بلوچستان قومی احتساب بیورو کا جعلی اسکیموں کے خلاف اقدام

Print Friendly, PDF & Email

قومی احتساب بیورو بلوچستان نے گزشتہ دنوں کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں سرکاری اراضی پر ہائوسنگ اسکیم تعمیر کرنے والے افراد کے خلاف قدم اٹھایا۔ یہ افراد اس علاقے میں سرکاری اراضی ہتھیاکر اس پر دو اسکیم تعمیر کررہے تھے۔ لوگوں نے رہائشی پلاٹ کے لیے ان کے ہاں رقم بھی جمع کر رکھی تھی۔ ایک بڑی تعداد کو ان لوگوں نے پلاٹ فروخت کیے تھے۔ چناں چہ اس سرکاری اراضی پر قبضے اور غیر قانونی اسکیم کے خلاف کارروائی ہوئی۔ تین افراد حراست میں لیے جاچکے ہیں۔ نیز ڈی جی نیب نے متاثرہ افراد سے نقصان کے ازالے کے لیے نیب آفس سے رجوع کا کہہ دیا ہے۔
دراصل کوئٹہ اور اس کے مضافات میں ایک عرصے سے لینڈ مافیا سرگرم ہے۔ یہ گروہ بہت طاقتور ہوچکے ہیں۔ انہیں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت اور تعاون حاصل ہوتا ہے۔ تحصیل کے اندر موجود کالی بھیڑیں شریکِ جرم ہوتی ہیں۔ انہیں زمینوں کی نشاندہی کرائی جاتی ہے اور یہ مافیا بلاتاخیر قابض ہوجاتا ہے۔ سرکار کی بڑی اراضی پر قبضہ ہوچکا ہے۔ قبرستانوں تک کو نہیں چھوڑا گیا۔ گویا یہ ایک منظم کاروبار بن چکا ہے اور عام لوگ عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے خوار ہورہے ہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے بار روم میں ایک سینئر وکیل محمد یعقوب گزشتہ کئی دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کی نواں کلی میں آبائی زمینوں پر قبضہ مافیا نے ہاتھ ڈال رکھا ہے۔ اسلحہ بردار لوگوں کی موجودگی میں راتوں رات تعمیرات کی گئیں۔ یہ سب کچھ سول عدالتوں اور عدالتِ عالیہ بلوچستان کے اسٹے آرڈر کے باوجود ہوا۔ پولیس اور ڈپٹی کمشنر آفس دیکھتے رہے۔ محمد یعقوب ایڈووکیٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا لیکن درخواست قابلِ اعتنا نہ سمجھی گئی۔ وکیل نے دیکھا کہ ان کی درخواست قابلِِ اعتنا نہ سمجھی گئی تو ہائی کورٹ کے بار روم میں تادمِ مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی۔ یہ وکیل ضعیف العمر اور دل کے مریض ہیں۔ اگر ان کا یہ احتجاج جاری رہا تو انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گویا یہ مافیا بہت ہی منظم اور طاقتور ہوچکا ہے۔ پولیس، لیویز، تحصیل دفاتر،حکومت اور عدالتوں سمیت ہر ادارے و محکمے میں اثر رسوخ رکھتا ہے۔ وکیل کی عدالت کے اندر بھوک ہڑتال اس کی مثال ہے۔ اس کے باوجود اس گروہ پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکا ہے۔
چند سال قبل اعلیٰ سطح پر غور و خوض ہوا کہ کس طرح ان مافیائوں سے عوام کی جائداد و املاک کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ فرنٹیئر کور بلوچستان پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ متاثرہ افراد اپنی جائدادیں اور زمین قبضہ گر گروہ سے واگزار کرانے کے لیے رجوع کرسکیں۔ لیکن اس ضمن میں پیش رفت نہ ہوسکی۔ سوال یہ ہے کہ کمزور عوام کس سے داد فریاد کریں کہ جن کی نہ پولیس و ضلعی انتظامیہ درخواست سنتی ہے اور نہ عدالتوں سے فوری انصاف ملتا ہے؟ تاہم یہ غور طلب صورتِ حال ہے کہ جس پر اعلیٰ سطح پر فوری توجہ اور پالیسی تشکیل دینا ضروری ہے۔ ان مافیائوں پر مضبوط ہاتھ ڈالنا چاہیے اور سرکاری دفاتر میں موجود کالی بھیڑوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جانا چاہیے۔ فرنٹیئر کور بلوچستان نجی املاک بالخصوص سرکاری املاک واگزار کرا سکتی ہے اگر کوئی پالیسی مرتب کی جائے تو۔ قومی احتساب بیورو کا جعلی اسکیموں کے خلاف قدم اٹھانا حوصلہ افزا ہے۔ چناں چہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے وکیل محمد یعقوب کی بھی شنوائی ہو تاکہ ان مافیائوں پر واضح ہو کہ حکومت و قانون بہرحال موجود ہیں۔

Share this: