حزب مخالف کا اتحاد اور حکومت دونوں امتحان میں

Print Friendly, PDF & Email

معروف سینئر کالم نگار سہیل سانگی نے بروز جمعہ 9 اکتوبر 2020ء کو کثیرالاشاعت سندھی روزنامہ ’’پنہنجی اخبار‘‘ کراچی کے ادارتی صفحے پر حالاتِ حاضرہ کی مناسبت سے جو مضمون تحریر کیا ہے، اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

ترجمہ:اسامہ تنولی
’’پیپلزپارٹی جب جولائی میں سندھ کے دو جزائر وفاق کے حوالے کررہی تھی، تب اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ آئندہ دو ماہ میں ملک میں اپوزیشن ایک سخت مطالبے کے ساتھ بھرپور انداز میں سامنے آئے گی، اور نہ ہی وہ اس بات کا حساب کرسکی کہ سندھ اس پر سخت ردعمل دے گا۔ بہرحال غلطی ہوگئی۔ پارٹی اس کا سیاسی طور پر کسی حد تک ازالہ تو کرسکتی ہے، لیکن سندھ کو جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے آنے والے وقت میں شکایت اور ناراضی کا طوق پیپلزپارٹی کی گردن میں پڑا رہے گا۔ جولائی کے قریب جب عدلیہ اور وفاقی حکومت دونوں ہی پیپلزپارٹی اور حکومتِ سندھ کے خلاف جارحانہ انداز اپنائے ہوئے تھیں، پیپلزپارٹی کو اپنی سیاسی تنہائی کا احساس ہوا۔ اس نے اپوزیشن جماعتوں سے ہاتھ ملانے، اس ملاپ کو مضبوط کرنے اور سندھ کی پیپلزپارٹی نے سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ روابط کیے۔ روابط کو ظاہر ہے کہ مضبوط ہونے اور آگے بڑھانے میں وقت لگتا ہے، لہٰذا یہ وقت یہاں پر بھی لگا۔ ساری صورتِ حال چل کر ستمبر کے آخری ہفتے میں بہتر اور سازگار ہوپائی۔ یہ درست ہے کہ سندھ میں جزائر کا معاملہ اس وقت ’’ہاٹ اشو‘‘ بنا ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر حکومتِ سندھ کو ’’ایکسپوز‘‘ کرنا چاہتی ہے۔ وفاقی حکومت کو فائدہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور سندھ کے حلقے ایک دوسرے سے دوری پر ہیں، خصوصاً ایسے موقع پر جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ملک میں تحریک چلانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر پنجاب میں نواز لیگ کے زور اور بل بوتے پر آگے بڑھے گی، لیکن پیپلز پارٹی کو بھی بہرحال اس میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا۔
پی ڈی ایم کے تحت آئندہ ہفتے گوجرانوالہ کے جلسۂ عام سے مہم اور حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہوگا۔ پی ڈی ایم کی تشکیل کل جماعتی کانفرنس میں ہوئی، جس کے میزبان بلاول بھٹو زرداری تھے، لیکن وہاں پر مؤقف اور مطالبہ میاں نوازشریف کا چھا گیا۔ اس طرح سے اپوزیشن کے اس اتحاد کی حکمت عملی اور باگ ڈور نوازشریف (ان کی عدم موجودگی میں مریم نواز) اور مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ میں چلی گئی۔ شہبازشریف کی گرفتاری کے بعد مریم نواز کو اپنی جماعت نواز لیگ کو چلانا اور اسے حسبِ خواہش آپریٹ کرنا اب مزید سہل تر ہوگیا ہے۔ تحریک کے لیے مجوزہ منعقد ہونے والے جلسے، کراچی کو چھوڑ کر باقی تمام مقامات پر مسلم لیگ نواز اور جے یو آئی کے زیر اثر علاقوں میں ہوں گے۔ کراچی ویسے بھی گرم شہر ہے، لیکن یہاں پر پیپلز پارٹی کے آسرے پر جلسہ نہیں رکھا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کے اندر آگے بڑھ کر تحریک چلانے کی خواستگار اور آرزومند ہے۔ اسے ایم آر ڈی کی تحریک کا تجربہ حاصل ہے۔ مزید یہ کہ گزشتہ ایک دو برس سے سیاسی کارکنان کی گم شدگی اور لاپتا ہونے جیسے معاملات بھی ہیں۔ ویسے بھی سیاسی بالادستی اسی صورت میں قائم ہوسکتی ہے جب پنجاب اٹھ کھڑا ہوگا اور اپنا فیصلہ سنائے گا۔ لیکن اس کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ سندھ یا پیپلزپارٹی کو کچھ بھی نہیں کرنا ہے۔ اتحاد کو برقرار رکھنے اور مؤثر بنانے کے لیے پیپلزپارٹی کا کردار بے حد اہم ہے، کیوں کہ اس کی موجودگی میں سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور کے پی کے کی چھوٹی جماعتوں اور گروپوں کی حمایت آسانی کے ساتھ حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ چھوٹی جماعتیں اور گروہ رائے عامہ کی تشکیل کرنے کے ساتھ تحریک چلنے کے بعد حوصلہ اور ماحول بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، بالکل اسی طرح سے جس طرح ایم آر ڈی تحریک میں عوامی تحریک، کمیونسٹ پارٹی، ڈاکٹر ارباب کھاوڑ کی سندھ وطن دوست پارٹی اور خود معراج محمد خان کی قومی محاذ آزادی نے اپنا اپنا کردار نبھایا تھا۔ اتحاد میں پیپلزپارٹی کی موجودگی سے اپوزیشن ایک ہی بیانیے پر اور متحد نظر آتی ہے۔ عام رائے میں فیصلہ کرنے میں سہولت ہوتی ہے کہ ایک طرف حکومت ہے اور دوسری جانب تمام سیاسی حلقے اور جماعتیں۔ یہ درست ہے کہ اپوزیشن جو اسلام آباد ہوٹل میں کل جماعتی کانفرنس میں اکٹھی ہوئی تھی وہ، اور موجودہ یعنی آج کی اپوزیشن مختلف ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ لگ بھگ ایک برس سے نوازشریف اور مریم نواز منظر پر نہیں ہیں۔ ان کے ہاں سردمہری اور خاموشی دکھائی دیتی تھی۔ میدان میں صرف بلاول بھٹو زرداری تھے جو تحریک انصاف کی حکومت کو اسمبلی کے اندر اور باہر سخت ہدفِ تنقید بناتے رہے۔ کل جماعتی کانفرنس بھی ایک لحاظ سے بلاول کا ’’کارنامہ‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے جو پیپلزپارٹی کو سیاسی تنہائی سے نکالنے کے لیے ایک ضروری قدم تھا۔ پھر ہوا یوں کہ نوازشریف نے بہت سخت مطالبہ رکھا۔ یہ مطالبہ نہ صرف آل پارٹیز کانفرنس پر چھا گیا بلکہ اسے سیاسی حلقوں اور رائے عامہ کے دیگر گروپوں اور تنظیموں کے ہاں بھی قبولیت اور پذیرائی میسر آئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے لیے یہ کھیل کچھ تیز تھا۔ اب صورت ِحال یہ ہے کہ اس کی باگ (لگام) مریم نواز کے پاس ہے۔آگے آگے مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف آگے آگے بلکہ جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں نواز لیگ اور مریم نواز کے لیے بہ طور ڈھال بھی کھڑے ہوسکتے ہیں۔ جمہوری اور سیاسی جدوجہد کی کامیابی کے لیے اس نئے اتحاد کو نہ صرف برقرار رکھنا بلکہ اسے مضبوط اور سرگرم بنانا اہم ایجنڈا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں اور اسٹیبلشمنٹ کی یہ کوشش ہوگی کہ کسی طرح اس اتحاد کو کمزور کیا جائے، اس میں دراڑیں ڈالی جائیں، یا پھر کون سے نکات ایسے ہیں جن پر تین بڑی اتحادی پارٹیوں کے درمیان اختلافات رونما ہوسکتے ہیں؟ سب سے زیادہ مشکل پی پی پی کو درپیش ہے اور وہ خود بھی اتحاد کے لیے مشکل پیدا کرسکتی ہے۔ حکمت عملی اور تحریک کا مرکز پنجاب ہے جہاں پر پیپلزپارٹی کی مؤثر موجودگی نہیں ہے۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ جن اونچے سُروں میں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمٰن راگ الاپ رہے ہیں، پیپلزپارٹی اتنے اونچے سُر میں تحریک کو سرگرم کرنا، یا سخت مطالبے پر کھڑا ہونا اپنے لیے مشکل کا باعث محسوس کرتی ہے یا کرسکتی ہے۔ حکومت کا خیال تھا کہ نواز لیگ کی قیادت کے خلاف غداری کا کیس داخل کرنے سے قیادت خوف زدہ ہوجائے گی اور نوازشریف سمیت دیگر رہنمائوں کے خلاف رائے عامہ خراب ہوجائے گی، لیکن ہوا یہ کہ اس کا اثر الٹا مرتب ہوا۔ نواز لیگ کو اس سے سہولت اور ہمدردی میسر آگئی۔ اس پر مستزاد ایف آئی اے کے سابق چیف بشیر میمن کا انٹرویو منظرعام پر آگیا جس نے رہی سہی کسر بھی پوری کرڈالی۔ اِس وقت تک حکومت نوازشریف کے بیانیے کا توڑ نہیں کرسکی ہے۔ حکومت اس سوچ بچار میں ہے کہ وہ اتحادیوں کی کمزوریوں اور اختلافات کے لیے کچھ کرے، اور یہ اختلافات تحریک چلنے کے بعد مزید واضح اور نمایاں بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ تحریک تیز ہونے کے نتیجے میں یہ اختلافات گم ہوجاتے ہیں، فراموش ہوجاتے ہیں یا پھر ختم ہوجاتے ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ پیپلزپارٹی اس تحریک اور سویلین بالادستی کے سخت مطالبے کے بارے میں ایک حد تک ہی آگے جائے گی، لیکن اس تک جانا پی پی کے لیے مشکل ہے جس حد تک نواز لیگ اور جے یو آئی جانا چاہتے ہیں۔ پی ڈی ایم کا شیڈول بہت ٹائٹ ہے۔ وہ 16اکتوبر سے مہم شروع کرنے جارہی ہے اور آٹھ ہفتوں کے اندر معاملہ نمٹانا چاہتی ہے۔ اگر دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کچھ نہ ہوا تو پی ڈی ایم دمادم مست قلندر یعنی لانگ مارچ کرے گا۔ اگر پی ڈی ایم کے مطالبات کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا تو پھر لانگ مارچ ناگزیر ہے۔ ایسے لانگ مارچ کی مریم نواز اور مولانا فضل الرحمٰن صلاحیت رکھتے ہیں۔ مولانا تو گزشتہ مرتبہ اپنی اِس صلاحیت کا مظاہرہ کر بھی چکے ہیں۔ مریم نواز کے لیے یہ اس لیے ضروری ہوگا کہ اُن کی ساکھ دائو پر لگی ہوئی ہوگی کہ گزشتہ مرتبہ بھی قدرے سرگرمی دکھانے کے بعد وہ ہائپرٹینشن میں چلی گئی تھیں۔ حکومت کیا کرسکتی ہے؟ بات چیت یا پھر طاقت کا استعمال۔ وزیراعظم سیاسی آدمی نہیں ہیں اور نہ ہی موصوف سیاسی مزاج کے حامل ہیں کہ وہ اتنی عجلت میں بات چیت کریں۔ اس پر مزید یہ کہ انہیں پشت پناہی اور آشیرباد بھی حاصل ہے۔ بغیر کسی پشت پناہی کے تو پی ڈی ایم بھی متحرک اور سرگرم عمل نہیں ہوا ہوگا (یا ہوگا)۔ لہٰذا یہ امر تو بہرحال طے شدہ ہے کہ بات چیت تو ہوگی۔ کس مقام پر ہوگی؟ کس مرحلے پر اور کب ہوگی؟ تحریک چلنے کے بعد بات چیت کی طرف جانا اپوزیشن کے لیے مشکل ہوگا۔ دوسری جانب طاقت کے استعمال اور ریڈزون میں داخل ہونے کے بعد بات چیت کرنے کی صورت میں حکومت بھی کمزور ’’پیج‘‘ پر ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں دراڑیں ڈالی جاتی ہیں یا پھر تحریک چلنے کے بعد کون سے مرحلے میں بات چیت ہوگی؟‘‘

Share this: