ادبِ عالیہ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ

Print Friendly, PDF & Email

میں گفتگو میں کسی رسمی تمہید کے بجائے کوشش کروں گا کہ مولانا کی ادبی حیثیت، خصوصاً مولانا کی شخصی اور علمی حیثیتوں کے بارے میں آپ کو آگاہ کر سکوں۔ اگر کسی شخصیت کو مکمل شخصیت کہا جا سکتا ہے، یا بالفاظِ دیگر ہر لحاظ سے مکمل شخصیت کا اگر کوئی تصور قائم کرنا مقصود ہو تو کوئی بڑے سے بڑا ذہن وہ تصورمودودیؒ صاحب کو دیکھے اور پڑھے بغیر قائم نہیں کر سکتا۔ مولانا مودودیؒ کی شخصیت اور اس شخصیت میں سمٹے ہوئے تمام اوصاف میں سے ثانوی اوصاف کی نشاندہی کا عمل بھی اگر دیانت داری کے ساتھ انجام دیا جائے تو یہ کام کسی آدمی کی زندگی کا واحد کام کہلا سکتا ہے۔ یعنی مولانا کی شخصیت اور مولانا کے عمل و فن پہ گفتگو کا بیڑا اٹھانا گویا کسی آدمی کے لیے پوری زندگی کا منصوبہ اور دو چار اداروں کے قیام کا سبب بن سکتا ہے۔ مجھے جن چند محرومیوں کا شدید قلق ہے، ان میں سے ایک وجہ قلق یہ ہے کہ مولانا مودودی کے حقوق میں ادنیٰ اور ابتدائی درجے کے حقوق ادا کرنا تو دور کی بات، ہمیں ان کی معرفت بھی حاصل نہیں۔
میرے خیال میں کسی غیر نبی اور کسی غیر صحابی کی شخصیت اگر مجموعہ کمالات بن کر دکھا سکتی ہے تو وہ مولانا مودودی صاحب کی شخصیت ہے۔ ہماری پوری تاریخِ امت میں کردار کی انتہائی بلندی، علم کا انتہائی اوج، ارادے کی انتہائی مضبوطی اور اخلاق کا انتہائی کمال جن چند شخصیتوں میں یکجا ہوا ہے، ان میں میری ناقص رائے میں مولانا مودودی صاحب آخری آدمی تھے۔ کوئی ایسا انسانی مسئلہ، دین کے ساتھ تعلق کا کوئی ایسا ضروری اسلوب ہو نہیں سکتا جو مودودی صاحب ہمیں دکھا نہ دیتے ہوں اور جس پر ہمیں چلا نہ دیتے ہوں۔ ہم نے اس ذاتِ گرامی کی ابتدائی قدر بھی نہیں کی اور کم از کم مجھے اس سلسلے میں احساسِ جرم ہے۔ وہ جن لوگوں پر اثر ڈال کر گئے، ان سے اثر قبول کرکے زندگی بدل لینے والے کسی بھی طبقے نے ان کے احسانات کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ مطلب یہ کہ مجھے شدید شکایت ہے کہ مودودی صاحب کی سوانح پر کوئی ڈھنگ کا کام موجود نہیں، ان کی فکر کی شرح و تعبیر پر کوئی ڈھنگ کا کام موجود نہیں اور دورِ جدید میں بعض ناقص العقل اور متعصب لوگوں کی طرف سے کی گئی تنقیدات کے جواب میں بھی کوئی ڈھنگ کا کام پیش (Produce) نہیں کیا جا سکا۔ یہ مولانا مودودی کے لیے کسی کسرِ شان یا نقصان کا سبب نہیں ہے، یہ ہماری محرومیوں کو مزید گہرا کردینے والی باتیں ہیں۔ آج میں ان حضرات کے درمیان یہاں کھڑا ہونے کی سعادت حاصل کررہا ہوں جو مودودی صاحب کے ترجمان ہیں، جس حد تک آپ فکرِ مودودی اور کردارِ مودودی کے مظہر ہیں، اسی حد تک ہمیں قابل ِقبول ہیں، اور آپ جتنا ان سے مختلف ہیں، اتنا میرے لیے ناقابلِ التفات ہیں۔ میری درخواست ہے، یہ التجا ہے کہ مولانا مودودی کے صرف activism [فعالیت] کے وارث بنے رہنے تک محدود ہو جانے کے بجائے مولانا مودودی کی فکر اور شخصیت کے بہت گہرے، بامعنی اور بہت مکمل گوشوں کی ترجمانی کی ذمہ داری بھی اٹھائیے۔ مولانا کو اس وقت بہت ضرورت ہے اپنے اُن شارحین کی جو اُن کو بونوں کی یلغار سے بچا سکیں، جو اُن کا غلط فہمیوں سے باندھے جانے والے طومار سے دفاع کرسکیں۔ میری نظر میں ایسا کوئی کام نہیں ہے جو مولانا کی فکر کے کارگر دفاع کی حیثیت سے پیش کیا جا سکے۔ میں بھی خوش نصیب ہوں، آپ بھی خوش نصیب ہیں کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو دیکھا، پڑھا اور سنا ہے جسے اکثر لوگوں نے شاید ہی سنا ہو۔ میں یقین کی پوری کیفیت کے ساتھ اپنے علم کی حد تک یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کی گزشتہ ہزار، بارہ سو سال کی تاریخ میں اپنی معاصر، اپنی ہم عصر دنیا پر اثرانداز ہونے والی کوئی بھی شخصیت مولانا کے برابر نہیں ہے۔ مولانا ہزار بارہ سو سال کی تاریخِ امت میں وہ نام ہیں جنہوں نے اپنی ہم عصر دنیا کے ہر طبقے کی امامت کی۔ امامت کا لقب اگرکسی کو زیبا ہے تو وہ مودودی صاحب ہیں، کہ چیچنیا میں بیٹھا ہوا آدمی کہہ رہا ہے کہ میرا امام مودودیؒ ہے۔ سوڈان میں بیٹھا ہوا آدمی کہہ رہا ہے کہ ہمارا امام مودودیؒ ہے۔ عالم اسلام میں جہاں دینِ حق کے غلبے اور طاغوت سے ٹکرانے والی تحریکیں مودودی صاحب کی زندگی میں پیدا ہوئیں، مولانا مودودی ان تمام تحریکوں کے بلاامتیاز امام تھے۔ اس طرح کی شخصیت ہماری تاریخِ امت میں دوسری نہیں ہے۔ ایک آدمی نے اپنی زندگی میں اپنی تاثیر کا دائرہ عالمگیر کردیا تھا۔ کم از کم اس کے بنائے ہوئے دائرے کو سکڑنے تو نہ دو۔ ہمارا مسئلہ یہ ہو گیا ہے کہ جو دائرہ ان کی ذات سے، ان کی تحریر سے بن چکا تھا، ہم اس کی حدوں کو محفوظ رکھنا تو دور کی بات، اب اس کے سکڑ جانے کے عمل کو بھی روک نہیں پا رہے۔ تو بھائی! یہ ہم سب کے سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہماری بہترین صلاحیتیں بھی اس کام میں لگ جائیں تو ہم میں تو وہ مقاصد حاصل کرنے کی تمام ضروری صلاحیتیں پیدا ہو جائیں گی جن مقاصد کے لیے مولانا مودودیؒ اٹھے تھے، جن مقاصد کے لیے آپ مودودی صاحب کے گرد جمع ہوئے۔
مولانا مودودی نے جس زمانے میں اپنا تصنیفی کام شروع کیا، اس وقت مذہبی ادب یعنی مذہبی تحریروں میں بھی ادبی معیار کی طلب ہونے لگی تھی۔ یعنی مذہبی تحریروں میں ادبیت کے جوہر کی پیدائش کا عمل مولانا کے زمانہ تصنیف سے کچھ پہلے شروع ہوچکا تھا جس میں نمایاں ترین نام ابوالکلام آزاد کا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے دینی حقائق و دینی موضوعات کو ایک ادبی وقعت دی تھی۔ اس کو اپنے زمانے میں موجود بلند معیاراتِ نثر پر ظاہر کرکے دکھایا۔ اس ماحول میں جہاں ابوالکلام آزاد مذہبی مضامین اور ادبی اظہار کو جوڑنے کی کوشش کررہے تھے، مولانا مودودی نے وہاں سے اپنی تصنیفی زندگی کا آغاز فرمایا اور ابتدا ہی میں ابوالکلام آزاد کا کوئی بھی اثر قبول کرنے سے انکار کردیا، یعنی مولانا مودودی کی کسی بھی تحریر پر اپنے جید مذہبی ہم عصر کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اس کا سبب اگر ہم پہچان لیں تو مولانا کے ادبی مقامات کا کوئی ایک جزو ہماری سمجھ میں آسکتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی لٹریچر کی پرانی لفظیات کو نہیں بدلا، بلکہ عبارت کے ڈھانچے (Structure) میں روانی اور زور کا اضافہ کیا۔ یعنی ابوالکلام کے مصطلحات روایتی ہیں۔ ابوالکلام آزاد انہی اصطلاحوں کو استعمال کرتے ہیں جو ان سے پہلے استعمال ہوتی آرہی ہیں۔ وہی معرب اور مفرس فضا ابوالکلام نے بھی قبول کی تھی۔ لیکن ابوالکلام آزاد کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پرانی اصطلاحات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے بیان میں ایک ادبی روانی اور شکوہ پیدا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ابوالکلام آزاد کی نثر میں روانی کے باوجود اُس وقت کے ذہن کو بھی اور آج کے ذہن کو بھی، ایک دقت، ایک مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ ابوالکلام آزاد ایک رواں زبان لکھنے والے تھے، آسان زبان لکھنے والے نہیں تھے۔ مذہبی موضوعات کو روانی ابوالکلام نے دی۔ عبارت کا جو flow ہے، وہ ابوالکلام نے مذہبی لٹریچر میں ہمارے یہاں داخل کیا، لیکن عبارت کی سلاست مولانا مودودی نے دی ہے۔ ابوالکلام کی تحریر اور نثر میں عربیت اور فارسیت کا جو غلبہ تھا، مولانا مودودی نے اس کا کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ مولانا نے ان سے صرف روانی کا عنصر لیا (یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ان سے لیا)، لیکن بہرحال روانی کے عنصر میں ابوالکلام اور مولانا مشترک ہیں، البتہ مولانا نے اپنی تحریر میں پہلی مرتبہ اردو پن پیدا کرکے دکھایا، یعنی جس زبان میں لکھ رہے ہیں، اس زبان کا ذائقہ، اس زبان کا روزمرہ اور اس زبان کا لسانیاتی ڈھانچہ صرف کرکے دکھایا۔ کسی دوسری زبان سے کوئی بنیادی قوت لیے بغیر مولانا کا پہلا ادبی کارنامہ مذہبی لٹریچر میں ہے۔ مولانا نے قدیم اصطلاحات کو جدید ذوقِ لسان کے لیے قابلِ فہم بھی بنایا اور قابلِ قبول بھی۔ یہاں ایک ذرا سی مشکل اور ذرا سی تکنیکی بات ہے۔ آدمی کا فہم ہو یا ذوق ہو، بعض چیزوں کو ہم سمجھ کر مطمئن ہوجاتے ہیں، اور کچھ چیزوں کو چکھے بغیر ہماری تسلی نہیں ہوتی۔ تو چکھنے سے تسلی ہونا، یہ ذوق ہے۔ سمجھنے پر قناعت کرلینا، یہ فہم ہے۔ مولانا نے مذہبی موضوعات اور دینی حقائق کے سلسلے میں فہم کے بھی موثر اور زیادہ جامع اور زیادہ منتقل ہوجانے والے اسالیب پیدا کرکے دکھائے، اور اس کے ساتھ ساتھ مذہبی بیان میں جو ایک تاثیر کا عنصر ہونا چاہیے، وہ بھی پیدا کرکے دکھایا۔ یعنی اگر ہم سے پوچھا جائے کہ یہ ادبی مسلمہ ہے کہ اچھا اسلوب، اچھا پیرایہ دو چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم بڑا ہو، مکمل ہو، خود وضاحتی (Self Defining) ہو اور اس کی تاثیر گہری ہو، اور ذوق کے لیے جو اس مضمون کی روایت میں کارفرما ہے، تشفی بخش ہو۔ یہ دو مطالبات ابوالکلام آزاد پورے نہیں کرپائے۔ ابوالکلام آزاد نے بہت ساری قیمتی چیزوں کو ایک خطابت کا رنگ دے کر ان کی تاثیر کے بارے میں مجھے پہلے ہی سے Self Guarded کردیا، یعنی میں ابوالکلام آزاد کی کوئی تحریر پڑھوں تو اس کے مفہوم کا تو میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کرلیتا ہوں لیکن اس کا جو آہنگ ہے، جو اسلوب ہے وہ اتنا زیادہ بلند اور خطیبانہ ہے کہ پڑھنے والا پہلے ہی قدم پہ یہ تصور کرلیتا ہے کہ یہ تاثر مبالغہ آمیز اور عارضی ہے۔ یعنی ابوالکلام آزاد کی نثر کا تاثر بہت قوی ہے، بہت پُرزور ہے لیکن وقتی اور عارضی ہے۔ ابوالکلام آزاد اپنے قاری میں جذبات ابھار دیتے ہیں لیکن قاری کے طرزِ احساس تک رسائی نہیں رکھتے۔ یہ مولانا مودودی کا کمال ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے قاری کے جذبات کو مخاطب نہیں کیا۔ مولانا مودودی نے اپنی کسی بھی تحریر میں محرک جذبات کا کردار ادا نہیں کیا۔ ان کی تحریر اپنے فہم اور اپنی تاثیر دونوں میں بتدریج ہے۔ وہ آپ کو اپنی فضا سے نکلنے نہیں دیں گے۔ اگر آپ نے ان کو پڑھنا شروع کردیا تو ان کو نہ پڑھنے کی حالت میں بھی دوسری کتابوں کے مطالعے کے وقت مودودی صاحب کا بنایا ہوا Structure of Perception اور مودودی صاحب کا دیا ہوا تاثیری نظام آپ کے اندر کارفرما رہتا ہے۔ ان کی تحریر کے ایک وصف کا میں نے تجربہ کیا ہے کہ بعض Perception اور مودودی صاحب کا دیا ہوا تاثیری نظام آپ کے اندر کارفرما رہتا ہے۔ ان کی تحریر کے ایک وصف کا میں نے تجربہ کیا ہے کہ بعض بہت بڑے بڑے مسائل ذہن کو پیش آتے ہیں، بعض بہت بڑے بڑے کرائسز آدمی کی عمارت کو ہلا دیتے ہیں، اس وقت مودودی صاحب اپنی کسی عبارت کے ساتھ اگر یاد آجائیں تو وہ زلزلہ گزر جاتا ہے۔ مولانا مودودی ہم پر غالب آنے والے جذبات کو جس طرح سے قابو میں رکھ کر دکھاتے ہیں، میری نظر میں مذہبی لٹریچر خاص طور پر اردو کے مذہبی لٹریچر میں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ ان کے محاسن میں سے ایک ادبی حسن یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی حقائق کو بیان کرنے کی وہ سطح حاصل کرکے دکھائی جو اُس زمانے کے بہترین ذہن نے پیدا کی۔ مودودی صاحب کا بیان کردہ کوئی بھی مضمون، کوئی بھی تصور ایسا نہیں ہے کہ کوئی جدید آدمی اس کے تاثر میں مبتلا ہونے کے لیے یہ کہے کہ اس کو دیکھنے کے لیے مجھے اپنی سطح سے نیچے اترنا پڑتا ہے۔ معذرت کے ساتھ، آج ہمارے بیشتر موجودہ دینی ادب کا معاملہ یہ ہے کہ آج کا ذہن اس سے بہت آگے نکل چکا ہے اور ایک ذہین آدمی موجود مذہبی لٹریچر دیکھتے وقت گویا اس بات پر خود کو مجبور پاتا ہے کہ یار چھوڑو ان کی بات سمجھنے کے لیے ذرا اپنی سطح سے نیچے اتر جائو۔ جبکہ مولانا مودودی اپنے ہر بیان میں، ہر مضمون میں ذہانت کی بلند ترین سطح کو اپنے تابع رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور میری رائے میں وہ آخری آدمی تھے، ان کے بعد کوئی ایسی مثال نہیں ہے کہ ایک آدمی طے شدہ حقائق کو غیر مذہبی حقائق میں بیان کرے کہ جن کی صورت بھی تبدیل نہ ہوسکے اور مفہوم بھی نہ بدل سکے۔ اتنے Set Paradigm (مثال، نمونہ، نقشہ: Paradigm: an example or pattern) میں کھڑے ہوکر بدلتے ہوئے ذہنی معیارات سے پیدا ہونے والی سطحوں کو اپنے تابع رکھنا، یہ ایک پیغمبرانہ کام ہے۔ یہ پیغمبروں کی اصل روایت ہے جس کا ایک عالم کو وارث ہونا چاہیے، اور اس پیغمبرانہ روایت کے آخری، مکمل اور کامل وارث مولانا مودودی تھے۔ آپ دیکھتے ہیں، میں نے بھی دیکھا ہے کہ قرآن کی تفسیروں کا پچھلے سو سال میں ایک سیلاب آیا، یعنی جس نے بھی عربی میں کچھ شدبد حاصل کی وہ پہلا ارادہ مفسر بننے کا باندھتا ہے۔ بہرحال ایک طغیانی ہے تفسیروں کی۔ اگر ہم یہ کہیں کہ کس تفسیر نے اپنے زمانے کے اعلیٰ ترین ذہنوں کی زندگی اور سوچنے کا انداز سب سے زیادہ تبدیل کیا ہے تو وہ شخص جھوٹا ہے جو تفہیم القرآن کے سوا کوئی اور نام لے۔ تفہیم القرآن تفسیری ادب میں اس بات کی غالباً واحد مثال ہے کہ جس نے اپنے زمانے کی بلند ترین ذہانتوں کو منقلب کردینے کا عمل ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ ہزار بار انجام دے کر دکھایا۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو اعلیٰ درجے کی فلسفیانہ بصیرت رکھتے ہیں اور اچانک کسی وجہ سے انہوں نے تفہیم القرآن کا مطالعہ کرنا شروع کردیا، اور مطالعہ شروع کرنے کے دوران ہی میں وہ اتنے بدل گئے کہ خود پہچانے نہیں جاتے۔ میں ایسے کم از کم بیس آدمیوں کو جانتا ہوں، اگر ایک آدمی ایسے بیس آدمیوں کو جانتا ہو تو ہم لوگ اگر 2000 ہوجائیں اور وہ 2000 آدمی بھی ان شا اللہ بیس آدمیوں کو جانتے ہوں گے۔ تو یہ خوبی انقلاب پیدا کردینے والی قوت رکھتی ہے اور ظاہر ہے یہ مولانا مودودیؒ کی فکر کا کمال ہے۔ ان میں مضامین کی صحت اور بلندی بھی داخل ہے۔ لیکن ان کے اسلوب کی اعلیٰ درجے کے ادبیت کا بھی اس میں ایک بنیادی کردار ہے، یعنی مولانا کی فکر جس طرح لوگوں کو قائل اور متاثر کرتی ہے، اس عمل میں ان کے اسلوب کی ادبیت کا حصہ ان کی فکری عظمت سے کم نہیں۔ آپ اردو کی پوری ادبی روایت میں کوئی ایسی ادبیت لاکر دکھا دیجیے، جس کے ادب کی اپنی تاثیر نے حق، خیر اور جمال کے اتنے مظاہر تخلیق کیے ہوں، جتنے مولانا مودودی کی کتابوں سے Originate ہوئے ہیں۔ ادب کا مقصد کیا ہے؟ ممکن ہے یہاں کچھ ادیب حضرات بیٹھے ہوئے ہوں، ادب کا مقصد ہے چیزوں کو حق کی Presence، خیر کی Manifestation اور جمال کی شدت کا تناظر فراہم کرنا۔ یہ ادبِ عالیہ کا متفقہ مقصد ہے۔ ادبِ عالیہ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ چیزوں کو حق، خیر اور جمال کے Paradigm میں Symbolize کرتا ہے، یہ ادب کی آخری تعریف ہے۔ اس آخری تعریف جس پر دانتے کو پرکھا جاتا ہے، جس پر شیکسپیئر کو پرکھا جاتا ہے، جس پر فردوسی اور میرؔ اور حافظ پرکھے جاتے ہیں، اس آخری معیار کا ہم مولانا مودودیؒ پر اطلاق (Application) کریں تو حیرت ناک نتائج سامنے آتے ہیں کہ ادبِ عالیہ کی یہ آخری Definition یہ انتہائی معیار، مولانا مودودیؒ بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں سے زیادہ پورا کرتے ہیں۔ دوسرا جن لوگوں کو اردو نثر کی ساخت کا تجربہ،علم اور ذوق ہے، وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ Punctuated جملہ لکھنا اردو کے لسانیاتی مزاج کے خلاف ہے۔ Punctuated جملہ وہ نہیں ہوتا کہ ایک جگہ کوما، کالن، سیمی کالن ڈالنے کی ضرورت پیش آئے۔ ایسا جملہ لکھیں کہ آپ کو Punctuation کی ضرورت پیش نہ آئے۔ یہ Punctuation اردو کی جملہ بندی، اردو کی تحریری روایت، اردو کے لسانی مزاج کے لیے اجنبی چیزیں ہیں۔ ہماری Perception وہ ہے جو اجزا کو جوڑ کر بنانے والی کوئی Perception نہیں ہے۔ ہماری Perception وہ ہے جو خود اپنے بہائو میں مسلسل رہے۔ یہ ہمارا عملِ ادراک ہے اور یہ ہماری پیدا کردہ زبانوں کا اصل مزاج ہے۔ جملہ لمبا ہو لیکن اس کی روانی ایسی ہو کہ اس میں کوئی جوڑ لگانے کی آپ کو ضرورت پیش نہ آئے۔ مولانا مودودیؒ نے بہت لمبے لمبے فقرے لکھے ہیں۔ آپ سب نے ماشا اللہ پڑھ رکھا ہوگا۔ مولانا کے بعض فقرے عام طور پر چار چار جملوں کے برابر ہیں لیکن مولانا کے طویل ترین فقروں میں بھی Punctuation کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا کا مضمون اپنے اس تسلسل کے ساتھ بیان ہوجاتا ہے جو ہماری تہذیبی اور مذہبی Preception کا خاصہ ہے۔ یہ ان کا دوسرا وصف ہوا۔ تیسرا وصف میرے خیال میں اس کو مجھے آخری بنانا چاہیے (لیکن یہ یقین رکھیں یہ 30ہوسکتے ہیں، ان شا اللہ، تو تیسرا وصف جسے مجبوراً آخری بنارہے ہیں) وہ یہ ہے کہ ا دبی معیارات کی روشنی میں وہ زیادہ General ہے۔ ناواقفِ فن کے لیے بھی اسے سمجھنا آسان ہے۔ بیان، اظہارِ عبارت، تقریر یعنی لفظ سے لفظ کی اساس پر پیدا ہونے والے بیان کی سب سے اعلیٰ سطح یہ ہے کہ ان کا مفہوم خودبخود تاثیر بن جائے۔ یعنی فہم کو ذوق میں منقلب کردے۔ اگر کوئی عبارت ہو تو وہ عبارت ادبی نثر کے اعلیٰ ترین معیار پر کھڑی ہوئی ہوگی۔ مولانا کے علومی اسلوب کا اگر تعارف کروانا ہو، یا مولانا کے علومی ادبی اسلوب کا اگر تعارف کروانا ہو، یا مولانا کے علومی ادبی اسلوب کو اگر سمجھنے کی کوشش کرنا ہو تو محض اپنے آپ کو ایک تجربے سے گزاریے، اللہ نے چاہا تو کم از کم آپ کا ذوق ایسا پیدا ہوجائے گا جو آپ کو مولانا کی ادبی تحصیل سے مانوس کردے گا، چاہے اس کی قابلیت نہ پیدا کرے، لیکن ان کی ادبی تحصیل سے مانوس کردے گا۔ تو یہ بات گویا محسوس کرادے گا کہ آپ کسی بہت بڑے ادیب کی تحریر پڑھ رہے ہیں۔ وہ معیار یہ ہے کہ مولانا کی تحریر دماغ اور طبیعت کو بہرحال متاثر کرتی ہے۔ یہ ان کے اسلوب کا خاصہ ہے، یہ کوئی فکری عمل نہیں ہے۔ ایک قابلِ احترام صاحبِ نثر کی کرامت ہے کہ وہ جو بات کہہ رہا ہو، وہ آپ کے ذہن کو استدلال کی بنیاد پر Capture کرلے اور آپ کی طبیعت کو حسنِ اظہار کی بنیاد پر تسلیم کرالے۔ یہ مولانا کے ادبی حسن کا میرے خیال میں ایک کلیدی گر ہے، ایک کلیدی Definition ہے۔ مولانا مودودی بڑے ادیب کس طرح ہیں؟ اس کا اتنا جواب ہی کافی ہے کہ مولانا کا استعمال کیا ہوا لفظ اپنے معانی میں اتنا مکمل ہوتا ہے کہ عقل اس کے احاطے میں آنے پر مائل ہوجاتی ہے، اور اپنی تاثیر میں اتنا شدید ہوتا ہے کہ طبیعت اس کے رنگ میں ڈھلتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا مودودی نے جو تصورات اپنے مخاطبین (یعنی وہ مخاطب چاہے پڑھنے کے معنی میں ہو، سننے کے معنی میں ہو، یا دیکھنے کے معنی میں ہو)، اپنے اس تعلق رکھنے والے تمام لوگوں میں مولانا نے اپنی اس کرامت کا جیسا اظہار فرمایا ہے، وہ آپ اور ہم سب کے مشاہدے میں ہے، ہم سب کے تجربے میں ہے۔ پھر مولانا مودودی نے اپنی فکر کو اپنے تربیت یافتگان کا مزاج بنا کر دکھادیا۔ اس سے بڑھ کر کامیابی کا کوئی تصور نہیں کا جاسکتا۔ آج میرے لیے یہ پہچاننا بہت آسان ہے کہ آپ نے مولانا مودودی کو دیکھا ہے اور آپ نے نہیں دیکھا۔ جماعت اسلامی ہی کے لوگوں میں میرے لیے یہ پہچان بہت آسانی سے ممکن ہے کہ ان صاحب نے مولانا مودودی کو دیکھا ہے، کیونکہ یہ صاحب مزاجاً ویسے ہیں اور ان صاحب نے مولانا مودودی کو نہیں دیکھا، یہ مولانا کے کتابی اور سیاسی ترجمان ہیں، اللہ ہمیں توفیق دے۔ یہ چند خصائص ہیں۔ یہ میں بہت یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ چند ادبی خصائل ہیں جو ایک غیر فنی ماحول میں ایک آدمی بیان کرسکتا ہے۔ اگر یہ ادیبوں کا مجمع ہوتا تو مولانا کی ادبی شان کا بیان کچھ اور ہوتا، لیکن سردست چونکہ یہ وہ مجمع نہیں ہے اور شاید یہاں کی وہ ضرورتیں نہیں ہیں کہ ہم مولانا مودودی کے ادبی فضائل کو، محاسن کو، ادبی اصطلاحوں میں سمجھنا چاہیں۔ میں جو آخری بات کہنا چاہ رہا تھا وہ یہ ہے کہ بھائی! یہ وصف پیدا نہیں ہوسکتا جب تک کہ جو آپ مانتے ہیں ویسے آپ بن نہ جائیں۔ جس آدمی کے ذہن اور کردار میں فاصلہ نہ ہو، جس آدمی کے قول اور احوال میں فاصلہ نہ ہو، وہی اچھا سوچ سکتا ہے اور وہی بات کو اچھی طرح کہہ سکتا ہے۔ اگر ہمیں مولانا مودودی کا ادبی فیض حاصل کرنا ہے تو ہمیں مولانا کے مزاج میں ڈھلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا کا مزاج کسی عام فلسفی، عالم یا ادیب کا مزاج نہیں تھا۔ میری اس بات پر غور کیجیے گا۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ تم نے ایسا کوئی آدمی دیکھا ہے جو دین کا بنا ہوا ہو، تو میں کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے کہ تم نے کوئی ایسا آدمی دیکھا ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے لاکھ گز کپڑا سفید دے کر بھیجا ہو، زندگی کا لاکھ گز کپڑا، کہ خبردار اس پر کہیں دھبہ نہ آنے پائے، تم نے ایسا آدمی دیکھا ہے جو اس لاکھ گز کپڑے کو ایک معمولی سے دھبے سے بھی بچا کر لے گیا ہو، تو میں کہوں گا کہ ہاں میں نے دیکھا ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ یعنی اخلاق اور جمالیاتی فضائل کا کوئی زندہ مظہر دیکھا ہے تو میں کہوں گا ہاں، ایک تو دیکھا ہے۔ ان سب سوالوں کے جواب میں، مَیں کہوں گا کہ ہاں ایک کو دیکھا ہے، اور ان تینوں جگہ ایک سے مراد مولانا مودودی ہی ہوں گے۔ تو خدا کے لیے ان کی طرح بننے کی کوشش کرو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے ویسی زندگی عطا فرمائے، اس مرتبے کے بغیر اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے ویسی آخرت نصیب فرمائیں جیسے ان کے لیے مقدر کردی گئی ہو۔ تو ایسا اعتماد کسی معمولی آدمی پر نہیں ہوتا۔ ہم دھوکے میں اپنی دنیا کسی کو سونپ سکتے ہیں، لیکن یہ دعا نہیں کرسکتے کہ یااللہ میرا حشر ان کے ساتھ کردینا۔ تو یہ میری سعادت ہے اور میں یہ دعا باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی یہ دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، اور ایسی زندگی عطا فرمائیں جس میں یہ دعا بامعنی، حقیقی اور سچی ہوتی ہے۔
بہت بہت شکریہ
(تسوید: محمد عمر فاروق)

Share this: