چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تقریب کا انعقاد

Print Friendly, PDF & Email

ایف ڈی اے کی جانب سے بقایاجات کی وصولی کے لئے کارروائی

فیصل آباد ملک کا ایک بڑا صنعتی شہر ہے مگر ایک عرصے سے مسائل کا شکار ہے۔ تجاوزات، مہنگائی، لاقانونیت اور سرکاری اداروں میں کام نہ کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے، تبدیلی نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی۔ تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے ری فنڈز ایک مسئلہ ہے، یہ بہت عرصے سے حل طلب معاملہ ہے، اس بارے میں کوئی مستقل لائحہ عمل ہونا چاہیے، مگر کوئی بھی حکومت اس بارے میں قابلِ قبول پالیسی نہیں بنا سکی۔ بہرحال ایک طویل عرصے کے بعد پیش رفت ہوئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 200 ارب کی رقوم ری فنڈ کی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف کورونا کے باعث ورکروں کی بے روزگاری کا خطرہ ٹل گیا، بلکہ صنعت کاروں کے مالی مسائل حل ہونے سے انہیں اب بڑی تعداد میں آرڈر بھی مل رہے ہیں اور کئی صنعتیں دوبارہ دو یا تین شفٹوں میں کام بھی کررہی ہیں۔
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک تقریب ہوئی جس سے ممبر اشفاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت پیسے جمع کرانے کے باوجود ڈکلیئریشن فائل نہ کرسکنے والے 336 لوگوں کو یہ سہولت ضرور ملنی چاہیے، اور وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو ہر حال میں یقینی بنائیں گے، یہ پالیسی ایشو ہے لیکن اس کے باوجود وہ پہلے بھی اس پر بات کر چکے ہیں اور آئندہ جیسے ہی قانون سازی کا موقع ملا اس میں اس مسئلے کو حل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ یکم جولائی سے زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کردی گئی ہے، اِس لیے اب اس سلسلے میں سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ چونکہ توانائی کی قیمت کا تعین حکومت کرتی ہے لیکن ٹیکسوں کی وصولی کی ذمہ داری وزارتِ کامرس اور پاور ڈویژن نے ایف بی آر پر ڈال دی ہے۔ انہوں نے ایف بی آر کے ری فنڈ نظام کو دنیا کا بہترین اور شفاف نظام قرار دیا جس میں ری فنڈ کی رقم کو ہر سطح پر دیکھا اور چیک کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ نان فاسٹر ری فنڈ کلیم داخل کرنے والوں کو 1.6ارب، جبکہ اس ماہ آج کی تاریخ میں 1.5 ارب کے ری فنڈ کلیم ادا کیے جا چکے ہیں، ایف بی آر بہت جلد پوسٹ ری فنڈ آڈٹ شروع کررہا ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کی بھی مدد حاصل کی جائے گی، اور اس مہم کو پوری قوت سے چلایا جائے گا۔ انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر کی اہمیت کو تسلیم کیا کہ پولٹری، فلور، پیپر مل اور شوگر ڈیلروں کی طرح وہ بھی اپنی تجاویز دیں تاکہ ان کو بھی حل کیا جا سکے۔ لارج ٹیکس پیئر یونٹ کو ملتان منتقل کرنے کے حوالے سے بتایا کہ وہاں 400بڑے یونٹ ہیں جبکہ فیصل آباد میں اُن کی تعداد صرف 12ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ہے،اس لیے فی الحال کارپوریٹ ٹیکس میں زیادہ کمی ممکن نہیں، تاہم بہت جلد اس کو 25۔ 26فیصد تک لانے کی کوشش کی جائے گی۔
تقریب میں انجینئر حافظ احتشام جاوید نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا تعارف کرایا اور بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کا شمار ملک کے تین اہم چیمبرز میں ہوتا ہے، جبکہ یہ قومی برآمدات میں چالیس فیصد کا گرانقدر حصہ بھی ڈال رہا ہے، فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی کورونا سے پہلے ہی پریشان تھی، ری فنڈ کے سسٹم میں کافی بہتری آئی ہے مگر لوکل پروسیسنگ انڈسٹری کو ابھی تک ری فنڈ نہیں مل رہے۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اسٹاف کے رویّے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اُن کے رویّے کی وجہ سے نئے لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے سے گھبراتے ہیں۔ صدرانجینئرحافظ احتشام جاوید کے کہنے پرممبرآپریشن ڈاکٹرمحمداشفاق نے چیف کمشنرکولوکل مارکیٹ کے سیلزٹیکس ری فنڈکے فوری اجراء کے احکامات بھی جاری کیے۔ سوا ل وجواب کی طویل نشست میں سینئر نائب صدر چودھری طلعت محمود، نائب صدر رانا ایوب اسلم منج، شبیر حسین چاولہ، شاہد جاوید، اسلم بھلی، میاں آفتاب احمد، حاجی طالب حسین رانا، عبداللہ قادری، شہزاد احمد، مرزا اسلم، کاشف ضیاء، ایوب صابر اور ڈاکٹر سجاد ارشد کے علاوہ سرگودھا چیمبر سے آئے ہوئے وفد نے بھی حصہ لیا۔ میاں آفتاب احمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ سابق صدر ایوب صابر نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد اشفاق ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشن کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی خصوصی شیلڈ بھی پیش کی۔ اس موقع پر چیف کمشنر سید محمود حسین جعفری، کمشنر سجاد تسلیم اعظم، نعیم بابر، ریحان صفدر، آصف رشید، بابر نواز خاں اور عثمان صادق بھی موجود تھے۔
فیصل آباد میں دوسرا اہم مسئلہ ایف ڈی اے ہے۔ ایف ڈی اے انتظامیہ کی طرف سے ایف ڈی اے سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے نادہندہ الاٹیز کے ذمے ترقیاتی اخراجات کے 2 ارب روپے سے زائد کے بقایاجات کی وصولی کے لیے کارروائی میں تیزی لائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں نادہندگان کو حتمی نوٹس جاری کیے جارہے ہیں جن کی عدم تعمیل کی صورت میں ان کے پلاٹ منسوخ کردیئے جائیں گے۔ ایک اجلاس ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد سہیل خواجہ کی زیر صدارت ہوا جس میں ایف ڈی اے سٹی کے الاٹیز کے ذمے بقایاجات کی وصولی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عامر عزیز، ڈائریکٹرز اسٹیٹ مینجمنٹ سہیل مقصود پنوں،آصف نیازی، جنید حسن، اسماء محسن، حسن ظہیر، ڈپٹی ڈائریکٹر رانا لیاقت علی ودیگر افسران نے شرکت کی اور کہاکہ دیرینہ نادہندگان سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی، ڈویلپمنٹ چارجز ادا نہ کرنے والے بھی پلاٹ سے محروم ہوجائیں گے، الاٹیز کے ذمے مجموعی طور پر پانچ ارب روپے کے بقایاجات کی وصولی کی صورت میں ایف ڈی اے سٹی کے تمام بلاکس میں بجلی کی فراہمی سمیت دیگر ترقیاتی کام مکمل ہوسکتے ہیں، لہٰذا ایف ڈی اے کے متعلقہ افسران دیرینہ باقی داروں سے بقایاجات کی وصولی کے لیے سنجیدہ اور سخت اقدامات کریں، جبکہ بقایاجات کی ادائیگی الاٹیزکے مفاد میں ہے کہ وہ الاٹمنٹ کا حق محفوظ رکھنے کے لیے اقساط اور ڈویلپمنٹ چارجز سمیت دیگرنوعیت کے واجبات فوری ادا کردیں، اس ضمن میں فائنل نوٹس کے بعد کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ ایف ڈی اے سٹی ہاؤسنگ سیکٹر میں یہ بڑا منصوبہ بڑی اہمیت کاحامل ہے جس میں جدید طرز کی تمام تر بنیادی سہولیات موجود ہیں، جبکہ مستقبل میں سائنس سٹی، ٹینکو پارک، اور سماجی و معاشی ترقی کے بڑے منصوبوں کے قیام کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، علاوہ ازیں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت باکفایت اور معیاری گھروں کی تعمیر کے لیے بھی منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایک تقریب زرعی یونیورسٹی میں ہوئی، جس سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف تنویر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی پیداواریت میں کھادیں 40 فی صد حصہ ڈالتی ہیں، لہٰذا کسانوں کو کھادوں کے بروقت اور متناسب استعمال پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، دنیا میں زرعی اجناس کی بھرپور پیداوار کے حصول کے لیے ہائبرڈ کھادیں متعارف کرائی گئی ہیں جن کے استعمال سے پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کا تدارک بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے، زرعی یونیورسٹی زراعت کے شعبے سے وابستہ مختلف تحقیقی و توسیعی اداروں کے علاوہ نجی شعبے کے ماہرین کو مربوط طریق کار کے تحت کسانوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے ڈائریکٹر اور یونیورسٹی کے چیف آف ہال وارڈن، پروفیسر ڈاکٹر محمد یٰسین نے کہا کہ دنیا میں تمام چیزوں اور فریقین کے لیے عالمی دن منائے جاتے ہیں، جبکہ دنیا کو بھوک، افلاس اور قحط سے بچانے والے کسانوں کا کوئی دن متعین نہیں تھا، فاطمہ گروپ اور دیگر پاکستانی اداروں نے مل کر 18 دسمبر کو بین الاقوامی دن برائے کسان تسلیم کروا لیا ہے۔ گندم کی 42 فی صد پیداوار جڑی بوٹیوں کی وجہ سے کم رہتی ہے، ہمیں جدید خطوط پر اس مسئلے کے حل کے لیے توجہ دینا ہوگی۔ فاطمہ گروپ کے ریجنل سیلز منیجر محمد ارشد اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گروپ عام روایتی کھادوں کے بجائے خاص کیمسٹری کی حامل کھادیں تیار کررہا ہے جس سے 10 فی صد زائد پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔
جماعت اسلامی فیصل آباد کے امیر انجینئر عظیم رندھاوا نے سبزیوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی شے نہیں ہے اور منافع خوروں کو غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لیے کھلا چھوڑ دیاگیا ہے۔ مہنگائی خوفناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔ سبزیاں، پھل اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اب عوام کے لیے دووقت کی روٹی اپنے بچوں کوکھلانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پنجاب پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Share this: