سیّدنا محمد ﷺ کی تمام مخلوقات پرفضیلت

Print Friendly, PDF & Email

(دوسری قسط)

انسانیت کا قافلہ تاریخ کی شاہراہ پر طویل سفر طے کرکے جب چھٹی صدی قبل مسیح کے اکہترویں سال میں پہنچا، اُس وقت شرک و بت پرستی کی گہری رغبت کے باوجود اہلِ عرب کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی آگئی تھی۔ جزیرۃُ العرب میں بدویت کا دائرہ سکڑ چکا تھا اور شہری تمدن کو فروغ حاصل ہوگیا تھا۔ مکہ، یثرت، طائف اور خیبر وغیرہ بڑے مصروف تجارتی شہر تھے۔ یثرب اور طائف میں زراعت بھی عروج پر تھی۔ مقامی سطح کی صنعتیں بھی تھیں جن کی پیداوار کی شام اور جنوب میں یمن کے علاقوں میں خاصی مانگ تھی۔ ان کی تجارتی سرگرمیاں شمال میں شام و فلسطین کے راستے یونان تک، بحرِ احمر کے دوسری طرف حبشہ اور مصر تک اور جنوب اور جنوب مشرق میں خلیجِ عدن اور خلیجِ فارس کے راستے ایران، چین تک، اور بحرِ ہند کے اُس پار ہندوستان کے ساحلی شہروں کے علاوہ مشرقِ بعید میں جاوا اور سماٹرا تک پھیلی ہوئی تھیں۔
ایران اور روم وقت کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری طاقتیں تھیں۔ سورہ روم کی پہلی آیت بتاتی ہے کہ ان کی جنگوں کے منفی اور مثبت اثرات عربوں پر پڑتے تھے۔ چونکہ ایران و روم، دونوں کو جزیرۃ العرب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے انہوں نے عربوں سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی تھی، البتہ ان کی باہمی جنگوں سے عرب کئی لحاظ سے تجارتی فائدے اٹھا رہے تھے۔
عرب زندگی تمدنی اعتبار سے ایک تغیر سے آشنا ضرور ہورہی تھی لیکن اس میں قبائلی مشیخت اور سرداری کے استبداد کا چلن ہی قانون کا درجہ رکھتا تھا۔ ان حالات میں رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایک جامع اور مبسوط شریعت عطا کی۔ آدم علیہ السّلام کے وقت سے پیغمبر اللہ کے دِین ِ حق کی جو اینٹیں رکھتے چلے آرہے تھے ان سے جتنی عظیم الشّان عمارت بنی، اتنی بن گئی تھی، لیکن اس دِین کی ایک مکمل نظام کی صورت میں تکمیل سیّدالابرار حضرت محمدﷺ کے ہاتھوں ہی ہوئی جیسا کہ پچھلی سطور میں ایک حدیث میں تذکرہ آیا ہے۔ حضور ؐ کی بعثت کے ساتھ دِین مکمل ہو گیا تھا، چنانچہ اعلان فرما دیا گیا:۔
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط (المآئدۃ:3)۔
”آج میں نے تمہارے دِین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے، اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔“
اس کی کاملیّت پر غور کریں کہ یہ حقوق کی بات کرتا ہے تو ماں کے رحم میں نمو پانے والے جنین سے لے کر اولاد، زوجَین، والدین، خویش و اقارب، پڑوسیوں، یتیموں، بیوائوں، مسافروں، غریبوں مسکینوں، قیدیوں، لونڈی غلاموں، غیر مسلموں، یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق سے بھی چشم پوشی نہیں کرتا۔ امریکہ اور یورپ میں وراثت کے قوانین کئی کئی جلدوں پر محیط ہیں لیکن جیسا کہ سابق امریکی صدر نکسن کے ایک مشیر، مدبّر، محقق، سفارت کار اور نومسلم دانشور فاروق عبدالحق (Robert Crane) نے کہا تھا کہ قُرآن پاک نے صرف دس بارہ سطروں (تین چار آیات) میں وراثت کی تقسیم کو ایسی وسعت و حکمت کے ساتھ متعین کردیا کہ کسی وارث کے حق پر ذرّہ بھر زد نہیں پڑنے دی۔ اسی طرح زکوٰۃ و صدقات اور وراثت کے قانون کے ذریعے سرمائے کے ارتکاز اور دولت کی مال داروں کے درمیان گردش کو روکنے کا جیسا انتظام اسلام نے کیا اس کی نظیر دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔
کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ (حشر:7) ۔
”تاکہ وہ تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔“
آج کی بہت متمدن اور بزعمِ خود انتہائی مہذب اقوام میں بھی عدل کا ایساگہرا، ہمہ گیر اور بے لاگ مفہوم نہیں ملتا ہے جیسا اسلام نے دیا اور اس مفہوم کو عملی جامہ پہنایا۔ اپنی رعایا کے لیے ترقی یافتہ ملکوں میں عدلیہ کا صاف ستھرا شعبہ ملتا ہو گا، لیکن قومی اور سماجی سطح پر ایسی پالیسی دنیا کے کسی کونے میں نہیں ملتی کہ خواہ دشمن کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو، کوئی روش، رویہ، جذبہ، مصلحت و مفاد عدل سے انحراف کا جواز نہ بنے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَٓائَ بِالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْاط اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لَلتَّقْوٰی وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ٭ (المآئدۃ:8)۔
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو، یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔“
پندرہ سو سال قبل تو درکنار آج کی تہذیبی چکاچوند اور حقوقِ انسانی اور عدل و انصاف کے بلند بانگ تذکروں کے باوجود کوئی حاکمِ وقت ایسا نہیں جو خود یہ اعلان کرے کہ اس کی اولاد میں سے اگر کوئی کسی جرم کا ارتکاب کرے گا تو قانون کے مطابق اسے سزا دی جائے گی۔ یہ اُسی کامل و اکمل نظام کی خصوصیت ہے جو محمدﷺ نے قائم کیا تھا کہ فتحِ مکہ کے بعد حضورؐ کے وہاں قیام کے دنوں میں ایک معزز قبیلے بنو مخذوم کی ایک عورت نے چوری کی۔ اس کے قبیلے والوں نے اس عورت کو اسلامی قانون کے مطابق سزا سے بچانے کی کوشش کی تو رسول اللہﷺ نے ایک خطبہ دیا اور فرمایا:۔
”لوگو! تم سے پہلے قومیں اسی طرح تباہ ہوئیں کہ ان میں جب کوئی بااثر آدمی چوری (یا کسی اور جرم کا ارتکاب) کرتا تو وہ اسے سزا سے بری کردیتے تھے، لیکن اگر کمزور طبقے کا کوئی آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کردی جاتی تھی۔ اللہ کی قسم، اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ ؓنے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“(صحیح بخاری)۔
انصاف کے اس بلند معیار کو دیکھتے ہوئے ایک ممتاز برطانوی ڈپلومیٹ اور نومسلم اسکالر حسن عبدالحکیم (Charles Le Gai Earon)نے اپنے ایک فاضلانہ مقالے میں امن اور عدل کو اسی طرح اسلام کے ارکان میں شمار کیا تھا جیسے کلمۂِ شہادت، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج اسلام کے اساسی ارکان ہیں۔ نظام میں اس کاملیت کی وجہ سے ہی ایمان والوں سے کہا گیا:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ٭(بقرۃ:208)۔
”اے ایمان والو،تم پورے کے پورے اسلام میں آ جائو اور شیطان کی پیروی نہ کروکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
اگر کوئی کنبہ کسی تعمیراتی کمپنی کو اپنا گھر بنانے کا ٹھیکہ دیتا ہے تو اس میں رہائش اسی وقت اختیار کرتا ہے جب وہ کمپنی اسے پوری طرح یقین دلاتی ہے کہ نوتعمیر شدہ گھر ہر اعتبار سے مکمل ہے۔ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونے کا جو کہا گیا ہے تو عقل و منطق کے لحاظ سے اس کا مطلب یہی ہے کہ ”اسلام“ نام کے اس گھر میں روحانیت و ایمان کا کوئی شعبہ، عبادات کی کوئی جہت، معاملات و تعلقات کی کوئی سمت، تمدن کا کوئی گوشہ نامکمل نہیں ہے۔ اب کچھ یہاں کچھ وہاں اور کبھی یہاں کبھی وہاں والی روحانی و ایمانی اور عملی آوارگی قابلِ قبول نہیں رہی۔ یہ امر بھی واضح کردیا گیا کہ اسلام کے نام کا یہ مستقر ہی تمہارے لیے مستقل ٹھکانے کے طور پر اللہ کی پسندیدہ جگہ اور پسندیدہ دِین ہے : اِنَ الدِّیْنَ عِنْدِ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ (اٰل عمران:19’)”اللہ کے نزدیک دین اب صرف اسلام ہے۔“
جب اللہ کا پسندیدہ دین اسلام ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ دین کے ساتھ انسانوں کے گھڑے ہوئے درجنوں ادیان کو بھی سندِ قبولیت بخشے! چنانچہ یہ غلط فہمی بھی دور کردی گئی اور ارشاد فرمایا :۔
وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلُ مِنْہُ ج وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ٭(اٰل عمران:85)۔
”اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اُس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔“
٭اظہار و غلبۂِ دِین
اِمام الانبیاء ﷺکو جس زوردار تاکید کے ساتھ قرآن پاک میں اِظہار و غلبۂِ دین کے مشن کا مکلّف بنایا گیا یہ بھی آپ ؐ کی فضیلت کی دلیل ہے۔ انسانیت کی فلاح و بھلائی اور دُنیا و آخرت کی کامیابی کا اصل معیار اور بنیادی اصول اسلام ہے تو پھر اس کا پردوں میں سُکڑا سہما اور دَبا ہوا رہنا اللہ کی مرضی اور ربّانی حکمت و دانائی کے خلاف اور انسانوں کی مصلحت و مفاد کے منافی تھا۔ اسلام چھپانے کی چیز نہیں ہے۔ کسی نبی نے نہ اس کی تبلیغ میں مداہنت برتی اور نہ اس کی تعلیمات کا کوئی حصہ معطل کیا۔ لیکن اظہار و غلبہ کا مطلب صرف دعوت و تبلیغ نہیں بلکہ جس دین کی دعوت و تبلیغ کی جا رہی ہو اسے ایک نظامِ زندگی کے طور پر کارفرما اور نافذ کردینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس نے اپنے آخری نبی ؐ کو صرف اس بات کے لیے نہیں بھیجا کہ وہ بس علانیہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیں، بلکہ انہیں اس امر کا مکلف بنادیا کہ وہ دین اور نظام کا مزاج اور درجہ رکھنے والے ہر دوسرے نظام پر دینِ حق کو غالب کرکے چھوڑیں۔ سورہ صف، سورہ فتح اور سورہ توبہ میں رسول اللہﷺ کی نبوی جدوجہد کے تین بہت ہی اہم اور نازک موقعوں پر، جب اہلِ کتاب اور مشرکین اس چراغ کے گل ہوجانے اور اس چمن کے اجڑ جانے کی امید کررہے تھے، دوٹوک انداز میں بتایا گیا:۔
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ٭(توبۃ:33)۔
”اور وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجاتاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔“
مولانا امین احسن اصلاحی ؒ سورہ توبہ کی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”نبیﷺ کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ سرزمینِ حرم شرک کی ہر آلائش سے پاک ہوجائے اور دینِ حق کے سوا کوئی اور دین یہاں دینِ غالب کی حیثیت میں باقی نہ رہے تاکہ دعوتِ ابراہیمی کا یہ مرکز دعائے ابراہیمی کے بموجب، تمام عالَم کے لیے ہدایت اور روشنی کا سرچشمہ بن جائے۔۔۔ جس طرح یہ اہلِ کتاب اپنی پھونکوں سے خدا کے چراغ کو گل نہ کرسکیں گے اسی طرح مشرکینِ عرب کی کوششیں بھی اس دین کو مغلوب نہ کرسکیں گی، بلکہ ان کی کوششوں کے علی الرّغم اس سرزمین پر یہ دین غالب ہو کے رہے گا۔“ (تدبرِ قُرآن جلد سوم)۔
مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر میں لفظ ’دِین‘ کے مفہوم کی وضاحت کے ساتھ اس کے اِظہار و غلبہ کے بارے میں لکھتے ہیں:۔
”متن میں ’الدین‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ’جنسِ دین‘ کیا ہے۔ دین کا لفظ، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں، عربی زبان میں نظامِ زندگی یا طریقِ زندگی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کو قائم کرنے والے کو سند اور مُطاع تسلیم کرکے اس کا اتباع کیا جائے۔ پس بعثتِ رسول کی غرض اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اور دینِ حق کو وہ خُدا کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام طریقوں اور نظاموں پر غالب کردے۔ دوسرے الفاظ میں رسول کی بعثت کبھی اس غرض کے لیے نہیں ہوئی کہ جو نظامِ زندگی وہ لے کر آیا ہے وہ کسی دوسرے نظامِ زندگی کے تابع اور اس سے مغلوب بن کر اور اس کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں میں سمٹ کر رہے، بلکہ وہ بادشاہِ ارض و سما کا نمائندہ بن کر آتا ہے اور اپنے بادشاہ کے نظامِ حق کو غالب دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا نظامِ زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے خدائی نظام کی بخشی ہوئی گنجائشوں میں سمٹ کر رہنا ہے، جیسا کہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمیوں کا نظامِ زندگی رہتا ہے۔“
(تفہیم القرآن جلد دوم)
اس دینِ حق اور نظامِ زندگی کی مکمل جلوہ آرائی اور کارفرمائی کے لیے رسول اللہﷺ کی قیادت میں ریاستِ مدینہ کی بنیاد پڑی تھی جو دنیا کی پہلی دستوری ریاست تھی۔ حضورﷺ اس ریاست کے حاکم تھے۔ اس دینِ حق کے نظام ہی کو دنیا اسلام کے نام سے جانتی ہے۔ شریعت یا اس ریاست کے قانون و دستور کی اصل روح ایمان و تقویٰ تھی۔ اخلاق اس کے گرد کھڑی حفاظتی باڑ تھی۔ تدریج اس کا فطری اور طبعی اصول تھا۔ یعنی یہ شریعت ایک دَم تھوپ نہیں دی گئی تھی بلکہ تعلیم و تلقین، تزکیہ وتذکیر، تربیت اور رہنمائی کے ذریعے ریاست کے شہریوں کے دلوں میں اس نظام کی طلب و تڑپ پیدا کی گئی تھی۔ ایک ایک کرکے اس کے قانون نافذ ہوئے تھے۔
اس نظام میں حقوق و فرائض کے دائرے مقرر تھے۔ آبادی کی ساری اکائیوں کے درمیان بقائے باہمی کے قاعدے کے مطابق تعلقات کی بنیادیں فراہم کی گئی تھیں۔ اس کے دستور میں حاکم و محکوم کے حقوق و فرائض اور اختیارات کی پوری وضاحت کی گئی تھی۔ اس ریاست کے باشندوں کی انفرادی اور اجتماعی اور خاندانی زندگی کے لیے عقائد اور اخلاقیات کا پورا نظام فراہم کیا گیا تھا۔ اس میں تجارتی اور معاشی ضوابط تھے۔ سود حرام قرار دیا گیا تھا اور تجارتی منافع جائز اور حلال ٹھیرایا گیا تھا۔ موجودہ بزعمِ خود بہت ہی مہذّب کہلانے والی قومیں بھی اپنی وحشت ناک جنگوں میں سارے قاعدے قانون بھول جاتی ہیں لیکن محمد عربیﷺ کی قائم کردہ ریاست میں جنگ خون آشامی اور درندگی کا نام نہیں تھا۔ جنگ کی نوبت حضور پاک ؐ کی مدنی زندگی میں ہی آئی۔ دس سال کے عرصے میں زیادہ تر دفاعی اور بہت کم اقدامی جنگیں لڑی گئیں۔ بدر و اُحد اور احزاب و حنین اور جنگ ِ موتہ میدان کے معرکے تھے۔ باقی وہ جنگی مہمیں تھیں جو سرکش اور شریر قبائل کی فتنہ انگیزیوں کے تدارک کے لیے بھیجی گئیں۔ دس سال کی مدنی زندگی میں ان سب کی کل تعداد 80کے قریب بنتی ہے۔ان میں 259 مسلمان اور759مشرک اور کافر مارے گئے۔ شہداء اور مقتولین کی یہ کل تعداد 1018بنتی ہے۔
قرآن مجید کے صریح ارشادات اور خود حضورﷺ کی احادیث سے یہ حقیقت مترشّح ہوتی ہے اور اسی کی روشنی میں ہمارا ایمان ہے اور بہت سے ٹھوس وجوہ بھی اس امر کی تائید کرتی ہیں کہ تمام انبیاء و رُسُل اور دیگر ساری مخلوقات پر سیّدُ الابرار حضرت محمدﷺ کو فضیلت حاصل ہے۔ اظہار و غلبۂِ دِین ان فضیلتوں میں سے ایک فضیلت ہے۔
٭کتاب اور شریعت کے لحاظ سے علماء و مفسرین کی رائے ہے کہ آیات اور نشانیاں خواہ معجزات کی صورت میں ہوں یا اس سے مراد کتاب کی آیات ہوں، یہ جتنی تعداد میں اللہ تعالیٰ نے خاتِمُ النَّبِیّین کو دیں، کسی اور نبی کو نہیں دیں۔ جیسی جامع اور کامل شریعت پر مشتمل کتاب قُرآن مجید آپؐ کوعطا ہوئی ایسی کتاب کسی اور رسول کو نہیں ملی۔ زبور داود علیہ السّلام کو، اور تورات موسیٰ علیہ السّلام کو دی گئی۔ تورات کتابِ شریعت و احکام ہے لیکن اس میں گنے چنے احکام ہیں۔ قُرآن کے احکام قیامت تک آنے والے جدید زمانوں کے تقاضوں سے جتنے ہم آہنگ اور زندگی کے ہر شعبے پر جیسے حاوی ہیں ویسے زبور و تورات کے احکام نہیں ہیں۔ جیسی صراحت و وضاحت قُرآنی ہدایات و ارشادات میں ہے ویسی سابق کسی الہامی کتاب میں نہیں ہے۔
اِنَّ ھٰذَ الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ۔۔۔٭
(بنی اسرائیل:9)
”حقیقت یہ ہے کہ یہ قُرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔“
وَلَقَدْ صَرَفْنَا فِیْ ھٰذَ الْقُرآنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط وَ کَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْ ئٍ جَدَلًا٭
(کھف:54 )
”ہم نے اس قُرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔“
شریعتِ محمدیؐ کی ساری خصوصیات کا احاطہ کرنا مشکل ہے، تاہم ان میں سے چند ایک کا تذکرہ ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ شریعت انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے اور اس پر عمل انتہائی آسان ہے۔ شریعت دینے والا اللہ اپنے بندوں کے لیے آسانی چاہتا ہے۔
اَللّٰہُ یُرِیْدُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ۔۔ (بقرۃ:185)۔
”اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔“
وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ط (الحج:78) یعنی اس نے اس دین و شریعت کا مزاج یہ بتایا کہ اس میں تنگی نہیں بلکہ وسعت رکھی گئی ہے۔ حرج اِنشراح کا متضاد ہے جس کا مطلب طبع میں پیدا ہونے والی بیزاری، صعوبت، شدت، تنگی یا گھٹن اور حبس ہے۔
اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کے بندے دینی فرائض و واجبات کا کتنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ چنانچہ اس نے اپنی بندگی کے اتنے ہی تقاضے انسان پر لازم کیے جن کو وہ آسانی سے برداشت کرسکے۔ انسان کی طاقت و توانائی سے بڑھ کر اسے کسی چیز کا مکلّف نہیں بنایا گیا ہے:۔
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسعَھَا ط (بقرۃ:286) ”اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔“
پہلی قوموں کے اندر شرعی امور میں جو تنگی اور مشکل پیدا ہوئی اس کے دو سبب تھے۔ ایک یہ کہ لوگوں نے خود اپنے لیے مصنوعی ضابطے گھڑے اور بے ہودہ رسمیں ایجاد کرلی تھیں۔ جو کچھ ان کے نبیوں کی تعلیمات میں محض نفل تھا اسے انہوں نے فرض کا درجہ دے کر اپنے لیے مشکل پیدا کی۔ عیسائیت میں چوتھی صدی عیسوی سے چھٹی صدی عیسوی تک رہبانیت کا جو سیلاب آیا ہوا تھا وہ نہ اللہ کی تعلیم تھی اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سنت، بلکہ وہ ان کے تصور کے مطابق خُدا پرستی کی علامتیں تھیں، لیکن حقیقت میں نفس کُشی کی خودساختہ وحشیانہ مشقیں تھیں جن میں اتنا تجاوز ہوا کہ آخر خود ان کے لیے ان کا بوجھ اٹھانا ممکن نہ رہا۔
وَ رَھْبَانِِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ اِلَّا ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَاج
(حدید:27)
”اور رہبانیت اُنہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اُسے ادا نہ کیا۔“
ان پر تنگی اور مشکل مسلط کرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اس کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر بھی انہیں کچھ سخت تعلیمات کا پابند بنایا گیا تھا۔نرمی،سہولت، سادگی اور عدمِ تصنّع شریعتِ محمدیؐ کی اصل روح ہے۔ سابقہ شریعتوں کی مشکلات پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ ان میں سے بعض قومیں اپنے مال کا ایک چوتھائی حصہ زکوٰۃ کی مد میں نکالنے کی پابند تھیں۔ اِسلام میں ایک سال تک پڑے رہنے والے نقد مال کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ مقرر ہوئی۔ بعض اُمتوں میں روزے کا وقت پورے دن رات پر محیط تھا۔ اسلام نے اس کی مدت سحری سے غروبِ آفتاب تک رکھی، گرمیوں سردیوں میں روزے کے اوقات میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ پہلی قوموں کے لیے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا، رسول اللہﷺ اور آپؐ کی اُمّت کے لیے اسے حلال کردیا گیا۔ آدم علیہ السّلام کے وقت اور اُن کے بعد طویل مدت تک قربانی کے جانوروں کا گوشت جلا دیا جاتا تھا، لیکن حضور ؐ کی شریعت میں یہ کھانے کی اجازت ہے۔ عیسائیت، یہودیت، ہندوازم اور بدھ مت وغیرہ میں عبادت کلیسائوں، مندروں اور مخصوص معبدوں ہی میں کی جا سکتی ہے، لیکن اسلام میں زمین کے جس حصے میں نماز کا وقت ہوجائے، وہاں کھلی جگہ نماز کی اجازت ہے۔ مخصوص حالات میں سواری پر بیٹھے ہوئے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ قبلہ کا تعیّن نہ ہوسکے تو جدھر قبلہ کی سمت کا غالب گمان ہو ادھر رُخ کرکے نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ پہلی اُمتوں میں تیمّم کی رعایت نہیں تھی، لیکن اُمّت محمدیؐ کو یہ سہولت دی گئی کہ وضو کے لیے پانی میسّر نہ ہو تو پاک مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے اور کہنیوں تک بازوؤں پر پھیر لیے جائیں۔
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ؐ کی بعثت کی ایک غرض یہ تھی کہ خاص طور پر ماضی قریب کی حاملِ شریعت دو قوموں یعنی یہود اور نصاری نے دین کے نام پر خلافِ فطرت قاعدوں کی جو بیڑیاں اپنے عوام کو پہنا رکھی ہیں ان سے انہیں نجات دلائی جائے۔ اللہ کا ارشاد ہے:۔
’اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطّیِبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْوَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط فَاالَّذِیْنَ عَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَ اتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ اُولٰٓئِکَھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ٭(الاعراف:157)۔
”جو اِس پیغمبر، نبیِ اُمّی ؐ کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے، اور بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا جو لوگ اِس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔“
مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن جلد اوّل میں اغلال یعنی بندشوں کی تشریح بہت مختصر مگر بڑے جامع انداز میں کی ہے:۔
”یعنی اُن کے فقیہوں نے اپنی قانونی موشگافیوں سے، اُن کے راہبوں نے اپنے زُہد کے مبالغوں سے اور اُن کے جاہل عوام نے اپنے توہمات اور خود ساختہ حدود و ضوابط سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں تلے دبا رکھا ہے اور جن جکڑبندیوں میں کَس رکھا ہے یہ پیغمبر (محمدﷺ) وہ سارے بوجھ اتار دیتا ہے اور وہ تمام بندشیں توڑ کر زندگی کو آزاد کردیتا ہے۔“
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے بھی تدبّرِ قُرآن جلد سوم میں اس ٹکڑے کی عمدہ تفسیر کی ہے:۔
”یہود نے اپنے اوپر بہت سی خودساختہ پابندیاں لاد رکھی تھیں اور بعض پابندیاں اُن کی سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اُن پر عائد کردی گئی تھیں۔ اُن ساری چیزوں کے دُور ہونے کا انحصار آخری رسول کی بعثت پر تھا۔ چنانچہ آنحضرتﷺ کی بعثت نے اُن کی ساری زنجیریں کاٹ دیں لیکن انہوں نے اپنی شامتِ اعمال کے سبب سے اس نعمت کی قدر نہ کی۔“
(جاری ہے)

Share this: