جماعت اسلامی کا فقیدالمثال حقوقِ کراچی مارچ

Print Friendly, PDF & Email

کراچی کو مزید لاوارث نہیں رہنے دیں گے
کراچی کے حقوق کی جنگ پورے پاکستان میں لڑیں گے

سینیٹر سراج الحق، حافظ نعیم الرحمن ودیگر کا خطاب

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کراچی کو کسی نے اپنا سمجھ کر اس کے لیے جدوجہد، کوشش اور اپنا تن من دھن لگایا ہے تو وہ صرف ایک ہی نام ہے: جماعت اسلامی۔ کراچی کا کوئی بھی مسئلہ اور غم ہو، جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکن نے ہمیشہ فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا۔ دیگر سیاسی جماعتوں نے صرف نعرے لگائے، دھوکے دیے اور کراچی کے نام پر ذاتی مفادات سمیٹے۔ لیکن جماعت اسلامی نے بغیر کسی ذاتی مقصد کے صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کراچی کے شہریوں کی رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر خدمت کی اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں، اور اس کی یہ خدمت اور جدوجہد جاری و ساری ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کا ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ کے تسلسل میں 27 ستمبر کو شاہراہ قائدین پر ’’کراچی حقوق مارچ ‘‘ کے عنوان سے ایک بڑا شو تھا جس میں شہر کے گلی کوچوں سے عوام امڈ آئے۔ اس میں خواتین بھی تھیں اور بزرگ بھی، پھر اس کے ساتھ نوجوان، طلبہ و طالبات، اساتذہ، علمائے کرام، ڈاکٹر، انجینئر، وکلاء، صحافی، تاجر اور مزدور و محنت کش، سول سوسائٹی، اقلیتی برادری کے نمائندوں، مختلف طبقات اور شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء کاروں، سوزوکیوں، بسوں اور موٹر سائیکلوں پر شاہراہ قائدین پہنچے۔ پُرجوش نوجوانوں نے قومی پرچم، جماعت اسلامی کے جھنڈے اور مختلف بینر اور پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے تھے۔ شاہراہ قائدین پر سڑک کے دونوں طرف بڑی تعداد میں بینر اور جھنڈے بھی لگائے گئے تھے۔ خواتین کے لیے شاہراہ قائدین پر ایک ٹریک مختص کیا گیا تھا۔ ایک استقبالیہ کیمپ اور سوشل میڈیا کیمپ لگایا گیا تھا جہاں خواتین ذمہ دار موجود تھیں، اور سوشل میڈیا کی ٹیم اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی تھی۔ بڑی تعداد میں نوجوان رضاکار بھی موجود تھے اور زرد رنگ کی شرٹ اور کیپ پہنے ہوئے تھے، اور اس پر ’’حق دو کراچی کوVolantiar‘‘ تحریر تھا۔ شاہراہ قائدین پر اللہ والی چورنگی سے خداداد کالونی تک بڑے پیمانے پر ساؤنڈ سسٹم کا انتظام کیا گیا۔ یہ تحریک جعلی مردم شماری، نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کی عدم فراہمی، بااختیار شہری حکومت کے نہ ہونے، کے الیکٹرک کے شہریوں سے ظالمانہ سلوک، بے تحاشا لوڈشیڈنگ، اووربلنگ، ٹرانسپورٹ، سیوریج سمیت شہریوں کو درپیش بے شمار مسائل کے حل، اور کراچی کے آئینی وقانونی اور جائز حق کے حصول کے لیے شروع کی گئی ہے۔
شاہراہِ قائدین پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ میں خصوصی شرکت کے لیے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کراچی تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ عظیم الشان ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ پر میں کراچی کے عوام اور جماعت اسلامی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، کراچی منی پاکستان ہے، جب کراچی پریشان ہوتا ہے تو پورا ملک پریشان ہوتا ہے،کراچی میں ملک کے ہر حصے اور ہر زبان بولنے والے لوگ رہتے ہیں، کراچی کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور اس کی تباہی پورے ملک کی تباہی ہے، ایوب خان سے لے کر آج تک کسی حکومت نے کراچی کو اس کا حق نہیں دیا، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت نے بھی ہمیشہ کراچی کے لوگوں کا استحصال کیا ہے، موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت بھی کراچی کے ساتھ ناانصافی کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں مردم شماری پر اعتراضات ہیں لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک اعلان کے باوجود مردم شماری کو درست کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سراج الحق نے شہر کراچی کے عوام کے مسائل اور درد کو پورے ملک کے عوام کا درد سمجھتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے ساتھ ہے اور 14 اکتوبر کو ملک بھر میں یومِ حقوق کراچی منارہے ہیں۔ شہر کے بزر گوں، جوانوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور پورے کراچی کے عوام کے لیے ملک بھر میں اظہارِ یکجہتی کریں گے۔ انہوں نے ساتھ ہی سندھ کے عوام سے متعلق بھی فرمایا کہ اس وقت کراچی ہی نہیں اندرون سندھ کے عوام بھی سخت پریشان ہیں، ہم جماعت اسلامی کراچی کے اعلامیے کی مکمل حمایت کرتے ہیں،کراچی کو بااختیار شہری حکومت دی جائے، مردم شماری درست کی جائے، عوام کو بجلی، پانی سمیت جو بے شمار مسائل درپیش ہیں ان سے نجات دلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کے 780دن اس کی ناکامیوں کی داستان ہے۔ معیشت تباہ اور عوام بدحال ہیں، ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت بچے، بچیوں اور خواتین کی عصمت دری کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرسکی، عوام کو آٹا 60 روپے فی کلو مل رہا ہے، دال، چاول، چینی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے، چینی 105روپے کلو فروخت ہورہی ہے، دوائیوں کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا، کراچی کی معصوم بچی، نوشہرہ، ڈی آئی خان میں بچے، بچیاں زیادتی کا شکار ہوئے ہیں اور مجرم کیفرِ کردار تک نہیں پہنچ سکے۔ حکومت نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے پرانی مشینری لائی ہے، اور ان سب نے مل کر جو حشر کردیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک بھر میں عوام کی نمائندہ اور ترجمان بنے گی،کراچی کے عوام کو بھی ہم ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے، کراچی کی حکمران جماعتوں نے اس شہر کو تباہ کیا ہے، یہ اسے سنوارنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، صرف جماعت اسلامی ہی مسائل حل کرسکتی ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن نے عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے کہاکہ آج کراچی کی جو تصویر نظر آرہی ہے وہ سب کے سامنے ہے، اب اس کو واضح کرنے اور بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، شہر کراچی پورے ملک کی معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، یہ ایک گلدستہ اور منی پاکستان ہے،67 فیصد سے زائد ریونیو جمع کراتا ہے، یہ شہر ملک کے ماتھے کا جھومر ہے، لیکن حکمرانوں نے اس شہر کو لاوارث اور تنہا کردیا ہے، حالیہ بارشوں نے حکمران طبقے کو مکمل ایکسپوز کردیا ہے، حکمرانوں نے اس شہر کو بجلی،گیس اور پانی سے محروم کردیا ہے، یہ شہر ملک کا دارالحکومت رہ چکا ہے لیکن آج بدحال ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس شہر کی نمائندگی کرنے والوں کی موجودگی میں شہر کی آبادی آدھی کردی گئی اور وہ خاموش رہے، آج کے اس عظیم الشان ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ میں ہم کہتے ہیں کہ اب کراچی کو مزید لاوارث نہیں رہنے دیا جائے گا، جماعت اسلامی کا اس شہر سے جسم وجان اور قلب و روح کا تعلق ہے، ہم اسے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ماضی میں عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان نے کراچی کی خدمت کی ہے، آئندہ بھی ہم ہی کراچی کے مسائل حل کریں گے۔ ماضی میں عبدالستار افغانی کی بلدیہ کو کراچی کا حق موٹر وہیکل ٹیکس مانگنے پر توڑ دیا گیا لیکن انہوں نے کراچی کے حقوق کی جنگ جاری رکھی، 2005ء میں کے ای ایس سی کو ایم کیو ایم نے جنرل پرویزمشرف کے ساتھ مل کر فروخت کیا اور پھر زرداری کے دور میں بھی ایم کیو ایم ان کے ساتھ شامل تھی جب اسے دوبارہ فروخت کیا گیا۔ کے الیکٹرک کا اصل مالک کون ہے اس کا تو پتا نہیں چل سکا، آج یہ عارف نقوی کے پاس ہے۔ عارف نقوی عمران خان کا دوست ہے اور عمران خان مسلسل کے الیکٹرک کی حمایت کررہے ہیں۔ کراچی کی مردم شماری جعلی ہے، ہم اس فراڈ مردم شماری کو تسلیم نہیں کرتے، مردم شماری دوبارہ کروائی جائے۔ CCI نے طے کیا تھا کہ 5 فیصد بلاکس دوبارہ کھولے جائیں گے مگر آج تک ایسا نہیں کیا گیا، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم، کوئی بھی آبادی کو کم گننے پر احتجاج نہیں کرتا۔ عمران خان بتائیں کراچی کے لیے 1100ارب روپے کا پیکیج ڈیڑھ کروڑ آبادی کے لیے ہے یا تین کروڑ لوگوں کے لیے؟ اگر کراچی کو کراچی کی اصل نمائندگی اور حق مل جائے تو بہت سے مسائل حل ہوں گے اور کراچی پر حق جتانے والے ناکام ہوجائیں گے۔ کراچی کو خیراتی پیکیج نہیں اس کا حق دیا جائے۔ کراچی میں ملک کے ہر حصے کے لوگ آباد ہیں، بااختیار شہری حکومت سے کسی ایک زبان بولنے والے کا نہیں بلکہ ہر شہری کا مسئلہ حل ہوگا۔ ہم نے ماضی میں بھی لسانیت اور عصبیت کے خلاف بات کی تھی، ہم آج بھی لسانیت کو دفن کرتے ہیں، ہم ہر زبان اور ہر علاقے کے لوگوں کے مسائل کے حل کی جدوجہد کررہے ہیں۔ کوٹہ سسٹم میرٹ کا قتلِ عام ہے، ہم سندھ کے دانشوروں سے بات کرنا چاہتے ہیں، کوٹہ سسٹم سے حق تلفی پر بات کرنا چاہتے ہیں، کراچی کے نوجوانوں کو روزگار ملنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مستقبل کے پروگرام کے حوالے سے فرائیڈے اسپیشل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم 15,16,17اکتوبر کو کراچی میں عوامی ریفرنڈم کروائیں گے، اور ہماری ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ میں جو مطالبات رکھے گئے ہیں اُن پر عوام کی رائے کو سامنے لایا جائے گا، عوام کے ساتھ مل کر کراچی کو حق دلائیں گے۔ ہم کراچی کے حق کے لیے سندھ اسمبلی اور وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کا آپشن رکھتے ہیں، کیونکہ سندھ کے اندر وڈیرے اور جاگیردار ہاریوں اور کسانوں کا استحصال کرتے ہیں اور اُن کی رائے پر ڈاکے ڈالتے ہیں، یہ نہ اُن کو حق دیتے ہیں اور نہ شہری علاقوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کا دن ان شاء اللہ کراچی کی تاریخ کو بدلنے کا دن ثابت ہوگا، ہم پورے شہر کو جوڑنے اور اکائی بنانے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔ آج کراچی کے عوام اپنے حق کے لیے گھروں سے نکل کر شاہراہ قائدین پر جمع ہیں۔ ہمارا ایجنڈا کسی خاص طبقے کے لیے نہیں بلکہ پورے تین کروڑ انسانوں کے لیے ہے، جب تین کروڑ انسان اپنی حیثیت سمجھ لیں گے تو پھر کوئی اُن کے حقو ق سلب نہیں کرسکتا۔ مارچ سے ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبد لرزاق خان، رکن سندھ اسمبلی و امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی سید عبدالرشید، بلدیہ عظمیٰ میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی، کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر زاہد سعید،KNگروپ کے چیئرمین معروف صنعت کار وکالم نگار خلیل احمد نینی تال والا، معروف صنعت کار ادریس گگی، فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ عابد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مارچ میں پاکستان بزنس فورم کراچی کے صدر شکیل ہاشمی، فیڈریل بی ایریا انڈسٹریل ایریا کے سابق صدر بابر خان، سندھ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالحسیب جمالی، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک، سابق صدر نعیم قریشی، پائلر کے سربراہ کرامت حسین، این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان، صاحبزادہ شاہ حسین الدین جمالی، ڈاکٹر سعد خالد نیاز، حاجی ناظم، پیما کراچی کے صدر ڈاکٹر محمد عظیم، انٹرنیشنل بشپ سلمان منظور، جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ اور دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو، صوبائی امیر محمد حسین محنتی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ حقوق کراچی مارچ ایک منظم شو اور ڈسپلن کی اعلیٰ مثال تھا۔ اس کے پنڈال اور اردگرد خوبصورت ماحول اور جوش تھا۔
مارچ میں شریک بہت سے بچوں اور نوجوانوں نے زرد رنگ کے غبارے اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’’حق دو کراچی کو‘‘ تحریر تھا۔ بڑی تعداد میں گیس کے غبارے تھے جن پر ایک بہت بڑا بینر باندھا گیا تھا اور اس کو ہوا میں چھوڑا گیا تھا۔ مارچ میں وقفے وقفے سے حقوق کراچی تحریک کے سلسلے میں تیار کیا گیا خصوصی ترانہ سنایا جاتا رہا جس کے چند بول یہ تھے:
’’حق دو کراچی کو، بدلو کراچی کو، بدنام و نااہل قیادت، ناکام منصوبے، یکجان ہوئے ساری دنیا کے عجوبے، شہر کراچی کو سب مل کر لے ڈوبے، بڑھ کر کراچی کو نااہلوں سے لے لو، خود کو جو بدلوگے، تقدیر بدلے گی، حالات کی بگڑی تصویر بدلے گی، سب متحد ہوکر بدلو کراچی کو، یہ شہر ہے اپنا، اس کو سنواریں گے، ہمت سے کام لیں گے ہمت نہ ہاریں گے، چاہت کے رنگوں سے، رنگ دو کراچی کو ‘‘۔
مارچ کے دوران ٹریفک کنٹرول کرنے اور سیکورٹی کا بھی انتظام کیا گیا تھا، جس کے لیے بڑی تعداد میں نوجوانوں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ مارچ کے دوران پینے کے پانی کے لیے پانی کی متعدد ٹینکیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ شاہراہ قائدین پر اسٹیج تیار کیا گیا جس پر قائدین نے خطاب کیا۔ اسٹیج پر ایک بڑا بورڈ لگایا گیا تھا، جس پر درج تھا ’’حقوق کراچی مارچ‘‘، ’’حق دو کراچی کو‘‘، ’’کوٹہ سسٹم ختم کرو‘‘، ’’کراچی کے نوجوانوں کو ملازمتیں دو‘‘، ’’جعلی مردم شماری نامنظور‘‘، ’’کراچی کو بااختیار شہری حکومت دو‘‘، ’’کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرو‘‘۔ سینیٹر سراج الحق اور حافظ نعیم الرحمٰن کی آمد اور ان کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دینے کے موقع پر شرکا ء نے پُرجوش نعرے لگائے اور استقبال کیا۔ سراج الحق نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہوکر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر شرکاء سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ مارچ میں شہر کے تقریباً ہر طبقے کی نمائندگی موجود تھی۔ اس کے ساتھ سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری، بحریہ ٹاؤن، کراچی کے پولیو ورکرز، فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم، نیا ناظم آباد ہائوسنگ اسکیم کے متاثرین (جن کے ساتھ جماعت اسلامی ان کا حق دلانے کے لیے کھڑی ہے) نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ مارچ میں قوتِ گویائی وسماعت سے محروم افراد کے نمائندہ وفد نے بھی شرکت کی اور اسٹیج سے ان کے ایک نمائندے نے اشاروں کی زبان سے قائدین کی تقاریر کا ترجمہ بھی کیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے فرائیڈے اسپیشل سے گفتگو میں کہا کہ ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ میں بھرپور شرکت پر ہم عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور کراچی کے عوام کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ کے بعد رکے گی نہیں، ہم یہ تحریک جاری رکھیں گے اور اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کراچی کے مسائل حل نہیں ہوجاتے، لوگوں کو اُن کے بنیادی حقوق نہیں مل جاتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کراچی امتِ مسلمہ کا ایک اہم اور مرکزی شہر ہے، اور ہم اس شہر کو اس کا مقام دلانے کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔
جماعت اسلامی کراچی اور حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت نے ایک بار پھر پورے پاکستان کو کراچی کی طرف دیکھنے پر مجبور کردیا ہے، اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مختلف حصوں اور عنوانات میں تقسیم ایم کیو ایم اور اس کی باقیات اب ’ڈھول‘‘ بجاکر ’’کراچی کراچی‘‘ کا شور کررہی ہیں، لیکن ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے اب اہم یہ ہے کہ کسی عارضی بندوبست اور غیر حقیقی نمائندوں کو کراچی پر مسلط کرنے کے بجائے کراچی کی قیادت اس کے عوام کی خواہش کے مطابق کرنے دی جائے تاکہ کراچی میں ایک پُرامن خوبصورت زندگی کا سفر شروع ہوسکے، اسی میں پورے پاکستان کی بقا کا راز مضمر ہے اگر کوئی سمجھے۔

قصیدۂ برق

برق نے ہاتھ مرا سنگ دلی سے جھٹکا
دیکھ کر حشر، قریں کوئی نہ اس کے پھٹکا
روٹھ جاتی ہے تو ہے اس کو منانا مشکل
خود ہی آتی ہے، لگا رہتا ہے پھر بھی کھٹکا
برق جائے چلے اے سی نہ ہوا دے پنکھا
حبس میں کوئی ہوا کا نہیں جھونکا بھٹکا
برق جائے تو ہوئے جاتے ہیں آلات عبث
اب رئیسوں کو بھی یاد آنے لگا ہے مٹکا
راہ تاریک ہو بجلی کو نہیں دلچسپی
قمقمہ پول پہ بے نور ہے رہتا لٹکا
برق جا کر نہیں آئے گی یہ رہتا ہے گماں
جانتے ہیں سبھی حال اس کی پرانی ہَٹ کا
ہاتھ سے پنکھا جھلیں، شمع جلائیں مومی
سامنا رہتا ہے دن رات اسی جھنجٹ کا

کلیم چغتائی

Share this: