حیاتِ سید مودودیؒ

Print Friendly, PDF & Email

بچپن و جوانی کی چند جھلکیاں

بچپن کا دور بھی عجیب ہوتا ہے۔ نہ کسی چیز کی فکر، نہ کوئی پریشانی۔ یہ دور بہت جلد قصۂ ماضی بن جاتا ہے۔ غالباً مشتاق یوسفی ہی نے لکھا تھا کہ بچے بہت اچھے ہوتے ہیں، ان میں ایک بات ہی خراب ہوتی ہے کہ وہ بڑے ہوجاتے ہیں۔ مضطر خیرآبادی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: ۔

اسیرِ پنجۂ عہد شباب کرکے مجھے
کہاں گیا میرا بچپن خراب کرکے مجھے

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کا واقعہ یاد آیا کہ انھوں نے اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک ستّر سالہ بوڑھے کو ایک دس سالہ بچے کے ساتھ کھڑا کیا اور فرمایا: ’’یہ دونوں ہم عمر ہیں۔‘‘ اس بوڑھے بزرگ اور نوعمر بچے کے سوا حاضرین مجلس اس بیان پر تعجب کرنے لگے اور بزرگ سے پوچھا کہ حضرت یہ کیسے ہم عمر ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ’’دونوں کی عمر اسّی سال ہے۔ یہ اس میں سے ستّر سال گزار چکے ہیں اور اس بچے کے ستّر سال باقی ہیں۔‘‘ بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے، مگر ذرا غور کریں تو اس کے اندر بھی ایک سبق پنہاں ہے۔
بڑے لوگوں کی زندگی میں کئی عظیم کارنامے رقم ہوتے ہیں۔ جب غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان بڑے لوگوں کے بچپن کے واقعات بھی اپنے اندر بڑا سبق لیے ہوتے ہیں۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم خود صحابہ ؓ کے سامنے اپنے بچپن کے واقعات بیان فرمایا کرتے تھے۔ صحابہ ؓ ان واقعات کو نہایت توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا کرتے تھے۔ یہ واقعات سیرتِ مطہرہ میں محفوظ ہیں اور جب بھی ان کا مطالعہ کیا جائے، قلب و نظر اور عمل و ایمان کو جِلا بخشتے ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب ’’رسولِ رحمتؐ مکہ کی وادیوں میں‘‘ جلد اول میں تفصیلاً یہ واقعات لکھے ہیں۔
ہمارے دور کے عظیم مفکر اور تحفظِ ختمِ نبوتؐ کی خاطر پھانسی کی سزا پانے والے عاشقِ رسولؐ سید مودودیؒ کا بڑھاپا تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، انہیں سنا بھی اور پڑھا بھی، ان سے مجلس آرائی کا لطف بھی اٹھایا اور ان کی شخصیت کی بے شمار عظمتیں آج بھی دل میں موجزن ہیں۔ مولانا نے بھی اپنے بچپن کے واقعات بہت دلچسپ انداز میں قلم بند کیے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ نے سید مودودیؒ کو عظمت کے راستے پر گامزن ہونے کی سعادت بخشی۔ عام بچوں کی طرح ان کی بھی یادیں اپنے اندر کئی عبرتناک واقعات سے مالامال ہیں۔ فرماتے ہیں:۔
’’میرا بچپن ریاست حیدرآباد کے مشہور شہر اورنگ آباد دکن میںگزرا ہے۔ میرا خاندان تو دہلی کا تھا، لیکن میرے والد مرحوم دہلی سے اورنگ آباد دکن چلے گئے تھے، اس وجہ سے میری زندگی کے ابتدائی تیرہ چودہ سال اورنگ آباد میں ہی بسر ہوئے۔ جو لوگ ایک ہی جگہ پل کر جوان ہوئے ہیں اور ساری عمر اپنے پیدائشی وطن میں ہی رہے ہیں، وہ اس بات کا پورا اندازہ نہیں کرسکتے کہ آدمی کو اس جگہ سے کتنی گہری محبت ہوتی ہے جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا ہو۔
تیرہ چودہ سال کی عمر تک میں وہیں رہا۔ پھر میرا یہ پیدائشی وطن مجھ سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ گیا۔ برسوں کے بعد جوانی کی عمر میں جب مجھے ایک دفعہ پھر اورنگ آباد جانے کا اتفاق ہوا تو میرے اُوپر عجیب کیفیت گزری۔ جوں جوں شہر قریب آتا جاتا تھا، میری بے چینی بڑھتی جاتی تھی۔ میں محسوس کررہا تھا کہ ریل بہت سست چل رہی ہے۔ میرا جی چاہتا تھا کہ ریل پر سے کود جائوں اور بھاگ کر شہر میں جا پہنچوں۔ بچپن کی دیکھی ہوئی ہر ایک چیز کو میں پہچاننے کی کوشش کرتا تھا اور میرا دل بے اختیار کھنچنے لگتا تھا۔ اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ آدمی کو اُس جگہ سے کتنی گہری محبت ہوتی ہے جہاں اس کا بچپن گزرا ہو۔‘‘ (سید مودودیؒ اپنی اور دوسروں کی نظر میں، ص19)۔
ہر شخص اپنے بچپن اور اس کے اتار چڑھائو کا عجیب، دلچسپ اور عبرت ناک پس منظر رکھتا ہے۔ اچھی فطرت کے حامل لوگ بچپن ہی سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ہر بچہ بڑے لوگوں کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ یہ ہمیشہ سے اسی عمر میں رہے ہیں۔ حالانکہ ہر بوڑھا کبھی بچہ ہوتا تھا، اور ہر بچہ کبھی بوڑھا ہوجائے گا۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اس حوالے سے بیان کرتے ہیں:۔
’’مجھے اپنی بہت چھوٹی عمر کی باتیں بھی اب تک یاد ہیں، مجھے اپنی حیرت اب تک یاد ہے جو مجھے پہلی مرتبہ یہ سن کر ہوئی تھی کہ ابا کے ابا کو دادا اور ابا کی اماں کو دادی کہتے ہیں۔ میرا دل یہ یقین کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ تھا کہ ابا بھی کسی کے بیٹے ہوسکتے ہیں، اور نہ میں یہ تصور ہی کرسکتا تھا کہ میرے والد بھی کبھی میری طرح بچے ہوں گے۔ اس نئی معلومات پر میں بہت دنوں تک غور کرتا رہا اور یہ بات بڑی تحقیقات کے بعد میری سمجھ میں آئی کہ جتنے لوگ اب بوڑھے ہیں یہ سب کبھی بچے تھے اور ان کے بھی کوئی ماں باپ تھے۔‘‘ (ایضاً، ص19)۔
بچپن کی یہ سوچ بیان کرنے کے بعد مولانا ذرا بڑی عمر میں پہنچے تو اپنے بڑے بھائی کے ساتھ اپنی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔
’’میں اپنے گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی مجھ سے تین چار سال بڑے تھے۔ مجھے کھانے کی جو چیز ملتی تھی، اسے فوراً کھا لیتا تھا، مگر بھائی صاحب سنبھال کر کسی وقتِ مناسب پر کھانے کے لیے اٹھا رکھتے تھے۔ اسی طرح جو پیسے مجھے ملتے تھے ان کو بھی فوراً خرچ کرڈالتا تھا، اور بھائی انھیںجمع کرکے کبھی کوئی اچھی چیز خرید لاتے تھے۔ بس یہ میرے اور اُن کے درمیان جھگڑے کی بنیاد تھی۔ میں ہمیشہ اُن کے حصے میں سے اپنا حق وصول کرنے کی کوشش کرتا تھا اور وہ ہمیشہ تھوڑی دیر تک مقابلہ کرنے کے بعد کچھ نہ کچھ میرے حوالے کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ اوّل تو میں سمجھا کرتا تھا کہ اس طرح میں انھیں شکست دے کر مالِ غنیمت حاصل کرتا ہوں، مگر بعد میں مجھے معلوم ہوگیا کہ بڑے بھائی کو مجھ سے محبت ہے اور انھیں خود بھی اسی میں مزہ آتا ہے کہ میں اُن سے لڑ بھڑ کراپنا حصہ وصول کرلیا کروں۔ اسی طرح میں والدین کے عطیوں میں سے 75 فیصدی کا مالک ہوتا تھا۔ پچاس فیصد اپنے حساب میں اور پچیس فیصد بڑے بھائی کے حساب میں سے۔ مشہور بات تو یہ ہے کہ ’’سگ باش برادرِ خوردمباش‘‘ یعنی چھوٹا بھائی بننے سے کتا بننا زیادہ بہترہے، مگر میرا تجربہ اس کے خلاف ہے۔‘‘ (ایضاً، ص20-21)۔
تمام لوگ بچپن میں اس کیفیت سے گزرتے ہیں۔ اپنے بڑے بہن بھائیوں سے ان کے حصے میں سے کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے اپنے حصے میں سے کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ مولانا کے بعض تاثرات پڑھتے ہوئے تو خود مجھے اپنا بچپن یاد آجاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو اپنی ہی آپ بیتی ہے۔
والدین عموماً اپنے بچوں کی بعض حرکات پر سختی سے ڈانٹ پلاتے ہیں۔ بلاشبہ اگر وہ حرکت اخلاق سے گری ہوئی ہو تو اس پر والدین اور دیگر بزرگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوںکو اچھے انداز میں نصیحت فرمائیں۔ ڈانٹ ڈپٹ بھی کبھی کرنا پڑتی ہے مگر پیار محبت سے کی گئی نصیحت فطرتِ سلیمہ پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ انسان کے پاس دنیا میں سب سے بڑی دولت اعمالِ صالحہ اور نیک اولاد ہے۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنے والدِ گرامی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:۔
’’میرے والد مرحوم نے میری تربیت بڑے اچھے طریقے سے کی تھی۔ وہ دہلی کے شرفا کی نہایت ستھری زبان بولتے تھے۔ وہ راتوں کو مجھے پیغمبروں کے قصے، تاریخِ اسلام اور تاریخِ ہندوستان کے واقعات اور سبق آموز کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ اس کا مفید اثر میں آج تک محسوس کرتا ہوں۔ وہ میرے اخلاق کی درستی کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ انھوں نے مجھے ایسے بچوں کے ساتھ کھیلنے نہیں دیا جن کی عادتیں بگڑی ہوئی ہوں۔ ایک مرتبہ میں نے ایک ملازمہ کے بچے کو مارا تو انھوں نے اُس بچے کو بلا کر کہا ’’تُو بھی اسے مار‘‘۔ اس سے مجھے ایسا سبق ملا کہ پھر تمام عمر میرا ہاتھ کسی زیرِ دست پر نہیں اٹھا۔‘‘ (ایضاً، ص21-22)۔
اس واقعے میں مولانا کے والدِ محترم کی شخصیت کی عظمت کھل کر سامنے آتی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والے مزدور اور خدام ظلم کی بھینٹ چڑھائے جاتے ہیں۔ ان کا کوئی انسانی حق تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اگر مال دار اور بااثر لوگوں کے بچے غربا کے بچوں کو ماریں پیٹیں، تو یہ کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے برعکس غریب کا بچہ ذرا سی بھی گستاخی کر بیٹھے تو قابلِ گردن زدنی قرار پاتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان اس سوچ کا حامل ہوتا ہے کہ ہر معاملے میں عدل وانصاف کرے، تاکہ کل اللہ کی عدالت میں ذلت ورسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ والدین اپنے بچوں کے بارے میں فکرمند ہوں کہ وہ اچھے انسان اور سب سے بڑھ کر اچھے مسلمان بنیں۔ جیسی صحبت انسان کو میسر ہو ویسی ہی عادات وخصائل اس کی زندگی میں پیدا ہوتے ہیں۔ ’’صحبت صالح ترا صالح کند، صحبتِ طالح ترا طالح کند‘‘۔ بچوں کو اپنے ساتھ رکھنا اور اچھی مجلس میں لے جانا تربیت کا بہت اہم پہلو ہے۔ اس حوالے سے مولانا رقم طراز ہیں: ۔
’’وہ مجھے زیادہ تر اپنے ساتھ دوستوں کی صحبت میں لے جاتے تھے، اور ان کے دوست سب کے سب سنجیدہ، شائستہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان کی صحبتوں میں بیٹھنے کی وجہ سے میں مہذب عادات سیکھ گیا اور بڑی بڑی باتوں کو سمجھنے کے قابل ہوگیا۔ میری طبیعت میں جتنی شوخی تھی، والد مرحوم کی اس تربیت کی وجہ سے وہ شرارتوں اور دنگے فساد کے بجائے ظرافت کی شکل میں ڈھل گئی۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں مجھ سے بڑی عمر کے لوگ میرے ساتھ بہت دلچسپی لیا کرتے تھے۔ کیوں کہ میں شرارتیں کرنے کے بجائے بہت مزے مزے کی باتیں کیا کرتا تھا۔‘‘(ایضاً، ص22)۔
بڑے بوڑھوں اور جہاندیدہ لوگوں کی محفل کم عمر بچوں کے لیے ایک تربیت گاہ سے کم نہیں ہوتی۔ عمر رسیدہ حضرات خواہ وہ بہت پڑھے لکھے، دانش اور شہرت کی بلندیوں پر ہوں، یاکم پڑھے لکھے اور محدود دائرے تک متعارف ہوں، اپنی مجالس میں بہت مفید باتیں کرتے ہیں۔ چھوٹی عمر کے بچے اگر ان مجالس میں پوری توجہ اور دلچسپی کے ساتھ بیٹھیں تو بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ ہاں پھکڑ اور فحش گو قسم کے عمر رسیدہ لوگ بھی ہوتے ہیں، اُن کی مجالس بچوں کے لیے زہرِ قاتل ہوتی ہیں۔ بڑے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو پھولوں اور کلیوں کو اپنی یاوا گوئی سے برباد کردیتے ہیں، اور بڑے خوش بخت ہیں وہ بزرگان جن کی محافل میں اخلاق کے دیپ جلتے ہیں۔ بزرگوں کے ساتھ تعلیمی اداروں اور اساتذہ کا بھی کردار سازی میں بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچے بھی ہر مزاج اور کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ سمجھ دار بچے سب سے بناکر رکھتے ہیں، مگر اُن ہم جماعتوں سے جن کے اخلاق گھٹیا ہوں، خود کو بچا کر رکھنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنے مدرسے اور ماحول کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:۔
’’اب میں تھوڑا سا حال اپنے مدرسے کا بیان کرتا ہوں۔ گیارہ برس کی عمر میں جب مجھ کو ہائی اسکول کی آٹھویں جماعت میں داخل کیا گیا اُس وقت مجھے پہلی مرتبہ اپنے ہم عمر لڑکوں سے میل جول کا موقع ملا، کیوںکہ اس سے پہلے تک تو میں زیادہ تر بڑوں کی صحبت ہی میں رہا تھا۔ مدرسے میں اوّل اوّل تھوڑے دنوں تک اجنبی رہا، پھر میں نے مدرسے کی اُس ٹولی سے دوستانہ تعلقات پیدا کرلیے جس میں سنجیدہ اور شوقین طالب علم شامل تھے، لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے محض اپنی ظرافت کے ذریعے سے شریر ٹولی کے بھی دو تین سرغنوں کو دوست بنا لیا تھا۔ میں اُن کی شرارتوں میں تو شریک نہیں ہوتا تھا مگر مذاق اور لطیفہ گوئی کی وجہ سے میں نے اُن کو رام کرلیا تھا۔ اس طرح میں شریف ٹولی کا دوست بھی رہا اور شریر ٹولی سے میرے تعلقات بھی نہ بگڑے۔ استادوں میں سے اکثر میرے اوپر مہربان تھے۔ خصوصاً ایک استاد تو ایسے شفیق بن گئے کہ آج تک اُن کے خاندان سے میرے تعلقات قائم ہیں اور اُن کے صاحبزادے کو میں اپنے بھائی کی طرح عزیز رکھتا ہوں۔‘‘(ایضاً، ص23)۔
دلی اور اورنگ آباد کے ماحول میں بچپن گزارنے والا بچہ جوں جوں بڑا ہوتا گیا، اس کی شخصیت نکھرتی گئی اور اس کے علمی و ادبی کمالات کے ساتھ اس کے اخلاق و کردار کے موتی چمکتے چلے گئے۔ وہ مفسرِ قرآن اور مجددِ دوراں کی حیثیت سے برصغیر ہی نہیں، پوری دنیا کی ایک عظیم تعداد سے خراجِ تحسین وصول کرچکا ہے۔ اس کی عظمت کو اس کے مخالفین اس کی زندگی میں بھی اور اس کی وفات کے بعد بھی متنازع بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں۔ مولانا کے مداحین اور عقیدت مندوں کی ایک کثیر تعداد برصغیر اور دنیا بھر کے ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ مولانا ؒ پر ہونے والے اعتراضات کا جواب اپنے اپنے ذوق کے مطابق دیتے ہیں۔ مولانا ؒ نے بچپن سے جوانی اور بڑھاپے میں قدم رکھا تو بھی اپنی شخصیت کے کمالات سے خلقِ خدا کی کثیر تعداد کو مسحور و متاثر کرتے رہے۔ ان کا اندازِ فکر مثبت، تعمیری اور اعتدال پر مبنی تھا۔ وہ زود رنج، غصیلے اور منتقم مزاج بھی نہیں تھے، اور غیرسنجیدہ، غیرمعیاری اور ہیجان انگیز بیانات سے بھی کوسوں دور تھے۔ مخالفین جس پستی میں گر کر ان پر حملہ آور ہوتے اور نیش زنی کرتے، مولانا کی عظمت و ثقاہت اس سے نہایت بلند و بالا تھی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:۔
’’میرا ہمیشہ یہ قاعدہ رہا ہے اور میں آئندہ بھی اسی پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ جن لوگوں کو میں صداقت و دیانت سے بے پروا اور خدا کے خوف سے خالی پاتا ہوں اُن کی باتوں کا کبھی جواب نہیں دیتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُن سے بدلہ لینا میرے بس میں نہیں ہے، خدا ہی اُن سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اور میرا یہ بھی خیال ہے کہ اُن کے جھوٹ کی تردید کرنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ اُن کا پردہ اِن شا اللہ دنیا ہی میں فاش ہوگا۔ اس لیے آپ مجھ سے یہ توقع نہ رکھیں کہ میں اُن کے جواب میں کوئی بیان کسی اخبار کو بھیجوں گا۔‘‘
(رسائل و مسائل حصہ دوم، طبع جنوری 2004ء، ص: 133۔233)
جو شخص بطور کارکن جس قائد کے ساتھ وابستہ ہو، خواہ وہ قائد مادہ پرستی کی تعلیم کا حامل ہو یا اسلامی و اخلاقی تعلیمات اس کی پہچان ہوں، اپنے قائد کا دفاع بڑے جوش و جذبے کے ساتھ کرتا ہے۔ مولانا ؒ نے کبھی بھی اس بات کو پسند نہ کیاکہ ان کے دفاع میں جماعت کے کارکنان لوگوں پر اسی انداز میں حملے کریں جس گھٹیا انداز میں مخالفین حملہ کرتے ہیں۔ آپ کی تعلیم اور شخصیت دونوں اس بات کی ترجمان ہیں کہ آپ نے کبھی شائستگی اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا۔ آپ کی درج ذیل عبارت اس قدر عظیم ہے کہ اسے بار بار پڑھنے کے باوجود ہر مرتبہ نیا لطف حاصل ہوتا ہے:
’’میری ذات پر جو حملے کیے جائیں اُن کی مدافعت آپ لوگوں کے ذمے نہیں ہے۔ اگر میرے منع کرنے کے باوجود آپ لوگ اس سے باز نہ رہ سکیں، تو براہِ کرم اس معاملے میں حدِ اعتدال سے بھی کچھ کم ہی پراکتفا کریں۔ زیادہ سے زیادہ بس اس قدر کافی ہے کہ اگر کوئی الزام مجھ پر لگایا جائے، یا کوئی علمی اعتراض مجھ پر ہو، تو اپنے علم کی حد تک اس کی تردید کریں، یا مجھ سے اس کی حقیقت پوچھ لیں اور اس کا جواب دے دیں۔ باقی رہی میری تذلیل و تحقیر، تو اس پر میرے کسی دوست یا رفیق کو برا ماننے کی ضرورت نہیں۔ اسے میں پہلے ہی ہر ایک کے لیے معاف کرچکا ہوں اور ہمارے موجودہ دور کے بزرگانِِ دین کے لیے تو وہ آپ سے آپ مباح ہے۔ خواہ اسے کوئی معاف کرے یا نہ کرے۔ وہ چاہے کتنے ہی صریح اور رکیک الفاظ میں دوسروں کو جاہل، احمق، گمراہ اور ہادمِ دین کہہ دیں، قابل مواخذہ نہیں۔ البتہ دوسرا اگر ان کی کسی بڑی سے بڑی غلطی پر بھی ٹوک دے، خواہ کتنے ہی ادب و احترام کے ساتھ ٹوکے، وہ تنقیص اور تحمیق کا مجرم ہے۔ اس کا مستقل زخم ان کے شاگردوں اور مریدوں کے دلوں پر لگ جاتا ہے اور مدت العمر رستا رہتا ہے۔ یہ ’’عالی ظرف‘‘ لوگ ہیں، ان کی کسی بات پر برا نہ ماننا چاہیے۔‘‘
(رسائل و مسائل حصہ دوم، طبع جنوری 2004ء، ص: 153)
مولانا نے اپنے مخالفین کے لیے ’’عالی ظرف‘‘کی اصطلاح استعمال فرماکر سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ اپنی زبان و اخلاق کو بھی بگڑنے سے بچایا ہے اور مخالفین کی اصلیت بھی واضح کردی ہے۔ یہ رتبۂ بلند کسی کسی کو ہی نصیب ہے۔

Share this: