عرب اور اسرائیل

Print Friendly, PDF & Email

المیۂ فلسطین ماضی، حال اور مستقل کے آئینے میں

(ساتواں حصہ)

تازہ جرائم

عربوں پر حالیہ حملے کے بعد اسرائیل کے بہیمانہ مظالم میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ 24 ستمبر 1967ء ہی کو تل ابیب سے شائع شدہ ایک سرکاری اعلان میں بتایا گیا تھا کہ مقبوضہ اردن کے شہر نابلس کے چار مکانات کو اس شبہ پر ڈائنامائٹ سے اڑا دیا گیا ہے کہ وہاں پر عرب دہشت پسند چھپے ہوئے تھے۔
اسرائیل کے وزیر جنگ موشے دایان نے 25 ستمبر کو تل ابیب میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ تمام ’’سرحدی‘‘ علاقوں میں دہشت پسندوں کا زور اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب ان علاقوں کو عربوں سے خالی کروانے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہا۔ اسرائیلی سرکار ہی کے حکم سے رام اللہ، قدیم یروشلم اور کئی دوسرے مقامات پر دہشت پھیلانے کا جو طریقہ اپنایا گیا اس نے تو یہودیوں پر ڈھائے گئے ہٹلرانہ مظالم کو بھی مات کردیا ہے، ان میں سے ایک ’’محبوب‘‘ طریقہ یہ ہے کہ مکانوں میں بجلی کا کرنٹ دوڑا دیا جاتا ہے تاکہ اسے چھونے کے خوف سے ڈر کر مکانوں کے باسی انہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں۔
اسرائیلی حکمران ایسی تمام حرکتوں کا سہارا اس لیے لے رہے ہیںکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے مقبوضہ علاقوں کے عرب عوام ان کی غلامی برداشت نہیں کریں گے۔ اسرائیلی غاصبوں کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ مقبوضہ علاقوں کے عربوں کی اکثریت اسرائیل کے اَن گنت مظالم کے باوجود اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگی نہیں۔ گویا جس طرح سے 1948ء میں صہیونی دہشت پسندوں نے فلسطین کے بڑے حصوں کو عربوں سے خالی کروا لیا تھا، ویسا وہ اب نہیں کروا سکتے۔ یہ مقامی عرب اسرائیل میں رہنے والے عربوں کے ساتھ مل کر اپنی تحریکِ آزادی کو تیز کررہے ہیں۔ اسرائیلی اس تحریکِ آزادی کو کچلنے کے لیے تین حربوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ اسرائیل سرکار نے اپنے مقبوضہ علاقوں سے بھاگنے والے عربوں کے واپس آنے پر پابندی لگادی ہے۔ یاد رہے کہ حملے کے فوراً بعد اسرائیل سرکار نے اوتھانٹ سے یہ باقاعدہ وعدہ کیا تھا کہ حالیہ حملے کے دوران جو لوگ بھی اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسری طرف گئے ہیں انہیں واپس آنے کی پوری آزادی حاصل ہوگی۔ مگر اسرائیلی حملہ آوروں نے سات ہزار سے زائد عربوں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی۔ ان میں بھی اکثریت بچوں، عورتوں اور بوڑھوں ہی کی تھی جنہیں اسرائیلی پروپیگنڈہ نمائشی مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل سرکار کے اپنے اندازے (27 جولائی 1967ء) کے مطابق تقریباً تین لاکھ مزید عرب حالیہ حملے کی بدولت بے گھر ہوئے ہیں۔

لامثال رعونت

اقوام متحدہ نے 1948ء میں فلسطین سے نکالے گئے عرب مہاجرین کو کام اور امداد مہیا کرنے کا جو ادارہ (UNRWA) بنایا تھا اس کے امریکی ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوس نے 1963ء میں اپنی رپورٹ میں یہ تخمینہ بھی لگایا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے بعد عرب املاک کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ ان سے ہر سال کم از کم ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کی آمدنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے اسی لیے سفارش کی تھی کہ ان جائدادوں کی نگرانی کے لیے ایک نگراں مقرر کردیا جائے۔ ڈاکٹر ڈیوس کا خیال تھا کہ اگر عرب مہاجرین کو اپنی جائدادوں کی آمدنی ملنا شروع ہوجائے تو پھر انہیں 35 لاکھ ڈالر کی اس امداد کی معمولی سی بھی ضرورت نہیں رہے گی جو اقوام متحدہ کے ادارے کا سالانہ بجٹ ہے اور جسے ہر سال منظور کرتے وقت امریکہ اور دوسرے ملک عرب مہاجرین کو سو طرح کے طعنے دیتے ہیں۔ 1963ء میں اگر ان املاک کی آمدنی کا اندازہ ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا تو موجودہ قیمتوں کے اعتبار سے وہ یقیناً دو کروڑ ڈالر ہوگا۔ اب تو خیر صہیونیوں کے مالِ غنیمت میں اس کروڑوں ڈالر کی جائداد کا بھی اضافہ ہوگیا ہے جو انہیں حالیہ حملے کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔
اس تمام صورتِ حال کو نہ تو عرب عوام خاموشی سے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی عرب حکومتیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکمرانوں نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ 4 جون 1967ء کی پوزیشن پر واپس جانے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اسرائیلی وزیراعظم لیوی ایشکول نے 17 ستمبر کو سوئز کے مشرقی ساحل کے کنارے کا دورہ کرتے ہوئے لامثال بے حیائی کے ساتھ غیر ملکی نامہ نگاروں کے سامنے بڑ ہانکی تھی کہ اسرائیل کی قدرتی سرحد مصر کے ساتھ نہر سوئز ہی ہوسکتی ہے اور اردن کے ساتھ دریائے اردن۔ یہی ایشکول صاحب 15 جون تک یہ کہہ رہے تھے کہ وہ ایک انچ عرب علاقے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ 5 جون سے پہلے ان ہی حضرت نے بار بار کہا تھا کہ اسرائیل کو کوئی علاقائی ہوس نہیں ہے، وہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت چاہتا ہے۔ اب یہی ’’سرحدیں‘‘ 4 جون سے پہلے کے اسرائیل کے مقابلے میں تین گنا اور اقوام متحدہ کے تقسیم کے منصوبے کے مطابق بنائے جانے والے اسرائیل کے مقابلے میں چار گنا بڑے علاقے کی ’’سرحدیں‘‘ بن گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر جنگ موشے دایان نے 23 ستمبر کو کئی غیر ملکی نامہ نگاروں کے سامنے بڑی رعونت سے کہا تھا کہ اسرائیل کی ’’سرحدیں‘‘ اب پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ’’آسان‘‘ اور ’’آرام دہ‘‘ ہوگئی ہیں، ہم سوئز سے چند گھنٹوں میں دمشق اور اردن کے مغربی کنارے سے آگے بڑھ کر اتنی ہی جلدی عمان پہنچ سکتے ہیں‘‘۔ ہٹلر نے اپنی جارحیت کے بدترین دور میں بھی اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ کبھی بات نہیں کی۔ لیکن ’’امن‘‘ و ’’انصاف‘‘ کے امریکی اور انگریز علَم برداروں اور ان کے پٹھوئوں کو اس جارحیت کی کھلے بندوں پیٹھ ٹھونکتے ہوئے معمولی سی بھی شرم نہیں آتی۔ صاف نظر آتا ہے کہ اس دھاندلی کے خلاف جب عرب کوئی عملی قدم اٹھانے کی سوچیں گے تو اسرائیل کی طرف سے اسے جارحانہ اقدام قرار دیا جائے گا، اور ہوسکتا ہے کہ پھر اسی بہانے عربوں پر نئی یورش کردی جائے اور کہا جائے کہ اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے اپنی حفاظت کے لیے کیا ہے۔ اسرائیلیوں کے عزائم کیا ہیں اس کا سب سے واضح ثبوت وہ کتبہ ہے جو اسرائیلی پارلیمنٹ کی بلڈنگ کے صدر دروازے کے اوپر لگا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے لے کر فرات تک ہیں۔
آج کے دور میں دنیا کے کسی ملک کو اتنی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے جارحانہ عزائم کی تشہیر کی ہمت نہیں ہوئی۔ اسرائیل کے یہی جارحانہ ارادے اور اقوام متحدہ کی اس معاملے میں بے بسی ہی شاید اس بات کی ذمہ دار ہوگی کہ کچھ دیر بعد مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کا جوالا مکھی بھڑک اٹھے اور اس کی لپیٹ میں سارا مغربی ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا امن آجائے۔

رحمت اور زحمت

مغربی ملک اسرائیل کی پشت پناہی کیوں کررہے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں، لیکن سب سے اہم وجوہات دو ہیں، ایک جغرافیائی اور دوسری اقتصادی۔ جغرافیائی اعتبار سے اسرائیل کا مقبوضہ علاقہ سارے وسط مشرق پر تسلط رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اقتصادی وجہ تیل کی دولت ہے جس نے عرب ملکوں کو اس قدر مالامال کررکھا ہے کہ جس کی مثال دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ملتی، عربوں کے اس پگھلے سونے پر ہمیشہ سامراجیوں کی للچائی نظریں لگی رہتی ہیں، اور دراصل آج متحدہ عرب جمہوریہ اور الجزائر کے سوا باقی عرب ملکوں سے نکلنے والے تیل پر سات مغربی اجارہ دار کمپنیوں کا مکمل قبضہ ہے جن میں پانچ امریکی اور دو برطانوی کمپنیاں ہیں۔
عرب ملکوں میں تیل کا پتا آج سے ٹھیک ساٹھ برس قبل لگا تھا۔ بھولے بھالے عربوں کو اُس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے وطن کے اندرکتنی قیمتی دولت محفوظ ہے، اور سامراجیوں نے اس طرح اس کا سودا کرلیا جس طرح کوئی جوہری کسی اناڑی کو ہیرے کو پتھر کے دام ادا کرکے ٹھگ لیتا ہے، اور جب عربوں کو اس کا احساس ہوا اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ چالیس سال قبل عرب ملکوں سے سالانہ صرف پچاس لاکھ ٹن تیل نکلتا تھا۔ اور آج تو عرب ملکوں کی مجموعی سالانہ پیداوار 48 کروڑ ٹن ہوچکی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں نکلنے والا تیل پوری سرمایہ دار دنیا کا 60 فی صدی ہوتا ہے۔ مغربی یورپ میں استعمال کیے جانے والے تیل کا تین چوتھائی حصہ اسی خطے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی پانچ کمپنیوں میں سے تین کا تعلق راک فیلر گروپ سے ہے جس کا جال ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ عرب ملکوں پر پہلے برطانیہ کا قبضہ تھا اور اب اس کی جگہ امریکہ لیتا جارہا ہے۔ تیل کی یہ دولت عربوں کے لیے بجائے مسرت و شادمانی کے بار بار مصائب و آلام لاتی ہے اور انہیں بین الاقوامی لٹیروں کے ظلم و ستم کا شکار بناتی ہے۔ ماضی کی پوری تاریخ ایسی ہی خونچکاں داستانوں سے بھری پڑی ہے اور حالیہ اسرائیلی جارحیت بھی اسی سلسلے کی ایک دردناک کڑی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عرب ملکوں کے تیل سے حاصل ہونے والے منافع کا نصف حصہ عربوں کو ملتا ہے، لیکن دراصل ایسا نہیں ہوتا، بلکہ بندر بانٹ کے مختلف طریقے اپناکر بیرونی اجارہ دار کمپنیاں ہر طرح کی بے ایمانی اور چوری کے ذریعے عربوں کا حصہ ہڑپ کرلیتی ہیں۔
ماہرین کے ایک تخمینے کے مطابق بیرونی اجارہ دار کمپنیاں منافع کا صرف ایک تہائی مقامی حکومتوں کو ادا کرتی ہیں اور دو تہائی خود لے جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں تیل نکالنے کے اخراجات امریکہ کے اخراجات کا صرف نصف فی صدی ہیں لیکن عالمی منڈی میں ان کی فروخت کی قیمت یکساں ہے۔ چنانچہ مشرق وسطیٰ میں تیل نکالنے پر جو سرمایہ کاری کی جاتی ہے، اس کا منافع ڈیڑھ سال کے اندر ہی حاصل ہونے لگتا ہے، جبکہ امریکہ میں سرمایہ کاری کے بعد کہیں دس سال پر منافع آنا شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ ایک ایسا ذریعہ آمدنی ہے جسے سامراجی ترک کرنے کو کسی حال میں آمادہ نہیں ہوسکتے، تاوقتیکہ انہیں گردن پکڑ کر عرب ملکوں سے نکال باہر نہ کیا جائے، عرب قوم پرستی کی تحریک کا اوّلین مقصد یہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سامراجی طاقتیں کسی قیمت پر مشرق وسطیٰ کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتیں، اور اس معاملے میں عرب قوم پرستی کی تحریک کو کچلنے کے لیے وسیع پیمانے پر سازشوں کا جال بچھا رہی ہیں، اور عرب قوم پرستی کے اس خطرے کو بھانپ کر ہی سامراجیوں نے اس خطے میں اسرائیل کو اپنا پٹھو منتخب کیا ہے۔ سامراجیوں کا خیال ہے کہ اسرائیلی توسیع پسندی کی بدولت عرب دنیا کے تیل پر بھی مغربی قبضہ قائم رہ سکتا ہے، عرب ملک اپنے پیروں پر بھی کھڑے نہیں رہ سکتے اور سامراجی فوجی مصلحتیں بھی پوری ہوتی رہیں گی۔
(جاری ہے)

Share this: