کورونا 2020ء اور اُس کے بعد ۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان اکیڈمی آف سائنسزسندھ چیپٹر اورنیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے اشتراک سے سیمینار

کورونا کے سائے دُنیا بھر میں آج بھی برقرار ہیں ۔ دسمبر2019میں چین سے ظاہر ہونے والے اس وائرس نے مارچ 2020تک اپنے آپ کو عالمی وبا کے بطور پر منوایا۔مارچ تا جولائی 2020ء دُنیا کے بیشترحصوں میں ایک نئی تاریخ رقم کر گئے۔ اس سے قبل ہم نے اگست2019میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں پہلی مرتبہ لاک ڈاؤن کی اصطلاح سُنی تھی پھر مارچ میں سب نے اُس کو جھیلا۔ الحمدللہ ، پاکستان سمیت دُنیا کے کئی ممالک سے کورونا کے خطرات کے بادل خاصے چھٹ گئے ، تقریباً نولاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہو کر دُنیا سے رخصت ہوئے اور کوئی 2کروڑ مریض صحت مند ہوئے۔بہرحال اس وائرس پر تحقیق تا حال جاری ہے ، کوئی ویکسین اب تک سامنے نہیں آئی ، اس وائرس کے رویے اور اثرات بھی بتدریج سامنے آر ہے ہیں۔ اس لیے آگہی اور معلومات کا تبادلہ ہر لحاظ سے ناگزیر عمل ہے ۔
پاکستان اکیڈمی آف سائنسزسندھ چیپٹر اورنیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر، آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے اشتراک سے کراچی یونیورسٹی ایل ای جے آڈیٹوریم میں ’کورونا:2020اور اُس کے بعد‘ کے موضوع پرایک سیمینارکا انعقاد اسی مقصد کے لیے کیا گیا۔
سیمینار میں ملک بھر سے ماہرین نے شرکت کی اور انتظامیہ کی جانب سے دیئے گئے مختلف موضوعات کا احاطہ نئی تحقیق اور تجزیوں کی صورت میں کیا۔شرکاء کی تفہیم کے لیے تمام مقررین نے ملٹی میڈیا پریزینٹیشن کے ذریعہ بریف کیا۔سیمینار کے کلیدی مہمان وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت و ماہرمتعدی امراض ڈاکٹر فیصل سلطان نے ’پاکستان اور کورونا ‘ کے موضوع پر بذریعہ زوم لنک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کورونا کی وبا کے پھیلاؤ اور علاج کی سہولیات کا انتظام مجموعی طور پر بہتر انداز سے چلایا ۔ملک بھر سے ڈیٹا جمع کر کے اس کی روشنی میں اقدامات و حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ عوام سردیوں میں ماسک کے استعمال کو بڑھائیں گے تومثبت نتائج کا امکان ہے ۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہاکہ ملک بھرمیں تعلیمی ادارے کھلنے سے 5کروڑ کے قریب طلبہ طالبات گھروں سے نکلیں گے اس لیے اس عمل کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے ایس او پیز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ان پر عمل ہمارے ہی فائدے کے لیے ہیں ، ویکسین آنے میں کئی ماہ ہیں، اس کے لیے حکومت نے ایک ویکسین گروپ بنالیا ہے جو اس پر مسلسل کام کر رہا ہے کہ یہ ویکیسن کیسے پاکستان آئے گی پھر کس کس کو دی جائے گی۔سیمینار کی صدارت آغا خان ہسپتال کی سینئر ڈاکٹر پرووفیسر رابعہ حسین کرہی تھیں انکاکہنا تھا سمینار کے ذریعہ مختلف پہلوسامنے آئے اور اس بات کی یاد دہانی ہوئی کہ عوام یہ نہ سمجھیں کہ وائرس بالکل ختم ہو گیا ہے ، اس کی علامات ظاہر ہونے میں وقت لیتی ہیں البتہ ہمارے نظام مدافعت دیگر ممالک سے بہتر ثابت ہواہے ، سائنسدانوں کے مطابق بی سی جی ویکسین کے بھی مثبت اثرات سامنے آئے ہیں ،جس پر مزید تحقیق جاری ہے ، ویکسین پر کام جاری ہے اب تک کی اطلاعات کے مطابق کئی ویکسین تیسرے ٹرائل کے مرحلے میں آ چکی ہیں ، لیکن وائرس کا دوبارہ حملہ ہوا تو بہت نقصان ہوگااس میں سب کو باہمی تعاون کرنا ہوگا۔صدر شعبہ نیورولوجی ، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اور صدر نارف ( نیورولوجی اویرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن) ڈاکٹر محمد واسع نے کہا کہ تازہ عالمی تحقیق اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کورونا وائرس صرف پھیپھڑوں پر نہیں بلکہ انسانی دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے ۔اس سے پہلے سارس اور مرس وائرس میں بھی ایک تہائی مریضوں میں دماغی اثرات پائے گئے تھے۔سردردواعصابی درد، ایجی ٹیشن ،فالج ، سونگھنے و چکھنے کی صلاحیت جیسے کئی دماغ سے جڑے مسائل کورونا کے مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد بھی سامنے آرہے ہیں۔
سابق سیکریٹری فنانس و ماہر معیشت ڈاکٹر وقار مسعودنے کورونا اور معاشی اثرات کے حوالے سے گفتگو میں کہاکہ کورونا کو قابو کرنے کے لیے اچانک ہونے والا لاک ڈاؤن انتہائی مسائل ساتھ لے کر آیا۔ یکدم بڑی تعداد میں عوام کا روزگار بند ہوگیا، کئی کاروبار بند ہوگئے۔ چھوٹی صنعتیں اور پیداوار کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔یہ سب دُنیا بھر میں ہو رہا تھا ہماری ایکسپورٹ بھی متاثر ہوئیں ۔ 2019میں 1.9%جی ڈی پی تھی ، آئی ایم ایف پروگرام بھی اس لاک ڈاؤن سے قبل ہی رُک گیا تھا ، 4000ارب روپے ٹیکس وصول ہوا جو کہ ہدف سے خاصا کم تھا۔ 2020 کے دوسرے کوارٹر میں بھارت کی جی ڈی پی -3.9رہی جبکہ پاکستان -2رہا۔ بدترین صورتحال میں حکومت کی جانب سے احساس پروگرام، سستے قرضے، بجلی سبسڈی، تعمیری صنعت میں رعایت ، ایف بی آر سے پہلی مرتبہ ٹیکس ریفنڈ کی وجہ سے فائدہ ہوا البتہ ہماری بڑی صنعتوں کو خاصا دھچکا لگا۔ کو آرڈینیٹر جنرل کامسٹیک ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہاکہ ویکسین کی تیاری کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اسکالر شپ پروگرام ، او آئی سی ممالک کے درمیان ڈائیگناسٹک لیبارٹری نیٹ ورک بنانے پر کام چل رہا ہے ۔
چیئرمین گیلپ پاکستان ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے دُنیا کی معلوم تاریخ میں پھیلنے والی وباؤں کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے اُن وباؤں کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وباؤں نے انسانی دائرے کے تمام شعبہ جات کو متاثر کیا جس میں تعلیم، روز مرہ معاش کی سرگرمیوں ، قومی وعالمگیر معیشت، نقل و حمل کی دنیا ، خاندانی دائرے ، اجتماعی عبادات، شادی ، اموات، محلہ ، برادری کے سماجی اجتماعات، بازارکی خرید و فروخت، مقامی و قومی سیاست کے دائرہ کار میں ہونے والی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میجر جنر ل پروفیسر عامر اکرام ستارہ امتیازنے کورونا کی درجہ بندیوں اور انسانی اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پھیپھڑوں کو تباہ کرنے والے وائرس کے پھیلاؤ کا چیلنجنگ اثر ہواہے، نئی جہتوں پر سوچنے اور کچھ کرنے کا موقع ملا ہے ،مزید تفصیلات امیونٹی کے حتمی نتائج پر کام جاری ہے ۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ڈاکٹر فیصل محمود نے مدافعتی نظام پر تازہ تحقیق پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جسم میں کئی اقسام کی امیونٹی پائی جاتی ہیں ،کورونا سے مقابلے کے لیے ہرڈ امیونٹی سمیت کئی مدافعتی نظام وائرس کا مقابلہ کر رہے ہیں مگر ویکسین تا حال سب سے موثر ذریعہ ہوگی ۔اینٹی باڈی ٹیسٹ دوسری مرتبہ حملے سے بچنے کا ذریعہ نہیں ہے ، نیوٹرلائز اور ہائی ٹائرز کی اینٹی باڈیز جسم کو درکار ہیں۔
جناح ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر اقبال آفریدی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سماجی فاصلے کی اصطلاح نے مسائل پیدا کیے ، اصل میں صرف جسمانی قربت کا مسئلہ ہے۔کورونا اور لاک ڈاؤن کے اثرات نے نفسیاتی امراض میں اضافہ کیا ،ڈپریشن، اینگزائٹی، طلبہ میں سب سے زیادہ پائی گئی۔ اس کے لیے ورزش، اچھی نیند ، مثبت رحجانات ، صرف مستند خبروں پر انحصار ، اسکرین اوقات کار میں کمی ، متوازن غذا، مطالعہ اور احباب سے سماجی رابطہ ضروری ہے ۔پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اسلم بیگ نے کہاکہ کورونا پر قابو پانے کی کوشش جاری ہیں لیکن یہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ، آگہی ، تحقیق اور احتیاط ضروری ہیں ۔پاکستان اکیڈمی آف سائنسز سندھ کے صدر خالد محمد خان نے معزز مہمانوں و مقررین کا اس اہم موضوع پر وقت نکالنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔ سیمینار کے آن لائن ناظرین شرکا نے مقررین سے مختلف سوالات بھی کیے ۔

Share this: