عظیم باپ کا عظیم فرزند

Print Friendly, PDF & Email

ڈاکٹر محمد عادل خان کی الم ناک شہادت

استاذ الاساتذہ، رئیس المحدثین، صدر وفاق المدارس العربیہ و صدر اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ، بانی و مہتمم جامعہ فاروقیہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان کو اللہ تعالیٰ نے علم و فضل، روحانیت و عرفان، دینی غیرت و حمیت سے لے کر تدریس و انتظام تک نہایت عالی مقام اوصاف سے نوازا تھا۔ حدیث شریف کی تدریس کے طویل دورانیے اور تلامذہ کی غیر معمولی کثرت میں آپ اپنے عہد میں سب سے نمایاں مقام کے حامل تھے۔ اس امر میں ہرگز مبالغہ نہیں کہ عرب ممالک، ایران، امریکہ، افریقہ و یورپ بالعموم اور برعظیم پاک و ہند اور بنگلہ دیش کے دینی مدارس میں مصروفِ خدمت علما کی اکثریت بالخصوص آپ کے بلا واسطہ یا بالواسطہ تلامذہ کی ہے۔ آپ کی پوری زندگی نہایت استقامت، پاکیزگی اور کردار کی بلندی کے ساتھ دین کی مختلف النوع خدمات سے عبارت ہے۔ آپ نہایت اونچی نسبتوں کے حامل بزرگ تھے۔ تازندگی آپ نے ان نسبتوں کو نبھایا، بلکہ اس کے تحفظ اور بقا کے لیے بڑی سے بڑی قربانیوں سے بھی دریغ نہیں کیا۔ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کی شخصیت صرف اہل سنت و جماعت کے دیوبندی مکتب فکر ہی کے لیے نہیں، بلکہ دیگر مکاتب فکر کے لیے بھی مُسلّم اور قابل قبول تھی۔ یہی سبب ہے کہ سالہا سال سے حیات کے آخری لمحے تک تمام مکاتب فکر نے آپ ہی کی قیادت و سیادت میں تحفظ مدارس کا سفر جاری رکھا۔ شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان ان ہی عظیم باپ کے عظیم فرزند تھے۔ آپ نہ صرف حضرت شیخ کے صاحبزادے، بلکہ ان کے شاگرد، تربیت یافتہ اور ان کی نسبت و وراثت کے امین اور جانشین بھی تھے۔
سوانحی نقوش اور تعلیمی دور
شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کا تعلق پٹھانوں کے آفریدی قبیلے کی شاخ ملک دین خیل [خیبر ایجنسی] سے تھا۔ آپ کے آباؤ اجداد تقسیم سے کئی صدیوں پیش تر ہندوستان کے معروف ضلع مظفر نگر کے ایک قصبے حسن پور لوہاری میں آباد ہوگئے تھے۔ مولانا محمد عادل خان کا سن پیدائش 1957ء بتایا جاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت شیخ دارالعلوم کراچی میں مدرس تھے۔ آپ نے حفظ قرآن کی تعلیم دارالعلوم کراچی کے ایک ماہر استاد قاری ممتاز صاحب سے حاصل کی۔ 1967ء میں جامعہ فاروقیہ کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا محمد عادل خان نے تمام تر روایتی دینی تعلیم اپنے والد گرامی کے زیر سایہ جامعہ فاروقیہ میں حاصل کی۔ 1973ء میں آپ نے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ بعد فراغت جامعہ فاروقیہ ہی میں تدریس پر مامور ہوئے۔ ابتدائی درجات سے لے کردورۂ حدیث کے اسباق کی تدریس تک آپ نے بہ تدریج ترقی کی۔ دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ عصری تعلیم کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ چنانچہ آپ نے 1976ء میں جامعہ کراچی سے بی اے، 1978ء میں عربی میں ایم اے کیا۔ 1992ء میں سندھ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کیا۔
جامعہ فاروقیہ کی تنظیم و ترقی میں کردار
آج جامعہ فاروقیہ جو پاکستان کے صف اول کے مدارس میں سے ایک ہے، 23 جنوری 1967ء میں اس کا قیام نہایت تنگ دستی اور کس مپرسی کے عالم میں عمل میں آیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس کی عالم گیر شہرت اور وہاں طلبہ کے جوق در جوق ورود کے پس پشت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ہی کی عظیم شخصیت، علمی سیادت، تدریسی کمال و تجربہ اور ان کی سند حدیث کا علو کارفرما تھا۔ حضرت شیخ کے یہاں تعلیم و تعلم، طلبہ کی اخلاقی تربیت، روحانی تزکیہ اور حسن انتظام اصل شے تھی۔ عمارت سازی اور نوع بہ نوع شعبہ جات کے قیام سے آپ کی ذات مستغنی تھی۔ مولانا محمد عادل خان جامعہ فاروقیہ میں مدرس ہونے کے ساتھ “امین عام” کے منصب پر بھی فائز تھے، اس لیے موجودہ جامعہ فاروقیہ [ڈرگ روڈ] کی عظیم الشان عمارت اور انتہائی محدود احاطے کے باوجود طلبہ کے لیے کشادہ اقامت گاہوں اور نوع بہ نوع شعبہ جات کا قیام حضرت شیخ کی سرپرستی اور جامعہ کے دیگر افراد کے تعاون سے مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کے منصوبوں اور کاوشوں کا مظہر ہے۔ خود حضرت شیخ جامعہ فاروقیہ کے لیے اپنے صاحبزادے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”مولوی عادل خان، انھوں نے بھی جامعہ کی خدمات میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔”
چار زبانوں میں دینی رسالے کے اجراء کا اعزاز
دینی صحافت کے باب میں جامعہ فاروقیہ کا یہ امتیاز بھی مُسلّم ہے کہ یہاں سے بہ یک وقت چار زبانوں، عربی، اردو، سندھی اور انگریزی، میں رسائل کا اجرا عمل میں آیا۔ یہ رسائل اپنے موضوعات کے تنوع اور مختلف زبانوں کے قارئین کی رعایت سے ایک دوسرے سے علیحدہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان رسائل کے اجرا کا پس منظر یہ ہے کہ جامعہ فاروقیہ سے ایک علمی مجلے کا اجرا مولانا سلیم اللہ خان کی دیرینہ خواہش تھی۔ مختلف ادوار میں اس کے منصوبے بنتے اور ملتوی ہوتے رہے۔ اپنے والد کی اس خواہش کی تکمیل بھی شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کے حصے میں آئی۔ مولانا عادل خان خود ایک مقام پر اس کا تذکرہ یوں کرتے ہیں: “اللہ بھلا کرے مسقط کے ایک سفر کا جس میں “الفاروق” کے نام اور اس کے اجرا کا خیال ایسا دماغ میں سمایا کہ جب تک اس کی اشاعت نہیں ہوگئی چین نہیں ملا۔ خیال بھی عجیب ذہن میں آیا کہ “الفاروق” کے نام سے تین مختلف زبانوں [اردو، عربی اور انگلش] میں تین الگ الگ رسالے نکالے جائیں اور ابتدا عربی سے کی جانے”۔ ان مجلات نے معاشرے پر کیا اور کیسے اثرات مرتب کیے، سردست اس پر تفصیلی گفتگو ممکن نہیں، لیکن اس کا ایک ہلکا سا اشارہ یہ ہے کہ مغربی دنیا کی ایک عالمی شہرت یافتہ یونی ورسٹی نے ان جرائد کی تاریخ و کارکردگی پر ایم فل/ پی ایچ ڈی کی سطح کا ایک مستقل مقالہ لکھوایا ہے۔ عربی مجلہ “الفاروق” کی ادارت اور عربی زبان کے فروغ کے لیے خدمات مولانا محمد عادل خان عربی مجلہ “الفاروق” کے مدیر اعلی بھی تھے۔ بہ طور رئیس التحریر آپ کے اداریے مجلے کی زینت بنتے رہے۔ اس ضمن میں آپ نے عربی زبان و ادب کے نشر و فروغ میں علمائے ہند کی کاوشوں کے تذکرے اور بالخصوص جامعہ فاروقیہ کی خدمات پر ایک خصوصی شمارہ [لعدد 101، رجب المرجب – رمضان المبارک، 1430ھ/ 2009ء] بھی شائع کیا تھا۔ شمارۂ خصوصی میں عربی زبان کے احیا کے لیے جامعہ فاروقیہ، مجلہ “الفاروق” اور مولانا محمد عادل خان کی محنتوں کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں مدارس دینیہ کے کبار علماء اور جلیل القدر اساتذہ کے ساتھ پاکستان کی تین مؤقر سرکاری جامعات کے شعبہ عربی کے صدور بھی شامل تھے۔ پاکستان کے دینی مدارس میں جامعہ فاروقیہ کے ”قسم التخصص بالأدب العربي“ کے قیام کو بھی اولیت حاصل یے۔ اس شعبے کا قیام شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان کی سرپرستی میں مولانا محمد عادل خان کے تحرک اور ادب عربی کے ممتاز استاذ مولانا ولی خان المظفر کی انتھک جدوجہد کے ثمرات ہیں۔ پاکستان میں عربی زبان کی اشاعت میں مولانا محمد عادل خان کی مساعی کو تہنیت پیش کرتے ہوئے ایک فاضل لکھتے ہیں: ”وهو دائم الحركة والنشاط في خدمة اللغة العربية ونشرها بين أبناء البلاد كلغة رسمية لهم.“
کراچی میں سیرت النبی پر تاریخی نوعیت کے جلسوں کا اہتمام
شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی بیدار طبیعت اور چوکنا نگاہیں مدارس اور تعلیمی اداروں کی چار دیواری سے باہر نکل کر عوام الناس میں کام کرنے کے لیے بھی کوشاں رہیں۔ وہ یہ جانتے تھے جب تک ایک مسلمان کا رشتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے عشق و محبت کے ساتھ وابستہ ہے، اسے نہ کوئی ملحد بہکا سکتا ہے اور نہ کوئی متجدد راہ حق سے ہٹا سکتا ہے۔ ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جڑا ہوا یہ رشتہ سراسر ایمانی، روحانی اور جذباتی ہے۔ اسی سبب سے مولانا محمد عادل خان نے کراچی میں ماہ ربیع الاول شریف میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر سال جلسوں کے انعقاد کا تسلسل قائم کیا۔ کئی سال یہ جلسے پورے تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوتے رہے۔ ان جلسوں میں مختلف علماء کو دعوت خطاب دی جاتی۔ عوام الناس ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پورے دینی شوق اور ایمانی جذبے کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر ولادت اور فضائل و شمائل کے علاوہ عقائد کی اصلاح، سنت کی ترویج اور بدعات کی تردید ان جلسوں کے خصوصی عنوانات تھے۔ راقم نے اپنے لڑکپن میں کئی بار ان جلسوں میں شرکت کر کے شہید مولانا محمد عادل خان کو براہ راست سنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اعلیٰ ذکاوت و ذہانت کے ساتھ قوت گویائی بھی خوب عطا فرمائی تھی۔ مولانا کی خطابت دل درد مند کے ساتھ زبان ہوش مند کی بھی ترجمان تھی۔
اتحاد بین المسالک کے لیے مساعی
شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کا تعلق ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے جو اہل سنت و جماعت دیوبند مکتب فکر کا ترجمان ہی نہیں بلکہ نمائندہ ہے۔ اپنے مسلک و مشرب پر تصلب اور اس پر استقلال کے ساتھ کاربند رہنا اس خانوادے کی مسلسل روایت ہے۔ اس کے ساتھ ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مختلف مسالک کے علمی نمائندوں سے میل جول اور مشترک امور میں انھیں ساتھ لے کر چلنے کی روش بھی ڈاکٹر صاحب کے والد گرامی کی روایت کا حصہ رہی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان مدارس دینیہ کے تمام مسالک کے مختلف وفاقوں کی نمائندہ تنظیم ”اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ“ کے اس کے قیام سے اپنی وفات تک صدر رہے۔ مختلف مسالک کے دینی مدارس میں ہونے والے مشترکہ اجلاسوں کی حضرت شیخ صدارت فرمایا کرتے تھے۔ مولانا محمد عادل خان نے اس تسلسل کو آگے بڑھ کر عوامی سطح پر بھی قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مؤقف مختلف مسالک کے ساتھ عوامی سطح پر باہم کشاکش اور تناؤ کا نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس سے اعدائے دین کو تقویت ملتی ہے، لہٰذا وہ امور جو مختلف مسالک کے مابین اتفاقی ہیں، ان میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس سلسلے ڈاکٹر صاحب کے مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد المصطفیٰ ازہری وغیرہ سے مستقل رابطے بھی رہے۔
امریکا میں الفاروق اسلامک سینٹر کا قیام
شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کے تلامذہ ملک اور بیرون ملک ہزاروں کی تعداد میں دین کی خدمت اور حق کی اشاعت میں مصروف عمل ہیں۔ بیرونی ممالک سے جامعہ فاروقیہ حاضر ہوکر تعلیم حاصل کرنے والوں میں جزیرہ فیجی کے بھی معتدبہ افراد شامل ہیں، ان میں سے بعض لائق اور مضبوط علمی استعداد کے حامل فضلاء نے فیجی میں ایک شان دار دینی مدرسہ بھی قائم کیا ہے، جو اس خطے میں میں بسنے والوں کی دینی رہنمائی کا مستند ذریعہ اور درس نظامی کی تحصیل کرنے والوں کے لیے ایک مضبوط دینی ادارہ ہے۔ ایک زمانے میں فیجی کے کچھ افراد امریکہ منتقل ہوگئے، وہ چونکہ جامعہ فاروقیہ میں اپنی تعلیمی دورانیے میں مولانا محمد عادل خان کی اعلیٰ صلاحیتوں اور حسن انتظام کا مشاہدہ کر چکے تھے، لہٰذا انھوں نے مولانا کو فیجی کے ایک سفر کے دوران امریکہ میں دینی ادارے کے قیام کی نہ صرف دعوت دی، بلکہ بہ اصرار راضی بھی کرلیا۔ فیجی کے افراد نے جب حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان کے رو بہ رو اس پیش کش کا ذکر کیا، تو آپ نے ابتداءَ یہ کہتے ہوئے توقف فرمایا :”مولوی عادل صاحب کی یہاں ضرورت زیادہ ہے“۔ فیجی کے حضرات نے جواباً عرض کیا:” مولانا محمد عادل خان کی یہ صلاحیتیں اور سرگرمیاں فی الاصل آپ ہی کی تربیت کے ثمرات و اثرات ہیں، آپ تو یہاں بہت سے مولانا عادل تیار فرما سکتے ہیں، پھر یہاں بہ نفس نفیس آپ خود بھی موجود ہیں، لیکن ہمیں وہاں مولانا محمد عادل خان ایسا کوئی دوسرا میسر نہیں ہے“۔ بہرحال ان حضرات نے حضرت شیخ کو مولانا محمد عادل خان کے امریکہ منتقل ہوجانے پر راضی کرلیا۔ امریکہ پہنچ کر مولانا محمد عادل خان نے کیلیفورنیا میں دینی ادارے کے قیام کے لیے بڑی محنت سے تقریباً اٹھارہ ایکڑ زمین حاصل کی۔ اس زمین کے حصول کے لیے انھیں نہایت جاں گسل محنت سے دوچار ہونا پڑا۔ بڑے طویل اور طوفان خیز اسفار کرنے پڑے۔ زمین کی مکمل قیمت ادا کرنے کے بعد جب وہ مکمل طور پر ملکیت میں آگئی تو مولانا محمد عادل خان نے وہاں ”الفاروق اسلامک سینٹر“ کے نام سے ایک دینی ادارے کی بنیاد رکھی اور باقاعدہ دینی تعلیم کا نظم جاری کیا۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ رہی کہ امریکہ میں مولانا محمد عادل خان نے بڑے بڑے پبلک اجتماعات کا انعقاد شروع کیا اور مختلف مذاہب کے علمی نمائندوں سے مکالمے اور گفتگو کی روایت ڈالی۔ مولانا چونکہ انگریزی بولنے میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے مسلمانوں کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہبِ سے وابستہ امریکی اور غیر امریکی دونوں قسم کے افراد بڑی تعداد ان کے خطبات و بیانات میں میں دل بستگی کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔
بین الاقوامی یونیورسٹی ملائشیا میں تدریسی خدمات
2010ء میں شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ملائشیا تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان نے ایک موقع پر راقم کو بتایا کہ:”ملائشیا جانے کے بعد مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان نے وہاں انگریزی زبان میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر ایک تقریر کی، جو وہاں کے علمی حلقوں میں توجہ سے سنی گئی۔ اس کے بعد مولانا محمد عادل خان کو وہاں کی کئی جامعات کی طرف سے تدریس کی پیش کش کی گئی، جس میں سے بین الاقوامی یونی ورسٹی ملائشیا کی دعوت کو انھوں نے قبول کرلیا“۔ چنانچہ 2011ء میں مولانا کا تقرر بین الاقوامی یونیورسٹی ملائشیا [IIUM] میں Department of Fundamental and Inter-Disciplinary Studies کے Kulliyyah of Islamic Revealed Knowledge and Human Sciences میں ہوا۔ آپ وہاں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ یونی ورسٹی کی مرکزی جامع مسجد سلطان حاجی احمد شاہ میں اپنی باری کے دن انگریزی زبان میں تقریر اور خطبۂ جمعہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ 2017ء میں بین الاقوامی یونی ورسٹی ملائشیا سے ڈاکٹر عبدالطیف عبدالرزاق کی مرتب کردہ کتاب : Ethics and Fiqh for Everyday Lifeمیں آٹھواں باب [صفحات، 194 – 218] بہ عنوان :Fiqh and Shari’ahڈاکٹر محمد عادل خان کا تحریر فرمودہ ہے۔ کتاب میں مضمون نگاروں کے تذکرے میں ڈاکٹر صاحب کا تعارف ان الفاظ میں کروایا گیا ہے:
Dr. Muhammad Adil Khan Afridi has attained his academic degrees from several institutes in Pakistan. He completed his PhD in 1992 from Sindh University, Pakistan. His research is about 4000 particularly prominent Muslim scholars, who have written on different aspects of Islamic knowledge. He was Secretery General at Farooqia Islamic University, Karachi, where he also served as a Chairman on Fatwa Board. He assumed the responsibility of Assistant Professorship in the Department of Fundamental and Inter-Disciplinary Studies, Kulliyyah of Islamic Revealed Knowledge and Human Sciences at IIUM from 2011 to date. [p.xvi]
مولانا محمد عادل چونک خود ایک پختہ اور ٹھیٹھ روایتی عالم ہونے کے ساتھ رئیس المحدثین مولانا سلیم اللہ خان کے بلاواسطہ شاگرد ہونے کا اعزاز بھی رکھتے تھے، اس لیے ملائشیا سے پاکستان واپسی کے موقعے پر وہاں علوم اسلامیہ کے طالب علموں نے آپ سے اجازت حدیث کے لیے ایک مجلس کے اہتمام کی درخواست کی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے شعبے کے ذمے داروں سے فرما دیا کہ کسی مناسب موقع پر اس مجلس کا انعقاد کرلیا جائے، چنانچہ تاریخ متعین کر کے جامع مسجد میں مجلس کے انعقاد کا اعلان کردیا گیا۔ نماز سے فراغت کے بعد مولانا محمد عادل خان نے حجیت و تدوین حدیث کے موضوع پر مفصل اور پر مغز بیان فرمایا، اس کے بعد مجلس اختتام پذیر ہوگئی۔ علوم اسلامیہ کے طالب علموں کو اپنے دفتر میں طلب فرما کر اجازت حدیث مرحمت فرمائی اور مسجد میں اجازت نہ دینے کا سبب یہ بیان کیا کہ وہاں ہر عام و خاص شخص شریک تھا، لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اجازت حدیث فقط طالبان حدیث کو دی جائے۔ اس ایک واقعے سے ڈاکٹر صاحب کی نظر میں علم حدیث کے ادب اور اس کے متعلق احتیاط کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر محمد عادل خان کے ملائشیا منتقل ہونے سے پہلے وہاں ایک مدرسہ موجود تھا، جس میں ابتدائی درجات کے طلبہ کی تعداد آٹھ دس کے لگ بھگ تھی۔ مولانا شہید کے دو لائق صاحبزادوں، مولانا مفتی محمد انس عادل اور مولانا مفتی محمد عمیر عادل، کی مساعی سے اس مدرسے کو خاطر خواہ ترقی حاصل ہوئی، حدیث شریف تک کے اسباق جاری ہوئے اور طلبہ کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔ ملائشیا سے مستقلاً پاکستان منتقلی سے قبل آپ نے بین الاقوامی یونیورسٹی ملائشیا کی مرکزی جامع مسجد سلطان احمد شاہ میں کرسمس کے موقع پر الوہیت و ابنیت مسیح کے رد میں نہایت علمی اور مفصل تقریر فرمائی۔ علمی و تحقیقی مقالہ جات اور کتابیںشہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان دینی اور عصری دونوں حلقوں کے ایک اچھے مدرس، عمدہ مقرر، ماہر مجود اور قاری ہونے کے ساتھ potentially ایک محقق اور صاحب قلم بھی تھے۔ پاکستان اور پھر امریکہ کے قیام کے دوران چونکہ آپ کی زندگی بڑے بڑے اداروں کے اہتمام و انصرام کی ہنگامہ خیز بھاگ دوڑ میں گھری ہوئی تھی، اس لیے اب تک آپ کے پوشیدہ قلمی و تحقیقی جوہر واضح طور پر افشا نہیں ہوسکے تھے۔ بین الاقوامی یونی ورسٹی ملائشیا کے زمانۂ تدریس میں آپ کو جم کر تسلسل کے ساتھ پڑھنے لکھنے کا موقع ملا۔ آپ نے وہاں خود کو مکمل طور پر تدریس اور تحقیق و تصنیف کے لیے وقف کردیا تھا۔ کئی زبانوں پر عبور کے باعث آپ نے عربی، انگریزی اور اردو تینوں زبانوں میں لکھا ہے۔ پاکستان کے علمی حلقوں میں آپ کے تصنیفی کاموں کا بوجوہ تعارف نہیں ہوسکا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن علمی و تحقیقی منصوبوں پر اکادمیاتی معیار کا کام ڈاکٹر محمد عادل خان نے پیش کیا ہے، وہ آپ کی اعلیٰ علمی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ آپ کے تحریر فرمودہ مقالہ جات اور مرتب کردہ کتابوں کے موضوعات سے پتا چلتا ہے کہ آپ وقت کے تقاضوں اور حالات کی نزاکتوں کا نہایت گہرا ادرک رکھتے تھے۔ امت مسلمہ اس وقت جن مسائل سے نبرد آزما ہے، ان کے ازالے کے لیے علمیاتی، نظری اور عملی سطح پر کیا پیش بندی کی جانی چاہیے، اس کا اندازہ ڈاکٹر صاحب کے رشحات قلم اور موضوعات تحقیق کے انتخاب سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی نہایت قابل تحسین اور فی زمانہ عنقا ہے کہ امریکہ کے قیام، یورپی ممالک کے پے بہ پے اسفار اور سیکولر ادارے میں تدریس کے باوجود شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان اپنے عقائد و افکار، مسلک و مشرب اور طریق و اعمال میں نہ صرف روایتی دینی مؤقف پر کاربند رہے، بلکہ وہ مغربی تہذیب اور سیکولر اداروں میں روایت کے بے باک ترجمان بلکہ وکیل بھی تھے۔ سطور ذیل میں مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کے تحریر فرمودہ کثیر موضوعات میں سے صرف ان کاموں کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے، جو راقم کی نظر سے گزر چکے ہیں: 1- 2016ء میں مقاصد الشریعہ کے تعارف میں اسلام کو درپیش عالمی و مقامی چیلنجز میں بنیادی حقوق کے تحت مولانا کا ایک مقالہ بہ عنوان: Maqasid Al-Shariah and Preservation of Basic Rights Under the Theme “Islam and Its Perspectives on Global and Local Contemporary Challenges”. جرنل آف ایجوکیشن اینڈ سوشل سائنسز [جلد 4, شمارہ 1 صفحات 274 – 285] میں شائع ہوا۔ 2. 2013ء میں دنیا کے مختلف شعبوں میں مسلمان سائنس دانوں کی خدمات کے جائزے پر ایک مقالہ : Contributions of Muslim Scientists to the World : an Over View of Some Selected Fieldsریویلیشن اینڈ سائنس [جلد 3، شمارہ 1، صفحات 47 – 68] میں شائع ہوا۔ 3- 2017ء میں کابوئی عثمان سلیمان کی مرتب کردہ کتاب: Knowledge and Civilization in Islam کا پہلا باب : Concept of Knowledge [pp. 1- 30]مولانا عادل خان کا تحریر کردہ ہے۔ 4- 2011ء میں آپ کا عربی میں ایک مقالہ:الهدي النبوي : وأثره في إصلاح الفرد والمجتمع کے زیر عنوان حدیث [جلد 1، شمارہ 1، صفحات 1- 19] میں شائع ہوا۔ 5- تفسیر مظہری کے حوالے سے آپ کا مقالہ:لمحات التربية العقدية في التفسير المظهري القاضي ثناء الله الباني بتی جرنل آف اسلام ان ایشیاء [شمارہ 2، صفحات 1-30] میں شائع ہوا۔ 6- شرح حدیث میں امام انور شاہ کشمیری کے منہج پر آپ کا مقالہ: المحدث الكبير محمد أنور شاه الكشميري ومنهجه في شرح الحديث جرنل آف اسلام ان ایشیاء [شمارہ 4، صفحات 201 – 218] میں شائع ہوا۔ متذکرہ تمام مقالہ جات، کتابیں اور ابواب تحقیق کے مروجہ اکادمیاتی اصول و ضوابط کو ملحوظ رکھ کر تحریر کیے گئے ہیں۔ سیمیناروں اور کانفرنسوں میں پڑھے گئے مقالات 1- 13۔ 14 مارچ 2015ء کو کولالامپور میں منعقدہ قرآن و سنت کانفرنس میں شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان نے درج ذیل مقالہ پیش کیا: هدي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في توجيه الشباب .2- 2013ء میں منعقدہ تیسرے بین الاقوامی سیمینار بعنوان “وحي أساس تمدن” میں آپ نے درج ذیل مقالہ پیش کیا: إصلاح وضع المرأة في ضوء القرآن والسنة .3- 2012ء میں برونائی میں منعقدہ کانفرنس میں آپ نے درج ذیل مقالہ پیش کیا: أثر الدعوة في إصلاح الجتمعات الانسانية في ضوء السنة .غیر مطبوعہ کتابیں اور مقالہ جات شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کا بہت سا تحریری و تحقیقی لوازمہ تاحال غیر مطبوعہ ہے۔ ان میں:1- آپ کی مرتب کردہ درج ذیل کتاب ہے: Al-Ghazzali’s Philosophy of Knowledge : a Comprehensive Guideline and Solutions to Promote Islamic Education in Human Life. 2- 2012ء میں آپ کا ترتیب دیا ہوا monograph بعنوان :The Epistemology : a Comprehensive Approach from Islamic Perspective3- 2012ء میں حافظ عماد الدین ابن کثیر پر آپ کا تحریر کردہ مقالہ : أضواء على المنهج التفسيري في شرح التوحيد والرسالة عند ابن كثير رحمه الله راقم کی معلومات کی حد تک تاحال غیر مطبوعہ ہیں۔ متذکرہ کتابیں اور مقالہ جات عصری تناظر میں بہت زیادہ اہمیت کے حامل، جلد اشاعت کے متقاضی اور پڑھے جانے کے مستحق ہیں۔ ابھی چندہ ماہ پہلے مولانا محمد عادل خان کی ایک کتاب “تاریخ اسلامی جمہوریہ پاکستان : واقعات، احساسات، توقعات” اشاعت پذیر ہوئی ہے۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا اس کتاب پر مختصر تبصرہ یہ ہے: “پاکستان کے مطالعے میں جن جن پہلوؤں کی ضرورت ہوسکتی ہے، فاضل مؤلف نے ان تمام پہلوئوں کا احاطہ کرلیا ہے، اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ کتاب 1940ء سے 2020ء تک پاکستان کی جامع ترین تاریخ ہے، جو اس ملک کو سمجھنے کے لیے اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے”۔ پاکستان ورود اور جامعہ فاروقیہ کا نظم و اہتمام 15 جنوری 2017ء کو والد گرامی مولانا سلیم اللہ خان کے سانحہ ارتحال کے بعد آپ ملائشیا کی پر سکون اور سہولیات سے بھرپور زندگی کو خیر باد کہہ کر اپنے عظیم والد کی خواہش کے مطابق ان کی مسند اور روایت کو سنبھالنے اور مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان تشریف لے آئے۔ حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان کا خلا معمولی نہیں تھا، نہ وہ آج تک پر ہوسکا ہے، تاہم مولانا محمد عادل خان ہر اعتبار سے حضرت شیخ کی جانشینی کے لائق اور مسند نشینی کے اہل تھے۔ آپ نے یہاں آنے کے بعد جس حکمت اور تدبر کے ساتھ جامعہ فاروقیہ کی دونوں شاخوں کو سنبھالا، بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے کے باوجود جس تحرک، مستعدی اور معاملہ فہمی کے ساتھ دونوں شاخوں کے منصب اہتمام کو نبھایا اور دنوں شاخوں میں بہ طور شیخ الحدیث تدریس کو معمولاً جاری رکھا، یہ آپ ہی کا خاصا تھا۔ واضح رہے کہ جامعہ فاروقیہ کی ایک شاخ شاہ فیصل کالونی میں ہے، جبکہ دوسری حب ریور روڈ پر واقع یے۔ تدریس و اہتمام کے لیے دونوں مدرسوں کے درمیان طویل فاصلے کو روزانہ قطع کر کے بلاناغہ حاضری سے ڈاکٹر صاحب کی انتھک مشقت اور جہد مسلسل کا اندازہ کیا ہی جاسکتا ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر صاحب نے جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کے لیے اپنی سرپرستی کو قائم رکھتے ہوئے، اس کا مہتمم اپنے چھوٹے بھائی مولانا عبید اللہ خالد کو مقرر کر کے اپنی توجہ کلیتہً 74 ایکڑ کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے جامعہ فاروقیہ فیز ٹو کی طرف منعطف کرلی۔ آپ کی کوششوں سے چند ہی برسوں میں وہاں تعمیرات کا غیر معمولی کام ہوا۔ فیز ٹو میں تعلیم و تعلم کے لیے مکمل طور عربی زبان کا نظم جاری کیا گیا، تعلیمی معیار نہایت بلند رکھا گیا۔ جامعہ کے کئی طلبہ نے مختلف برسوںمیں وفاق المدارس کے امتحانات میں پوزیشنیں حاصل کیں۔
وفاق المدارس کے لیے خدمات
شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان وفاق المدارس العربیہ کی مرکزی کمیٹی کے سنیئر رکن ہونے کے ساتھ نصابی، دستوری اور مالیاتی کمیٹیوں کا حصہ بھی تھے۔ آپ دلیل کے ساتھ بات کرنے کے خوگر تھے۔ آپ میں اپنے مخاطب کو قائل کرلینے کا بہترین ملکہ پایا جاتا تھا۔ یہی سبب ہے کہ حکومت سے اہل مدارس کے ہونے والے مذاکرات اور ملاقاتوں میں آپ کو خصوصیت کے ساتھ شریک کیا جاتا اور آپ کا ان میں نمایاں اور مرکزی کردار ہوتا۔ آخری سرگرمیاں اور شہادت شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی دوبارہ آمد سے شہر کراچی کے دینی حلقوں پر چھائی پژمردگی دور ہونے لگی، ویران محفلیں پھر سے آباد ہونے لگیں، خود اپنے مسلک کے علماء اور دیگر مسالک کے علماء سے ملاقاتوں اور رابطوں میں تسلسل پیدا ہونے لگا۔ کرونا وائرس کی وبا سے جس عالم گیر نوعیت کے مسائل پیدا ہوئے اور حکومت کی طرف سے مساجد کی مکمل بندش کے جو عاقبت نااندیشانہ فیصلے کیے گئے، اس میں تمام مسالک کے مقتدر نمائندوں کو ایک بساط پر جمع کر کے حکومت سے مذاکرات میں مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کا نہایت مرکزی کردار تھا۔ تآنکہ اس سال محرم الحرام میں اسلام آباد اور کراچی کی بعض مجالس میں حضرات صحابہ کرام کے حق میں ناروا زبان اختیار کی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا سے ہوتی ہوئی ایک ٹی وی چینل پر بھی نشر ہوگئی۔ اس تسلسل کے باعث پہلی مرتبہ اجتماعی طور اہل سنت و جماعت کے تینوں مکاتب فکر میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ عظمت صحابہ و اہل بیت کے اثبات اور مقام صحابہ و اہل بیت کے تحفظ کے لیے کراچی سے ملتان تک بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر شریک ہوا۔ ان میں شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی مساعی اور تقاریر کا کردار اساسی تھا۔ اس باب میں ان کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنی شہادت سے بیس گھنٹے پہلے جو ٹویٹ کیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے: “یا اللہ! اس زبان سے قوت گویائی ختم کر جس زبان سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابوبکر، عمر، عثمان علی اور امی عائشہ (رضی اللہ عنہم) کے بارے میں برا لفظ نکلے”۔ شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی یہ تمام سرگرمیاں اور اہل سنت و جماعت کا کسی ایک مؤقف ہر ایسا اتحاد اسلام دشمن قوتوں کو منظور نہیں تھا، لہٰذا اس کا واحد حل انھوں نے ایک باعمل عالم، صاحب عزیمت قائد، محقق دانش ور، مفکر و مصلح کو شہید کرنے میں تلاش کیا۔ ہمیشہ کی طرح دشمن اپنے عزائم کامیاب ہوئے اور ایک ایسے فرد کو، جو پوری دنیا میں دینی و تعلیمی طور پر اسلام کا با کردار نمائندہ اور پاکستان کی نیک نامی کا استعارہ تھا، ایک نہایت مصروف شاہراہ پر سرعام ڈرائیور سمیت گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ ایسے موقعوں پر حکومت کے کیے ہوئے ہر وعدے اور دلایا ہوا ہر یقین محض طفل تسلی ہوتے ہیں۔ ورنہ ایک ایسا شخص جس کی متفقہ مذہبی قیادت کی حیثیت سے آرمی چیف، ڈی جی رینجرز، مختلف وزیروں اور حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں معمول کا حصہ ہوں، حکومت کی اولین ذمے داری تھی کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر اسے تحفظ اور سیکیورٹی فراہم کرے، لیکن بار بار کی یاد دہانیوں اور مسلسل اطلاعات، کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی خطرے میں ہے، کے باوجود حکومت اور اس کے نمائندوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ مولانا محمد عادل خان حکومت کی طرف سے سیکیورٹی کی عدم فراہمی کے باوجود اپنے طور پر جو احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتے تھے، ان پر پوری طرح رو بہ عمل تھے۔ ان کی آخری ملاقات، جس سے واپسی پر ان پر حملہ ہوا اور انھوں نے جام شہادت نوش فرمایا، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی سے ہوئی تھی، مفتی صاحب سے ملاقات کا وقت لینڈ لائن [پی ٹی سی ایل] پر طے ہوا تھا نہ کہ موبائل پر۔ اسے ٹریس کرنا معمولی درجے کے دہشت گردوں یا کرائے کے قاتلوں کا کام نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے پس پشت کسی ادراتی سطح کی سازش کارفرما معلوم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب تو شہید ہوکر بارگاہ الہی سرخرو ہوگئے، لیکن دور دور تک ان جیسی علمی صلاحیتوں، قائدانہ کردار اور حلم، وقار، تدبر اور حمیت ایسی صفات حسنہ کا امتزاج کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ ایسے اشخاص کا وجود موہبت خداوندی سے نہایت کڑی ریاضتوں اور پیہم دعاؤں کے بعد عطا ہوتا ہے ۔
پس ماندگان شہید
مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان نے پس ماندگان اور ان کے حسنات کے تسلسل کو جاری و ساری رکھنے والوں میں سیکڑوں تلامذہ، ہزاروں متوسلین کے علاوہ سراپا شفقت والدہ ماجدہ، ایک نہایت پارسا حافظ قرآن زوجہ، چار عالم صاحبزادے اور ایک صاحبزادی چھوڑے ہیں۔ مولانا مفتی محمد انس عادل اور مولانا مفتی محمد عمیر عادل اپنے والد کے ساتھ اپنے جد مکرم کے شاگرد اور تربیت یافتہ بھی ہیں۔ دونوں بھائی پختہ عالم ہونے کے ساتھ نہایت خلیق، عاجز اور ملن سار بھی ہیں۔ آخری بات راقم نے اپنے لڑکپن میں شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی اقتدا میں کئی جمعے جامعہ فاروقیہ میں ادا کیے ہیں۔ ان کی نفیس اور اجلی شخصیت، خوش لباسی، جلال و جمال سے ممزوج چہرہ، پرجوش تقریر اور نہایت خوب صورت خطبہ اور تلاوت بہت متاثر کرتی تھی۔ میں مولانا مرحوم کا کئی برس تک نہایت خاموش سامع اور نیازمند رہا ہوں۔ ان کی بارعب شخصیت ہمیشہ اس روسیاہ اور ان کے درمیان مخاطبت میں مانع رہی۔ یہاں تک کہ بخت کی چارہ گری اور اتفاق کی یاوری نے اس ناچیز کو براہ راست حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان کے قدموں میں بیٹھنے کا شرف عطا فرما دیا۔ حضرت شیخ کی بے پایاں شفقتوں اور عنایات کے سبب میری موجودگی میں دو تین دفعہ جب شہید مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان اپنے والد سے ملاقات کے لیے تشریف لائے، تو مجھے انھیں بہت قریب سے دیکھنے اور مخاطب ہونے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں چونکہ وہ ملائشیا میں مقیم تھے، لہذا ملاقاتوں کا تسلسل تو قائم نہ رہ سکا، البتہ حضرت شیخ کے جاری منصوبوں کے سلسلے میں ان سے چند ایک بار فون اور ای میل پر رابطہ ہوا۔ ان رابطوں میں مولانا محمد عادل خان کی شفقتوں نے متاثر کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی شدید خواہش تھی کہ حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان کی صحیح بخاری کی سردست 23 جلدوں پر پھیلی ہوئی شرح “کشف الباری عما في صحیح البخاری” پر عصری جامعاتی سطح پر بھی تعارفی اور تحقیقی مقالہ جات لکھے جانے چاہئیں، تاکہ یونی ورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور محققین بھی اس عظیم میراث اور علمی لوازمے اور تحقیقی ذخیرے سے استفادہ کرسکیں۔ اس سلسلے میں ایک مرتبہ کسی یونی ورسٹی کے ریسرچ اسکالر نے “کشف الباری” پر اپنے ایم فل / پی ایچ ڈی کے مقالے کی ترتیب و تحقیق میں امداد و تعاون کے لیے مولانا محمد عادل خان سے درخواست کی تھی۔ حضرت مولانا شہید کا یہ بڑا پن اور خرد نوازی تھی کہ انھوں نے اس سلسلے میں بہ طور خاص مجھے بہ ذریعہ ای میل ہدایت کی کہ میں اس اسکالر کے ساتھ تعاون کروں۔ مولانا محمد عادل خان راقم کے شیخ زادے اور خود بڑے عالم تھے، وہ حکماً بھی مجھے مخاطب بنا سکتے تھے، لیکن انھوں نے جس شفقت سے ای میل کی، دراصل یہی ان کی بڑائی اور کردار کی عظمت تھی۔ جب سے ان کی شہادت ہوئی، اس وقت سے قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ مسلسل ذہن میں گردش کررہی ہے :مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ رِجَالٞ صَدَقُواْ مَا عَٰهَدُواْ ٱللَّهَ عَلَيۡهِۖ فَمِنۡهُم مَّن قَضَىٰ نَحۡبَهُۥ وَمِنۡهُم مَّن يَنتَظِرُۖ وَمَا بَدَّلُواْ تَبۡدِيلٗا [الاحزاب: 23]”مومنوں میں [ایسے] لوگ بھی ہیں جنھوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، انھیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض [موقعہ کے] منتظر ہیں اور انھوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی“۔

Share this: