ختم نبوت جلسہ عام

Print Friendly, PDF & Email

نظام مصطفیٰ کے بغیر پاکستان کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا،سراج الحق
جماعت اسلامی پشاور کے زیر اہتمام جلسے سے مقررین کا خطاب

خیبرپختون خوا چونکہ ہمیشہ سے مذہبی لحاظ سے ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ حساس واقع ہوا ہے، اس لیے وطنِ عزیز میں جب بھی اسلام دشمن قوتیں اسلام اور خاص کر پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف منظم سازشیں شروع کرنے لگتی ہیں، تو ایسی سازشوں کے خلاف خیبر پختون خوا سے ہمیشہ ایک توانا آواز اٹھتی ہے۔ اس پسِ منظر کے ساتھ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے اور اس کی صفوں میں مختلف حیلے بہانوں اور ہتھکنڈوں سے پاکستان کی نظریاتی جڑوں کوکمزور کرنے والے قادیانیوں کے لیے نرم گوشوں کا اظہار ہوتا رہا ہے، اور اس ضمن میں کبھی نصاب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات سے متعلق مضامین خارج کرنے کی جسارتیں دیکھنے میں آتی ہیں، اور کبھی قادیانیوں کو تحفظ دینے اور انہیں اہم عہدوں پر بلا جھجک اور بلاروک ٹوک بٹھانے کے واقعات پیش آتے ہیں، جب کہ کبھی آسیہ مسیح سمیت دیگر گستاخانِ رسول کو جیلوں سے نکال کر انہیں راتوں رات اپنے غیر ملکی آقائوں کے اشاروں پر بیرونِ ملک پورے اعزاز اور پروٹوکول کے ساتھ روانہ کیا جاتا ہے۔ قابلِ افسوس بلکہ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسی حکومت اور حکمرانوں کی جانب سے کیا جاتا ہے جو خود کو ریاست مدینہ کے پشتیبان اور علَم بردار قرار دیتے ہیں۔ دراصل موجودہ حکمران ٹولہ جھوٹ اور مسلسل فراڈ کے ذریعے قوم کو پچھلے دوسال سے ان ہی خوش کن نعروں کے ذریعے بہلانے کی کوشش کرتا رہا ہے، جب کہ ان کے عزائم اور قرائن بتاتے ہیں کہ اگر انہیں تھوڑا سا بھی فری ہینڈ ملے تو یہ لوگ نہ صرف آئینِ پاکستان کا اسلامی حلیہ بگاڑنے میں دیر نہیں لگائیں گے بلکہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تمام آئینی شقوں کو پامال کرتے ہوئے پاکستان کے اسلامی تشخص کو بھی دائو پر لگانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ اگر ان حکمرانوں کو باہر سے احکامات موصول ہوجائیں تو یہ نہ تو اسرائیل کو تسلیم کرنے میں دیر لگائیں گے اور نہ ہی کشمیر کا سودا کرنا ان کے لیے کسی شرم اور افسوس کا باعث ہوگا۔ یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ پاکستان میں چونکہ عوامی سطح پر اب بھی اسلام اور اسلامی شعائر پر کٹ مرنے کا جذبہ کسی بھی دوسرے اسلامی ملک سے زیادہ ہے اور اس کے مظاہر ہم مختلف اوقات میں دیکھتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان چھوٹی بڑی مذہبی جماعتیں نہ صرف اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے بیدار اور متحرک رہتی ہیں، بلکہ یہ ان جماعتوں کا اثر ہی ہے کہ بیرونی اور اندرونی سازشوں کے باوجود اسلامیانِ پاکستان ان جماعتوں کے پشتیبان بن کر پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کی جدوجہد میں ان جماعتوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو جماعت اسلامی پشاور کے زیراہتمام فتنۂ قادیانیت کے خلاف ختمِ نبوت جلسہ عام میں اہلِ پشاور کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
پشاور کے تاریخی خیبر بازار میں جماعت اسلامی پشاور کے زیراہتمام منعقدہ ختم نبوت جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 ربیع الاوّل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے مبارک دن سے نظام مصطفی اور سود کے خاتمے کے لیے تحریک کا آغاز کریں گے۔ حکمرانوں اور افواجِ پاکستان سے کہتا ہوں کہ شریعت اور نظام مصطفی کے نفاذ کے بغیر پاکستان کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔ ہمارے حکمران غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی لوٹ کر اپنے کارخانے اور بنگلے بنا رہے ہیں۔ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دشمنوں کی امانتوں کی بھی حفاظت کی۔ عوام کے ساتھ فراڈ کرنے کو حکمران اپنی قابلیت سمجھتے ہیں۔ حکمران اپنے وعدوں سے مکر کر کہتے ہیں رات گئی بات گئی۔ آئی ایم ایف کے آگے سجدہ ریز حکمران سر اٹھانے کا نام نہیں لیتے، حالانکہ آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے سے خودکشی کرنا بہتر قرار دیتے تھے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے ایف اے ٹی ایف کے قوانین میں حکومت کا ساتھ دے کر ثابت کیا کہ امریکی جھنڈے تلے یہ سب ایک ہیں۔ ان کی محبتوں کا قبلہ آج بھی واشنگٹن اور لندن ہے۔ اس جلسے سے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان اور پشاور کے امیر عتیق الرحمٰن، مفتی امتیازمروت، مولانا اسماعیل اور شبیر احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ اس موقع پر دو الگ الگ قراردادیں بھی پیش کی گئیں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے قادیانی پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور حکمران امریکہ و سامراجی اور استعماری قوتوں کی خوشنودی اور ڈالر کے لیے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کررہے ہیں۔ 73 سال بعد بھی پاکستان کے بائیس کروڑ عوام تحفظِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت کی حفاظت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ کلمہ کے نام پر بننے والے ملک میں اگر ناموسِ رسالت اور صحابہ کرام ؓ کی عزت محفوظ نہیں تو یہ کیسا اسلامی ملک ہے! حکمرانوں نے تو پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ عالمِ اسلام کی قیادت بھی دشمن کی مٹھی میں ہے اور وسائل پر بھی اس کا قبضہ ہے۔ حکمران بائیس کروڑ عوام کے لیے نہیں آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے لیے قانون سازی کرتے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمان اور مائیں، بہنیں، بیٹیاں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی 86 سالہ قید میں ہے، لیکن یہ ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہیں مگر قوم کی بیٹی کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔ اقتدار پر وطن فروش، ضمیر فروش، بھائیوں اور بہنوں کے سودے کرنے والے غیرت و حمیت سے عاری حکمران مسلط ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 295-C کو ختم کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ اس کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ حکمران بتائیں کہ وہ کس قانون کا درست استعمال کررہے ہیںِ یہ دشمن کے اشارے پر 295-C کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت اپنا قبلہ درست کرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو موت کی سزا دے۔
جماعت اسلامی خیبرپختون خوا کے امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان ہے، اسی طرح 7 ستمبر یوم دفاعِ عقیدہ اور ایمان ہے۔ عقیدہ جغرافیہ سے مقدم ہے۔ اگر عقیدہ محفوظ ہوگا تو جغرافیہ بھی محفوظ رہے گا۔ تحفظِ ختمِ نبوت اسلام کی اساس اور تحفظِ ناموسِ رسالت پر ایمان خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میری تحریک پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کے ساتھ خاتم النبیین لازمی لکھنے کا قانون پاس ہوا۔ اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی تحفظ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالت کا کاروان ہے۔ ہم جب تک زندہ ہیں، عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سویڈن، ناروے اور فرانس میں قرآن پاک جلانے اور حضرت محمد خاتم النبیین کی شان میں گستاخی کے واقعات دنیا کو عالمی جنگ کی آگ میں جھونکنے کی سازش ہے۔ قادیانی امریکہ، مغرب اور عالم کفر کے کرائے کے فوجی اور دستورِ پاکستان کے غدار اور باغی ہیں۔ یہ اسلام اور پاکستان کے خلاف منظم دہشت گردی کررہے ہیں۔ قادیانیوں اور قادیانیت نواز افسروں کو اعلیٰ سرکاری عہدوں سے ہٹایا جائے اور حکومت قادیانیوں کی سرپرستی چھوڑ دے، ورنہ غلامان اور عاشقانِ رسول اس حکومت کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔

ختم نبوت کانفرنس

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام کانفرنس سے مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب

ختم نبوت کے عنوان سے 7 ستمبر 1974ء کو جو قانون سازی ہوئی تھی اسی کی یاد میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے زیرانتظام یوم الفتح منایا گیا۔ اس سلسلے میں پشاور میں ایک ختمِ نبوت کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد شریک ہوئے۔ اس کانفرنس سے جمعیت(ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمٰن اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمان کے اسٹیج پر پہنچنے پر شرکائے کانفرنس نے ان کا والہانہ استقبال کیا، مولانا فضل الرحمان کے حق میں کارکنان کی جانب سے جذباتی نعرے لگائے گئے، مولانا فضل الرحمان اسٹیج پر دیگر قائدین کے ہمراہ کارکنان کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتے رہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خصوصی خطاب میں ہمیشہ کی طرح تحریک انصاف کی حکومت کو نشانہ بنایا، مولانا فضل الرحمان کا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ختمِ نبوت سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی قائدین نے ہمیشہ کے لیے حل کردیا ہے۔ اگر کوئی ختم نبوت سے انکار کرے تو حکومت اس کی سرکوبی کے بجائے اسے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ حکمران قادیانیوں سے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے توہینِ رسالت کی مرتکب خاتون کو بیرونِ ملک بھیج کر اس کا اعتراف بھی کیا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، ہر کوئی اسرائیل کا سفیر بنا ہوا ہے، میڈیا اور اسمبلی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دلائل دیئے جارہے ہیں۔ لیکن یہ دال گلنے والی نہیں ہے، جب تک جمعیت کا ایک بھی سرفروش زندہ ہے کوئی مائی کا لعل ختمِ نبوت کے قانون کو نہیں چھیڑ سکتا۔ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ بیرونی دباؤ پر کوئی قانون سازی قبول نہیں کریں گے، اسمبلی میں کوئی قانون سازی نہیں ہورہی، صرف ایکسٹینشن اور ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کی گئی۔ اگر کسی نے قانونِ ختمِ نبوت میں تبدیلی کی کوشش کی تو میرا ہر کارکن اپنی جان نچھاور کردے گا۔ میں پشاور کے وکلا کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے خالد فیصل کی وکالت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، یہاں لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات کی گنجائش نہیں، تمام مکاتبِ فکر کے علماء 22 نکات پر متفق ہیں، 1973ء کا آئین متفقہ دستاویز ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ مسلمانوں کی نہیں حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ اے پی سی میں مضبوط مؤقف پیش کریں گے۔ 2018ء میں مینڈیٹ چوری کیا گیا، یہ حکمران اور ان کا مینڈیٹ جعلی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ریاست جب اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو پھر فساد کی ذمہ دار بھی ریاست ہوتی ہے۔ ہم نہ اسلام، نہ صحابہ کرام، نہ اہلِ بیت کی توہین برداشت کرسکتے ہیں، اگر کوئی صحابہ کرام کے خلاف بازاری زبان استعمال کرے تو اس کے پیچھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، کیونکہ فرقہ واریت ان کی ضرورت ہے۔ خفیہ ایجنسیاں اپنے سیاسی مفاد کے لیے ملک میں فساد پھیلاتی ہیں اور پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں جن کو عوامی قوت کے مظاہرے کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج لاکھوں کی تعداد میں فرزندانِ توحید نے اس تاریخی کانفرنس میں شریک ہوکر اسلام اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے ساتھ جس عقیدت اور محبت کا اظہار کیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اسلام پسند قوتوں کے ہوتے ہوئے پاکستان کے اسلامی تشخص کو پامال کرنے کی کوئی بھی جرأت نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ایسی حماقت کرے گا تو جمعیت کے جانثار اس کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔

Share this: