عرب اور اسرائیل

Print Friendly, PDF & Email

المیہ فلسطین ماضی، حال اور مستقل کے آئینے میں

(تیسرحصہ)

امتِ مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ عالم اسلام تقسیم ہے اور استعماری ایجنڈے کی تکمیل میں مسلم حکمرانوں کا پورا پورا حصہ ہے، اور اس کی ایک علامت متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ سمجھوتا ہے جو یقیناً ایک بڑی غداری اور المیے سے کم نہیں، جس کے نتیجے میں المیۂ فلسطین آج پھر ہمارے سامنے تازہ ہوگیا ہے۔ بھارتی صحافی منور مادیوان کی کتاب ’’عرب اور اسرئیل‘‘ المیۂ فلسطین کو ماضی، حال اور مستقبل کے آئینے میں سمجھنے کے لیے ایک اہم کتاب ہے۔ اور عرب اسرائیل مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایک عام آدمی کو جتنی ضروری معلومات چاہئیں وہ انہوں نے اس چھوٹی سی کتاب میں مہیا کردی ہیں۔ شریمتی منور مادیوان بنیادی طور پر دردِ دل رکھنے والی، مظلوموں سے ہمدردی کرنے والی ہندو مصنفہ ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی پر قلم اٹھاتی رہی ہیں۔ اپنی اسی طبیعت کے مطابق انہوں نے عرب اسرائیل مسئلے پر پوری معلومات کے ساتھ مختصر سا ایک انگریزی کتابچہ لکھا جس کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔ منور مادیوان نے اس مسئلے کے ہر پہلو کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن انگریزی میں 1966ء میں شائع ہوا تھا، اس کے علاوہ ہندی اور عربی میں ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے، اردو ایڈیشن پہلی بار جنوری1968ء میں چھپا تھا۔ یہ کتاب اپنی معلومات کے ساتھ اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک بھارتی مصنفہ کی لکھی ہوئی ہے جن کی ایک کتاب ’’انقلاب زندہ باد‘‘جو اُن کی بچپن کی یادوں پر مشتمل ہے، مشہور رہی ہے۔ ان کی والدہ شریمتی سیتا دیوی 1946ء میں لاہور سے پنجاب کی ممبر چنی گئیں اور تقسیم کے بعد پنجاب اسمبلی اور کونسل کی ممبر رہیں، اور جب انتقال ہوا تو راجیا سبھا کی ممبر تھیں۔ والد پرنسپل چھبیل داس نے بھی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا، اور بھگت سنگھ ان کے شاگردوں میں سے تھا۔ استعماری ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بڑی طاقتیں کس طرح قوت اور وسائل فراہم کرتی ہیں اور اپنے گھنائونے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے جس سفاکی کا مظاہرہ کرتی ہیں اس کو سمجھنے لیے اس کتاب میں بہت کچھ موادہے، جس کی بعض چیزوں سے یقیناً اختلاف کی گنجائش بھی موجود ہے لیکن امید ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قارئین کو عرب اسرائیل اور استعماری کھیل اور اس میں پھنسی بے بس امتِ مسلمہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ (ادارہ) ۔
برطانیہ کی ایما پر مئی 1947ء میں اقوام متحدہ کی عام اسمبلی کا ایک خاص اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس نے گیارہ ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیشن فلسطین بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس کمیشن کے آٹھ ممبرز نے جن میں ایک کے سوا سبھی یورپین اور امریکی ملکوں سے تعلق رکھتے تھے، فلسطین کی دو حصوں میں تقسیم کی سفارش کی، بڑا حصہ یعنی تقریباً 55فیصدی رقبہ یہودیوں کو دیا گیا حالانکہ یہودی آبادی ایک تہائی تھی اور وہ صرف چھے فیصدی رقبے پر قابض تھے، چھوٹا حصہ یعنی تقریباً 45 فیصدی رقبہ عرب ریاست کے لیے رکھا گیا جن کی آبادی اُس وقت بھی دو تہائی سے زیادہ تھی، یروشلم کے بارے میں سفارش کی گئی کہ اسے عالمی نگرانی میں ایک علیحدہ غیر جانب دار زون بنادیا جائے۔
اس کمیشن میں ہندوستان بھی شامل تھا۔ ہندوستان نے کمیشن کے دو دوسرے ممبرز ایران اور یوگوسلاویہ کے ساتھ مل کر سفارش کی کہ فلسطین کو تقسیم کرنے کے بجائے ایک وفاقی ریاست بنادیا جائے۔ مگر بڑی طاقتوں کی سیاسی مصلحتوں کے سامنے ہندوستان جیسے ملکوں کی کوششیں بری طرح ناکام ثابت ہوئیں، بڑی طاقتوں نے اس طرح اپنا اثر رسوخ استعمال کیا، اس کا سب سے شرمناک اعتراف خود صدر ٹرومین نے اپنی ڈائری میں یہ کہہ کر کیا ہے کہ ’’ظاہر ہے کہ مجھے یہودیوں ہی کی حمایت کرنا تھی کیونکہ امریکہ میں عرب نہیں بستے‘‘۔ اسرائیل کے پہلے صدر اور عالی صہیونی تحریک کے بہت بڑے لیڈر وائزمین نے اسی سلسلے میں اپنی خودنوشت سوانح حیات میں یہ کہہ کر سامراجی سازشوں کی قلعی کھول دی ہے کہ فلسطین کی تقسیم کا ریزولیوشن عام اسمبلی میں کبھی پاس نہ ہوتا اگر ٹرومین اس کی ایما پر کئی ڈیلی گیٹوں پر زبردست ذاتی اثر نہ ڈالتا۔
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اتنے زیادہ اثر رسوخ کے باوجود مختلف بہانوں پر تین بار عام اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا گیا، امریکہ کے ایک سابق نائب وزیر خارجہ فور اسٹال نے اعتراف کیا ہے کہ یہ اجلاس صرف اس لیے ملتوی کیے گئے کہ عام اسمبلی میں فلسطین کی تقسیم کے لیے فضا ہموار کی جاسکے، بدقسمتی سے خاص قسم کی مصلحتوں کے باعث اسٹالنی دور کا روس بھی تقسیم کی حمایت میں صف آرا ہوگیا۔ عربوں نے ہندوستان اور دوسرے ایشیائی ملکوں کی مدد سے پوری کوشش کی کہ حق و انصاف کے تقاضے عالمی اسمبلی کے فیصلوں پر اثرانداز ہوں، لیکن بڑی طاقتوں کی شاطرانہ چالوں نے ان کی پیش نہ چلنے دی۔ عربوں نے ہندوستان کی تجویز کی مکمل حمایت کی کہ فلسطین کو ایک وفاقی ریاست بنادیا جائے جہاں بسنے والے یہودیوں کو مکمل اندرونی آزادی حاصل ہو۔ جب یہ نہیں مانا گیا تو انہوں نے فلسطین میں رائے شماری کی تجویز پیش کی، آخر میں عربوں نے یہ کہاکہ اس مسئلے پر عالمی عدالت ہی کی رائے لے لی جائے کہ فلسطین کی تقسیم جائز ہے یا ناجائز۔ لیکن عام اسمبلی میں ان تجویزوں پر کسی نے معمولی غور تک کرنا ضروری نہ سمجھا۔
آخرکار 29 نومبر 1947ء کو فلسطین کی تقسیم کا ریزولیوشن پاس کردیا گیا۔ ایشیا اور افریقہ کے تمام ملکوں نے (ماسوائے فلپائن، ترکی، اور ایتھوپیا) اس ریزولیوشن کی مخالفت کی۔ ریزولیوشن کے مطابق عرب ریاست کو 44.88 فیصدی علاقہ اور یہودی ریاست کو 54.47 فیصدی علاقہ دیا گیا، یاد رہے کہ فلسطین کا کُل رقبہ دس ہزار مربع میل کے قریب تھا، اس میں سے 68 مربع میل رقبے کو یروشلم کا ’’کھلا عالمی شہر‘‘ بنانے کی سفارش کی گئی۔ ظاہر ہے کہ اس ریزولیوشن نے حق اور انصاف کے تمام تقاضوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں، کیونکہ اس سے صاف ظاہر تھا کہ ایک تہائی یہودی آبادی کو دو تہائی عرب آبادی کے مقابلے میںہر طرح سے ترجیح دی گئی ہے۔ انہی دنوں برطانیہ نے یہ اعلان کردیا کہ وہ 15 مئی 1948ء کو فلسطین سے اپنا قبضہ ہٹانا شروع کردے گا۔ یہ بھی کہا گیا کہ انخلا کا یہ پروگرام اگست 1948ء میں ختم ہوگا جبکہ برطانوی فوجیں حیفہ کی بندرگاہ کو خالی کرکے واپس چلی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ برطانیہ سبھی باشندوں کے جان و مال کی حفاظت کرتا رہے گا۔

اسرائیل کا قیام

اگلے کچھ ہی دنوں میں یہودی دہشت پسندوں نے اس اعلان کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں، انہوں نے فوراً ایسی کارروائیاں شروع کردیں جن سے گھبرا کر نہتے عرب باشندوں نے بھاگنا شروع کردیا۔ ان کارروائیوں میں سب سے خوف ناک حملہ یروشلم کے قریب ایک عرب گائوں دیریاسین پر کیا گیا جہاں سینکڑوں عرب باشندے بوڑھوں، بچوں اور عورتوں سمیت یا تو قتل کردیئے گئے یا اپاہج بناکر باہر نکال دیئے گئے، اسی قسم کی وحشیانہ کارروائیاں حیفہ، جافہ اور ایسے تمام علاقوں میں کی گئیں جنہیں یہودی اپنے لیے اہم سمجھتے تھے۔ برطانیہ حکومت نے ان کارروائیوں کی روک تھام کرنے کے بجائے یہودی دہشت پسندوں کی پوری طرح سے حوصلہ افزائی کی، سب سے بڑی غداری یہ کی گئی کہ 15مئی ہی کو برطانیہ نے سارا فلسطین خالی کرنے کا اعلان کردیا، اُس وقت تک یہودی دہشت پسند ایسے کئی علاقوں پر قابض ہوچکے تھے، جو یو این او کے ریزولیوشن کے مطابق یہودی ریاست کی حدود سے باہر تھے، برطانیہ نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے وعدے سے بہت پہلے فلسطین خالی کرنے کا جو اقدام کیا تھا، یہودیوں نے اس سے مکمل فائدہ اٹھایا اور 15 مئی 1948ء کو فلسطین میں اسرائیل کے نام سے ایک آزاد یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا۔ یاد رہے کہ یہ مسئلہ اُس وقت بھی اقوام متحدہ کے درپیش تھا اور قانونی طور پر یہ اعلان کرکے صہیونیوں نے عالمی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود اقوام متحدہ کی طاقت اور اختیار کا مذاق اڑانے کی کامیاب کوشش کی تھی، مگر بڑی طاقتوں پر ان کے چہیتے پٹھوئوں کی اس حرکت سے بھی جوں تک نہیں رینگی۔
اسرائیل کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ نے سب سے پہلے اور اس کے فوراً بعد دوسری بڑی طاقتوں نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا، اسی دوران اسرائیلیوں نے مقامی عرب باشندوں کے خلاف اپنے حملے تیز کردیئے، لاکھوں عرب ان حملوں کی بدولت بے گھر بنا دیئے گئے، عرب ملکوں نے عرب لیگ کے ذریعے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ان جارحانہ کارروائیوں سے باز رکھنے کی کوشش کرے، لیکن امن و انصاف کے پرستاروں نے یہ بات سنی ان سنی کردی۔ آخرکار تنگ آکر اور مایوس ہوکر عرب ملکوں نے فلسطین کے عرب عوام کی مدد اور حفاظت کے لیے فوجی کارروائی شروع کردی۔ اس کارروائی کے شروع ہوتے ہی اقوام متحدہ میں امنِ عالم کے خود ساختہ پرستار فوراً حرکت میں آگئے۔ اس دخل اندازی کا مطلب صرف یہ تھا کہ اسرائیل کو ذرا قدم جمانے کا موقع مل جائے، کیونکہ اس بات کا پورا خطرہ تھا کہ اپنے پہلے ہلّے میں عرب ملک اسے ختم کردیں گے۔ سیکورٹی کونسل نے فوراً ہی جنگ بندی کا حکم دے دیا اور سوئیڈن کے شہزادہ کائونٹ برناڈوٹ کو امن کا نگراں بناکر بھیجا گیا۔ جنگ بندی ایک مہینہ تک رہی۔ اس کے دوران عربوں نے اس کی ہر ایک دفعہ پر حرف بہ حرف عمل کیا لیکن اسرائیلی اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہر ممکن طریقے سے اپنی پوزیشن بہتر بنانے میں لگے رہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسرائیل میں ہزاروں غیر ملکی فوجی پہنچ گئے، ان میں امریکہ اور برطانیہ کے باقاعدہ فوجیوں کی ایک بھاری تعداد بھی شامل تھی۔ دونوں سرکاروں نے بعد میں اعتراف کیا کہ ’’ان کی بری اور ہوائی فوجوں کے یہ ارکان چھٹیاں منانے وہاں گئے تھے‘‘۔
شہزادہ برناڈوٹ نے اپنی رپورٹ میں بھی یہ کہا کہ دنیا بھر کے یہودیوں نے فلسطین پہنچنے کی جو مہم شروع کررکھی ہے اس نے جنگ بندی کو قائم رکھنا بہت مشکل بنادیا ہے۔ مگر بڑی طاقتوں نے ایسی رپورٹوں کی کوئی پروا نہ کی اور دل کھول کر اسرائیل کی مدد اور حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ چار ہفتے بعد جنگ بندی ختم ہوئی تو عرب فوجوں نے پھر کارروائی شروع کی، لیکن سلامتی کونسل نے ایک بار پھر جنگ بندی کا حکم دے دیا۔
جنگ بندی کے دوران اسرائیل نے اس قدر خلاف ورزیاں کیں اور عرب عوام پر اتنے بڑے مظالم توڑے کہ شہزادہ برناڈوٹ کو مجبوراً سلامتی کونسل سے شکایت کرنا پڑی کہ اسرائیلی رویّے کی بدولت وہ اپنے فرائض ٹھیک ڈھنگ سے ادا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کچھ تجاویز بھی پیش کیں جن پر عمل کرکے صورتِ حال کو بہتر بنایا جاسکتا تھا اور فلسطین میں امن قائم کیا جاسکتا تھا۔ اسرائیلی دہشت پسندوں کی طرف سے ان تجاویز کا یہ جواب دیا گیا کہ پہلے تو اقوام متحدہ کے اس عظیم نمائندے کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ اپنی ’’حرکتوں‘‘ سے باز آجائے، مگر جب ان دھمکیوں کا سوئیڈش شہزادے پر کوئی اثر نہ ہوا تو انہیں دن دہاڑے اسرائیلی مقبوضہ یروشلم میں گولیوں کا نشانہ بنادیا گیا۔ اسرائیلیوں کا یہ جرم اس قدر خوف ناک تھا کہ چند اراکین کی واضح ترین اسرائیل نوازی کے باوجود سلامتی کونسل کو یہ ریزولیوشن منظور کرنا پڑا کہ اسرائیل نے شہزادہ برناڈوٹ کی حفاظت میں نہ صرف کوتاہی کی ہے بلکہ ان کے قاتلوں کو پکڑنے کی بھی کوئی عملی کوشش نہیں کی۔ برناڈوٹ کے یہ قاتل اب تک نہیں پکڑے گئے اور اب تو ان میں سے کئی ایک اہم عہدوں پر فائز بھی ہیں۔
مارچ 1949ء میں اقوام متحدہ کے دبائو، عرب ملکوں کی عام کمزوری اور باہمی نفاق کے باعث اسرائیل اور مصر، شام، لبنان اور اردن کی سرکاروں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے ہوگئے۔ ان معاہدوں میں یہ بات صاف کردی گئی تھی کہ یہ عارضی نوعیت کے ہیں اور ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عرب ملکوں نے اسرائیل کا وجود قانونی طور پر تسلیم کرلیا ہے۔
جنگ بندی کے ان معاہدوں کے باوجود اسرائیل نے اپنی جارحانہ کارروائیاں کس طرح جاری رکھیں اس کا ذکر ہم کچھ بعد میں کریں گے، لیکن یہاں پر کچھ بنیادی حقائق کو سمجھ لینا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

عذرِ گناہ

پہلی بات تو یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد دس لاکھ سے زیادہ عربوں کو بلاکسی قصور اور جرم اپنے آبائی گھروں سے نکل کر مہاجرین بن کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑا، دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل فروری 1949ء میں جس علاقے پر قابض تھا اس کا رقبہ آٹھ ہزار مربع میل تھا، یعنی فلسطین کے کُل رقبے کا 77.40 فیصد۔ یہ رقبہ اقوام متحدہ کے تقسیم کے ریزولیوشن کے تحت اسرائیل کو دیئے گئے علاقے سے 21 فیصد یا 14 لاکھ 15 ہزار ایکڑ زیادہ ہے، مگر اب اقوام متحدہ کے نام لیوا اس کھلی جارحیت کا ذکر تک کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔
اسی سلسلے کی چوتھی حقیقت جو ہم سب کے لیے قابلِ غور ہے وہ یہ کہ تقسیم تو دنیا کے کئی ملک ہوئے ہیں، مثال کے طور پر کوریا، جرمنی اور ویت نام۔ برصغیر ہند و پاک کی تقسیم سے پیدا ہونے والی تلخی سے بھی ہم اچھی طرح واقف ہیں، لیکن فلسطین کی مثال ان سب ہی تقسیموں سے بالکل الگ اور کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے، باقی ملکوں میں ملک تو تقسیم ہوئے تھے لیکن وہاں کے لوگ تقریباً وہیں رہے، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آبادی کا تبادلہ خاصے بڑے پیمانے پر خاصے تکلیف دہ طریقے سے ہوا لیکن پھر بھی یہ ماننا پڑے گا کہ دونوں طرف کے لوگ برصغیر ہی سے تعلق رکھتے تھے، اس کے علاوہ اس تقسیم کو دونوں ملکوں کے مانے ہوئے رہنمائوں کی باقاعدہ تائید حاصل تھی۔ مگر فلسطین کے معاملے میں وہاں کے عوام یا ان کے رہنمائوں سے کبھی نہیں پوچھا گیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ فلسطین دنیا میں ایسی ایک ہی مثال ہے جہاں کی مقامی آبادی کو پوری طرح سے بے گھر بناکر وہاں ایسے لوگ آباد کیے گئے جن کا اس سرزمین سے ہزاروں میل دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ اس اعتبار سے فلسطین کی تقسیم کا المیہ دوسری کسی بھی تقسیم سے کہیں زیادہ الم ناک بھی ہے اور بالکل مختلف بھی۔
یہ بھی یاد رہے کہ فلسطین پر اسرائیلی اپنے کسی بھی دعوے کو آج تک ثابت نہیں کرسکے، سیاسی اعتبار سے ان کے دعوے کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ 1918ء میں لارڈ بالفور نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنادیا جائے گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عربوں سے اس صریحاً غداری کے بیان میں بھی یہ کہیں ذکر نہیں کیا گیا کہ قومی گھر کا مطلب ایک علیحدہ اور آزاد ریاست کی تشکیل ہے۔ دوئم یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ بالفور کو یہ وعدہ کرنے کا کیا حق تھا؟
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جس وقت یہ وعدہ کیا گیا اُس وقت تک فلسطین امانت کے طور پر بھی برطانیہ کی تحویل میں نہیں آیا تھا، یہ کچھ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک چور پہلے ہی سے اپنے کسی ساتھی سے یہ کہہ دے کہ مالِ غنیمت میں سے تمہیں اتنا حصہ ملے گا۔ یہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ بالفور اعلان کرنے والوں نے کھلم کھلا یہ تسلیم کیا کہ فلسطین کی 93 فیصد عرب آبادی کی رائے ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ آج کے دور میں ایسے مکارانہ اور عوام دشمن وعدے کی کتنی وقعت ہوسکتی ہے اس پر ہم کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔
اسرائیلیوں کا ایک تاریخی دعویٰ بھی ہے، وہ یہ کہ آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے فلسطین کے ایک حصے میں تقریباً ستّر برس تک ان کی ایک مملکت قائم تھی۔ اس سلسلے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہودی خود غیر ملکیوں کی حیثیت سے فلسطین میں داخل ہوئے تھے اور ان کی حیثیت کسی بھی دوسرے حملہ آور سے مختلف نہیں تھی۔ اس زمانے میں بیسیوں حملہ آور یونان، عراق، ایران، روم اور کئی دوسرے ملکوں سے فلسطین آئے اور کچھ دیر حکومت کرکے ختم ہوگئے۔ اگر کسی اور کو اپنے ’’علاقے‘‘ کی واپسی کا حق نہیں ہے تو وہ یہودیوں کو کیسے مل گیا؟ اسی مسئلے کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ جس علاقے پر دو ہزار سال پہلے یہ مملکت قائم تھی، اس کا بڑا حصہ موجودہ فلسطین میں تھا ہی نہیں۔ یہ علاقہ موجودہ شام اور اردن میں ہے۔ اس کے کچھ حصے پر اسرائیل نے حال ہی میں قبضہ ضرور کیا ہے مگر بنیادی طور پر اسرائیل جس علاقے میں قائم کیا گیا وہ پرانی یہودی سلطنت سے بالکل مختلف تھا۔ شاید اسی بہانے اسرائیلی سامراج اپنی حدود کو لگاتار بڑھانے کی کوشش میں رہتے ہیں، اور جب بھی کوئی نیا علاقہ ہتھیاتے ہیں تو اسے قدیم یہودی سلطنت کا حصہ بتا کر اپنا بنالیتے ہیں۔ بیت المقدس یروشلم کے ساتھ انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج کی دنیا میں اگر ایسے دعوے تسلیم کیے گئے تو تقریباً ہر ملک کی آزادی خطرے میں پڑ جائے گی، کوئی نہ کوئی ملک اپنے کسی نہ کسی پڑوسی کے بارے میں یہ ضرور کہہ سکتا ہے کہ وہاں پر کبھی اس کی حکومت تھی اس لیے اب اسی کا قبضہ ہونا چاہیے۔ ایسے دعووں کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ہم یہ مان لیں کہ دنیا کے ہر حصے میں بسنے والا ہر یہودی خواہ اس کا رنگ کچھ بھی کیوں نہ ہو، خواہ وہ کوئی بھی زبان کیوں نہ بولتا ہو، اور خواہ یہودی مذہب کے بارے میں وہ کوئی بھی عقیدہ کیوں نہ رکھتا ہو ایک ہی نسل سے تعلق رکھتا ہے جو دو ہزار سال پہلے فلسطین کے کچھ حصے میں آباد تھی۔ اس قسم کے اوٹ پٹانگ دعووں کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نسلی برتری کے ایسے تمام دعوے تسلیم کرلیں جو ہٹلر اور دوسرے فسطائی لیڈر ہمیشہ کرتے رہے ہیں۔
اب چند الفاظ اسرائیل کے مذہبی دعوے کے بارے میں۔ یہودی سامراجی یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تاریخی، قانونی، انسانی، لسانی اور اخلاقی بنیادوں پر وہ کسی قسم کا کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے، عین اسی لیے انہوں نے ایک مذہبی دعویٰ بھی گھڑ رکھا ہے۔ اس دعوے کا لب لباب یہ ہے کہ انجیل مقدس کے مطابق خدا نے حضرت ابراہیمؑ سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ کنعان کی سرزمین کو ان کی اولاد کے لیے وقف کردے گا۔ صہیونیوں کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کا قیام اسی وعدے کی تکمیل ہے۔
اس سلسلے میں کئی باتیں قابلِ غور ہیں، اولاً تو بے شمار عیسائی عالم یہ ثابت کرچکے ہیں کہ بائبل میں کیا گیا وعدہ خاصا مشروط تھا، یہودیوں نے اسی سرزمین پر حضرت موسیٰؑ کے بعد جو بداعمالیاں کیں اور خدا نے جو ان کی سزا دی اُس کے بعد اس مشروط وعدے کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ خود پوپِ اعظم پال کا یہ خیال ہے کہ اس وعدے کی مذہبی حیثیت اگر بالکل ہی بے بنیاد نہیں تو بے حد مشکوک ضرور ہے۔ عیسائی مؤرخوں ہی نے یہ بھی کہا ہے کہ جس سرزمین کنعان کا ذکر بائبل میں موجود ہے اُس کا معمولی حصہ ہی موجودہ اسرائیل میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو علاقہ ’’خدائی وعدے‘‘ میں شامل ہی نہیں تھا اُس پر اسرائیلی تسلط سے اس وعدے کی تکمیل کیسے ہوگئی؟
کئی یورپین عالموں کا یہ کہنا بھی ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیمؑ کی اولاد کو سرزمین کنعان دینے کا اگر وعدہ کیا تھا تو حضرت ابراہیمؑ یہودیوں ہی کے نہیں، عربوں یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں کے جدِّامجد بھی تھے۔ بلکہ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ وعدہ حضرت اسمٰعیلؑ کی طہارت اور پاکیزگی کے وقت کیا گیا تھا۔ یہودی حضرت اسمٰعیلؑ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں مگر عرب انہیں اپنا جدِّامجد مانتے ہیں۔ یہودی حضرت اسحٰق ؑکو اپنا جدِّامجد سمجھتے ہیں۔ جس وقت یہ مبینہ خدائی وعدہ کیا گیا اُس وقت حضرت اسحٰقؑ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔
ان سب حقائق سے بھی اہم بات یہ ہے کہ فلسطین میں بسنے والے 90 فیصد عوام یعنی مسلمان اس وعدے کی اصلیت میں کوئی یقین نہیں رکھتے، بلکہ ان کی مذہبی کتاب میں موجود ہے کہ یہودیوں نے اللہ کو ناراض کیا اور اپنے کیے کی سزا پائی۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک مذہبی کتاب یعنی بائبل میں موجود ایک خاصے ’’مشکوک وعدے‘‘ کو ایک سیاسی دعوے کی بنیاد مانا جاسکتا ہے تو ایک دوسری اتنی ہی اہم اور قابلِ احترام مذہبی کتاب یعنی قرآن کے واضح ترین الفاظ کو اس دعوے کی نفی کے طور پر اہمیت کیوں نہیں دی جاسکتی؟
سچ تو یہ ہے کہ آج کے دور میں ایسے دعووں میں الجھنا ایک ایسی طولانی بحث کو دعوت دینا ہے جس کا فیصلہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا، لیکن جس سے کئی آزاد ملکوں کی آزادی خطرے میں پڑ جائے گی اور ایک زبردست عالمی انارکی کا اندیشہ پیدا ہوجائے گا۔
(جاری ہے)

۔’’ہم نے فلسطین چرایا ہے‘‘۔

پہلے اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان کا اعتراف
اسرائیل کو تسلیم کرنے والے مسلم حکمرانوں کی غیرت کو چیلنج

فلسطین اسرائیل تنازعے پر بات کرتے ہوئے یہ حقیقت ہمیشہ ملحوظ رکھی جانی چاہیے کہ اسرائیل کے بانی بھی اس کا ناجائز ریاست ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ اس ملک کا قیام فلسطینیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کرکے عمل میں لایا گیا ہے۔ اس لیے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد برحق ہے۔ اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان عالمی یہودی کانگریس کے صدر ناہم گولڈمین کو لکھے گئے اپنے تاریخی اہمیت کے حامل ایک خط میں اس سچائی کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“If I were an Arab leader I would never make terms with Israel. That is natural: we have taken their country…We come from Israel. but two thousand years ago, and what is that to them? There has been anti-semetism, the Nazis, Hitler, Auschwitz. but was that their fault? They only see one thing: we have come here and stolen their country.Why should they accept that?”
یعنی: ’’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتا نہ کرتا۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ ہم نے ان سے ان کا ملک چھینا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن یہ دو ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ فلسطینیوں کا بھلا اس سے کیا واسطہ! ہاں دنیا میں یہودی مخالف تحریک، نازی، ہٹلر، آش وٹز سب رہے ہیں، مگر کیا اس کے ذمہ دار فلسطینی ہیں؟ وہ صرف ایک چیز دیکھتے ہیں: ہم یہاں آئے اور ہم نے ان کا ملک چرا لیا۔ آخر وہ اس چیز کو کیوں قبول کریں؟“
امریکی محققین پروفیسر جان میئر شیمر (John Mearsheimer) اور پروفیسر اسٹیفن والٹ (Stephen Walt) نے اپنی کتاب ’’دی اسرائیل لابی ایند یو ایس فارن پالیسی‘‘ میں ڈیوڈ بن گوریان کا یہ خط نقل کیا ہے۔
(بحوالہ: ”دہشت گردی اور مسلمان“۔ از ثروت جمال اصمعی، شائع کردہ آئی پی ایس، اسلام آباد)

Share this: