطا الحق قاسمی کا بس چلے تو وہ میاں صاحب کو ”ولایت“ سے سرفراز کردیں، مگر میاں نوازشریف نے ڈیل اور سمجھوتے کی سیاست کی تو یاسر پیرزادہ میاں صاحب کا مذاق اڑانے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے کالم لکھا جس کا عنوان تھا ”کریلے گوشت کو عزت دو“۔ یہ ووٹ کو عزت دو کا چربہ ہے۔ اس کالم میں یاسر پیرزادہ نے میاں نوازشریف اور نواز لیگ کا نام لیے بغیر لکھا:
”لالہ جی کی یاد اِس لیے آئی کہ آج کل کچھ لوگ جو دو ماہ پہلے تک نظریاتی جدوجہد کا جھنڈا لہرا رہے تھے، یکایک اُس جھنڈے کو سرنگوں کرکے تاویلیں پیش کررہے ہیں کہ اب بھی وہ نظریاتی ہیں مگرجھنڈا لہراتے لہراتے تھک گئے ہیں، سو تھوڑی دیر کے لیے بریک لی ہے۔
دلیل اُن کی یہ ہے کہ نظریے کا جھنڈا لہرانے کا کام اُن کے اکیلے کا نہیں، وہ یہ کام گزشتہ کئی برس سے کررہے ہیں، اس جدوجہد میں انہوں نے بے شمار قربانیاں بھی دی ہیں، لہٰذا انہیں یہ طعنہ دینا کہ وہ اپنے نظریے سے ہٹ گئے ہیں، بہت زیادتی کی بات ہے، جو لوگ انہیں یہ طعنے دیتے ہیں وہ خود کسی قسم کی جدوجہد کرنے کے لیے تیار نہیں.
ایسے لوگوں کی جدوجہد ٹویٹر اور فیس بک تک محدود ہے جہاں وہ ایک ٹویٹ کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کا حق ادا کردیا ہے اور اس کے بعد وہ کریلے گوشت کھا کر سو جاتے ہیں۔ یہ طعنہ بھی انہوں نے عوام کو دیا کہ ہمسایہ ملک میں ایک قانون منظور ہوا جس کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ ہمارے عوام اپنے گوشہ عافیت سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ اِن دلائل میں کتنا وزن ہے، دیکھتے ہیں!“
(روزنامہ جنگ۔ 12 جنوری 2020ء)
یاسر پیرزادہ ”کریلے گوشت کو عزت دو“ تک محدود نہ رہے۔ انہوں نے میاں صاحب اور نواز لیگ کے حوالے سے ایک اور کالم لکھا، اس کا عنوان تھا ”سو جوتے اور سو پیاز کھانے کی خوشی“۔ اس کالم میں یاسر پیرزادہ نے لکھا:۔
”یہ ضروری نہیں کہ انسان کسی انفرادی ہدف کے حصول سے ہی خوشی حاصل کرے، بعض اوقات اجتماعی ہدف کا حصول بھی خوشی کا باعث بنتا ہے اور کبھی کبھی اُس نظریے کی شکست مایوسی کا سبب بنتی ہے جس کی آپ نے حمایت کی ہو۔
دراصل انسانوں اور جانوروں میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ انسان اپنے کنبے سے باہر لوگوں کے بارے میں بھی فکرمند ہوتا ہے اور ایک اجتماعی فلاح اُس کے پیش نظر ہوتی ہے، جو انسان اِس سوچ سے عاری ہو اُس میں اور جنگل کے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم انفرادی خوشی کے لیے تو سر پیر مارتے ہیں مگر اجتماعی خوشی کے حصول کے لیے چاہتے ہیں کہ یہ کام ہمارے لیے کوئی اور شخص کرے۔
مثلاً ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو، مگر جب اِس کام کے لیے عملاً کچھ کرنے کا موقع آتا ہے تو اُس وقت ہم بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور سر جھکا کر رکوع بلکہ سجدے میں گر جاتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حصے کی جدوجہد کوئی نڈر صحافی کرے اور ہمارے جمہوری بیانیے کو پہناوا کوئی سچا کھرا جج پہنا دے۔
ہمیں کوئی کام کرنا نہ پڑے اور بادلِ نخواستہ اگر کسی مرحلے پر کچھ کرنا پڑ ہی جائے تو پھر ہم سے کسی قسم کی حریت پسندی کی امید نہ رکھی جائے، ہم وہ ہیں جو سو جوتے بھی کھاتے ہیں اور سو پیاز بھی، اور پھر اُس اسٹریٹجی پر ماتم بھی کرتے ہیں کہ’’خوشی‘‘ کیوں نہیں مل رہی!“
روزنامہ جنگ۔ 5 جنوری 2020ء)
محمد اظہارالحق ملک کے معروف شاعر اور کالم نویس ہیں۔ وہ میاں نوازشریف کی حمایت نہیں کرتے تو ان کی مخالفت بھی نہیں کرتے، مگر جب میاں نوازشریف اور ان کے خانوادے نے ڈیل اور سمجھوتے کی سیاست کو ”چار چاند“ لگائے تو محمد اظہارالحق تلخ نوائی پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے روزنامہ دنیا میں ”دھکا کس نے دیا“ کے عنوان سے کالم تحریر فرمایا۔ انہوں نے لکھا:
”کیا آپ کو معلوم ہے چمگادڑ آرام کیسے کرتی ہے؟
یہ آرام کرنے کے لیے سر کے بَل لٹکتی ہے۔
پنجے بناوٹ میں ایسے ہوتے ہیں کہ درختوں کی شاخوں میں پھنس جاتے ہیں۔ یوں یہ پاؤں اوپر اور سر نیچے کرکے گھنٹوں، بلکہ پہروں، محوِ استراحت رہ سکتی ہے!
اُلّو رات کو جاگتا ہے۔ ہمارے ہاں اُلّو نحوست کی علامت ہے اور مغرب میں دانائی کی! یہ دن کو سوئے نہ سوئے رات کو بیدار ضرور رہتا ہے۔ جو لوگ رات کو دیر تک جاگتے ہیں اور صبح کو چست اور ایکٹو رہنے سے معذور ہیں انہیں ”نائٹ آؤل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اقبال نے اُلّو کو رات کا شہباز کہا ہے: ؎۔

معلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقت
کہہ دے کوئی اُلّو کو اگر رات کا شہباز

حیرت ہے کہ کچھ لوگ چمگادڑ سے یہ امید باندھے تھے کہ یہ آرام کرتے وقت الٹا لٹکنا چھوڑ دے گی۔ درخت سے نیچے اترے گی اور بیڈ روم میں جاکر مسہری پر، اسی طرح سوئے گی جیسے آدم زاد سوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کرسکی تو کم از کم درخت کی ٹہنی پر سیدھا بیٹھ کر آرام کرے گی۔
اُلّو سے وہ یہ توقع کررہے تھے کہ رات کو جاگنا ترک کردے گا۔ سحر خیزی اپنائے گا اور شرفا کی طرح رات شروع ہوتے ہی سو جائے گا۔ یوں محاورہ تبدیل ہوکر اس طرح ہوجائے گا۔
Early To bed and early To rise makes an Owl healthy, wealthy and wise!
مگر چمگادڑ اور اُلّو‘ دونوں نے ان کی امیدیں پورا کرنے سے انکار کردیا۔ دونوں کی مجبوری تھی۔ اُن کے جسموں اور ذہنوں کی ساخت ہی ایسی ہے۔ چمگادڑ قدرت نے بنائی ہی ایسی ہے کہ الٹا لٹکے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔ اُلّو کا باڈی کلاک اسے دن کو جاگنے نہیں دیتا اور رات کو سونے نہیں دیتا۔ اب آپ خود انصاف کیجیے چمگادڑ اور اُلّو کی جو مذمت ہورہی ہے کیا اس مذمت کا کوئی جواز بنتا ہے؟
مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ یہ کیسے مومن ہیں جو نوازشریف جیسے سیاست دان سے بار بار ڈسے جا رہے ہیں اور اب بال کھول کر، پٹکے کمر سے باندھ کر، نوحہ خوانی کررہے ہیں! پہلے خود ایک بیانیہ تخلیق کیا۔ پھر اسے نوازشریف سے وابستہ کیا۔ میاں صاحب کو عزیمت کا تاج پہنایا۔ میاں صاحب کے اپنے مفادات تھے، اپنا ایجنڈا تھا۔
وہ ماضی کی طرح عیش و آرام کی زندگی گزارنے ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور کیے گئے سمجھوتے کی پارلیمنٹ میں لاج رکھی ہے، تو وہ حضرات جنہوں نے بیانیہ خود تخلیق کیا تھا اور عزیمت کا تاج خود ہی خیالی سر پر پہنایا تھا، بیٹھے رو رہے تھے! کوئی مذمت کررہا ہے، کوئی تاویل۔ وہ لطیفہ انہیں بالکل یاد نہیں آرہا جس میں ایک بچہ پانی میں ڈوب رہا ہوتا ہے، ایک شخص پانی میں چھلانگ لگا دیتا ہے۔ بچہ اس سے چمٹ جاتا ہے۔ دونوں باہر نکل آتے ہیں۔ جب لوگ بچے کو بچانے پر اس کی تعریف کررہے ہوتے ہیں تو وہ غصے سے پوچھتا ہے کہ مجھے دھکا کس نے دیا تھا؟
عزیمت کا راستہ وہ نہیں چُنتے جن کا طرزِ زندگی میاں صاحب جیسا ہوتا ہے۔ جس کی اتنی بھی Concentration نہ ہو کہ اپنے بارے میں آیا ہوا عدالتی فیصلہ ہی خود پڑھ لے، جس کی زندگی کا ڈھب یہ ہو کہ دوپہر مری میں تو شام لاہور میں! وطنِ اصلی لندن اور وطنِ اقتدار پاکستان! جس کی سوچ کا محور ناشتے، ظہرانے اور عشائیے کی تفصیلات ہوں، جو کئی پاکستانیوں کو مار دینے والے دھماکے کے کچھ دیر بعد کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ ٹریڈ سے شکوہ کررہا ہو کہ ظہرانہ ”کمزور‘‘ تھا، وہ عزیمت کا راستہ اختیار کرے گا؟ واہ جناب! واہ! ۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

(روزنامہ دنیا۔ 14 جنوری 2020ء)
حامد میر میاں نوازشریف کے پرستاروں میں سے ایک ہیں۔ لیکن میاں نوازشریف نے آرمی ایکٹ کے حوالے سے ہولناک سمجھوتے کی راہ ہموار کی تو حامد میر جیسا ”میاں پرست“ ”اے طائرِ لاہوتی! تم کدھر چلے گئے؟“ کے عنوان سے کالم لکھنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کالم میں حامد میر نے لکھا:۔
”مسلم لیگ (ن) کے اراکینِ پارلیمنٹ کی بڑی اکثریت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت کی ہے۔ ان مخالفین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو ایک قانون بنا دینے سے سازشوں کے دروازے کھل جائیں گے اور جب بھی کسی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کے تین سال پورے ہونے کو آئیں گے تو توسیع کے لیے جوڑتوڑ شروع ہوجائے گی، اس لیے بہتر ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کو سنیارٹی سے مشروط کردیا جائے۔ وہ (ن) لیگی جو اس ترمیمی بل کے حامی ہیں، کا دعویٰ ہے کہ اس بل کی حمایت کے نتائج بہت جلد سامنے آئیں گے۔
ہمیں ان نتائج سے کوئی غرض نہیں، کیونکہ ہمارے لیے تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں فرق ختم ہوچکا ہے، ان سب نے اپنے آپ کو کسی کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ ہمیں تو وہ شعر بار بار یاد آتا ہے جو کسی زمانے میں نوازشریف اپنی تقریروں میں استعمال کیا کرتے تھے:۔

اے طائر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

(روزنامہ جنگ۔ 6 جنوری 2020ء)
بلال غوری میاں نوازشریف اور نواز لیگ کے عاشقوں میں سے ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ میاں صاحب کو تاحیات وزیراعظم بنوا دیں۔ مگر جب میاں صاحب نے اپنے بیانیے کو سولی پر لٹکایا تو بلال غوری نے ”ایک بیانیہ جو فوت ہوگیا“ کے عنوان سے کالم تحریر فرمایا۔ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا:۔
”انسانوں کی طرح ان کے بیانیے بھی فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ میں نے گزشتہ برس 9دسمبر کو انہی صفحات پر ایک مقبول عام بیانیے کی گمشدگی پر شور و غوغا کا اہتمام کیا تھا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ لاپتا ہونے والا بیانیہ نہ صرف مر گیا بلکہ اس کی مسخ شدہ لاش بھی برآمد کی جا چکی ہے۔
ہمارے ہاں فکری انحطاط کے باعث بے نوری کا یہ عالم ہے کہ برسہا برس انتظار کے بعد کوئی نیا بیانیہ جنم لیتا ہے، اس لیے کسی بیانیے کا وفات پا جانا قومی سطح کا سانحہ شمار ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ نامی بیانیہ جس کی عرفیت ’’سویلین بالادستی‘‘ تھی، کے سانحہ ارتحال پر ملک بھر میں حزن و ملال کی کیفیت طاری ہے۔ بے ثباتی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران ان گناہ گار آنکھوں نے دو مقبول بیانیے مرتے دیکھے ہیں۔“
(روزنامہ جنگ۔ 7 جنوری 2020ء)
مہر بخاری اس ملک کی معروف اینکر ہیں۔ وہ روزنامہ دنیا میں کالم بھی لکھتی رہی ہیں۔ مہر بخاری میاں صاحب کی پرستار تو نہیں مگر ان کی مخالف بھی نہیں، لیکن میاں صاحب نے ڈیل اور سمجھوتے کو گلے لگایا تو مہر بخاری نے لکھا:۔
”مؤرخ اب کی بار سیاست کی تاریخ لکھے گا تو جمہوریت کے گزشتہ تیس سالوں کا ذکر شاید کم اور اہلِ جمہور کے قومی اسمبلی میں گزرے آج کے بارہ منٹ کا تذکرہ سب سے زیادہ ہوگا۔ یہ بارہ منٹ جمہوریت کا خلاصہ بیان کریں گے۔ یہ اپنے طرز کی نئی تاریخ ہوگی۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کا ذکر ہوگا مگر کسی اور انداز میں۔ وزیراعظم سروسز چیفس کو توسیع دینے کے مجاز ہوں گے۔ ملک کی کوئی عدالت اس اختیار پر سوال نہیں اٹھائے گی۔ یہ پارلیمان کا متفقہ فیصلہ ہے۔ یہ حکومتِ وقت کی وہ پہلی ترمیم ہے جو اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کو بغیر کسی شرط کے قبول ہے۔
یہ بارہ منٹ سیاست کی تاریخ میں اس لیے بھی اہم ترین ہوں گے کہ ان چند منٹوں میں میاں صاحب کا بیانیہ دفن ہوا، پیپلز پارٹی کی کم و بیش شناخت اور کسی کی خودداری۔ ذرائع بتاتے ہیں‘ میاں صاحب نے لندن میں اپنی جماعت کے چند سینئر رہنمائوں سے قرآن پر حلف لیے کہ کوئی بات یہاں سے باہر نہیں نکلے گی۔ بات تب تک تو چھپی رہی جب تک خواجہ آصف کی طرف سے غیر مشروط حمایت کا اعلان نہیں ہوا، مگر کل رات ایک نجی بیٹھک میں نون لیگ کا ایک دل جلا بھڑک اٹھا، چند ہفتے قبل یہ طے ہوا تھا کہ نون لیگ حمایت تو کرے گی مگر شرط ہوگی کہ فقط موجودہ آرمی چیف کو توسیع دی جائے گی، آئندہ آنے والے سربراہان توسیع کے مجاز نہیں ہوں گے۔ مگر ان بارہ منٹوں نے نہ صرف ووٹ کی عزت کو دفن کردیا بلکہ مریم نواز کے جلسوں میں لگنے والے اینٹی خلائی مخلوق نعرے بھی زمین برد ہوگئے۔ نون لیگ کے اس دل جلے کے جذبات اتنے مجروح تھے کہ ایک ہی سانس میں بولا کہ حمایت کی اس کرم نوازی کے عوض گارنٹی دیتا ہوں کہ چند دنوں میں مریم نواز بھی ہیتھرو ایئرپورٹ پر نظر آئیں گی۔ اگرچہ خبر ہے کہ مریم نواز کو کسی نے یہ خبر ہی نہیں دی کہ ان کی جماعت غیر مشروط حمایت کرنے والی ہے۔ ابھی چند روز میں چند وزرا ٹی وی پروگراموں میں اس تاثر کو اسٹیبلش بھی کرتے نظر آئیں گے کہ مریم صاحبہ میاں صاحب کے اس تاریخی یُو ٹرن سے بالکل بے خبر تھیں۔ نجی محفل کے اس دل جلے نے مزید کہا کہ انہوں نے جب غیر مشروط حمایت کی تصدیق کرنے کے لیے سلمان شہباز کو فون کیا تو جواب ملا ”صبح سے گالیاں پڑ رہی ہیں‘ کہو اگر کچھ نیا ہے تو“۔ بہت اصرار کرنے پر جواب ملا: یہ جو بھی ہوا ہے میاں صاحب کا فیصلہ ہے۔ کچھ رنجشوں کو کم کرنے اور کہیں تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے۔ گڈ ول میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ سلمان شہباز نے ایک اور سینئر رہنما کو بتایا کہ مشرف دور میں میاں صاحب دس سال کے لیے جلا وطن ہوگئے تھے، اب ممکن ہے یہ دورانیہ پندرہ سال ہو۔“
(روزنامہ دنیا۔ 9 جنوری 2020ء)
عمار مسعود میاں نوازشریف کے بڑے صحافتی وکیلوں میں سے ایک ہیں۔ انہیں میاں صاحب میں ایک ”عظیم رہنما“ نظر آتا رہا ہے۔ مگر میاں صاحب نے ڈیل اور سمجھوتے کے ہار گلے میں ڈالے تو عمار مسعود نے ”نوازشریف نے ایسا کیوں کیا؟“ کے عنوان سے کالم تحریر فرمایا۔ انہوں نے لکھا:۔
”اس بات کو ماننے میں کوئی باک نہیں کہ جو کچھ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں کیا اُس سے ووٹ کے تقدس کا بیانیہ زمین بوس ہوگیا ہے۔ جو کچھ ہوا اُس سے سول سپریمیسی کا پردہ چاک ہوگیا، اور جو ڈھول مسلم لیگ (ن) نے کئی برسوں پیٹا تھا وہ بیچ چوراہے میں پھٹ گیا۔
اس تاریخی یوٹرن کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ورکرز اور کارکنوں نے جو قیادت کی درگت بنائی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ عوام کے ذہنوں میں تو سرایت کرگیا ہے لیکن سیاسی جماعتیں ابھی اس سے پوری طرح متفق نہیں ہیں۔ اس پر بہت بات ہوچکی ہے کہ نوازشریف نے سب کچھ جانتے بوجھتے یہ قدم کیوں اٹھایا ہے؟
اس سے سول سپریمیسی کو کتنا نقصان پہنچا ہے اور اب ووٹ کی عزت کیسے مٹی میں ملی؟ میں اس پر مزِید بات نہیں کرنا چاہتا۔ اس شرمناک فیصلے کو کسی طرح مصلحت کا لبادہ نہیں پہنانا چاہتا۔
یہ جو ہوا ہے جمہوریت کی رو سے عین غلط ہوا ہے۔ اس کے مضمرات آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ میں صرف اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہوں کہ نوازشریف نے جانتے بوجھتے ایسا کیوں کیا؟ اب پارٹی قائدین لاکھ تاویلیں پیش کریں لیکن یہ فیصلہ بہرحال نوازشریف کا تھا، اور باقی پارٹی بھی اس پر سرِ تسلیم خم کرکے چپ چاپ بیانیے کا جنازہ کاندھوں پراٹھائے سسک رہی ہے۔“
(روزنامہ جنگ۔ 11 جنوری 2020ء)
جیسا کہ ظاہر ہے یہ میاں صاحب کے صحافتی عاشقوں، وکیلوں اور پرستاروں کی تحریروں سے تیار ہونے والا ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں میاں صاحب اور ان کے خاندان کا چہرہ بھیانک نظر آرہا ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غیر جانب دار کالم نویسوں کی تحریروں کے آئینے میں میاں صاحب اور ان کے خاندان کا چہرہ کیسا نظر آئے گا۔ یہاں ہمیں اپنی ایک نظم ”کتّے بنے رہیے“ یاد آرہی ہے۔ نظم یہ ہے:۔

اک دن کسی بلّی سے یہ کہنے لگا کتّا
میں ایک زمانے میں ہوا کرتا تھا بکرا
دس سینگ تھے نو کان تھے چھ پائوں تھے میرے
رہتے تھے مری تاک میں چھبیس لٹیرے
بکروں کی ریاست میں بڑا رعب تھا میرا
ہوتی تھی مرے حکم سے رات اور سویرا
شیروں سے ملاقات رہا کرتی تھی اکثر
دھو دھو کے مرے پائوں پیا کرتے تھے بندر
میں نے کئی بگڑے ہوئے ہاتھی کیے سیدھے
کہتے تھے مری شان میں لنگور قصیدے
آتی تھیں مرے واسطے جنت سے غذائیں
چلتی تھیں مرے واسطے رنگین ہوائیں
تعمیر ہوا کرتی تھی پھولوں سے سواری
خوشبو سے سِلا کرتی تھی پوشاک ہماری
بلّی نے سنی بات جو کتّے کی تو بولی
حضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ گولی
باتوں سے مجھے آپ کی اندازہ ہوا ہے
جو آپ کا مالک ہے وہ گپ باز بڑا ہے
انسانوں میں گپ بازی کی عادت ہے بہت عام
لیکن میاں حیوانوں کو گپ بازی سے کیا کام
جو بات حقیقت میں ہو گزری وہی کہیے
بہتر ہے یہی بات کہ کتّے بنے رہیے

Share this: