جدید سائنس کی جڑیں کہاں ہیں؟۔

Print Friendly, PDF & Email

یورپی کتب خانوں میں عربی نسخوں کے علوم

عرب سائنس اور لاطینی مغرب کے مابین تاریخی تعلق کا مطالعہ کئی رائج مفروضوں میں محصورہے، ان کے بغیر تعلیمی وظیفہ محال ہے۔ پہلا مفروضہ یہ یقین ہے کہ حکماء کی عربی تحریریں (خواہ ان کا تعلق کسی بھی قوم یا زبان سے رہا ہو) بنیادی طور پر یونانی کلاسیکی سائنس محفوظ کررہی تھیں، ان میں عربی علوم کا اپنا حصہ برائے نام ہی شامل تھا۔ دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ عربی متون کا لاطینی ترجمہ تیرہویں صدی میں اختتام پذیر ہوچکا تھا۔ اور تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ (رینیسانس) کی سائنس نہ صرف قرون وسطیٰ کی سائنسی افتادِ طبع (ذہنی اپج) سے تعلق منقطع کرچکی تھی، بلکہ ازخود قدیم سائنسز سے براہِ راست رشتہ بحال کرچکی تھی۔ یہی وہ ذہنی سانچہ ہے جس میں رہ کر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ یورپی نشاۃ ثانیہ کے دانشور قرونِ وسطیٰ کی سائنسز اور ان کے عربی مآخذکے بارے میں پست رائے کے حامل ہیں، اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ خالص یونانی علوم سے رجوع کیا جائے۔
علمِ فلکیات، جسے قدیم اور یونانی سائنسز میں ’ملکہ‘ کا درجہ حاصل ہے، کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یورپی نشاۃ ثانیہ کے دور میں بھی ’’حکمرانی‘‘ کرتی رہی ہے، جیسا کہ بہت سے معروف تصورات گواہی دیتے ہیں۔ کاپرینکن انقلاب، کہ جس کا اطلاق عموماً نشاۃ ثانیہ کی سائنس کے طورپرکیا جاتا ہے، اکثر اسے جدید سائنس کا نکتہ آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔
یہ مفروضات جو بڑی حد تک انیسویں صدی میں سامنے آئے، قائم رہے ہیں۔ حالانکہ حاصل شدہ نئے تحقیقی حقائق ان مفروضات سے متصادم ہیں۔ اکثراوقات ان مفروضات نے حقیقی مناقضات کی پرورش کی ہے۔

تحقیقِ جدید

میں گزشتہ دہائیوں میں حاصل شدہ اُن تحقیقی حقائق کی بنیاد پرتجزیہ کروں گا جو علم فلکیات کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔ سن1957 ء سے1968ء کے درمیان سائنس کے معروف مؤرخین Otto Neugebauer اور Edward S. Kennedy نے کاپرنیکن اور عربی علم فلکیات میں تعلق ثابت کیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ کاپرینکس نے جس قمری نمونے کا خاکہ سولہویں صدی میں پیش کیا ہے، وہ ہو بہو ابن شاطرہ کے قمری نمونے جیسا ہے، جو چودہویں صدی کے دمشق سے تعلق رکھتا تھا، اور سو سال قبل یہ کارنامہ انجام دے چکا تھا(1)۔ سن 1970ء کی دہائی میں علماء، جیسے Noel Swerdlow، Willy Hartner، میں اور دیگر کچھ Otto Neugebauer اور Edward S. Kennedy کی تحقیق کولے کر آگے بڑھے، مضامین کا پورا سلسلہ بندھا، جس میں کاپرینکن علم فلکیات کا عربی پیشروؤں کے کاموں سے تعلق کاگہرائی میں جاکر جائزہ لیا گیا۔ سن 1973ء میں Swerdlow یہ دعویٰ کرسکا کہ 1516ء میں جب کاپرینکس Commentariolusرقم کررہا تھا، پیش کردہ نمونوں کو خود پوری طرح سمجھ نہیں پایا تھا۔ اُس نے کہا کہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ کاپرینکس لازماً کسی اور عالم کے تیارکردہ نمونے پر کام کررہا تھا، اور وہ عالم غالباً ابن شاطر تھا۔
اُسی سال کی بات ہے، Hartnerنے بات آگے بڑھائی، اور ثابت کیا کہ کاپرینکن علم فلکیات میں موجود ’’محوری ریاضیاتی تھیورم‘‘ تین سو سال قبل سن 1274ء میں، ناصر الدین الطوسی حل کرچکا تھا۔ کاپرینکس نے نہ صرف یہ تھیورم (ریاضیاتی قضیہ) استعمال کیا، جو طوسی جوڑے (Tusi Cuople)کے نام سے معروف ہے، بلکہ طوسی نے اس قضیے کے حل میں ہندسی نکات کے لیے حروفِ تہجی کی جو ترتیب استعمال کی، اُسے من وعن نقل کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جہاں طوسی نے تھیورم کے کسی ہندسی نکتے کی وضاحت میں حرف ’’الف‘‘ لکھا ہے، کاپرینکس نے اُس کی جگہ لاطین متبادل “A” استعمال کیا ہے، اور جہاں طوسی نے ’’ب‘‘ استعمال کیا، کاپرینکس نے وہاں “B” لکھا ہے۔
سن 1984ء میں مَیں نے ثابت کیا کہ کاپرینکس نے بالائی سیاروں کے نمونے کی وضاحت میں غیر حل شدہ تھیورم استعمال کیا تھا۔ یہ تھیورم بھی تین سو سال قبل 1266ء میں پہلی بار مؤید الدین العرضی العامری الدمشقی نے عربی زبان میں متعارف کروایا تھا۔ یہ تھیورم، جسےUrdi Lemma پکارا گیا، جوبعد میں کیپلر اور اُس کے استاد میسٹلن میں خط کتابت کا مرکزی موضوع بنارہا، یہ کاپرینکس کی وفات کے پچاس سال بعدکی بات ہے، اس خط کتابت میں کیپلر نے اس بات کا اظہار کیا کہ کاپرینکس نے ہمیشہ یہ تھیورم استعمال کیا مگرکبھی بھی اس کا حل پیش نہیں کیا۔ جبکہ میسٹلن نے اپنے شاگرد کو جو حل پیش کیا، وہ حل کاپرینکس کا نہیں بلکہ ’’العرضی کا حل‘‘ تھا۔
یوں، درحقیقت یہ تاریخ سازتحقیق واضح کرتی ہے کہ وہ دو ریاضیاتی تھیورم، جنھیں کاپرینکس نے نظام بطلیموسی ازسرنو تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا تھا، دو تین سو سال قبل اُن ماہرینِ فلکیات کے ہاتھوں تکمیل پاچکے تھے جو اپنے تحقیقی ماحصل عربی میں لکھ رہے تھے۔ یہ سچائی Neugebauer اورSwerdlow کواُس نتیجے پرلے گئی کہ اُن کے 1984ء کے کلاسیکی کام میں پوری طرح نمایاں ہوئی، کاپرینکس کے ریاضیاتی علم فلکیات کی تحقیق میں انھوں نے واضح کیا کہ کاپرینکس کا کام علم فلکیات پر اُس تحقیقی کام کا تسلسل ہے، جو عربی میں لکھی گئی تھی۔ کاپرینکس کو علم فلکیات میں عربی روایت کے آخری ماہر فلکیات کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے (نہ کہ جدید سائنس کے پہلے ماہر فلکیات کے طورپر۔ مترجم)۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کاپرینکس کے پیشروؤں میں سے کوئی بھی عربی لکھنے والا محقق شمس مرکز (HELIOCENTRIC) نظام پرکام نہیں کررہا تھا۔ شمس مرکز نظام، جدید معنوں میں، درحقیقت پہلی بار کاپرینکس نے متعارف کروایا تھا(2)۔ زمین مرکز کائنات سے سورج مرکز کائنات کی منتقلی کے سوا، باقی ریاضیاتی نمونے ویسے ہی قائم رہے ہیں۔ درحقیقت کاپرینکس نے خود بھی یہ نظام پہلی بار ارض مرکز (GEOCENTRIC)کے طورپر ہی پیش کیا تھا، اور پھرکچھ ضروری ترامیم کے بعد اسے سورج مرکزکائنات کی جانب منتقل کیا تھا، ایک ایسا عمل جس میں ساری مربوط لکیریں اپنی اصل حالت کی جانب متوازی جاتی ہیں۔ یہ لازماً یاد رہنا چاہیے کہ کائناتی کشش ثقل کی تھیوری کے بغیر سورج مرکز عالم کی وضاحت کاپرینکن مطالعات میں ایک لاینحل مسئلہ ہے۔
کاپرینکس کے عرب پیشروؤں کے بارے میں حاصل شدہ حقائق کے بعد، عرب علم فلکیات کی دنیا کی ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے۔ مثال کے طورپر ایک انکشاف یہ ہوتا ہے کہ عربی بولنے اور لکھنے والے وہ ماہرینِ علمِ فلکیات، جن کے دو تھیورم کاپرینکس نے استعمال کیے، یکتا اور نرالے نہیں تھے، بلکہ ماہرینِ فلکیات کے ایک بڑے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جہاں تک ہم ثابت کرسکتے ہیں، یہ لوگ گیارہویں سے پندرہویں صدی کے درمیان کام کررہے تھے۔ یہ سب ہی یونانی علم فلکیات میں اصلاحات لارہے تھے۔
گیارہویں صدی سے پہلے اور پندرہویں صدی کے بعد تک کے ادوار عربی علم فلکیات پر تحقیق اور مطالعات کے اہم موضوعات بنتے جارہے ہیں۔ میں پیش بینی کرتا ہوں کہ جب ان ادوار کے علمی کاموں کی درست نشاندہی ہوجائے گی، اسلام میں یونانی علم فلکیات کی تحقیق پر ہماری تفہیم گہری ہوجائے گی، جسے کاپرینکس سے اب تک (مغربی بیانیہ) میں تخلیقی جوہر سے محروم بیان کیا گیا ہے۔

سوالات، جو پیدا ہوئے

اس حالیہ تحقیق کی روشنی میں، ہم لازماً ازسرِنو جائزہ لیں گے، اور تھامس کہن کی اس تھیوری کو ایک طرف رکھ دیں گے، کہ جس میں کاپرینکن علم فلکیات کو اپنے وقت کی فلکیاتی فکر سے ڈرامائی خروج قرار دیا گیا ہے۔ نئی تحقیق سے واضح ہوچکا ہے کہ یہ سائنسی انقلابی پیش رفت دو تین سو سال قبل ہی ہوچکی تھی، اور یہ یورپ میں نہیں، بلکہ اسلام کی مشرقی زمینوں پر ہوئی تھی۔ ان مشرقی زمینوں میں ہی پہلی بار یونانی علم فلکیات کی بے ربطی پرکڑی تنقید ہوئی تھی، یہ سارا نقد عربی ماہرین کے اپنے معیارات پر استوار ہوا تھا۔
تاہم ایک بڑا سوال یہاں آڑے آتا ہے کہ کاپرینکس نے کس طرح عربی تھیورمز کا علم حاصل کیا، انھیں استعمال کیا، اور یہ سب کچھ کیسے اُسی طرز پر ہوا کہ جیسا عرب پیشروؤں نے انجام دیا تھا؟ کیونکہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ کاپرینکس عربی پڑھ یا لکھ سکتا تھا، اور نہ ہی ان تھیورمز کے لاطینی متون ہی کہیں پائے گئے تھے، وہ زبان جو کاپرینکس پڑھ سکتا تھا۔ پھر کیسے یہ اہم کام اُس تک پہنچا؟ اور کیسے یہ نتائج برآمد ہوئے؟
اس ضمن میں محققین نے خیال کیا کہ شاید یونانی زبان ہی اس منتقلی کا ذریعہ بنی ہو، کیونکہ کاپرینکس یہ زبان پڑھ سکتا تھا، اور وہ بازنطینی ماہرینِ علمِ فلکیات جو یونانی میں لکھ رہے تھے، اور عربی، فارسی میں علم فلکیات کی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ اسی سلسلے میں1975ء میں Neugebauer کے ہاتھ ایک ویٹی کن یونانی نسخہ لگا، جسے قسطنطنیہ میں تیرہویں صدی کے ابتدائی دور میں لکھا گیا تھا۔ اس نسخے میں مذکورہ تھیورمزمیں سے ایک پایا گیا ہے۔ نسخے کا مصنف واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ فارس سے حاصل ہونے والا جدید علم فلکیات یونانی زبان میں پیش کررہا ہے۔ یہ نسخہ 1453ء میں Fall of Constantinople (ترک مسلمانوں کی فتح قسطنطنیہ) کے بعد کسی وقت ویٹی کن پہنچا تھا، اور یوں پندرہویں صدی کے اٹلی میں دستیاب رہا ہوگا۔ اس نسخے کی طرف توجہ دلانے، اور اس کے چند صفحات شائع کروانے کے بعد، Neugebauer اُس رستے کی جانب رہنمائی کرتا ہے کہ جہاں اس ضمن میں تحقیق آگے بڑھنی چاہیے۔ اُس نے ایک ممکنہ نتیجہ اخذ کیا ہے: دو متعلقہ تھیورمز، Tusi Couple اورUrdi Lemma، اور ابن شاطر کا وہ کام جوکاپرینکس کے کام میں نمایاں ہے، عربی بولنے والے ماہرین فلکیات میں عام تحقیقی موضوعات تھے، اور ممکنہ طور پر زبان کے ذریعے اٹلی منتقل ہوئے ہوں گے۔ کاپرینکس نے اپنے اٹلی قیام کے دوران ان تھیورمز سے واقفیت حاصل کی ہوگی، وہ 1496ء سے1503ء تک تقریباً مسلسل یہاں مقیم رہا تھا، 1503ء میں اُس نے Ferrara سے ’’چرچ قوانین‘‘ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ سن 1508ء سے 1512 ء کے درمیان کسی وقت اُس نے علم فلکیات پرنیا تصور قائم کیا، اور 1516ء میں Commentariolus (سورج مرکز نظام پر مختصر تبصرہ) شائع کیا، اور اس میں وہ دونوں تھیورمز استعمال کیے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی نوٹ کرچکے ہیں کہ Swerdlow، جو کاپرینکس کے اس ابتدائی کام کا ایڈیٹرہے، کہتا ہے کہ کاپرینکس خود بھی، کہ جب وہ یہ نمونے بیان کررہا تھا، انھیں پوری طرح سمجھ نہ پایا تھا۔
تقریباً تیس سال بعد، سن 1543ء میں کاپرینکس نے اپنا سب سے مشہور کام De Revolutionibus شائع کروایا، جس میں Tusi Couple اورUrdi Lemmaکا بھرپور استعمال سامنے آیا۔ بظاہر یہ لگا کہ وہ دونوں تھیورمز سمجھ بھی گیا تھا۔ لیکن دوسرے تھیورم کو اُس نے یہاں بھی بغیر حل کے چھوڑدیا ہے۔ کاپرینکس نے اس کام میں کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ دونوں تھیورمز اُس کے اپنے ہیں (3)۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کہیں سے یہ تھیورمز اُسے حاصل ہوئے تھے۔
یہ امکان بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید یہ مماثلت اور مطابقت ’اتفاقی حادثہ‘ ہو، مگر Swerdlow اور Neugebauerدونوں نے یہ امکان مسترد کردیا ہے، جبکہ دیگر کئی اس امکان سے چمٹے ہوئے ہیں۔ بہت سے جدید محققین یقین رکھتے ہیں کہ وہ، اُن مماثل تھیورمزکو لاطینی متون میں بھی ڈھونڈ لیں گے، جوکاپرینکس کو حاصل تھے، اور یوں امید رکھتے ہیں کہ اس طرح وہ ’’عربی علم فلکیات کی روایت سے آزاد‘‘ کاپرینکس کا کھوج لگا لیں گے۔ اس ’اتفاقی حادثہ‘ کے ضمن میں Tusi Couple پر سنجیدہ غوروفکر ہوسکتا ہے، مگر Urdi Lemmaکی کوئی معتبر تمثیل پیش نہیں کی جاسکی ہے۔
لہٰذا، اس طرح اب ہم جانتے ہیں کہ اسلامی سرزمینوں پر علم فلکیات کے ’’نظریات‘‘ اور ’’وہ سائنسی اکتشافات‘‘ جو کاپرینکس کے ذریعے نشاۃ ثانیہ کے یورپ تک پہنچے، میں واضح مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔
(جاری ہے)

حواشی

1) جارج صلیبا نے اسے ’’علمی سرقہ‘‘ کہنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم یورپی نشاۃ ثانیہ میں مسلمان حکماء کے نام اور علوم جس طرز پر Latinizedکیے گئے، وہ علمی تاریخ کے عظیم ترین ’’سرقہ‘‘ کی بھرپور تحریک معلوم ہوتی ہے۔ ابن شاطر کے ساتھ بالواسطہ طورپر جو واردات کاپرینکس نے کی، وہ استثنائی صورتِ حال نہیں ہے، یہ کئی صدیوں تک بڑے پیمانے پر اجتماعی طور پر ہوا ہے، جس پرجتنی تحقیق کی جائے گی، حقائق سامنے لائے گی۔ بلاشبہ اس ضمن میں جارج صلیبا کاکام سائنسی تاریخ پر احسان ہے۔
2) یہاں یہ حقیقت سامنے رہنی چاہیے کہ جس وقت کاپرینکس شمس مرکزی نظام پرکام کررہا تھا، وہ مسلم ماہرِ فلکیات نورالدین البتروجی کو نقل کررہا تھا۔ اس کے علاوہ ابو ریحان البیرونی نے اُن ہندوستانی تھیوریز میں گہری دلچسپی لی، جوسورج مرکز کائنات سے متعلق تھیں۔ وہ زمین کے ساکت ہونے کے بارے میں بطلیموس کے نظریے پر سوال اٹھا رہا تھا۔
3) تاہم، کاپرینکس نے اس بات کا اقرار بھی نہیں کیا ہے کہ یہ تھیورمز اُسے عربی متون سے ہاتھ آئے تھے۔ اُس نے انھیں اپنے نام اور کارنامے کے طور پر ہی پیش کیا ہے، جو سراسر علمی بددیانتی اور علمی سرقہ ہے۔
ترجمہ: ناصر فاروق

Share this: