متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سفارتی رابطہ

Print Friendly, PDF & Email

اسرائیل کو تسلیم کرو، عرب حکمرانوں پر امریکی دباؤ

خلیج میں ہونے والی غیر معمولی سفارتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان پر بھی آرہے ہیں، ہم ان اثرات سے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتے۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلیے ہیں، دونوں ملکوں میں وفود کا تبادلہ بھی ہوچکا ہے، پاکستان نے اس پر اپنا ردعمل دیا ہے، اور یہ ردعمل اس قدر مضبوط اور جائز ہے کہ جو کام خلیج کے ایک ملک نے کیا ہے باقی مسلم ممالک کے لیے وہی کام کرنا آسان نہیں رہا بلکہ اب مشکل بن گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے جو ردعمل دیا تھا وہ محض وزیر خارجہ کی شخصی آواز نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کی آواز تھی۔ اب سعودی عرب نے سمجھ لیا ہے کہ پاکستان کو اور خاص طور پر کشمیر کے معاملے کو عالمی برادری کے رحم وکرم اور اس کے بنائے ہوئے غافل دائرے اور جوہڑ میں نہیں رکھا جاسکتا، یہ معاملہ اب حل کرنا ہوگا۔ اگر پاکستان یہ ردعمل نہ دیتا تو عین ممکن تھا کہ اس خطے میں ہم تنہا رہ جاتے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسلم ممالک کا درجہ سب سے اوپر ہے، اس کے بعد مغرب اور دیگر ممالک آتے ہیں، اور ہم کشمیر کے لیے اقوام عالم سے زیادہ مسلم ممالک کی توجہ چاہتے ہیں۔ لیکن اگر خلیج میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کہیں تنہا رہ جاتا تو کشمیر پر ہماری بات کہیں نہ سنی جاتی۔ ہماری خارجہ پالیسی اب فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ایک ساتھ طے کرنے کی سوچ پر استوار ہوچکی ہے، اور فیصلہ یہی ہے کہ اگر مسلم دنیا پاکستان کی حمایت چاہتی ہے تو پھر اسے کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرنا ہوگی۔ فلسطین کے لیے ہماری حمایت بھی غیر مشروط رہی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہماری خارجہ پالیسی میں مسلم دنیا کے مفادات سرفہرست رہے ہیں۔ تاریخی طور پر فلسطین کا مسئلہ بھی کشمیر جیسا ہی ہے۔ دسمبر1949ء میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین کی بنیاد رکھی گئی، ابتدائی طور پر تو یہ تین سال کے لیے قائم ہوا، یہ وہ دور تھا جب دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں افراد مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے، اس سے پہلے مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم کام کررہی تھی جو 1950ء میںختم ہوگئی۔ دنیا میں فلسطین کا مسئلہ1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سامنے آیا جب لاکھوں فلسطینی مہاجرین اردن میں غزہ کی پٹی کے علاقے میں مہاجر بن کر رہنے پر مجبور ہوئے، اور مہاجرین کی تعداد بڑھنے سے مسائل نے جنم لینا شروع کیا۔ 1947ء میں برطانیہ حالات بھانپ کر اقوام متحدہ میں ایک قرارداد لے کر پہنچا جہاں نومبر 1947ء میں جنرل اسمبلی میں طے پایا کہ فلسطین یہودی ریاست اور عربوں میں تقسیم کردیا جائے۔ فلسطینی قوم نے اس پر اپنا ردعمل دیا، مگر عالمی سیاسی حالات نے انہیں بے بس کردیا اور وہ مہاجرت پر مجبور ہوئے۔ اُس وقت سات لاکھ فلسطینی ہجرت اختیار کرکے بے وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ 1949ء میں اقوام متحدہ نے اپنے ریکارڈ کے مطابق یہ تعداد نو لاکھ چالیس ہزار بتائی۔ یہ مہاجرین غزہ کی پٹی کے کنارے رہ رہے تھے۔ مئی1950ء میں اقوام متحدہ نے ایک ادارہ قائم کیا جسے اقوام متحدہ ریلیف اینڈ ورک ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین کا نام دیا گیا، یہ وہ وقت تھا جب عرب ریاستوں کا مطالبہ تھا کہ فلسطینی مہاجرین اپنے وطن واپس جائیں، مگر اسرائیل اسے اپنے لیے خطرہ خیال کرکے مخالفت کرتا رہا، عرب ریاستوں کی اقتصادی حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ مہاجرین کا بوجھ برداشت کرسکیں۔ 1948ء تک پینتیس لاکھ، پچاس ہزار فلسطینی مہاجرین غزہ کی پٹی کے علاقے میں پناہ لے چکے تھے۔ یہ سب اردن کی ذمہ داری میں تھے۔ اُس وقت اردن کی اقتصادی حالت بہت کمزور تھی اور اس کی حکومت اور معیشت کا ڈھانچہ بھی یہ بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔ فلسطینی مہاجرین اردن کے شہری علاقوں میں رہنے لگے اور ان کے لیے تعلیم، رہائش، سماجی ضرورتوں کا پورا کرنا اردن کی حکومت کی ذمہ داری بن گیا۔ مہاجرین کی زیادہ تر تعداد بھی غیر ہنرمند تھی، لہٰذا وہ زراعت یا صنعت میں سے کسی بھی شعبے میں کام کرنے کے قابل نہیں تھے۔ سماجی مسائل کی وجہ سے مہاجرین کیمپوں کی زندگی سے تنگ آئے اور شہروں کا رخ کیا جس سے مسائل بڑھنا شروع ہوئے اور مہاجرین میں بھی ردعمل آیا جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی قومی تحریک ’الفتح‘ قائم ہوئی، اور آگے چل کر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین قائم ہوا، جس سے ردعمل وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا اور حالات1967ء کی عرب اسرائیل جنگ تک جا پہنچے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام عالم ایک نئی سرد جنگ کے زمانے میں داخل ہوگئیں۔ یہ زمانہ تقریباً1990 ء تک چلتا رہا۔ روس فروری1989ء میں افغانستان سے باہر نکلا تھا، اس کے ایک سال بعد ہی گلف وار شروع ہوگئی، اگرچہ اسے عالمی جنگ کا نام نہیں دیا گیا تاہم یہ جنگ بھی اسی کا حصہ سمجھی جانی چاہیے۔ عراق، کویت، سعودی عرب اور اس خطے کے دیگر ممالک براہِ راست یا بالواسطہ اس جنگ سے متاثر ہوئے۔ تیس سال گزر جانے کے باوجود گلف وار کے اثرات ابھی تک اس خطے پر ہیں۔ روس کے ٹوٹ جانے کے بعد امریکہ دنیا میں واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا، اور آج تک گلف وار میںالجھا ہوا ہے۔
۔2000ء میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کمیشن نے اپنی پچاس سالہ رپورٹ جاری کی کہ اسرائیل کی ریاست کے قیام (14 مئی 1948ء) سے اب تک سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینی مہاجرین گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، ان کی جگہ یہودیوں کو آباد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ1950ء میں دس لاکھ فلسطینی مہاجرین تھے جو اقوام متحدہ کے ادارے کی ذمہ داری میں تھے۔ 1999ء میں ایک اور رپورٹ پیش ہوئی جس میں بتایا گیا کہ فلسطینی مہاجرین کی تعداد ساٹھ لاکھ ہے، یہ سب فلسطینی مہاجرین، اصل مہاجرین کی چوتھی نسل کے لوگ ہیں جو اس وقت مہاجرت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اقوام عالم میں سیاسی حالات میں تبدیلی کی بنیادی وجوہات میں روس کی افغانستان میں مداخلت، پھر وہاں سے رسوا ہوکر نکلنا، اس کے بعد گلف وار، اس کے بعد نائن الیون، اور نائن الیون کے بعد خلیج میں عراق، شام، لیبیا کے حالات جس طرح تبدیل ہوئے یہ سب کچھ آج کے نقشے کی وجوہات ہیں۔ نائن الیون کے بعد دنیا امریکہ کی سربراہی میں دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوئی، اور یہ طے کرلیا گیا کہ مسلمان انتہا پسند ہیں، اور ان کے وہ تمام ممالک جن کے پاس بہتر اقتصادی، فوجی قوت ہے انہیں تباہ کردیا جائے۔ عراق، لیبیا، شام سب اس کا نشانہ بنے ہیں۔ اب افغانستان میں امریکہ اپنے انخلا کے لیے راستہ نکالنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ مسلم دنیا کی قوت بھی تقسیم ہوجائے اور مسائل کا حل بھی نکل آئے، لہٰذا خلیج میں جس طرح اِن دنوں تبدیلیاں آرہی ہیں یہ اسی سوچ کا شاخسانہ ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پچھلے ہفتے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان مسلم دنیا پر بجلی بن کر گرا ہے، مگر مسلم حکومتوں کی جانب سے اس کا ملا جلا ردعمل آیا، کوئی اسے فلسطینیوں کے ساتھ دھوکا کہہ رہا ہے، اور کوئی اسے امن کے قیام کی کوششوں کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تاہم یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جس طرح بیان کیا جارہا ہے، بلکہ اس معاہدے کے بعد خطے میں جنگ اور کسی حد تک بغاوت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں فلسطین کے سفیر نے خلیج کی صورتِ حال پر ملک کی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو اپنی حکومت کے نکتہ نظر سے آگاہ کرنے کے لیے ملاقات کی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے شیری رحمٰن، رضا ربانی، اور جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے ان سے ملاقات کی، جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم ان کے ہمراہ تھے۔ تاریخی طور پر اسرائیل کے عرب دنیا کے ساتھ خاموش سفارتی روابط پرانی بات ہے، اب یہ تعلقات باضابطہ اور علی الاعلان ہورہے ہیں۔ یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ امریکہ کا دبائو ہے، تاہم عرب بہار کے اثرات بھی نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔ سفارتی حلقوں میں ہونے والی بحث میں یہ نکتہ ایک مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ عرب بہار کے دوران مسلم سربراہوں کو اندازہ ہوا کہ ان کے اقتدار کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں، جبر اور کرپشن کے خلاف عوامی ردعمل ایک مقبول رائے عامہ کی راہ کھول چکا ہے، مصر میں حسنی مبارک اس کا پہلا نشانہ بن چکے ہیں۔ تیونس، سوڈان سمیت دیگر مملکوں کی مثالیں بھی ابھر کر سامنے آئیں۔ دیکھنا ہے اس خطے میں امریکہ کے مفادات کیا ہیں؟ روس کیا چاہتا ہے؟ مسلم دنیا کیوں بٹی ہوئی ہے؟ امریکہ شام کے صدر بشارالاسد کو ہٹانا چاہتا ہے جبکہ روس بشارالاسد کی پشت پر ہے۔ یہاں سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد بھی امریکہ نے سعودی عرب کی مدد کے لیے کوئی فوجی قدم نہ اٹھایا، کیا یہ سب کچھ سعودی عرب کو خوف زدہ کرنے کے لیے ہے؟ اس خطے میں ایران کی اپنی سوچ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عرب مملکتیں خوف کا شکار ہیں، ایران کا جوہری پروگرام بھی خطرے کی علامت کے طور پر لیا جارہا ہے۔ عرب سمجھ رہے ہیں کہ واشنگٹن اب ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی ترجیحات تبدیل کررہا ہے اور صرف پابندیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں اسرائیل کی ایران مخالفت میں رتی بھر بھی کمی نہیں آئی۔ اسرائیل یقین دلاتا رہا ہے کہ وہ ایران کے مقابلے کے لیے ان کی مدد کو تیار ہے۔ 2009ء میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اقتدار میں آئے تو وہ بیک ڈور چینل ختم کرکے سفارتی روابط سامنے لانے کے لیے متحرک ہوئے، خلیج میں حالیہ تبدیلیاں اسی کا نتیجہ ہیں، جس کے بعد2015ء میں اسرائیل نے سفارتی مشن کھولا تو عرب امارات میں اسرائیل کا پہلا سفارتی دفتر بن گیا۔ بارک حسین اوباما کے دور میں خلیج میں امریکی فوجی موجودگی کم ہونا شروع ہوئی تھی جسے ٹرمپ نے بھی جاری رکھا، یوں اسرائیل عرب اتحاد کی فضا بنتی چلی گئی اور خفیہ طور پر واشنگٹن میں روابط آگے بڑھتے رہے۔ اسرائیلی یہ کہتے رہے کہ خطے میں تبدیلی کی چابی فلسطینیوں کے ہاتھ میں کیوں دی جائے؟ مسلسل رابطوں کے بعد جب معاملہ آخری مرحلے میں پہنچا تو صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیررڈ کشنر کے ذریعے سفارت کاری کی، جس نے ’ڈیل آف دی سینچری‘ کے لیے کام کیا۔ بظاہر تو متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان اچانک ہوا، لیکن اس پر کام جاری تھا اور اسے صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے انتخابات کے لیے محفوظ رکھا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے غربِ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تاریخ یکم جولائی دی تھی، لیکن یکم جولائی آئی اور گزر گئی۔ امریکیوں نے غربِ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا پتّا بہت ہوشیاری سے کھیلا۔ اس ڈیل
میں عرب سفیروں کے یہودی دوستوں نے اہم کردار ادا کیا۔ جون میں اسرائیلی اخبار میں ایک کالم عبرانی زبان میں شائع کرایا گیا تھا کہ اسرائیل غرب اردن پر قبضے اور عرب دنیا سے تعلقات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔ اس پیغام نے اثر دکھایا۔ نیتن یاہو کو منصوبے سے باز رکھنے کے لیے وائٹ ہاؤس نے شرط رکھی کہ اگر غرب اردن کے بڑے حصے کو ضم کرنا ہے تو اس کا 5 سے 10 فیصد حصہ فلسطین کو منتقل کرنے پر بھی ساتھ ہی عمل کیا جائے۔ وائٹ ہاؤس کو یہ بھی اندازہ تھا کہ اسرائیلی حکومت غرب اردن کو ضم کرنے پر تقسیم کا شکار ہے، اس لیے نشانہ ٹھیک جگہ لگا اور نیتن یاہو کو بھی عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کا خواب پورا ہوتا دکھائی دیا، اور یوں یہ معاہدہ طے پاگیا۔ 7 دن میں درجنوں ملاقاتوں اور رابطوں کے نتیجے میں معاہدے کا مسودہ بھی بن گیا اور اسے درست وقت تک چھپا لیا گیا۔ اس اعلان سے پہلے پاک سعودی تعلقات میں اچانک تلخی آئی، لیکن تین سال پہلے اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد لینڈنگ کی جو ’افواہ‘ پھیلی تھی آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ مشن تھا کیا؟ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں جب کہ حتمی فیصلہ سعودی شاہ سلمان کو کرنا ہے۔ امریکی حکام بھی اب تک یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ سعودی عرب اپنے اتحادی متحدہ عرب امارات کی تقلید کرے گا یا نہیں، اسی لیے جیررڈ کشنر کو کہنا پڑا کہ سعودی عرب اگر امارات کی تقلید کرے تو اسے معاشی اور دفاعی فوائد حاصل ہوں گے۔ بحرین سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معاشی مدد پر انحصار کرتا ہے، بحرین علاقائی ردعمل کو جانچنے کے بعد ہی فیصلہ کرے گا۔ عمان ایران کو مشتعل نہیں کرنا چاہے گا۔ کویت نے کھل کر کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا آخری ملک ہوگا۔ سوڈان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اشارہ دیا لیکن اگلے ہی روز وزیر خارجہ نے نہ صرف تردید کردی بلکہ ترجمان کو بھی برطرف کردیا گیا۔ سوڈان کی تردید اور اس ایکشن کے باوجود اس پر حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔ سوڈان کے صدر عمرالبشیر کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ایک عرصے تک اس لیے بھاری مالی امداد دیتے رہے کہ وہ ایران کے اثر سے باہر رہے۔ قطر میں بھی حکومت کے خلاف صرف اس لیے بغاوت کی کوشش ہوئی کیونکہ قطر اخوان لیڈروں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ عرب بہار نے تو چند ایک ملکوں میں حکومتوں کا تختہ بھی الٹا اور دم توڑ گئی، لیکن اس عرب بہار کے خلاف عرب امارات نے جو مہم شروع کی تھی وہ اب تک جاری ہے۔

Share this: