کرچی میں بارش کی تباہ کاریاں… شہر کا وارث کون ہے؟۔

Print Friendly, PDF & Email

جماعت اسلامی اور الخدمت، کراچی کی سڑکوں پر پانی میں پھنسے اپنے لوگوں کے ساتھ نظر آئے

پاکستان کے معاشی حب میں موسلادھار بارشوں کے بعد بدانتظامی نے تباہی مچا دی۔ ذرائع آمدو رفت اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ شہر کراچی پانی میں ڈوب گیا، بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ اسے ڈبو دیا گیا۔ تاحال لوگ اپنے کاروبار کی جگہوں، گھروں اور محلّوں سے پانی نکال رہے ہیں۔ اب تک درجنوں افراد اس بارش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ملیر ندی سمیت دیگر ندیوں سے ڈوبی موٹر سائیکلیں درجنوں کی تعداد میں ابھی بھی نکالی جارہی ہیں، اور لوگ اس میں ڈوبے ہوئے لوگوں کا ماتم کرتے نظر آرہے ہیں۔کراچی کے یوسف گوٹھ، عبدالرحیم گوٹھ، بسم اللہ ٹاؤن سمیت سرجانی ٹاؤن کے مختلف سیکٹر اور شادمان ٹائون، لانڈھی، کورنگی، ملیر، عائشہ منزل، ناظم آباد، گلشن اقبال، لیاری سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں، ’’نیا ناظم آباد‘‘ میں تو وہاں کے مکینوں کے مطابق بارہ بارہ فٹ پانی بھر گیا اور لوگ چھتوں پر چلے گئے۔ شارع فیصل پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہونے سے لوگ نہ صرف شدید اذیت کا شکار رہے بلکہ کئی لوگوں کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں تیرتی نظر آئیں، یہاں تک کہ محرم میں راستہ بند کرنے کے لیے رکھے گئے کنٹینر بھی ایم اے جناح روڈ پر پانی میں تیر رہے تھے۔ پورے شہر کے نالے اور گٹر ابل پڑے۔ ناگن چورنگی، پی ای سی ایچ ایس، نرسری اور ملحقہ علاقوں میں نالے کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جس کے باعث مکینوں کا قیمتی سامان خراب ہوگیا، جبکہ گلیوں اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیاں بھی پانی میں ڈوب گئیں۔ صدر اور ٹاور کے اطراف کے علاقوں میں دفاتر اور دکانوں میں بھی پانی بھر گیا۔ سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی اور اطراف کے علاقوں میں 3 سے 4 فٹ پانی کھڑا ہے، جبکہ بارش کے باعث ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کازوے روڈ بند ہوگیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق کراچی کے بڑے ہسپتالوں آغا خان، ضیاالدین (ناظم آباد) میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا جس کی وجہ سے مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔ اِس بار تو کراچی کے دیگر علاقوں کے ساتھ کنٹونمنٹ بورڈ کے زیرانتظام ڈی ایچ اے بھی ڈوب گیا، اور اس کے رہائشی بڑی اور حیران کن تعداد میں کنٹونمنٹ بورڈ کے باہر انتہائی غصے میں احتجاج کرتے نظر آئے۔ بارش کے بعد بھی کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں لاکھوں لوگ نشیبی علاقے مکمل پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے گھروں میں محصور رہے۔ کھانا، پانی، بجلی، گیس بند اور لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہوچکی تھی۔
اس کے ساتھ تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ بارش کے پانی سے دکانوں میں رکھا ہوا لاکھوں، کروڑوں کا مال برباد ہوگیا ہے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق اُن کو مجموعی طور پر 70 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ یکم ستمبر کے روزنامہ جنگ کے مطابق بعض مارکیٹوں سے ابھی تک پانی نہیں نکالا جاسکا ہے۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع ایک بہت بڑے سپر اسٹور کے مالک کا کہنا ہے کہ اس کا پورا اسٹور تباہ ہوگیا ہے۔ بارش کا پانی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوگیا اور اسٹور میں پہلے روز 7 فٹ تک پانی تھا، جس کے باعث تقریباً 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم واضح رہے کہ یہ سپر اسٹور نالے پر غیر قانونی طور پر قائم کی گئی عمارت میں بنایا گیا تھا، جب نالہ اوورفلو ہوا تو پانی دیواریں توڑ کر اندر داخل ہوگیا۔ جامع کلاتھ مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ہمارا سب کچھ تباہ ہوگیا۔ ہماری دکانوں میں شادی کے کپڑے فروخت ہوتے تھے، جن میں دو دو لاکھ کا بھی کپڑوں کا جوڑا تھا، سب برباد ہوگیا، جن لوگوں نے شادی کے کپڑوں کے آرڈر دئیے ہوئے تھے ان کا مال بھی خراب ہوگیا، ہمارے پاس تو اتنی رقم بھی نہیں کہ دوبارہ مال ڈال سکیں۔ جامع کلاتھ مارکیٹ، اردو بازار اور اطراف کی ساری مارکیٹوں میں اسٹاک میں رکھا ہوا کروڑوں روپے کا مال خراب ہوا ہے۔ کپڑا مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ، جوڑیا بازار، جونا مارکیٹ، ادویہ مارکیٹ، اجناس مارکیٹ، صدر بازار، زیب النساء اسٹریٹ، طارق روڈ، ڈیفنس کے فیشن ایبل بازار، سندھی ہوٹل نئی کراچی مارکیٹ، بابر مارکیٹ لانڈھی، انارکلی مارکیٹ فیڈرل بی ایریا کا پانی سے برا حال ہے، یہاں دکانیں نشیب میں ہیں، جس کے باعث ان مارکیٹوں میں بھی اسٹاک میں رکھا ہوا کروڑوں روپے کا مال خراب ہوگیا۔ کپڑا مارکیٹ کے گوداموں میں رکھا ہوا کپڑا زیر آب آگیا۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ان کے گوداموں میں رکھی ہوئی کروڑوں روپے کی گندم خراب ہوگئی ہے۔ جبکہ سبزی منڈی میں سب سے زیادہ نقصان آلو، پیاز کے تاجروں کو ہوا۔ منڈی کے تمام گوداموں رکھا ہوا فروٹ کا اسٹاک بھی خراب ہوگیا۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکسٹائل کے شعبے کو نقصان پہنچا ہے،کیونکہ فیکٹریوں میں کروڑوں روپے کا تیار شدہ اور غیر تیار شدہ کپڑا رکھا ہوتا ہے، جو مکمل طور پر بے کار ہوگیا ہے۔ ماڑی پور پر چاول کے گوداموں میں رکھا ہوا کروڑوں روپے کا چاول خراب ہوگیا۔
اس صورتِ حال کے اصل ذمہ دار کون ہیں یہ تو کراچی کے شہری بخوبی جانتے ہیں، لیکن مضحکہ خیز صورتِ حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سوائے زبانی دعووں کے کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بارش کے بعد انتظامیہ کچھ حرکت میں نظر آئی، لیکن بدقسمتی سے جو کام اس شہر میں بارش سے پہلے ہونا تھا وہ نہیں ہوسکا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہر کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ ہے، جس کا اعتراف سب ہی کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت کراچی کی شاید خوش قسمتی ہے کہ یہ سی پیک منصوبے میں اہمیت کا حامل ہے، اسی لیے وزیراعظم اور آرمی چیف بھی اس تباہی کے بعد کراچی کے حوالے سے متحرک نظر آتے ہیں، اور اس سلسلے میں آرمی چیف دو روزہ دورے پر کراچی بھی پہنچے اور انہوں نے اربن فلڈنگ کے زمینی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے فضائی معائنہ کیا، جبکہ تباہی سے نمٹنے کے لیے امدادی کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار بھی کیا اور کہاکہ کسی بااثر علاقے یا برادری کے لیے کسی ضرورت مند علاقے کو نظرانداز نہ کیا جائے، قوم کو ضرورت کے وقت مایوس نہیں کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ کئی دہائیوں سے بڑھتی شہری آبادی، بغیر منصوبہ بندی کے آبادکاری اور بنیادی ڈھانچے کے امور سے متعلق مسائل نے غیر معمولی بارشوں کے ساتھ مل کرصورتِ حال کو مزید پیچیدہ کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھاکہ پاکستان کا کوئی شہر ایسی قدرتی آفت کا مقابلہ نہیںکرسکتا، ہمارا مسئلہ وسائل کی عدم دستیابی نہیں بلکہ ترجیحات کا صحیح تعین نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جو منصوبے بنائے گئے ہیں ان میں انہیں فوج کی ہر ممکن مدد حاصل ہوگی۔
اب وزیراعظم عمران خان بھی کسی کراچی پیکیج کے ساتھ آخرکار کراچی تشریف لارہے ہیں۔ کراچی کا ایک سنگین مسئلہ کے الیکٹرک کا ظلم ہے جو ریاست کی سرپرستی میں جاری ہے۔ اس کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس اہم ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اُس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور ڈویژن والوں کو کراچی لے جائیں، دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں، کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہوجائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہر تباہ ہوگیا، کراچی والے بھی کچھ نہیں کریں گے، وہ تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں، پہلے ہی اربوں روپے بیرونِ ملک جاچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کراچی والوں کے بیرونِ ملک اکائونٹ فعال ہوچکے ہیں، اداروں میں ہم آہنگی نہیں، آج بھی نصف کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کے الیکٹرک پر وفاق کی رٹ نہیں، تمام ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کرتے ہیں، اِس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے خلاف اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع خارج کرتے ہوئے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عمل درآمد کا حکم دے دیا، ساتھ ہی 10 روز میں نیپرا ٹریبونل کے اراکین تعینات کرنے کی بھی ہدایت کردی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خوامخواہ کہا جاتا ہے کہ کراچی ملکی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے، کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں،کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے ہیں لیکن خرچ کچھ نہیں ہوا، 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی۔ لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کیے گئے ہیں۔ آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے لیکن ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتا دھرتا کچھ نہیں کریں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک عوام کو بجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی، 2015ء سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا، آپ لوگ ان کے ترلے کررہے ہیں! وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں، وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے۔ وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟ اس کی آخر رٹ کہاں ہے؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ریمارکس اور احکامات پر حکومت کچھ عملی اقدام اٹھاتی ہے یا پھر کراچی کے ساتھ نمائشی اور وقتی اقدامات کا مذاق جاری رہے گا، اور یہ شہر اور اس کے شہری ریاست کے جبر کا اسی طرح شکار رہیں گے۔ لیکن اس صورتِ حال میں حکومت اور اس کے اداروں کا کراچی کے شہریوں کے ساتھ جو بھی سلوک ہو، مگر بارش کی تباہی کے بعد اس مشکل صورت حال میں بھی جماعت اسلامی اور الخدمت، کراچی کی سڑکوں میں پانی میں پھنسے اپنے لوگوں کے ساتھ نظر آئے۔ پانی میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو بھی کیا اور متعدد علاقوں میں سینکڑوں متاثرین میں کھانا اور پینے کا پانی بھی پہنچایا گیا۔ شاہ لطیف ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن، یوسف گوٹھ، قائدآباد، اورنگی ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں متاثرین کو پکا پکایا کھانا پہنچایا گیا۔ قائد آباد میں بارش اور ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کئی کئی فٹ پانی موجود ہے، جہاں الخدمت کے رضاکاروں نے برساتی پانی میں پھنسے لوگوں کو کشتی کے ذریعے ریسکیوکیا اور بارش سے متاثرہ لوگوں کو گھروں تک کھانا پہنچایا۔ الخدمت کے رضاکاروں نے یوسف گوٹھ سرجانی میں بھی بارش کے پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کیا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا اور انہیں بھی کھانا اور پینے کا پانی پہنچایا۔ علاوہ ازیں ضلع شمالی کے تحت سہراب گوٹھ سے سرجانی ٹاؤن تک الخدمت کی گاڑیوں کو بارش میں پھنسے لوگوں کے لیے بس سروس کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے بڑی تعداد میں لوگوں نے استفادہ کیا۔ کراچی کی صورتِ حال پر امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ الخدمت نے مشکل کی ہر گھڑی، اور پریشانی میں گھرے لوگوں کی ہمیشہ آگے بڑھ کر مدد کی ہے، حکومت میں نہ ہونے اور سرکاری اختیارات و وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنے وسائل اور اہلِ خیر کے تعاون سے امدادی سرگرمیاں انجام دی ہیں، حالیہ بارش کے دوران بھی الخدمت کے رضاکاروں نے متاثرین کو ریسکیو کرنے اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کے تقریباً تین کروڑ افراد کے مسائل کے حل اور شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ وفاقی وصوبائی حکومتیں اور اس شہر سے ووٹ لینے والی حکمران پارٹیاں زبانی جمع خرچ کرنے، ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر الزامات لگانے اور پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے بجائے اتفاقِ رائے پیدا کرکے مسائل حل کریں، کیونکہ آج کراچی کے عوام جن حالات سے دوچار، اور جن سنگین مسائل کا شکار ہیں وہ ان کی نااہلی و مجرمانہ غفلت کے باعث پیدا ہوئے ہیں، اور اب ان ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی کے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر کریں تاکہ کراچی کے شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے اور مسائل حل ہوتے نظر آئیں۔
بارش کی تباہ کاریوں نے شہر کراچی کی کئی دہائیوں سے تباہی و بربادی کو ایک بار پھر عیاں کردیا ہے۔ اس بدنصیب شہر جس کا کوئی وارث نہیں، کا ہر شعبہ تباہ و برباد ہے، اور تباہی و بربادی کا یہ سفر مزید اسی طرح جاری رہا تو یہ معاشی حب اگر خدانخواستہ ڈوبے گا تو پورا ملک ڈوب جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے نام پر گندی سیاست کو ختم کیا جائے اور اس کے حقیقی ’’اپنوں‘‘کو خدمت کا موقع ملنا چاہیے۔ ماضی میں بھی جب جب جماعت اسلامی کو یہ موقع ہے اس نے کراچی کے عوام کو مایوس نہیں کیا۔ کراچی کے مسئلے کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے ایمان دار قیادت۔

Share this: