سیالکوٹ، یوم دفاع پر پرچم کشائی

Print Friendly, PDF & Email

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان

ملک میں ایک بار پھر انتخابی سرگرمیوں کا موسم آنے والا ہے۔ صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے۔ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ اس کا فیصلہ صوبائی وزیر قانون کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں ویلیج کونسل اور نیبرہڈ کونسل کے لیے انتخاب ہوگا۔ ویلیج کونسل اور نیبرہڈ کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے 4 دسمبر کی تاریخ فائنل کرکے الیکشن کمیشن کو بھجوا دی ہے۔ پہلے مرحلے میں 27 ہزار افراد بلدیاتی نظام کا حصہ بنیں گے۔ جنوری میں دوسرے مرحلے میں تحصیل کونسل اور میٹروپولیٹن کے انتخابات ہوں گے۔ تاہم دوسرے مرحلے کے لیے تاریخ کا حتمی تعین تاحال نہیں ہوسکا ہے۔ وزیر قانون پنجاب راجا بشارت حسین کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے کہ 31 جنوری سے قبل بلدیاتی ادارے وجود میں آجائیں گے۔
سیالکوٹ میں بھی یوم دفاع منایا گیا۔ گیرژن کمانڈر سیالکوٹ میجر جنرل محمد اسحاق خٹک، صوبائی وزیر اسپیشل ایجوکیشن چودھری محمد اخلاق، ڈی پی او کیپٹن (ر) مستنصر فیروز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو میر محمد نواز، رہنما پاکستان تحریک انصاف چودھری غلام عباس، بریگیڈیئر(ر) اسلم گھمن اور صدر ایوانِ صنعت وتجارت ملک اشرف نے یومِ دفاع پاکستان پر سیالکوٹ قلعہ پر واقع جناح ہال پر پرچم ہلالِ استقلال لہرایا۔ پولیس ریسکیو 1122، ریسکیو وارڈنز اور تنظیم شہری دفاع کے چاق چوبند دستے نے قومی پرچم کو سلامی پیش کی۔ اس موقع پر ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے دعا کی گئی اور سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سلمان اکبر، سب رجسٹرار سعید احمد منج، سی او ایم سی ایس فیصل شہزاد، چاچا کرکٹر صوفی عبدالجلیل، کوآرڈی نیٹر ضلعی امن کمیٹی حافظ اصغر علی چیمہ، کوآرڈی نیٹر پی پی 36 چودھری الیاس، جنرل سیکرٹری مرکزی انجمن تاجراں شیخ جاوید حیدر، ڈی او ایمرجنسی نوید اقبال، عمران مانی، ارشد چودھری، سی ای او ایجوکیشن یونس وڑائچ، ڈی او سیکنڈری ایجوکیشن الطاف حسین شیخ کے علاوہ پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے والے افراد نے شرکت کی۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے صوبے بھر کے پولیس افسران اور ماتحت عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر اپنی توندیں کم کرلیں۔ یہ تو علم نہیں کہ وہ توندیں کم کرائیں گے یا تبدیل کرا دیے جائیں گے، ویسے بھی پولیس ملازمین کی توندیں کم کرنے کا مطالبہ نیا نہیں ہے، یہ بات بھٹو دور سے دہرائی جارہی ہے اور نہ جانے کتنے پولیس افسران یہ خواب دیکھتے دیکھتے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ اب ایک بار پھر پنجاب کے آئی جی کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ پولیس ملازمین اپنی توندیں کم کرلیں، دیکھتے ہیں اس حکم کا کیا اثر ہوتا ہے۔ آئی جی نے کہا کہ تمام افسران و ماتحت عملہ جسمانی طور پر روزانہ ورزش کو اپنا مقصد بنائے اور ورزش کا معمول صبح نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد یقینی بنائے، جبکہ افسران اور ماتحت عملہ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی پابندی کے ساتھ کریں، حکم عدولی کی صورت میں انسپکٹر سے لے کر ڈی آئی جی تک افسران کی تنخواہ سے ایک ہزار روپے، اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور سب انسپکٹر کی تنخواہ سے سات سو روپے اور کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کی تنخواہ سے چار سو روپے بطور جرمانہ ہر ماہ کاٹ لیے جائیں گے۔ یہ بہت مشکل کام دیا گیا ہے جو ہوگا یا نہیں، ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

Share this: