عالمگیریت اور اس کے معاشرے پر اثرات

Print Friendly, PDF & Email

سوسائٹی فار سوشل سائنسز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن کے تحت ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے دوسری ورچوئل عالمی سوشل سائنسز کانفرنس

عالمگیریت نے زندگی کے ہر شعبے پر اثرات ڈالے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہماری زندگیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ہمیں عالمی سطح پر جو چیلنج درپیش ہے اس کا ایک پہلو عالمگیریت ہے۔ عالم اسلام کے سوچنے اور غور و فکر کرنے والے اہلِ علم اور اہلِ دانش کا فرض ہے کہ وہ عالمگیریت کا ہر پہلو سے جائزہ لیں اور اس کا اصلی چہرہ دکھائیں۔ اس پس منظر میں کچھ متحرک لوگوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرتے ہوئے اس پر غور وفکر کیا ہے، اس کے لیے سوسائٹی فار سوشل سائنسز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن کے تحت ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے ”عالمگیریت اور اس کے اثرات“ کے عنوان سے دوسری ورچوئل عالمی سوشل سائنسز کانفرنس کا انعقاد ملیر یونیورسٹی میں کیا گیا۔ اس کانفرنس میں سوشل سائنسز کے مختلف شعبہ جات جن میں تعلیم، بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، میڈیا، مذہب، قانون، معاشیات، فنانس، زبان و ثقافت پر پاکستان کے مختلف شہروں سمیت 5 ممالک سے محققین نے 45 تحقیقی مقالے پڑھے۔
ملیر یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی علوم کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے اور اس عالمی کانفرنس کے انعقاد کے لیے سوسائٹی فار سوشل سائنسز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن مبارک باد کی مستحق ہے جس کی کاوشوں سے ایک عالمی کانفرنس ملیر جیسے نواحی علاقے میں منعقد ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمگیریت کے اثرات سے آج دنیا مستفید ہورہی ہے، اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس کے مثبت اثرات کو اپنے معاشرے پر منعکس کریں۔ انہوں نے ملیر یونیورسٹی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ملیر یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نجی جامعات کی فہرست میں یہ واحد یونیورسٹی ہے جو طلبہ سے فیس کی مد میں کوئی رقم وصول نہیں کرتی۔ اس موقع پر انہوں نے مستقبل کے منصوبوں میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے قیام کے لیے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ سجاد کی کوششوں کو سراہا کہ جن کی کاوشوں سے علاقے میں تعلیم کو عام کرنے میں مدد ملی ہے۔
سوسائٹی فار سوشل سائنسز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن کے چیف پیٹرن ڈاکٹر کمال حیدر نے سوسائٹی کے قیام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تحقیق حقیقت کی دریافت کی وہ راہ ہے جو صحیح نتائج تک پہنچنے کے لیے راستے ہموار کرتی ہے۔ سوسائٹی کے تحت عالمی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد محققین کو وہ پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ دنیا کے دیگر محققین کو اپنے نتائج سے آگاہ کرتے ہیں۔
امریکہ سے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ڈاکٹر لبنیٰ احسن نے بطور کی نوٹ اسپیکر کانفرنس میں دیے گئے لیکچر میں عالمگیریت کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے آج کے دور میں اس کی اہمیت کو بیان کیا۔
کانفرنس میں ابتدائی طور پر بیک وقت دو سیشن منعقد کیے گئے، جن میں سے ایک تعلیم اور دوسرا میڈیا سائنسز سے متعلق تھا۔ تعلیم کے سیشن میں سب سے زیادہ پیپر پڑھے گئے جن میں محققین نے تعلیم کے مختلف تناظر کو عالمگیریت کی روشنی میں بیان کیا۔ اسی طرح آج کے میڈیا پر عالمگیریت کے اثرات اور اس سے معاشرے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی محققین نے اپنی تحقیق اور اس کے نتائج کو زوم لنک کے ذریعے دنیا بھر سے کنیکٹ شرکاء کے سامنے پیش کیا۔
کھانے اور نماز کے وقفے کے بعد مزید دو سیشن کا انعقاد ہوا، جس میں بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، زبان و ثقافت، اسلامک اسٹڈیز، قانون، نفسیات، معاشیات اور فنانس سے متعلق محققین نے اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کیے۔
یہ سیشن ملکی اور غیر ملکی متعلقہ ماہرین کی سربراہی میں منعقد ہوئے، جن میں امریکہ سے ڈاکٹر محمد اشرف ناصر سمیت بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بریگیڈیر (ریٹائرڈ) محمد امین، اردو یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم کے چیئرمین ڈاکٹر کمال حیدر، وفاقی اردو یونیورسٹی سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابقہ چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر وسیم، صفہ یونیورسٹی کی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر سیدہ داؤد صاحبہ شامل تھیں۔
کانفرنس کے دوسرے کی نوٹ اسپیکر لونگ ووڈ یونیورسٹی، ورجینیا امریکہ سے ڈاکٹر آفتاب احمد خان تھے، جنہوں نے دورِ جدید میں عالمگیریت اور اس کے اثرات کو تعلیم کے میدان میں بیان کیا۔
کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ملیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ سجاد نے کہا کہ آج کی دنیا سمٹ گئی ہے اور اس نے ہر چیز کو ہماری دسترس میں کردیا ہے۔ انہوں نے ماضی کی مثالوں کو دلچسپ انداز سے بیان کرتے ہوئے آج کے دور سے ان کا تقابل پیش کیا، جسے حاضرین نے نہایت پسند کیا۔ انہوں نے کانفرنس میں پیپر پڑھنے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی اور دنیا بھر میں اس حوالے سے پیش کیے گئے تجربوں کو بیان کرتے ہوئے مزاح کی اہمیت کو بیان کیا۔ انہوں نے سوسائٹی فار سوشل سائنسز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جس کے تعاون سے یہ کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس موقع پر سوسائٹی فار سوشل سائنسز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر معروف بن رؤف نے عالمگیریت کے اثرات کو سائنس اور سوشل سائنسز کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے محققین سے کہا کہ سائنسز کی بہ نسبت سوشل سائنسز انسانی رویوں کا علم ہے جس میں عالمگیریت نے بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے مثبت اثر کو نئی نسل میں منتقل کرنے اور اثراتِ بد سے بچانے کے لیے محققین نئی جہتیں متعارف کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوسائٹی فار سوشل سائنسز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں سوشل سائنسز کی اہمیت کے پیش نظر تین سال قبل اس سوسائٹی کو بھی اسی لیے قائم کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں سماجی علوم کو تحقیق کے ذریعے فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سوسائٹی کا سلوگن ہی ”تبدیلی بذریعہ تحقیق“ ہے، اور اس وقت سوسائٹی کے تین ریسرچ جرنلز ایچ ای سی سے Y کیٹگری میں منظور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سوشل سائنسز کے محققین اور ماہرین کو سوسائٹی میں شامل ہوکر معاشرے میں اپنے کردار کو بڑھانے کی بھی دعوت دی۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے میں انہوں نے ملیر یونیورسٹی کی انتظامیہ کی کاوشوں اور شرکاء کی دلچسپی کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض اردو یونیورسٹی شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے ڈاکٹر سید شہاب الدین نے انجام دیے۔ اپنی نوعیت کی اس اہم کانفرنس کے اختتام پر محققین میں سرٹیفکیٹس اور منتظمین میں شیلڈ تقسیم کی گئیں۔

Share this: