قابل اعتراض نصابی کتب

Print Friendly, PDF & Email

پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی مجرمانہ غفلت

پبلشر مافیا اور انگریزی میڈیم اسکول مافیا کے دبائو پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے سربراہ کی عجلت میں تبدیلی

پاکستانی معاشرے پر افسر شاہی کی مجرمانہ غفلت، حکمرانوں کی وقت گزارو پالیسی، اشرافیہ کی صرفِ نظر کی روش، کاروباری طبقے کے مالی مفادات اور خود معاشرے کی بے حسی نے جو اثرات مرتب کیے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ اس معاشرے میں موجود بیشتر بگاڑ کے سوتے اِن ہی رویوں سے پھوٹتے ہیں۔ اس مسلسل کوتاہی کے بہت سے ثمراتِ بد ہم سمیٹ چکے اور بہت سے ایسے ہیں جو آہستہ آہستہ ہمارے سامنے آتے جائیں گے، اور پھر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ہم سر پکڑ کر بیٹھے ہوں گے مگر ان مسائل کے حل کا کوئی سرا ہمارے ہاتھ نہیں آسکے گا۔ ہم صرف اپنے سابقین پر الزامات لگاتے جائیں گے مگر شاید کوشش کے باوجود بہتری کی کوئی سبیل پیدا نہ کرسکیں۔ معاشرے میں بگاڑ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بطور قوم ذمہ داری دوسروں خصوصاً حکومتوں پر ڈالنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہم اپنا فرض ادا کرنے میں کوتاہیوں کے مرتکب ہوتے ہیں مگر ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اپنا بوجھ منتقل کرنے کے عادی ہیں۔ ٹریفک پولیس ہر شہر میں ٹریفک کی خراب صورتِ حال کی ذمہ داری عوام یا حکومت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ بیٹھی ہے، اور عوام تمام ٹریفک خرابیوں کا ذمہ دار حکمرانوں اور ٹریفک پولیس کو قرار دے کر فارغ ہوجاتے ہیں۔ اگر دونوں طبقات یہ جائزہ بھی لے لیں کہ اس خرابی میں اُن کا اپنا کتنا کردار ہے تو شاید بیس پچیس فیصد خرابی کم ہوجائے، اور اگر تمام متعلقہ طبقات اپنی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے لگیں تو خرابی بیس فیصد سے بھی کم رہ جائے، اور ایسی صورت ہمارے جیسے معاشروں میں معجزاتی صورت ہوگی۔ یہی حال دیگر قومی ایشوز اور مسائل میں بھی ہے، لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے ہاں تو مکمل اختیارات رکھنے والی حکومتیں اور حکمران بھی اپنا پورا وقت سابقہ حکومتوں کو کوسنے دینے میں گزار دیتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ آنے والی حکومتوں کو بھی یہی کام کرنا ہے۔ ہم نے اپنی قومی زندگی کے 73 سال سابقہ حکمرانوں کو گالیاں دینے میں ضائع کردیے ہیں۔ حکومت، وزرا، حکومتی ارکانِ پارلیمنٹ، بیوروکریسی سب اسی ڈگر پر چل رہے ہیں، اور عوام بھی حکمرانوں پر مؤثر دبائو نہیں ڈالتے کہ بھئی اب زمامِ کار آپ کے ہاتھ میں ہے، سابقین کو گالیاں دینے میں وقت اور طاقت ضائع کرنے کے بجائے آپ اُن کی خرابیوں کی اصلاح اور اچھے کام شروع کریں تاکہ کچھ عرصے بعد آپ خود اِن گالیوں اور کوسنوں کی زد میں نہ آئیں۔
بدقسمتی سے ہمارا یہی رویہ ہر شعبۂ زندگی میں ہے، باقی شعبوں میں اس کی تباہ کاریاں اگرچہ سامنے جلد آجاتی ہیں لیکن اِن کے نقصانات ذرا دیر سے عیاں ہوتے ہیں۔ البتہ تعلیم جیسے حساس شعبے میں یہ تباہ کاریاں دیر سے سامنے آتی ہیں مگر اِن کے اثرات فوری اور زیادہ دیرپا ہوتے ہیں، اور یہ آہستہ آہستہ نہ صرف نئی نسل کو تباہ کردیتی ہیں بلکہ قومی زندگی کے ہر شعبے پر ان کے تباہ کن اثرات اس انداز میں مرتب ہوتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب پورا معاشرہ اپاہج ہوکر رہ جاتا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ نظامِ تعلیم کی خرابیاں اور ان سے صرفِ نظر کرنا ہوتا ہے۔
ملک میں تعلیم کے شعبے میں یہ تباہ کاریاں، غفلتیں اور کوتاہیاں یکساں نصابِ تعلیم کی تیاری کے وقت بالکل عریاں ہوکر سامنے آچکی ہیں، اور پنجاب میں ٹیکسٹ بک بورڈ کی غفلتیں اور تباہ کاریاں بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کو اُن کے عہدے سے عجلت میں ہٹانے کے بعد خود اُن کی زبانی سامنے آئی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس اہم شعبۂ زندگی اور تعلیم کے اس کلیدی ادارے میں مجرمانہ غفلت اور مفاد پرستی کس درجے کی رہی ہے۔ کاروباری مافیا اور ایجوکیشن مافیا نے کس طرح سرکاری عملے سے مل کر من مانیاں کی ہیں، اساتذہ اور والدین کی غفلت کس درجے کی ہے، اور اشرافیہ اور پارلیمنٹ نے صرفِ نظر سے کام لے کر کس قدر مجرمانہ کردار ادا کیا ہے۔
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب رائے منظور حسین ناصر کو عجلت میں اس عہدے سے ہٹائے جانے کی بازگشت روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر کافی سنائی دیتی رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق انہوں نے پنجاب کے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی درسی کتب میں بعض سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی تھی اور اس کی ذمہ داری یقینی طور پر پرائیویٹ اسکولوں، کتابیں شائع کرنے والے پبلشرز اور خود ٹیکسٹ بک بورڈ پر عائد ہوتی تھی۔ چنانچہ اِن عناصرِ ثلاثہ نے کوشش کرکے اُن کا تبادلہ کرا دیا۔
ایک ملاقات میں اس سارے معاملے کی تفصیل بتاتے ہوئے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر رائے منظور حسین ناصر نے کہا کہ وہ صوبائی انتظامی سروس (پی ایم ایس) کے افسر ہیں اور اب تک چار اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سمیت کئی اہم عہدوں پر تعینات رہے ہیں، انہیں اِس سال فروری میں پنجاب ٹیکسٹ بورڈ میں منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ چارج سنبھالنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تو ٹیکسٹ بک بورڈ کی تیار کردہ کتب پڑھائی جارہی ہیں جن کو ماہر اساتذہ تیار کرتے ہیں اور ماہرین کی کمیٹیاں ان کا ہر پہلو سے جائزہ لے کر قابلِ اشاعت قرار دیتی ہیں جس کے بعد ان کی اشاعت ممکن ہوتی ہے۔ اگرچہ غلطیوں کا امکان اِن میں بھی موجود ہوتا ہے لیکن بہت کم۔ رائے منظور حسین کے مطابق انہیں یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ صوبے کے پرائیویٹ اسکولوں اور انگریزی میڈیم اسکولوں میں تقریباً 10 ہزار کتب پڑھائی جارہی ہیں جو ٹیکسٹ بک بورڈ کی تیار کردہ ہیں نہ بورڈ کی باقاعدہ اجازت سے بچوں کو پڑھائی جارہی ہیں۔ اس کی تکنیکی وجہ تو یہ ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ کی دی ہوئی آئوٹ لائن کے اندر رہتے ہوئے دیگر کتب کو پڑھانے کی سہولت دی گئی ہے، تاہم ان کتب کو بورڈ کے علم میں لاکر ان پر این او سی حاصل کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں خصوصاً جدید اور مہنگے اسکولوں نے یہ تردد ہی نہیں کیا اور پرائیویٹ پبلشرز سے مل کر ان کتابوں کو دھڑا دھڑ چھپوا کر بچوں کے حوالے کردیا گیا۔ اس طرح پبلشرز نے دونوں ہاتھوں سے بچوں اور والدین کو لوٹا اور اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کیں۔ شاید اس منافع میں پرائیویٹ اسکول مالکان کا بھی کچھ حصہ ہو۔ اور اب یہ کتب سالہا سال سے ان اسکولوں میں پڑھائی جارہی ہیں۔ چنانچہ رائے منظور حسین ناصر نے اس سارے معاملے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ایسی بہت سی کتب اکٹھی کی گئیں تو ایک نیا انکشاف ہوا کہ ان کتب پر نہ تو تاریخِ اشاعت درج تھی، نہ تعدادِ اشاعت۔ بیشتر پر قیمتیں بھی درج نہیں تھیں جو کاپی رائٹ ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ چنانچہ رائے منظور حسین نے ان کتب میں درج مواد کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا کہ آیا یہ بورڈ کے وضع کردہ ضوابط کے مطابق بھی ہیں یا نہیں؟ اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف کمیٹیاں بنا دیں۔ رائے صاحب کا کہنا تھا کہ بورڈ کا عملہ ایک عرصے سے کام کرنے کا عادی نہیں رہا تھا۔ اکثر لوگ تفریحاً دفتر آتے، تنخواہ وصول کرتے اور چلے جاتے تھے۔ ان کمیٹیوں کے ذمہ داروں نے تین ماہ بعد رپورٹ پیش کرنے کا کہا، جبکہ ایم ڈی نے یہ ہدایت کی کہ ان کتب پر روزانہ کی بنیاد پر کام کیا جائے اور رپورٹ مرتب کی جائے۔ رائے صاحب کی مسلسل نگرانی اور اصرار کے بعد ان کمیٹیوں نے پانچ سو کتب کا جائزہ لیا، جن میں انکشاف ہوا کہ ان کتب میں پروف کی ہزاروں غلطیاں ہیں، بہت سے غلط حقائق درج ہیں، بہت سے فیکٹس کو سالہا سال سے درست ہی نہیں کیا گیا، قرآنی آیات اور احادیث کی اشاعت میں سنگین غلطیاں کی گئی ہیں، بعض قرآنی سورتوں میں ایک آیت کے بعد اگلی آیت حذف ہے، بعض میں اگلی آیات کا ترجمہ ہی موجود نہیں، اور بعض کا ترجمہ مکمل طور پر غلط ہے، جب کہ قرآنی آیات اور احادیث کی اشاعت میں اعراب کی اغلاط حد سے زیادہ ہیں۔ عقیدۂ ختمِ نبوت سے متعلق آیات اور احادیث کو کسی وجہ کے بغیر حذف کردیا گیا ہے۔ مہنگے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتب میں پاکستانی معاشرے کی نفسیات اور اخلاقیات کا سرے ہی سے خیال نہیں رکھا گیا۔ اِن کتب میں پڑھائی جانے والی کہانیوں کے تمام کرداروں کے نام انگریز بچوں یا بڑوں کے نام ہیں، پورا ماحول مغربی طرز کا ہے، لیکن سب سے قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ ان میں بعض ایسی شرم ناک کہانیاں شامل ہیں جن کا تذکرہ بھی ہمارے معاشرے میں ممکن نہیں، خصوصاً نوجوان بچیوں کو بعض ایسی کہانیاں پڑھائی جارہی ہیں جن سے اُن میں بے راہ روی اور جنسی آزادی کے خیالات پروان چڑھیں گے۔ چنانچہ رائے صاحب نے ایسی کتب جن میں قابلِ اعتراض مواد یا سنگین اغلاط تھیں، ان کی اشاعت پر فوری پابندی لگا دی۔ ان کتب کی تعداد 100 ہے، یہ پابندی 23 جولائی کو لگائی گئی، جس کے بعد ان کتب کی اشاعت اور فروخت جرم قرار پائی، لیکن یہ کتب تاحال مارکیٹ میں فروخت ہورہی ہیں اور اسکولوں میں پڑھائی جارہی ہیں۔ رائے صاحب کے بقول اُن کے اس اقدام کے بعد پرائیویٹ اسکول مافیا، انگلش میڈیم اسکولز مافیا اور پبلشرز مافیا سرگرم ہوگیا۔ انہوں نے یہ پابندی اٹھوانے کی کوشش کی اور ناکامی پر رائے صاحب کا تبادلہ کرا دیا، جس کا انداز بہت دلچسپ ہے۔ اس پابندی کے صرف 15 دن بعد 8 اگست 2020ء کو جب دفاتر میں ہفتے کی وجہ سے چھٹی تھی، دفتر کھلواکر رائے صاحب کو اس عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن تیار کروایا، اور انہیں بھیجنے کے بجائے سوشل میڈیا، ٹی وی اور اخبارات تک پہنچا دیا گیا۔ خود رائے صاحب کو رات دس بجے بورڈ کے ایک ڈائریکٹر نے اسپیشل سیکرٹری ایجوکیشن کا پیغام پہنچایا کہ آپ فوراً عہدہ چھوڑ دیں ہمیں اوپر سے ہدایت آئی ہے۔ جس پر رائے صاحب نے کہا کہ وہ پیر کے روز قواعد کے مطابق دفتر آکر معاملے کو دیکھیں گے۔ چنانچہ پیر کی صبح انہوں نے دفتر پہنچ کر اپنا چارج چھوڑ دیا۔ بدقسمتی سے اِن 100 کتب کے علاوہ جن مزید 400 کتب کو کھنگالا گیا تھا، یہ ریکارڈ اب بورڈ کے پاس ہے جس پر مزید کارروائی کی کوئی توقع نہیں۔ رائے منظور نے جن 100 کتب کو بین کیا تھا وہ مارکیٹ میں فروخت ہورہی ہیں، تاحال بورڈ یہ پابندی اٹھا نہیں سکا۔
اس سارے قضیے میں انتہائی سنگین قسم کی غفلت، کرپشن اور نااہلی کی بو آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ میں سالہا سال سے لمبی تنخواہیں لینے والے لوگ کیا کرتے رہے ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اسکولوں میں کیا پڑھایا جارہا ہے، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر مبنی کتب کس طرحٍ شائع ہورہی ہیں، اور سب سے اہم سوال یہ کہ تقریباً بیس سال سے پڑھائے جانے والے اس قابلِ اعتراض اور اغلاط سے پُر نصاب پر کسی استاد نے احتجاج کیوں نہیں کیا، لاکھوں والدین میں سے کوئی ایک بھی اس کے خلاف کھڑا نہیں ہوا، کسی بچے نے اس کی نشاندہی نہیں کی! کیا بورڈ کا عملہ محض غفلت کا شکار رہا، یا اربوں روپے مالیت کی ان قابلِ اعتراض کتب کی اشاعت میں وہ بھی حصہ دار ہے؟ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ساتھ ہی پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھائی جانے والی دیگر کتب کے علاوہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اپنی کتب کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

یکساں قومی نصاب دھوکہ ہے

سابق ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ رائے منظور ناصر سے گفتگو

سابق ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ رائے منظور ناصر نے کہا ہے کہ قرآن و حدیث پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگا‘ میری نوکری جاتی ہے تو چلی جائے، شدید غلطیوں کی وجہ سے 100 کتب پر پابندی عاید کی، اسلام سے متعلق نامناسب جملے لکھے گئے۔ یکساں قومی نصاب دھوکہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ رائے منظور ناصر نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں فراہم کی جانے والی کتب کی تیاری کے لیے معیاری اور سستے کاغذ کے استعمال کا منصوبہ بنایا تھا، جس سے حکومت کو ہر سال 100 ارب روپے کی بچت اور چند لوگوں کی اجارہ داری ختم ہونا تھی لیکن وہ ایسا کرنے سے پہلے ہی ہٹا دیے گئے‘ پرائیویٹ اسکولوں میں پبلشرز کی جانب سے 10 ہزار کتب پڑھائی جاتی ہیں، جو کہ زیادہ تر این او سی کے بغیر تیار ہو رہی ہیں‘500 میں سے 100 کتب پر شدید غلطیوں کی وجہ سے پابندی عاید کی ‘ ان کے پبلشرز کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات کا اندراج ضروری ہے۔ منظور ناصر نے کہا کہ ممنوع کتب میں قرآن پاک کی آیات اور ان کے تراجم میں غلطیاں ملی ہیں‘ نبی اکرم ، صحابہ کرامؓ اور دین اسلام کے حوالے سے نا مناسب الفاظ لکھے گئے‘ ایک کتاب میں تو خود ساختہ آیت بھی شائع کی گئی، اسی طرح سور فاتحہ کا ترجمہ غلط لکھا گیا۔ اس طرح کی غلطیاں جان بوجھ کر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے اضلاع، آبادی اور مردم شماری کے بارے میں غلط اعداد و شمار شامل کیے گئے‘ پاکستان کے 5 صوبے لکھے اور گلگت بلتستان کو صوبہ قرار دیا گیا‘ پاکستان کے نقشے میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو شامل ہی نہیں کیا ۔ انہوںنے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال،سرسید احمد خان اورمحترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں غلط معلومات درج ہیں‘پاکستان اورکراچی کی آبادی غلط لکھی ہے یہی حال اکسفورڈ کا ہے۔ (بشکریہ: صباح نیوز)۔

Share this: