کراچی کے لیے مبہم ترقیاتی پیکیج اعلان نئے اور منصوبے پرانے

Print Friendly, PDF & Email

معروف کالم نگار رشید میمن نے 7 ستمبر 2020ء کو کثیر الاشاعت سندھی روزنامہ ’’کاوش‘‘ حیدر آباد کے ادارتی صفحے پر حالاتِ حاضرہ پر جو خامہ فرسائی کی ہے اس کا ترجمہ قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔
…………

ترجمہ: اسامہ تنولی

’’گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کراچی کی ترقی کے لیے 1113 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ پیکیج تین سال کے اندر کراچی کو تبدیل کردے گا۔ ترقیاتی پیکیج میں پانی کی اسکیموں کے لیے 92 ارب، سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے 141 ارب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، نالوں کی صفائی اور متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کے لیے 267 ارب، سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کے لیے 41 ارب، ماس ٹرانزٹ سرکلر ریلوے اور ٹرانسپورٹ کے لیے 572 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اگرچہ مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے کہ اس پیکیج میں کون کون سے منصوبے شامل ہوں گے، تاہم غیر سرکاری حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے اکثر منصوبے وہ ہیں جو پہلے ہی سے چل رہے ہیں اور ان کے لیے عالمی اداروں اور حکومت سندھ کے فنڈ خرچ ہورہے ہیں۔ مطلب یہ کہ وزیراعظم نے پرانے منصوبوں کو شامل کرکے پیکیج کا اعلان کیا ہے، اور امکان یہ ہے کہ اس پیکیج میں وفاقی حکومت کا حصہ بہ مشکل 300 ارب روپے ہوگا۔ اس طرح سے گویا وزیراعظم کے 1113 ارب روپے کے پیکیج میں اعلان نئے اور منصوبے پرانے شامل ہیں۔ وزیراعظم کے اس اعلان کردہ پیکیج کو مبہم رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس پر کئی سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ کون سے منصوبوں پر کتنے پیسے وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ دے گی، کتنے پیسے عالمی اداروں کی فنڈنگ پر مشتمل ہوں گے، اور منصوبوں کو تین سال کے اندر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کون سا طریقہ کار وضع کیا جائے گا؟ یوں لگتا ہے کہ یہ پیکیج بھی گزشتہ پیکیجز کی طرح محض اعلانات تک ہی محدود رہے گا، اور صرف وہی منصوبے مکمل کیے جائیں گے جو پہلے ہی سے جاری ہیں اور جن کے لیے زیادہ تر فنڈنگ بھی موجود ہے، مثلاً گرین لائن بس کا منصوبہ، کے فور منصوبہ، سڑکوں اور پلوں وغیرہ کی تعمیر کے منصوبے… باقی کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ جو بہت بڑا منصوبہ ہے اور اسی لیے اُسے سی پیک میں بھی شامل کیا گیا تھا، کراچی کے گندے پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد سمندر میں چھوڑنے والا ایس 3 میگا منصوبہ، اور دیگر منصوبے مشکل ہی سے مکمل ہوپائیں گے، کیوں کہ ان کے لیے بہت زیادہ فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کے راستے میں بڑے پیمانے پر قبضے ہوچکے ہیں اور یہاں کئی منزلہ عمارتیں اس کی راہ میں حائل ہیں۔ لہٰذا اس منصوبے کو بھی تین برس کی مدت میں پایۂ تکمیل تک پہنچانا حد درجہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ بہرحال یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کراچی پیکیج پر کتنا اور کس قدر عمل ہوگا اور کراچی کے مسائل کس حد تک حل ہوسکیں گے، لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ماضی میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کیے گئے اکثر اعلانات پر زیادہ تر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ اس اعلان سے پیشتر بھی 2019ء میں انہوں نے کراچی کی ترقی کے لیے 162 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اس اعلان پر عمل درآمد کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی اہم ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کراچی پیکیج کا جو حالیہ اعلان کیا ہے اُس کے حوالے سے حکومتِ سندھ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس پیکیج میں حکومتِ سندھ کے 800 ارب روپے شامل ہوں گے، جب کہ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ حکومتِ سندھ کے 400 ارب روپے ہوں گے۔ یہ بات سن کر بے حد حیرت ہوئی کہ آخر حکومتِ سندھ اتنے زیادہ پیسے کہاں سے اور کیسے لائے گی؟ کیوں کہ اگر حکومتِ سندھ کا سارا ترقیاتی بجٹ بھی کراچی پر خرچ کردیا جائے تب بھی اتنے پیسے نہیں ہوسکیں گے۔ یہاں پر سندھ کے ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں، جس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ کراچی پیکیج صرف ایک سیاسی اعلان ہے اور اس کے اکثر منصوبے عمل میں نہ آنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ سندھ حکومت کے موجودہ جاری مالی سال 2020-21ء کے دوران کل ترقیاتی بجٹ 232 ارب روپے پر مبنی ہے جس میں عالمی اداروں کے 54 ارب روپے کے فنڈ بھی شامل ہیں۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ صوبائی حکومت کا اپنا خالص فنڈ محض 170 ارب روپے کا ہی ہے جس میں بھی 70 فیصد سے زیادہ فنڈز کراچی کے سوا سندھ کے دیگر شہروں کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتِ سندھ 3 برس کے اندر 800 ارب روپے کے فنڈ کہاں سے لائے گی کہ اس نے 3 برس میں اتنے فنڈ کراچی پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے؟
کراچی جو ملک کا اہم ترین شہر ہے اور اس پر سیاست برس ہا برس سے ہوتی چلی آرہی ہے، اور سیاست بھی گندی سیاست، یعنی الزامات پر مبنی سیاست! یہاں سے الیکشن میں جیتنے والی سیاسی پارٹیاں ہمیشہ صوبائی حکومت کے خلاف باتیں کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور انہوں نے کراچی کے مسائل کو بنیاد بنا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کیے ہیں، جس طرح سے کہ اب حاصل کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح سے کراچی کے مسائل کو ملک کا بڑے سے بڑا مسئلہ بناکر پیش کیا جاتا ہے، اور جب سیاسی اور ذاتی مقاصد پورے ہوجاتے ہیں تو وہ سارے مسائل اس طرح سے دبا دیے جاتے ہیں گویا کبھی تھے ہی نہیں۔ بلدیاتی الیکشن قریب آتے ہی اب تمام سیاسی جماعتیں کراچی کے مسائل کو لے کر میدان میں آن کھڑی ہوئی ہیں، اور پھر ان میں سے بھی ایک پارٹی (ایم کیو ایم کی طرف اشارہ ہے۔ مترجم) جھاڑو لے کر شہر کو صاف کرنے کے نمائشی اقدامات کررہی ہے، اور کسی پارٹی نے روڈوں سے گند کچرا ہٹانے کی برائے نام مہم چلائی اور فوٹو سیشن وغیرہ کیے ہیں۔ بعض رہنمائوں نے برساتی پانی میں غوطے لگانے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی تنقید کا ہدف حکومتِ سندھ ہے۔ اس سیاسی رسّا کشی پر مبنی صورتِ حال میں ہر سیاسی پارٹی تنقید میں بازی اور سبقت لے جانے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے کراچی میں حالیہ بارشوں کے دوران دیگر ممالک کی برساتوں کی ویڈیو اُٹھا اور دکھا کر الزام تراشی شروع کردی، اور ایک مائنڈ سیٹ اختیار کیے ہوئے میڈیا نے بھی پھر یہ ویڈیوز کراچی کے نام پر پیش کرکے اپنے چینلز پر چلائیں۔ اس موقع پر یہ سب کچھ دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ گویا یہ سب پارٹیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور ان کا مقصد محض بارش پر سیاست کرنا ہی رہ گیا ہے۔ صورتِ حال اس طرح کی نہیں تھی جس طرح سے مخصوص میڈیا دکھا رہا تھا۔ برسات ہوتے وقت تو سڑکوں پر بہت پانی موجود تھا اور اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی سی صورت حال پیدا ہوگئی تھی، لیکن بارش بند ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی روڈ، راستوں اور علاقوں سے پانی کا اخراج ہوگیا تھا اور دوسرے روز 80 فیصد علاقے صاف ہوچکے تھے، لیکن پھر بھی ان مخصوص سیاسی پارٹیوں اور میڈیا نے صورتِ حال یوں پیش کی گویا کراچی اب بھی غرقِ آب ہو۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ ہونے والے بلدیاتی الیکشن تک الزام تراشی پر مبنی سیاست کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ اس کے علاوہ کراچی کے میگا منصوبوں کے ٹھیکوں میں بھی اہم اداروں کو دلچسپی ہے، اس لیے بھی کراچی کو فوکس کیا جارہا ہے۔ اچھی بات ہے کہ کراچی پر فوکس کیا جارہا ہے، لیکن یہ فوکس عملی طور پر کام کرنے کے لیے کیا جائے، نہ کہ محض اعلانات تک ہی اسے محدود رکھا جائے۔
یہاں پر اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ترقیاتی پیکیج کیا صرف کراچی ہی کے لیے ہونا چاہیے؟ کیا سندھ کے دیگر شہروں کو ترقی کی ضرورت نہیں ہے؟ وہاں پر مسائل موجود نہیں ہیں کہ کوئی ایک بھی منصوبہ سندھ کے کسی دوسرے شہر کے لیے نہیں ہے؟ وفاقی حکومت اور دیگر اداروں کو کراچی کے ساتھ تمام صوبہ سندھ کے لیے بھی برابر سوچنا چاہیے، کیوں کہ آئین کے مطابق ملک کے تمام شہری اور شہر مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ کراچی تو پھر بھی ملک کا سب سے ترقی یافتہ شہر ہے، لیکن سندھ کے دیگر شہروں کی حالت حد درجہ خراب اور ابتر ہے۔ وہاں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
کراچی پیکیج کے ترقیاتی منصوبوں کو چلانے اور ان کی نگرانی کرنے کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کی مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں، جن میں کراچی فائیو کور یعنی فوج کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کراچی کے ان منصوبوں کو مشترکہ کمیٹیاں چلائیں گی اور حکومتِ سندھ تنِ تنہا حکم نہیں چلا پائے گی۔ اس فیصلے سے لازمی طور پر سندھ حکومت کے اختیارات بھی کم ہوجائیں گے اور وزیراعظم بھی محض تجویز دینے تک ہی محدود ہوجائیں گے۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کمیٹیوں کے توسط سے کراچی کے حوالے سے حکومتِ سندھ کے اختیارات محدود کردیے گئے ہیں، جبکہ ملک کے کسی بھی صوبے میں کہیں بھی اس طرح سے نہیں کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی یہ مقامِ حیرت ہے کہ اختیارات کم ہونے اور صوبائی خودمختاری میں مداخلت ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بالکل خاموش ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور انہوں نے کوئی اعتراض تک نہیں کیا، اور صرف ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے سارے فیصلے قبول کرتے رہے! اسی طرح سے یہ امر بھی لائقِ توجہ ہے کہ کراچی پیکیج میں اگر حکومتِ سندھ کے 800 ارب روپے کے فنڈز شامل ہیں تو پھر وفاقی حکومت اس سارے پیکیج کا کریڈٹ کیوں لے رہی ہے؟ وزیراعظم نے 1113 ارب روپے کے بجائے صرف انہی فنڈ کا اعلان کیوں نہیں کیا جو وفاق کو دینے ہیں؟ بہرحال حکومتِ سندھ کی اس خاموشی سے لگتا ہے کہ وہ اس وقت وفاقی اربابِ اختیار سے اختلاف کرنا نہیں چاہتی، اسی لیے اختیارات چھن جانے کے باوجود خاموش رہی ہے۔ شاید اس کا سبب پیپلز پارٹی کی قیادت اور وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف نیب کے کیسز اور انکوائریاں ہیں۔ کچھ حلقوں کے مطابق اس وقت پیپلز پارٹی کی قیادت اور وزیراعلیٰ سمیت وزراء اور مشیروں کے خلاف مذکورہ کیسز ہی اس سکوت کی وجہ ہیں۔ سرکاری حلقوں کے مطابق اس وقت کراچی کے معاملات خاص طور پر بڑے ٹھیکوں پر سخت تنازعات چل رہے ہیں جس کی وجہ سے سیاسی پارٹیوں کے ذریعے کراچی کو کبھی الگ کرنے، کبھی گورنر راج لگانے اور کبھی کوئی دوسری بات چھیڑ دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیب کو بھی سرگرم کردیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے سندھ سرکار بھی بیشتر معاملات پر سودے بازی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ کراچی پیکیج کے تمام منصوبوں اور تفصیلات کو ظاہر کرے، اور وفاقی حکومت سے نہ صرف کراچی بلکہ سارے سندھ کے لیے منصوبے دینے کا اسے مطالبہ کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو پورے سندھ کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع کو بھی ماس ٹرانزٹ، ڈرینیج، صاف پانی، روڈ راستوں اور پلوں کے منصوبے دینے چاہئیں اور صنعتیں بھی لگانی چاہئیں، کیوں کہ پیپلز پارٹی کو سارے سندھ سے مینڈیٹ ملا ہے۔
(نوٹ: کالم نگار کی تمام آراء سے مترجم یا ادارے کا اتفاق ضروری نہیں ہے۔)

Share this: