۔”کورونا وبا کے شعبہ تعلیم پر اثرات اور حل”۔

Print Friendly, PDF & Email

انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیزپشاورکے زیر اہتمام مباحثے کا انعقاد

بدھ، مورخہ12 اگست 2020ء کو نوتعمیر شدہ دفتر آئی آر ایس، واقع خیبر کلے، حیات آباد رنگ روڈ پشاور میں ’’کووڈ19کے شعبہ تعلیم پر اثرات اور ممکنہ حل‘‘ کے موضوع پر ایک گول میز مباحثے کا انعقاد ہوا۔ مباحثے کا آغاز معروف عالم دین مولانا مسیح گل بخاری کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جب کہ افتتاحی کلمات ڈاکٹر محمد اقبال خلیل چیئرمین آئی آر ایس پشاور نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے دنیا میں دوکروڑ، جب کہ پاکستان میں مجموعی طور پر تین لاکھ افراد متاثر اور6 ہزار افراد لقمۂ اجل بنے ہیں۔ شروع میں کورونا کی حقیقت پر مختلف آراء سامنے آتی رہیں جسے صحت کا ایک عام معاملہ سمجھ کر ڈیل کیا جارہا تھا، بعد میں یہ صحت کے ساتھ ساتھ ایک بڑے بلکہ عالمی اقتصادی مسئلے میں تبدیل ہوا۔ کورونا سے بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا، اس کے نتیجے میں کئی معاشرتی مسائل نے معاشرے کو متاثر کیا ہے۔ لوگوں کو گھروں میں محصور ہونا پڑا، مساجد میں عبادت متاثر ہوئی، نفسیاتی لحاظ سے لوگوں کو شدید نقصان ہوا، لیکن اس سے سب سے زیادہ تعلیمی شعبہ متاثر ہوا ہے۔ بچوں کے تعلیمی ہرج کے ساتھ ساتھ ان پر نفسیاتی اثر ہوا ہے، بچے ہمارا مستقبل ہیں، ان کے ہونے والے نقصان کا ازالہ ہمیں مل کر کرنا ہوگا۔ کے جی سے لے کر پی ایچ ڈی کی سطح تک تمام درجات، حتیٰ کہ دینی مدارس بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ آزمائشیں اقوام کو منظم اور مضبوط کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اس ڈائیلاگ کا مقصد شعبہ تعلیم پر کورونا کے اثرات کا جائزہ لے کر ماہرینِ تعلیم کی آراء کی روشنی میں تجاویز پر مبنی رپورٹ متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئرکرنا ہے۔ آئی آر ایس کا مقصد اس خطے اور بالخصوص پاکستان میں زندگی کے مختلف شعبہ جات میں گورننس کے ایشوز پر بطور تھنک ٹینک کام کرنا ہے۔ یہ پودا قاضی حسین احمد مرحوم کی رہنمائی میں1980ء کی دہائی میں لگایا گیا تھا،کچھ عرصہ غیر فعال رہنے کے بعد اب ہم نے بعض دوست احباب کے تعاون سے اس ادارے کو دوبارہ فعال بنایا ہے۔ دفتر کی ابتدائی تعمیر کے بعد آڈیٹوریم کا ڈھانچہ تیار ہے، البتہ اس کی فنشنگ ہونا باقی ہے جس کے لیے مناسب وسائل درکار ہیں۔
مباحثے سے خطاب کے دوران پرائیویٹ اسکولوں کی نمائندگی کرتے ہوئے فضل اللہ دائود زئی، ممبر خیبر پختون خوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی ونائب صدر پین خیبر پختون خوا نے کہاکہ کسی بھی ملک و ملت کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کا ادراک آپ جیسے صاحبانِ علم و دانش سے بہتر کون کرسکتا ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان میں تعلیم کی صورتِ حال کسی بھی دور میں مثالی نہیں رہی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ اور صوبہ خیبر پختون خوا میں تقریباً پچیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس ساری صورت حال میں نجی تعلیمی شعبے نے آگے آکر حکومت کا بوجھ بانٹا، اور ایک محتاط اندازے کے مطابق نجی شعبہ بچوں کی نصف تعداد کو معیاری تعلیم مہیا کررہا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث جہاں پوری دنیاکے معمولات متاثر ہوئے ہیں، وہیں اسکولوں کی بندش سے تعلیم و تعلم کا سلسلہ یک دم رک گیا ہے۔ اس طرح بغیر کسی منصوبہ بندی اسکولوں کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان بچوں کی تعلیم کا ہوا ہے۔ صوبے میں3600 نجی تعلیمی ادارے ہیں جو صوبے کے تقریباً 24 لاکھ بچوں کو معیاری تعلیم مہیا کررہے ہیں۔ ان اسکولوں سے ڈیڑھ لاکھ تدریسی و غیر تدریسی عملے کا روزگار وابستہ ہے۔ اسکولوںکی بندش کے باعث اداروں کو بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے جس میں مالی بحران سب سے سنگین ہے۔ تمام نجی تعلیمی ادارے طلبہ وطالبات کی فیسوں سے چلتے ہیں، اور اس فیس کا اکثر حصہ اخراجات کی مد میں چلا جاتا ہے۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق اسکول کی آمدنی کا 65 فیصد تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہوں،20فیصد بلڈنگز کے کرائے،بلوں، مرمت اور متفرق اخراجات کی مد میںخرچ ہوجاتا ہے، جبکہ فیس کا صرف 7 فیصد حصہ اسکول کو بچتا ہے۔
لاک ڈائون سے تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد متاثر ہوئے ہیں، اور خاص طور پر متوسط طبقے کے افراد جن کا روزگار بند ہوگیا ہے، اس طبقے کے 80فیصد افراد کے بچے کم فیس والے نجی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، اس لیے اب ان والدین کی اکثریت فیس ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئے نجی اداروں نے پہلے ہی 10 اور 20 فیصد فیس اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاف کردی ہے۔ پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA)کے اعداد وشمار کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا کے 96 فیصد نجی تعلیمی اداروں کی کسی بھی کلاس کی زیادہ سے زیادہ ماہانہ فیس 3500روپے ہے۔ ان کی بقا خطرے میں ہے، اور ان اسکولوں سے وابستہ لاکھوں ملازمین بے روزگار ہوچکے ہیں۔ عمارتوں کے مالکان بھی کرائے کی عدم ادائیگی پر اسکولوں کی عمارات خالی کرا رہے ہیں۔ اگر یہ اسکول بند ہوگئے تو خدانخواستہ صوبے میں تعلیمی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ صوبہ خیبر پختون خوا میں پہلے ہی پچیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور یہ تعداد دگنی ہوگئی تو یہ لاکھوں بچے کہاں جائیں گے؟ حکومتی اداروں کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو سنبھال سکیں۔ نجی تعلیمی اداروں سے کہا جارہا ہے کہ اپنے تدریسی اور غیرتدریسی اسٹاف کو فارغ نہیں کرنا، لیکن المیہ یہ ہے کہ جب تعلیمی ادارے بند ہیں اور ان کی آمدن کے بنیادی ماخذ یعنی فیسیں وصول نہیں ہورہی ہیں تو مالکان اپنے اسٹاف کو تنخواہیں کہاں سے ادا کریں؟ دینی مدارس کھل چکے ہیں، دیگر پبلک مقامات بھی کھول دیئے گئے ہیں، ایسے میں تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ سال کے 240 دنوں میں سال کا جو کورس مکمل ہوتا ہے اسے آخر پانچ ماہ تک تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد کیوں کر پورا کیا جاسکے گا؟ اس حوالے سے حکومت نے تاحال تعلیمی اداروں کو کوئی رہنمائی نہیں دی، حالانکہ حکومتی اداروں کو ضائع ہونے والے وقت کے تناسب سے کورسز میں بھی کمی کرکے سالانہ امتحانات اس مختصر کورس کے تحت لینے چاہئیں، بصورتِ دیگر اس کا نقصان طلبہ وطالبات اور اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ ہماری معلومات کے مطابق صوبے میں اب تک کورونا لاک ڈائون کے سبب پانچ سو سے زائد تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں۔ اس صورت حال کے تناظر میں نجی شعبہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ سرکاری سیکٹر کا کوئی مالی مسئلہ نہیں ہے، حکومت تعطیلات کے باوجود اساتذہ اور دیگر اسٹاف کو تنخواہیں ادا کررہی ہے، جب کہ نجی شعبے کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ یہاں تنخواہوں کی ادائیگی کا بنیادی ذریعہ فیسیں ہیں جو تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے وصول نہیں ہورہی ہیں، لہٰذا ایسے میں اساتذہ اور دیگر اسٹاف کو تنخواہیں دینا ممکن نہیں ہے، جس سے لاکھوں افراد شدید معاشی مسائل کا شکار ہیں۔
حکومت سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ پرائیویٹ اسکولز کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرے جس میں بچوں کی چار ماہ کی فیس ادا کی جائے۔ اس سے24 لاکھ گھرانوں کو بالواسطہ ریلیف ملنے کے ساتھ ساتھ 2 لاکھ تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تنخواہوں کی صورت میں ان دو لاکھ گھرانوں اور عمارتوں کے مالکان کو کرائے کی صورت میں ریلیف ملے گا۔ حکومت نے نجی تعلیمی شعبے کی معاونت کے لیے خیبر پختون خوا میں ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (EEF) اور فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن(FEF) کے ادارے قائم کیے ہیں، لیکن عرصہ دراز سے یہ ادارے اپنا کام صحیح طور پر نہیں کررہے ہیں، حالانکہ ان کے پاس اربوں روپے کا فنڈ موجود ہے۔EEF اور FEFکے آرڈیننس کے مطابق یہ ادارے نجی تعلیمی شعبے کی مالی و تکنیکی معاونت، نیز بلا سود قرضوں کی فراہمی کے پابند ہیں، لیکن ان اداروں کی جانب سے نجی اداروں کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے جو نجی تعلیمی شعبے کا حق ہے، اس کے ساتھ کورونا ریلیف فنڈ سے بھی یہ ریلیف پیکیج دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے فوری طور پر یہ رقم ریلیز کرکے تمام مسائل کا حل ممکن بنایا جائے۔
سرکاری اسکولوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سمیع اللہ خلیل جنرل سیکریٹری اسکول آفیسرز ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا نے کہا کہ تعلیمی شعبے کو کورونا کے دوران خصوصی طور پر ہدف بنایا گیا ہے۔ امتحانات کا التوا ایک بڑا ظلم تھا۔ امتحانات بتدریج SOP’s کے تحت ہوسکتے تھے، لیکن وفاقی حکومت پہلے سے ایک ذہن بنا چکی تھی کہ امتحانات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ کووڈ 19 نے اساتذہ کو بدنام کیا ہے، اس کی آڑ میں اساتذہ کرام کے خلاف مختلف حلقوں کی جانب سے منفی پروپیگنڈا کیاگیا ہے۔ اساتذہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کام نہیں کرتے، ان طویل تعطیلات نے انہیں اور بھی بدنام کیا ہے کہ وہ مفت میں تنخواہیں لیتے ہیں۔ اگر وفاق المدارس 4 لاکھ بچوں سے 23 دنوں میں امتحان لے سکتا ہے تو کسی بورڈکے لیے ڈیڑھ لاکھ طلبہ سے امتحان لینا کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن حکومت کی بدنیتی اور بدنظمی سے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔ بچوں کے نرسری سے آٹھویں تک پروموشن کا کوئی طریقہ کار نہیں دیا گیا۔ جب تمام ادارے حتیٰ کہ بازار اور سینما ہال کھل گئے ہیں تو تعلیمی اداروں کو کھولنے میں کیا ہرج ہے! ۔
پبلک سیکٹر کالجز کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر جمشید خان صدر کالج ٹیچرز موومنٹ خیبر پختون خوا نے کہا کہ اس وقت صوبہ خیبر پختون خوا میں تقریباً 270 پبلک سیکٹر کالج ہیں جن میں 2 لاکھ30 ہزار طلبہ پڑھتے ہیں۔ اساتذہ کرام کی تعداد تقریباً 8 ہزار500 ہے جن میں 7000 مستقل اساتذہ، جبکہ 15 سو کالجز فنڈ کے وزیٹنگ لیکچرار ہیں۔100 کالجوں میں 4 سالہ BS پروگرام کے 721 طلبہ و طالبات داخل ہیں، جبکہ بقیہ ایک لاکھ 60ہزار طلبہ BSc، BA اور FA,FSc میں پڑھ رہے ہیں۔ کورونا کے باعث حکومتِ پاکستان نے 13 مارچ کو ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کیا، اور یوں آج تک پورے5 ماہ یعنی 150دن تک طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوچکا ہے۔ تمام امتحانات منسوخ کردیے گئے ہیں اور درس و تدریس کا سلسلہ تاحال معطل ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کرام 5 ماہ سے محصور ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں پر بہت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
طلبہ، اساتذہ کرام، والدین اور دیگر متعلقین پرکووڈ19 سے پڑنے والے سماجی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر جمشید خان نے کہا کہ جوائنٹ فیملی کی صورت میں رہنے کی وجہ سے گھریلو جھگڑوں اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گھروں میں محصور ہونے سے تمام عمر کے افراد کی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ کھیل کود کے میدانوں کے ویران ہونے سے نوجوانوں میں بے راہ روی، انتہا پسندی اور چڑچڑاپن بڑھ رہا ہے۔ اسکولوں،کالجوں، مدرسوں اور یونیورسٹیوں کی بندش سے بچوں کے تعلیمی نقصان کے ساتھ ساتھ ان کی ہم نصابی اور تربیتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں جس کا اثر نوجوان نسل کی شخصیت اور کردارسازی پر پڑرہا ہے۔ بیرونِ ملک اور خاص کر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے والدین کے بچوں کو گھروں پر مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اساتذہ کرام اور طلبہ کے درمیان تعلیمی اور تربیتی ربط کے خاتمے سے طلبہ کی کردار سازی اور ان کی راہنمائی کا عمل متاثر ہوا ہے۔ کلاس روم، کتابوں اور اساتذہ کے بجائے انٹرنیٹ پر انحصار سے طلبہ کا قیمتی وقت غیر ضروری انٹرنیٹ سرفنگ میں ضائع ہورہا ہے، اور موبائل کے ساتھ وقت گزارنے کی وجہ سے نوجوان نسل کے اخلاق پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ بچوں کی مجموعی نشوونما چونکہ گھر، معاشرے اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اس لیے کووڈ لاک ڈائون کے دوران یہ ذمہ داری اکیلے والدین پر آن پڑی ہے جس سے بچوں کی تربیت میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اساتذۂ کرام پر گھروں میں بیٹھ کر مفت تنخواہیں لینے کے الزام سے اساتذہ کی عزتِ نفس مجروح ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی ساکھ اور قدر ومنزلت کو طلبہ اور معاشرے کی نظروں میں گھٹانے کی کوشش کی جارہی ہے جو ہر لحاظ سے قابلِ گرفت امر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا ایک عالمی وبا اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ بہت زیادہ تنہائی میں رہنے، روزمرہ کے معمولاتِ زندگی میں تبدیلیوں اور انتشار، ملازمتوں کے خاتمے، کاروبار کے زوال، مالی و اقتصادی مشکلات، پیاروں کی اموات اور ایک مخصوص پروٹوکول کے تحت سخت سیکیورٹی میں ان کا کفن دفن، تعلیم، تعلیمی اداروں اور درس وتدریس سے دوری جیسے حالات نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور دیگر متعلقین کی نفسیاتی اور دماغی صحت پر بہت سے منفی اثرات ڈالے ہیں۔ چونکہ اب پورے ملک میں بہت سارے دیگر کاروبار، مارکیٹیں، پکنک پوائنٹ، سینماگھر، شادی ہال اور سیاحتی مقامات کھول دیئے گئے ہیں اس لیے طلبہ، اساتذہ اور والدین میں تعلیمی اداروں کے بند رہنے کی وجہ سے مایوسی اور ڈپریشن کی کیفیت پائی جاتی ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ SOPs کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا بھی فوری اعلان کرے۔ جن طلبہ سے داخلوں، ٹیوشن فیس اور ہاسٹلز میں رہائش کی مد میں کالج اور یونیورسٹیاں فیس وصول کرچکے تھے وہ واپس کی جائیں۔ تعلیمی نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے سرمائی علاقوں میں آنے والے موسمِ سرما کی چھٹیاں منسوخ یا کم کی جائیں۔کالجوں اور تمام تعلیمی اداروں میں لائبریریوں، لیبارٹریز اور دیگر ضروری سازو سامان کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔ تمام سرکاری ملازمین اور خصوصاً ہر درجے کے اساتذہ کرام کی تنخواہوں اور الائونسز میں مہنگائی کی شرح سے اضافہ کیا جائے۔
نان فارمل ایجوکیشن سیکٹر (غیر رسمی تعلیمی شعبے) کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ارباب خان آفریدی ایم ڈی ماسٹر کوچنگ اکیڈمی پشاور نے کہا کہ صرف پشاور میں دو غیر رسمی ادارے اور ہاسٹل ہیں۔ ان میں دو لاکھ طلبہ ہیں۔ پشاور کی اکیڈمیز میں10 ہزار اساتذہ ہیں جو کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اکیڈمیز بند ہونے سے طلبہ کے تعلیمی نقصان کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور مالکان کا شدید نقصان ہوا ہے۔ ان اکیڈمیز کے ساتھ منسلک ٹرانسپورٹ، اسٹیشنری، فوڈ، جنرل سپلائرزکے سیکٹر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مالکان نے کرایہ داروں کو کوئی رعایت نہیں دی، حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ یوٹیلٹی بل باقاعدگی سے ادا ہورہے ہیں۔ ان میں پرائیویٹ اداروں کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
پروفیسر آصف احمد ایم ڈی Telsیونیورسٹی روڈ پشاور نے کہا کہ غیر رسمی شعبہ مکمل طور پر نظرانداز ہے، مارچ سے ستمبر تک ان کا سیشن ہوتا ہے، یہ لوگ کورونا کی پابندیوں کی وجہ سے سارا سال بے روزگار رہے ہیں۔ میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات کے بعد بچے ان اداروں میں جاتے ہیں۔ انگریزی، کمپیوٹر، IELT ISSB, ETEA, کی تیاری میں غیر رسمی تعلیمی شعبے کابنیادی اور اہم کردار ہے جسے حکومتی سطح پر مسلسل نظرانداز کیاجارہا ہے۔IELT کے امتحانات SOP’sکے تحت کمپیوٹر پرہوسکتے تھے لیکن حکومت نے اس شعبے کو بھی نظرانداز کیا۔کاروباری اداروںکوبجلی کے بلوں میں 50 ہزارروپے تک Rebate دیا گیا ہے۔ حکومت کو غیر رسمی اداروں میں یوٹیلٹی بلز اور کرایہ جات میں رعایت دینی چاہیے۔ یہ فری لانس ادارے ہیں، اگر ان کو تنخواہوں کی مد میں مدد نہیں دی جاسکتی تو انہیں کم از کم کرایہ جات اور بلوں میں رعایت ضرور ملنی چاہیے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
مولانا مسیح گل بخاری مدیر مدرسہ دارالسلام الاسلامیہ خیبر کلے پشاورنے کہا کہ دینی مدارس بند ہونے سے لاکھوں طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوا ہے۔ نمازِ جمعہ، نماز باجماعت اور عیدین کی نمازوں پر اثر پڑا ہے۔ دینی اداروں کے بچوں کو آن لائن کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔ بچوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ نہ ہونے سے بچوں کی تربیت پر بھی اثر ہوا ہے۔کورونا کی وجہ سے حج اور دیگر مذہبی رسومات اور عبادات بھی شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ ہمارے ڈونرز اور مالی وسائل پر بھی شدید اثر پڑا ہے۔
نجی شعبے جامعات کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر فرزند علی جان وائس چانسلر اقراء نیشنل یونیورسٹی حیات آباد پشاور نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ ادارے ایک پرندے کے دو پَر ہیں، البتہ نجی شعبے کے تمام اداروں کا… چاہے وہ اسکول اورکالج ہیں یا پھر جامعات… سارا انحصار اپنے وسائل پر ہے۔ کورونا میں مثبت اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کووڈ کی وجہ سے خوراک پر بھی اثر پڑا اور روایتی دیسی کھانوں کا احیا ہوا ہے۔ گھریلو نسخے اور ٹوٹکے بحال ہوئے ہیں۔ ٹریفک کی کمی کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بچوں اور والدین کے درمیان ربط میں اضافہ ہوا ہے۔کسی بھی ادارے کے تین وسائل ہوتے ہیں: مالی وسائل، فزیکل وسائل اور انسانی وسائل۔ ان تینوں شعبوں کو کورونانے متاثر کیا ہے۔ کووڈ 19جیسے نامساعد حالات کے لیے ہمیں کم از کم اپنے وسائل کا 10فیصد بچا کر رکھنا چاہیے۔ ہم نے تعطیلات کو ریسرچ پیپرز رائٹنگ کے لیے استعمال کیا، ہارڈ ایریا کے طلبہ وطالبات کو ہم نے اپنے طور پر انٹرنیٹ اور اسمارٹ موبائلز کی سہولت دے کر ان کے ساتھ کورس شیئر کیا۔ وزیرستان کے طلبہ وطالبات کے لیے ہم نے بنوں میں سینٹر ڈویلپ کرکے ان کے مسائل کو حل کیا۔ اس دوران ہم نے 20 ہزارڈیجیٹل کتب کی سہولت دے کر اپنے طلبہ کی مدد کی۔ لیکچرز کواپنی ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کرکے طلبہ کے تعلیمی سلسلے کو بحال رکھا گیا۔ واٹس ایپ گروپس بناکر طلبہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا گیا جس کے مفید اثرات سامنے آئے ہیں۔ یہ بات بجا ہے کہ کووڈ نے ہمارے اوپر معاشرتی، نفسیاتی اور تعلیمی اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن ہمیں ان نامساعد حالات کے باوجود اپنے اداروں کے استحکام، اور ان مشکلات میں سے آگے بڑھنے کے راستے بنانے ہوں گے۔
مباحثے کا اختتام پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن قریشی سابق چیئرمین سیکنڈری بورڈ پشاور کے اختتامی کلمات سے ہوا جس میں انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام شعبوں کو اس قومی بحران پر ایک ہونا چاہیے۔ تمام شعبوں کے درمیان قریبی روابط کے فروغ اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ہم ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب اداروں کے درمیان قریبی ربط ہوگا۔ موجودہ ابتر حالات میں حکومت سے کسی تعاون یا بہتری کی توقع رکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا ہمیں خاص کر آئی آر ایس جیسے اداروں کو آگے آکر موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے اداروں اور قوم کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مباحثے کی رپورٹ تمام متعلقہ افراد اور اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا سے بھی شیئر کی جائے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئی آر ایس اس نوع کی مثبت سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رکھے گا اور شرکاء ان میں اپنی شرکت اور مثبت و مفید تجاویز کے ذریعے مستقبل میں بھی ہماری حوصلہ افزائی اور راہنمائی جاری رکھیں گے۔ مباحثے کا اختتام دعا سے ہوا جس میں کورونا سے وفات پانے والے مرحومین کی مغفرت، بیماروں کی شفایابی اور اس موذی مرض سے نجات کے لیے خصوصی طور پر دعا کی گئی۔

Share this: