سیّدنا محمد ﷺ کی تمام مخلوقات پرفضیلت

Print Friendly, PDF & Email

تیسری قسط

٭رحمۃ للعالمین
زرتشتیت،کنفیوشسزم، جین مت، ہندومت اوربدھ دھرم جیسے قدیم مذاہب ہی نہیں بلکہ یہودیت اور عیسائیت جیسے دو آسمانی مذہب بھی شخصیات سے منسوب ہوکر اپنی اصل تعلیمات اور روح سے بیگانہ ہوگئے تھے۔ سب خود تراشیدہ تصورِ خدا سے پھوٹنے والے رسم و رواج اور پوجا پاٹ کی پیچیدہ اور غیر فطری جاہلانہ رسوم کے گرداب میں پھنسے ہوئے کسی نہ کسی انتہا میں مبتلا ہوگئے تھے۔ کسی نے دو دو اور تین تین خُدا بنا رکھے تھے، اور کسی کے خدائوں کی تعداد تینتیس کروڑ سے بھی متجاوز تھی، اور کسی کے خُدا کسی گنتی میں ہی نہیں آتے تھے۔ ان حالات میں اِمامُ الانبیاء حضرت محمدﷺ کی بعثت ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ٭(الانبیاء:107)۔
”اے نبیؐ، ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔“
اور ساتھ بتا دیا کہ خدا ایک ہے اور وہی حقیقی معبود ہے:
قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ج فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ٭ (الانبیاء:108)۔
”ان سے کہو: میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا خدا صرف ایک خدا ہے، پھر کیا تم سرِ اطاعت جھکاتے ہو؟“
وہ اِلٰہٌ وَّاحِد رَبُّ الْعٰلَمِیْن ہے۔ تنہا وہی سارے جہانوں کا خالِق ومالِک اوراکیلا وہی حاکم اور رازق ہے۔ وہی مہاساگر ہے جس سے سارے بحر الکاہل، سارے اوقیانوس اور سارے قلزم نکلے۔ اسی نے محمدﷺ کو رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ اور قُرآن کو ھُدًی لِّلنَّاسِ بنا کر ساتھ جُڑی دو بے کنارجھیلیں جاری کردیں جن سے عِلم و معرفت، دعوت و تبلیغ،تزکیہ و تربیت اوراِصلاح و راستی کی لا تعداد نہریں پھوٹتی رہیں گی۔
اِمامِ لُغت راغب اصفہانی نے رحمت کا مطلب ’احسان‘ بتایا ہے۔ دنیا ہدایت کی پیاسی اور ایمان کی روشنی کی محتاج تھی۔ مخلوقِ خدا سیدھی راہ سے بھٹکی ہوئی اور اخلاق کی حقیقی روح سے ناآشنا تھی۔ اس پر یہ اللہ کا احسان و کرم اور اُس کی عنایت و نوازش تھی کہ صرف عرب کے بیابانوں پر ہی نہیں بلکہ سارے ویرانۂِ انسانیت پر رحمت کی گھٹائیں برسنے لگیں، جن سے آدمیّت کی کھیتی قیامت تک سیراب ہوتی رہے گی۔
٭خاتِمُ النّبِیین
جس طرح حضرت آدم علیہ السّلام کو پہلا نبی ہونے کی عزّت بخشی گئی اسی طرح رحمۃُ لّلعالمین کا یہ اعزاز ہے کہ آپؐ کو خاتِمُ النّبِیّین کا لقب ملا۔آپﷺ مکمل آسمانی ہدایت کے آخری حامل تھے۔دِین مکمل ہو گیا اور ہدایت کا سامان بہم پہنچ گیا تومنصبِ نبوّت و رسالت کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ اس لیے نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔
مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتِمُ النَّبِیّیٖنَ ط وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَی ئٍ عَلِیْمًا٭(الاحزاب:40)۔
”(لوگو) محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتِمُ النّبِیّین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔“
یہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے ختمِ نبوّت و رسالت کی حتمی اور دوٹوک نص ہے، لیکن عُلمائے اسلام نے قُرآن پاک میں بیسیوں اور اشارے اخذ کیے ہیں جن سے حضور ﷺ کے آخری نبی اور رسول ہونے کی دلیل نکلتی ہے۔اسی سورہ الاحزاب میں ہے:
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّیٖنَ مِیْثَاقَھُمْ وَ مِنْکَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَ اَخَذْنَا مِنْھُمْ مِیْثَاقًا غَلِیْظًا٭(الاحزاب:7)۔
”اور( اے نبیؐ) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور نوحؑ، ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اورعیسیٰؑ ابن مریم سے بھی۔سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں۔“
احادیث سے رسول اللہ ﷺ کی نبوی زندگی میں ایسے کسی عہد کی شہادت نہیں ملتی۔قرینِ قیاس یہی ہے کہ حضورؐ کی ولادت و بعثت سے بہت پہلے عالمِ ارواح میں عام ارواح کی طرح سارے پیغمبروں کی ارواح کو بھی وجود و و شعور بخش کر بطورِ خاص اُن سے یہ عہد لیا گیا جیسے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کا سوال ساری انسانیت کے سامنے رکھ کر قَالُوْا بَلَا کا جواب یا عہد لیا گیا تھا۔ نبیوں کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر ختم کردیا۔ اس آیت میں سارے نبیوں سے عہد لینے کا ذکر ہے۔ لیکن کہیں ادنیٰ سا اشارہ بھی نہیں ملتا کہ آپؐ کے بعد نبی بن کر آنے والی کوئی ہستی اس عہد میں شامل تھی۔ نبوّت چونکہ آپؐ پر ختم ہورہی تھی اس لیے عہد کی بات بھی آپﷺ پر ختم کی گئی۔
سورہ بقرہ کی چوتھی آیت میں متقین کی 6 صفات بتائی گئی ہیں، ان میں چوتھی پانچویں صفت یہ بیان ہوئی کہ:۔
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج
”جو کتاب تم پر نازل کی ہے (یعنی قُرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں اُن سب پر ایمان لاتے ہیں۔“
نبی اکرم ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب پر اور آپؐ سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان لانا تو متقین کی صفت ہے، لیکن چونکہ آپؐ کے بعد کوئی کتاب نازل ہونے والی نہیں تھی، اس لیے آپؐ کے بعد کی کسی کتاب پر ایمان کو ان صفات میں شمار نہیں کیا گیا ہے۔
ہم نے عمارت کے کونے میں ایک پتھر کی جگہ خالی رہ جانے والی حدیث اس اشارے کے ساتھ تکمیلِ دین کے عنوان کے تحت درج کی تھی کہ محدّثین کے نزدیک یہ دراصل ختمِ نبوّت کی دلیل ہے۔ یہاں ہم اسے دوبارہ ختمِ نبوّت کے مضمون کے تحت نقل کررہے ہیں۔
مَثَلِیْ وَ مَثَلُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَی بُیُوْتًا فَاَحْسَنَھَا وَ اَجْمَلَھَا وَ اَکْمَلَھَا اِلَّا مَوضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَوَایَاھَا، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ وَ یُعْجِبُھُمُ الْبُنْیَانُ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَّا وَضَعْتَ ھَاھُنَا لَبِنَۃً فَیُتِمَّ بُنْیَانَکَ ؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ ﷺ : فِکُنْتُ اَنَا اللَّبْنَۃَ٭
”میری اور مجھ سے پہلے گزرے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنائے اور انہیں بہت ہی عمدہ، خوبصورت بنایا، اور ہر لحاظ سے مکمل کیے۔ مگر ان کے کونے کی اینٹ چھوڑ دی۔ لوگ جو انہیں دیکھنے کے لیے آتے وہ ان کے گرد چکر لگاتے، اُنہیں یہ عمارت بہت اچھی لگتی تھی، پس وہ (کونے میں چھوڑی ہوئی خالی جگہ کو دیکھ کر) کہتے: کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ یہاں پتھر لگا کر عمارت کو مکمل کردیا جاتا؟ محمدﷺ نے فرمایا:’میں وہ اینٹ تھا (جسے اس خالی جگہ لگنا تھا)۔“ (مسلم)۔
واضح رہے کہ اس مقدس عمارت کے کونے کے اس تکمیلی پتھر کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے بھی یہ سوال اٹھایا تھا:
”یسوعؑ نے ان سے کہا کیا تم نے کتابِ مقدّس میں کبھی نہیں پڑھاکہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا؟یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔“(متّی:40:42)۔
مولانا امین احسن اصلاحی ؒختمِ نبوّت والی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔
”ختمِ نبوّت اُس تکمیلِ دین کا لازمی اور بدیہی تقاضا ہے جس کا ذکر اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ والی آیت میں ہوا ہے۔ اگر دین کوئی ایسی چیز ہوتا جس کی تکمیل کبھی ہونے والی ہی نہ ہوتی تب تو بے شک نبوّت و رسالت کا سلسلہ جاری رہتا، لیکن جب دین کی تکمیل ہوچکی ہے اور اس بدیہی حقیقت کے انکار کی جرأت کوئی بھی نہیں کرسکتا تو پھر اس کے لازمی نتیجے کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ نبوّت و رِسالت کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ اِسی حقیقت کو حضور نے اس حدیث میں واضح فرمایا ہے اور اتنے مختلف طریقوں سے واضح فرمایا ہے کہ کسی معقول آدمی کے لیے اس میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنَّ الرِّسَالَۃَ وَ النّبُوَّۃَ قَدْ اِنْقَطَعَتَ فَلَا رَسُوْل بَعْدِیْ وَ لَا نَبِیَّ…٭
’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’بے شک رِسالت و نبوّت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔ میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔“ (ترمذی) }مولانا اصلاحی ؒنے حدیث کا اتنا حصہ ہی نقل کیاہے {
٭ رسالت عالمگیر اور دائمی نبوّت
محمد مصطفیٰﷺ سے قبل جتنے انبیاء و رُسُل آئے وہ کسی خاص علاقے، کسی خاص قوم، کسی قبیلے اور نسل کی ہدایت پر مامور ہوئے تھے۔ لیکن نبیِ آخِرُالزّماںﷺ کو یہ خاصیت و عظمت ملی کہ آپؐ کی رسالت آپؐ کے بعد آنے والی ساری انسانیت اورقیامت تک سارے زمانوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود یہ سند آپؐ کو ان الفاظ میں عطا فرمائی:۔
ا۔قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا نِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ج لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ٭(الاعراف:158)۔
”اے محمدؐ، کہو کہ ’اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبیِ اُمّی پر جو اللہ اور اُس کے ارشادات کو مانتا ہے، اور پیروی اختیار کرو اس کی، امید ہے تم راہِ راست پا لو گے۔“
وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًً وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ َا یَعْلَمُوْنَ٭ (سبا:28)۔
”اور (اے نبیؐ) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“
وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ٭ (الانبیاء:107)۔
”اے نبیؐ، ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“
آپﷺ کو خاتم النبیین کا منصب بخش کر اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر یہ طے کردیا کہ آسمانی ہدایت کی طلب گار انسانیت کو اب اُس نورِ ہدایت کی روشنی میں زندگی گزارنی ہوگی جس کا سرچشمہ آپؐ پر نازل ہونے والی وہ کتاب ہے جسے ھدی للناس قرار دیا گیا۔ارشاد ہوا ہے:۔
اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ج فَمَنِ ھْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ ج وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا ج وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ٭(الزّمر:41)۔
”اے نبیؐ، ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتابِ برحق تم پر نازل کر دی ہے۔اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا، اور جو بھٹکے گااُس کے بھٹکنے کا وبال اُسی پر ہو گا۔تم اُن کے ذمہ دار نہیں ہو۔“
اب قیامت تک بنی نوعِ انسان کو مصلحین اور داعیانِ حق کی طرف سے، یہاں تک کہ ہوائوں اور فضائوں سے یہی صدا آتی سنائی دے گی:۔
وَ اتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ٭ (الزّمر:55)۔
”اور پیروی اختیار کرو اپنے رَب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔“
آنے والے ہر دور میں اگر کسی کو اسلام کا عملی نمونہ دیکھنے کی حاجت ہوگی تو وہ آپؐ کی سیرتِ پاک کے نقوش سے رجوع کرسکے گا۔ آپؐ کو اسوۃ حسنۃ یعنی بہترین نمونہ بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اس اُسوہ یا نمونہ کی ایک ایک حرکت اور ادا اور ایک ایک لفظ کو محفوظ کرلینے کا ایسا زبردست اہتمام ہوا ہے کہ تاریخ میں کسی اور بشر کی زندگی کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ایسی نظیر نہیں ملتی۔ اگر آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا ہوتا تو وہ اِس اعلیٰ نمونے سے ایک رمق بھر بڑھ کر نہ دکھا سکتا۔ قیامت کے قریب جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو وہ کوئی نئی تعلیم لانے کے بجائے محمد عربیﷺ کے ایک اُمتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔
٭اللہ اور اس کے فرشتے آپﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں
اللہ نے اہلِ ایمان کو اپنے حبیبِ محمد بن عبداللہﷺ کے بارے میں بتایا کہ اُن کی شان و منزلت اتنی بلند ہے کہ وہ اپنے نبیؐ پر خود درود و سلام بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی درود سلام بھیجتے ہیں۔ یہ اللہ کی اپنے رسولؐ کے لیے محبت کا ثبوت ہے، اور حضورؐ کے عُلوِشان اور بلندیِ شرف و اِکرام کی دلیل ہے۔ یہ ایمان کی پکار اور محسنِ انسانیتﷺ کے احسان پر اظہارِ تشکر کا تقاضا ہے کہ ایمان والے بھی آپؐ پر درود و سلام بھیجیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے تو اب یہ اہلِ ایمان کا اختیاری نہیں بلکہ لازمی معاملہ ہوگیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں نبی اکرمﷺ کی محبت و توقیر ہے وہ آپؐ پر درود بھیجے۔
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا٭ (الاحزاب:56)۔
”اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔“
مولانا مودودیؒ نے یُصَلِّیْ اور یُصَلُّوْنَ کے معنوں میں بندوں کے مراتب کا لحاظ رکھتے ہوئے فرق کیا ہے۔ انہوں نے اللہ اور اس کے فرشتوں کے نبی پر یُصَلُّوْنَ کے معنی’درود بھیجتے ہیں‘ لکھے ہیں اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کے یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ کے معنی میں لکھا ہے:۔
”اللہ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ پر بے حد مہربان ہے، آپؐ کی تعریف فرماتا ہے، آپؐ کے کام میں برکت دیتا ہے،آپؐ کا نام بلند کرتا ہے اور آپؐ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے۔ ملائکہ کی طرف سے آپؐ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپؐ سے غایت درجے کی محبت رکھتے ہیں اور آپؐ کے حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں۔
اہلِ ایمان کی طرف سے آپؐ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی آپؐ کے حق میں اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپؐ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔“ (تفہیم القرآن جلد سوم)۔
اس سے قبل آیت نمبر 43 میں ملتے جلتے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی اہلِ ایمان پر صلوٰۃ کی بات آئی ہے:۔
ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا٭(الاحزاب:43)۔
”وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اُس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔“
اِبن کثیرؒ نے یہاں یُصَلِّی عَلَیْکُمْ کا مفہوم و مقصد تَھَیَّج بتایا ہے۔ یعنی بندوں میں ظُلمتوں سے نکل کر نور (ہدایت) کی طرف جانے کے لیے اللہ کے ذکر اور اس کی تسبیح کا ذوق و شوق ابھارنے اور ان میں عمل کا جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لیے یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے لفظ یُصَلِّیْ عَلَیْکُم کا مطلب ”تم پر رحمت فرماتا ہے“ بتایا، اور جہاں فاعل فرشتے ہیں وہاں یُصَلُّوْنَ عَلَیْکُم کے معنی ”تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں“ لکھے ہیں۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے بھی تقریباً یہی مفہوم بتایا ہے:
”یہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرنے کی برکت بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اُس کے فرشتے بھی رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ یہ اُس رحمت کی برکت بیان ہوئی ہے کہ یہ اُسی کا فیض ہے کہ وہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ یہاں تاریکی سے مراد ظاہر ہے کہ عقائد و اعمال کی تاریکی، اور روشنی سے مراد ہدایت و شریعت کی روشنی ہے۔“ (تدبّرِ قرآن۔ جلد ششم)۔
پیر کرم شاہ ؒ نے ’ضیاء القرآن‘ میں لکھا ہے کہ اپنے بندے پر اللہ تعالیٰ کے صلوٰۃ بھیجنے کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں۔ ایک، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے اپنے مقبول بندے کی تعریف فرماتا ہے۔ دوسرے، اپنی رحمت نازل فرماتا ہے۔ اور فرشتوں کے صلوٰۃ بھیجنے کا یہ مفہوم ہے کہ وہ اس بندے کے لیے مغفرت اور بخشش کی التجائیں کرتے ہیں۔“
مفتی شفیعؒ صاحب نے معارِف القرآن میں سورہ الاحزاب کی آیت 56 کا جو ترجمہ کیا ہے وہ کسی قدر نامانوس سا لگتا ہے، کیوں کہ یہ تصور بجا طور پر راسخ ہے کہ رحمت کا نزول ہمیشہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، اس فعل کے فاعل بندے نہیں ہوتے، لیکن مفتی صاحب ؒ کا ترجمہ ہے:
”اللہ اور اُس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسول پر، اے ایمان والو! رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر۔“
مفتی شفیع صاحبؒ نے درود کے فقہی پہلوئوں پر ایک تفصیلی اور مفید بحث کی ہے۔
نبیﷺ پر درود چونکہ ایک دعا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ تکرار میں دعا اور ذکر دونوں کا ثواب شامل ہو جاتا ہے۔اس سے یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اَمَنُوْا ذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا کے تقاضے بھی پورے ہو جاتے ہیں اور بے حد اضافی سعادت یہ نصیب ہوتی ہے کہ نبی ﷺ سے وہ عقیدت و محبت بھی ثابت ہوجاتی ہے جس کی تاکیدقرآن و حدیث دونوں میں آئی ہے اور جو ایمان کی نشانی ہے۔فقہاء کے نزدیک ایک صاحبِ ایمان کے لیے زندگی میں حضورﷺ پر ایک بار درود بھیجنا فرض ہے۔رہا کثرت سے درود بھیجنا، تو اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کا انحصار اللہ کی توفیق اور آپؐ کے لیے دل کی تڑپ اور ایمان کی حرارت پر ہے۔ عام ایّام کے مقابلے میں جمعہ کے روز رسولِ پاکﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود کی فضیلت اور ثواب بہت زیادہ ہے۔ حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:۔
”رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’تمہارے دنوں میں افضل دن جمعہ ہے۔ اس روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، تمہارا درود مجھے پیش کیا جائے گا۔‘
(اوس بن اوس) کہتے ہیں کہ حاضرین نے عرض کی: ’یا رسول اللہ! ہمارے درود آپ کو کیسے پیش کیے جائیں گے جب کہ آپ کا جسد تو مٹی میں مل چکا ہو گا؟‘
حضورﷺ نے فرمایا: ’زمین پر یہ امر حرام کردیا گیا ہے کہ وہ انبیاء علیہمُ السلام کے جسموں کو چاٹ کر فنا کردے۔‘(ابو دائود)۔
درود کے کچھ دوسرے اہم مقامات بھی ہیں۔دعاسے پہلے اللہ کی تمجید و ثنا اور نبی ﷺپر درود کی تاکید خود حضور ؐ سے ثابت ہے۔
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:۔
”رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو نماز میں (قرینِ قیاس یہ ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد) دعا کرتے سنا۔ اس نے نہ تو اللہ کی تمجید بیان کی تھی اور نہ نبیﷺ پر درود پڑھا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’اس آدمی نے بڑی جلدی کی۔‘
پھر اُسے بلاکر یا کسی اور سے فرمایا: ’تم میں سے جب کوئی دعا کرنے لگے تو پہلے اللہ جل و عزَّ کی تمجید و ثنا بیان کرے، پھر نبیﷺپر درود پڑھے اور پھر جو کچھ جی میں ہے اللہ سے مانگے۔‘ (ابو دائود، ترمذی) ۔
عام دعائوں کے علاوہ نماز کے قعدۂِ اخیرہ میں تشہّد کے بعد درود پڑھنا بعض فقہاء کے ہاں سُنّتِ موکّدہ ہے۔ اِمام شافعی اور امام احمد بن حنبل ؒاسے واجب قرار دیتے ہیں۔ بعض اہلِ حدیث کے ہاں درمیانی قعدہ میں درود پڑھنا بھی لازم ہے۔ جمہور فقہاء کے نزدیک کسی محفل یا گفتگو میں جب حضورؐ کا ذکر آئے تو اگر مکمل نہیں تو کم از کم صلی اللہ علیہ وسلم کہنا واجب ہے۔کچھ بزرگوںنے اپنے ذوق کے مطابق کچھ درود گھڑ رکھے ہیں۔ لیکن مستند و مقبول درود وہی ہے جو حضورؐ نے خود سکھایا۔ ایک شخص نے آپؐ سے سوال کیا تھا کہ ہمیں صلوٰۃ و سلام، دو چیزوں کا حکم ہوا ہے، سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن صلوٰۃ کیسے پیش کریں؟ تب آپﷺ نے صلوٰۃ کے درج ذیل کلمات سکھائے تھے: ۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرٰھَیْمَ اِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیْدٌ٭اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرٰھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیدٌ٭
٭ صاحبِ خُلقِ عظیم
پچھلے صفحات میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ذات میں ایک بہترین نمونہ تھے۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا٭ (الاحزاب:21)۔
”در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔“
اللہ تعالیٰ نے سیّدُالابرار ﷺ کو جو معجزے عطا فرمائے اُن میں قرآن مجید سب سے بڑا اور ایک دائمی معجزہ ہے جس کی تاثیر کے تجربے اور مشاہدے کروڑوں مسلمان ہی نہیں بلکہ بہت سے غیر مُسلم بھی کرچکے ہیں، اور قیامت تک یہ تجربے اور مشاہدے کیے جاتے رہیں گے۔ دوسرا معجزہ جس نے آپﷺ کی دعوتی زندگی اور نبوی مشن میں کلیدی کردار ادا کیا وہ آپﷺ کا اعلیٰ اخلاق اور اس اخلاق کا جوہرِ خاص آپؐ کا صادق و امین ہونا تھا۔ سیرت کے اس پہلو نے آپؐ کے مؤقف کو قوت بھی بخشی اور اس میںکشش و تاثیربھی پیدا کی۔ کفر و شرک کے کئی قلعے تنہا آپؐ کے اخلاقی وصف سے فتح ہو گئے۔
آپﷺ ہمدردی، شفقت، نرم دلی، سادگی اور عجز و انکسار کا پیکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی شفقت و رحمت کی تصویر بظاہر ایمان والوں کو دکھائی ہے لیکن اس میں روئے سخن منکرینِ حق کی طرف ہے۔ ان کے لیے پیغام کی ایک رمز اس میں ہے کہ دیکھو محمد ؐاپنے ساتھیوں کے لیے جو کچھ ہیں، اگر تم بھی اس صف میں شامل ہوجائو تو ان کا تمہارے ساتھ برتائو بھی ایسا ہی ہو گا:
لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ٭ (توبۃ:128)۔
”دیکھو، تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔“
انہی صفات کو ایک اور پیرائے میں مسلمانوں کی جماعت کا شیرازہ قائم رہنے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا:
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ج وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبَ لَا انْفَضُّوْا مِنْ حَوْلَکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ٭(اٰل عمران:159)۔
”(اے پیغمبر) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تُند خواور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔ اِن کے قصور معاف کردو، اِن کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور دین کے کام میں اِن کو شریکِ مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر جم جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔“
انتقام لینے پر آپؐ نے ہمیشہ عفو و درگزر کو ترجیح دی۔ مخالفین نے دعوتِ اسلام کی مخالفت میں ہر اخلاقی پستی اور شخصی و اجتماعی گراوٹ کا ثبوت دیا، لیکن حضورﷺکو انہوں نے ایک مرتبہ بھی بلند مرتبۂِ اخلاق سے سرِمُو کے برابر بھی نیچے نہ دیکھا۔ کفار نے آپؐ کو شاعر کہا، کاہن اور جادوگر ہونے کی پھبتی کسی، لیکن وہ یہ کبھی نہ کہہ سکے کہ محمد ؐ جھوٹے اور خائن ہیں۔ دوسروں کے لیے بہترین نمونہ وہی شخصیت ہوسکتی ہے جو اپنے نیک اعمال اور پاکیزہ سیرت و اخلاق میں سب سے بلند درجے پر ہو۔ سیدالابرارﷺ کے اخلاق کی عظمت و بلندی کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوسکتی ہے کہ اس کی گواہی آپؐ کے رَب نے دی ہے:۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ٭(القلم:4)۔
”اور یقیناً تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔“
(جاری ہے)

Share this: