مہنگائی کا طوفان… علاج کیسے؟ ۔

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پیرکو نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کمی کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وزارتوں کے مؤثر اقدامات سے مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا۔ قومی سطح پر اشیائے ضرورت بالخصوص غذائی اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے اجلاس میں روزمرہ استعمال کی اشیاء آٹا، چینی، سبزیوں اور گوشت کی قیمتوں میں اضافے کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی مشیر خزانہ کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ قومی مسائل میں سرفہرست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی وزراء بھی ملک میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس مجبوری کا ایک اظہار وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مہنگائی کے خلاف بھرپور ایکشن کا وعدہ ہے۔ وزیراعظم کے اعلان کے بعد ہی مشیر خزانہ کی صدارت میں ایک اجلاس میں قیمتوں میں اضافے کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت غذائی اشیاء سستی کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم مہنگائی کے عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے تعین کررہے ہیں کہ آیا رسد میں کمی ہے یا عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کا سبب بن رہی ہیں۔
مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات وزیراعظم کا پہلا اعلان نہیں ہے۔ وہ اپنی حکومت کے دو برسوں میں کئی بار نوٹس لینے کا اعلان کرچکے ہیں، مگر عملی نتیجہ یہ ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ملک میں جاری مہنگائی کا طوفان کسی کے قابو میں نہیں آرہا۔ اب تازہ اعلان یہ کیا گیا ہے کہ دس لاکھ نوجوانوں پر مشتمل ٹائیگر فورس کے ذریعے بازاروں میں آٹا، دالوں، چینی، گھی کی قیمتوں کی نگرانی کی جائے گی۔ یہ ایک بچکانہ اور نمائشی اقدام ہے جس سے انتشار کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتظامی ریاستی مشینری اس قابل ہے ہی نہیں کہ وہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے بنیادی فریضے کو انجام دے سکے۔
عمران خان کی حکومت ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے کے ذریعے وجود میں آئی ہے۔ عمران خان نے عوام کو پیغام دیا تھا کہ وہ آزمائی ہوئی جماعتوں کو دوبارہ نہ آزمائیں۔ اس لیے ’’تبدیلی‘‘ موجودہ حکومت کی پہچان ہے۔ تبدیلی کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ عوام کے حالات بہتر ہوں۔ حکومت کے اس مؤقف سے سب کو اتفاق تھا کہ راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سابقہ فوجی و سیاسی حکومتوں نے پاکستان کی سیاست و معیشت کو انسانیت کُش سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج یہی تھا کہ وہ قرضوں کے لیے آئی ایم ایف کے در پر جاتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے گریز کریں گے، لیکن وہ اپنے پہلے ہی امتحان میں ناکام رہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ دوست ممالک کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے قرض لینے پر تیار ہوگئے، بلکہ اسی کے ساتھ آئی ایم ایف کے حکم پر آئی ایم ایف کے پاکستانی نژاد آلہ کاروں کو وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک حوالے کرنے پر مجبور ہوگئے۔ عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کوئی نئے آدمی نہیں ہیں۔ انہیں جنرل پرویزمشرف اور آصف زرداری کی حکومتوں کے دوران بھی درآمد کیاگیا تھا۔ یہ سلسلہ دو عشروں سے جاری ہے جس کے تحت پاکستان کو ٹیکسوں کی تعداد اور شرح میں اضافے، بنیادی ضروریات بجلی، گیس کے نرخوں میں اضافے اور روپے کی قیمت میں کمی کے احکامات دیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ سودی معیشت کی گرفت معیشت کے دائروں میں پھیلتی جارہی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ذخیرہ اندوزی کی مجرمانہ روش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چینی اور آٹے کا اسکینڈل اس بات کی علامت ہے کہ حکومت مقامی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔ اب حکومت دو سال سے زائد مدت گزار چکی ہے۔ اس نے ثابت کردیا ہے کہ اس کے پاس نہ طویل المدت حکمت ِعملی ہے، نہ قلیل المدت اقدامات کے ذریعے قیمتوں پر قابو پا سکتی ہے۔ ہر سطح پر صرف نعرہ بازی کی سیاست ہے۔ سابقہ حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت… کسی کے پاس بھی سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خاتمے کی کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ہمارے قائدین اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ ’’امریکی وار آن ٹیرر‘‘ سرمایہ دارانہ نظام کو طاقت کے ذریعے عالمِ اسلام، ایشیا اور افریقہ پر مسلط رکھنے کا منصوبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود پاکستان کے عوام بھوک، فاقہ کشی، بے روزگاری اورمہنگائی جیسے عذاب کا شکار بھی ہیں۔ اس کا مقابلہ ایک علمی اور عوامی تحریک کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔

Share this: