انقلاب نعروں سے نہیں، فکر اور دلائل سے آتا ہے

Print Friendly, PDF & Email

دوستو! تحریکات میں جذبات کے اظہار کی، جلسوں اور جلوسوں کی اور متعین مقاصد کے لیے سیاسی جدوجہد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بغیر آج کے دور میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ آپ جب کوئی نعرہ بلند کرتے ہیں تو مجھ جیسے بوڑھے آدمی کے خون میں بھی حرارت پیدا ہوجاتی ہے، لیکن یہ کسی انقلاب کے لیے ناکافی ہے۔ انقلاب دنیا میں نعروں سے اور سلوگن سے نہیں آئے گا۔ انقلاب آئے گا فکر سے اور دلائل سے۔ دنیا آپ کی بات سن کر کہے کہ ہمارے سامنے ایک نیا سسٹم آگیا ہے، اس پر غور کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ آج آپ کہیں بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کہیں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ بہت سی چھوٹی بڑی تبدیلیاں واقع ہوتی ہی رہتی ہیں، لیکن ہم جو تبدیلی چاہتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا یہ کہے کہ ہمارے سامنے ایک فکر آگئی ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک متبادل پیش کیا جارہا ہے اور ایک نیا نقطہ نظر غورو فکر کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بنیاد پر بھی دنیا کا نظام چل سکتا ہے۔ یہ سوال ابھی ہم نے نہیں کھڑا کیا ہے۔ میں آپ کی خدمات کا ہزار بار اعتراف کروں گا، لیکن اس واقعے سے آپ انکار نہیں کرسکتے کہ دنیا میں یہ سوال ابھی تک آپ نے کھڑا نہیں کیا ہے، جب کہ آپ کے پاس ایک مضبوط لٹریچر بھی ہے اور اس لٹریچر کی بنیاد پر یا اس نہج پر آپ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔
(مولانا سید جلال الدین عمری۔ امیر جماعت اسلامی ہند کی کتاب ’’خطباتِ پاکستان‘‘ سے انتخاب)۔

مکمل سبق

ایک شہزادہ اپنے استادِ محترم سے سبق پڑھ رہا تھا۔ استادِ محترم نے اسے دو جملے پڑھائے۔ ’’جھوٹ نہ بولو اور غصہ نہ کرو‘‘۔ کچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سنانے کے لیے کہا۔ شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ہوسکا۔ دوسرے دن استادِ محترم نے پھر سبق سنانے کو کہا، پھر شہزادہ بولا: استادِ محترم ابھی سبق یاد نہیں ہوسکا۔ تیسرے دن چھٹی تھی۔ استادِ محترم نے کہا: ’’کل چھٹی ہے، سبق ضرور یاد کرلینا۔ بعد میں، مَیں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا‘‘۔
چھٹی کے بعد اگلے دن شاگردِ خاص ’’سبق نہ سنا سکا‘‘۔ استادِ محترم یہ خیال کیے بغیر کہ شاگرد ایک شہزادہ ہے، غصے سے چلّا اٹھے اور طیش میں آکر ایک تھپڑ رسید کردیا ”یہ بھی کوئی بات ہے کہ اتنے دنوں میں ابھی تک دو تین جملے یاد نہیں کرسکے!“
تھپڑ کھا کر شہزادہ ایک دفعہ تو گم سم ہوگیا اور پھر بولا ”استادِ محترم سبق یاد ہوگیا۔“ استاد کو بہت تعجب ہوا کہ پہلے تو سبق یاد نہیں ہورہا تھا، اب تھپڑ کھاتے ہی یکدم سبق یاد ہوگیا! شہزادہ عرض کرنے لگا: ’’استادِ محترم آپ نے مجھے دو باتیں پڑھائی تھیں، ایک یہ کہ جھوٹ نہ بولو اور دوسری بات غصہ نہ کرو۔ جھوٹ بولنے سے تو میں نے اسی دن توبہ کرلی تھی۔ مگر غصہ نہ کرو بہت مشکل کام تھا۔ بہت کوشش کرتا تھا غصہ نہ آئے، مگر غصہ آجاتا تھا۔ جب تک میں غصے پر قابو پانا نہ سیکھ جاتا کیسے کہہ دیتا سبق یاد ہوگیا!
آج جب آپ نے مجھے تھپڑ مارا اور یہ تھپڑ بھی میری زندگی کا پہلا تھپڑ ہے، اسی وقت میں نے اپنے دل و دماغ میں غور کیا کہ مجھے غصہ آیا کہ نہیں؟ غور کرنے پر مجھے محسوس ہوا کہ مجھے غصہ نہیں آیا۔ آج میں نے آپ کا بتایا ہوا دوسرا سبق ’’غصہ نہ کرو‘‘ بالکل سیکھ لیا ہے اور آج مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل سبق یاد ہوگیا ہے۔“
درسِ حیات: اے عزیز! ہمیں بھی چاہیے کہ جو اقوالِ زریں ہم لکھتے، پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں ان پر عمل کریں۔ عمل سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ عمل سے زندگی بنتی ہے۔
(”حکایاتِ رومیؒ“…مولانا جلال الدین رومیؒ)

زبان زد اشعار

آعندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تُو ہائے گل پکار میں چلاّئوں ہائے دل
(سید محمد خان رند)
……٭٭٭……
آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
(ذوقؔ)
……٭٭٭……
آخر گل اپنی صرف در میکدہ ہوئی
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
(میر تقی میرؔ)
……٭٭٭……
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
ہو گئے خاک انتہا یہ ہے
(امیر مینائی)

Share this: