علامہ سید محمد فاروق القادری

Print Friendly, PDF & Email

چراغِ دیر و حرم بجھ رہے ہیں
دل جلائو کہ روشنی کم ہے

ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور سے تقریباً 10 کلومیٹر دور حاجی محمد اختیار خان عباسی نے 1174ھ میں گڑھی اختیار خان کے نام سے ایک قصبہ آباد کیا۔ اس علاقے کو یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ اس کی کوکھ سے بہت سی علمی، ادبی اور عبقری شخصیات نے جنم لیا جو مروجہ علوم سے بہرہ ور تھیں اور علم کے پیاسوں کی علمی تشنگی بجھانے کا سبب بنیں۔ اس قصبے میں علم و آگہی کے وہ چشمے پھوٹے جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام رقم کیا ہے۔ اپنی مردم خیزی کی وجہ سے یہ قصبہ بہت جلد اپنی تاریخی حیثیت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔
گڑھی اختیار خان کے قرب میں ایک کلومیٹر کے فاصلے پر شاہ آباد شریف کا آستانہ بھی ہے جو علمی و ادبی خدمات میں ایک حوالہ رکھتا ہے۔ اسی خانوادے کے چشم و چراغ پیر سید محمد فاروق القادری کی علمی، دینی اور ادبی خدمات اس قدر ہیں کہ ملک کے طول و عرض میں اپنے سرچشمہ علم سے بذریعہ قرطاس و قلم تشنگانِ علم کومستفید کیا۔ ان کا نام نامی اسم گرامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔
سید محمد فاروق القادری نامور عالم دین، محقق، شاعر، ادیب، صوفی سید سیف الدین مغفور القادری کے ہاں 1947ء میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم قصبہ گڑھی اختیار خان میں حاصل کی۔ میٹرک اور درس نظامی کی سند انوارالعلوم ملتان حضرت سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمیؒ سے حاصل کی۔ بی اے صادق ایجرٹن کالج بہاول پور سے کرنے کے بعد ایم اے عربی پنجاب یونیورسٹی سے 1969ء میں اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔ تاہم انہوں نے ایم اے اسلامیات اور ایم اے اردو کے امتحانات بھی پاس کیے۔ 1970ء میں آپ کے والدِ ماجد کی وفات کے بعد خانقاہ قادریہ شاہ آباد شریف گڑھی اختیار خان کے سجادہ نشین کی ذمہ داریاں آپ کے سپرد ہوئیں۔
دینی تعلیم میں آپ کے اساتذہ کی فہرست قدرے طویل ہے، یہاں پر صرف ضروری نام درج کیے جاتے ہیں، جن میں ڈاکٹر پیر محمدحسن، علم حدیث کے عالم مولانا شمس الحق افغانی، مولانا عبیداللہ سابق شیخ الجامعہ بہاول پور، استاذ العلما سراج الفقہا مولانا سراج احمد مکھن بیلوی، مولانا فیض احمد اویسی، عبدالرشید نعمانی کے نام بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔
یونیورسٹی کے اساتذہ میں علامہ علا الدین صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر حافظ احمد یار اور سیدابوبکر غزنوی جیسی علمی شخصیات سے کسب فیض کیا۔ علمی و ادبی شخصیات میں حکیم الامت حکیم محمد موسیٰ امرتسری، احسان دانش، شورش کاشمیری، ڈاکٹر سید عبداللہ کے علاوہ بہت سی دوسری اہم علمی شخصیات سے بھی تعلق رہا۔ آپ کے حلقہ احباب میں پیر علامہ سید اقبال احمد فاروق، پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، علامہ عبدالحکیم شرف قادری، مفتی عبدالقیوم ہزاروی، میاں محمد اسلم حماد، ڈاکٹر عبدالرشید رحمت جیسے صاحبانِ علم شامل ہیں۔ نامور ادیب، محقق، دانشور، عربی، فارسی، اردو کے فاضل پروفیسر سید صغیر حسین مرحوم (ریٹائرڈ پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف کامرس رحیم یار خان) آپ کے پنجاب یونیورسٹی کے کلاس فیلو تھے۔
سید محمد فاروق شاہ صاحب علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ آپ کے پڑ دادا حضرت سید محمد جعفر شاہ (1246ھ۔ 1319ھ) سب سے پہلے آدمی تھے جو سندھ سے اٹھ کر گڑھی اختیار خان تشریف لائے۔ ایک عالم دین، حافظِ قرآن اور سنت و شریعتِ مطہرہ کے پیکر اور نمونۂ اسلاف تھے، آستانہ شاہ آباد کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرماکر علمی لحاظ سے بنجر ماحول کو سیراب کرکے سرسبز و شاداب علمی ماحول میں تبدیل کردیا۔ آپ اعلیٰ درجے کے خطاط بھی تھے۔ ان کا تحریر کردہ قرآن مجید کا قلمی نسخہ ان کی خاندانی لائبریری میں محفوظ چلا آرہا ہے۔
متذکرہ بالا بزرگ کے فرزندِ ارجمند سید برہان الدین المعروف سید سردار احمد (1290ھ۔ 1350ھ) جید عالم دین تو تھے ہی، متعدد زبانوں کے قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ سلسلہ الٰہیات کی شہرۂ آفاق کتاب ’’تحفہ مرسلہ‘‘ حضرت سید برہان الدین سردار احمد شاہ قاری کے کتابت شدہ نسخے کا متن جوکہ شاہ صاحب کے اردو ترجمہ و تحقیق سے زیور طباعت سے آراستہ ہوچکا ہے، ان کے جدِّامجد کا شاہکار کارنامہ ہے۔ مولانا عبدالباقی لکھنوی مہاجر مدنی سے نصوص الحکم پڑھی۔ خانقاہ بھرچونڈی شریف کے شیخ ثانی، الشیخ حافظ محمد عبداللہ کے خلیفہ مجاز اور ان کے فرزند ارجمند مجاہد اسلام حضرت پیر عبدالرحمٰنؒ کے استاد تھے۔ کوٹ مٹھن شریف کے حضرت خواجہ غلام فریدؒآپ کے ہم عصر تھے۔
شاہ صاحب کے خاندان کے بیشتر بزرگ جید عالم، صاحبِ تصانیف اور صاحبانِ رشد و ہدایت گزرے ہیں۔ تصوف کے موضوع پر ہزاروں صفحات سپردِ قلم کیے جو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی دادِ تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ آپ کے والدِ گرامی حضرت سید سیف الدین مغفور القادری نے (خانقاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف ضلع ڈہرکی سندھ) ’’عباد الرحمٰن‘‘ کے نام سے تذکرہ مشائخ بھرچونڈی شریف کے حالات پر اولین مرقع تیار کیا جو ان کی بزرگان سے عقیدت کا مظہر ہے۔
جدید عصری و مروج علوم پر دسترس رکھنے والے سید فاروق القادری نے شہری ماحول میں بسنے کی قدرت رکھنے کے باوجود شہر سے دور افتادہ علاقے میں بوریا نشین ہوکر علم کی شمع کو روشن رکھنا پسند کیا تاکہ شہروں کی رونق ان کے علمی ذوق کو گرد آلود نہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحب درجنوں کتابوں کے مؤلف و مترجم ہوئے جو ان کی علمی خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تصانیف و تالیف میں:
-1 ’’کلحات الرحمن‘‘ جو تذکرہ ہے مجاہد اسلام حضرت پیر عبدالرحمٰنؒبھرچونڈی شریف کا۔
-2 ’’پیر عبدالرحیم شہید‘‘ رحمتہ اللہ علیہ۔
-3 ’’جام عرفان‘‘ سید العارفین، جنیدِ وقت، حافظ الملتہ، حضرت حافظ محمد صدیقؒ(1234۔ 1308ھ) بانی خانقاہ بھرچونڈی شریف سندھ کے ملفوظات کا اردو ترجمہ اور آپؒ کی دینی و ملّی خدمات کا مختصر جائزہ۔
-4 امام الاولیا: پیشوائے اصفیا، رئیس الاتقیا، سید محمد حسن شاہ جیلانیؒ سوئی شریف کے احوال و آثار۔
-5 ’’اصل مسئلہ معاشی ہے‘‘ جس کو ادارہ پاکستان شناسی لاہور نے چھاپا ہے اور
-6 ’’سلسلہ طریقت‘‘ خانقاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف (اس کی خطاطی راقم نے ان کی خواہش پر کی) پر مشتمل ہے۔
تراجم میں:
-1 شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی ’’فتوحات مکیہ‘‘ کا جدید ایڈیشن، جو مصر سے تیرہ جلدوں میں عربی میں چھپا، اس کی پہلی جلد۔
-2 ’’تحفہ مرسلہ‘‘ (جس کا خفیف ذکر سطور بالا میں ہوچکا ہے) ابو سعید محمد مبارک المخزمی کی تصنیف ہے جسے انہوں نے اپنے روحانی فرزند الشیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے لیے لکھا تھا۔
-3 ’’رسائل شاہ ولی اللہ دہلوی‘‘۔ ولی اللہی تصوف کی تین منفرد کتب ’’القول الجمیل، الانتباہ فی سلاسلِ اولیا اور الدرالشمین‘‘۔
-4 معارف و لطائف نفس اور روموز اسرار تصوف پر اہم کتاب’’الطاف القدس فی معرفتہ لطائف النفس‘‘ اور
-5 حجتہ الکاملین امام الواصلین حضرت ابوالحسن سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کی تصوف پر مشہور عالم کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ فارسی کے اردو تراجم شامل ہیں۔
انہوں نے ’’دارالعلوم والمعرفتہ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا جس کی طرف سے شیخ ابن عربی کی ’’فتوحات مکیہ‘‘ کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ اور ’’ہدیہ مرسلہ‘‘ مرتبہ محمد یوسف خاںخٹک بھی شائع کیں۔
شاہ صاحب کی زندگی خانقاہی نظام میں گزری۔ آستانہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف کے حضرت پیر عبدالرحمٰن (عرف بھورل سائیں) سے شرف بیعت حاصل تھا۔ (بھورل سائیں چودھویں صدی ہجری کی تحریک احیائے اسلام کے علَم بردار اور پاکستان کے حقیقی معماروں اور بانیوں میں سے تھے۔ ان کی زندگی سراپا علم و عمل اور ان کا پیکر صحیح معنوں میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار تھا)۔ خانقاہ کی دینی، ملّی خدمات اور مجاہدانہ سرگرمیوں اور خانقاہی سلسلے میں تجدیدی کارناموں پر بہت کچھ لکھا ہے۔
خانقاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف کی مجاہدانہ ملی و دینی زریں اسلامی خدمات پر کتب کا جو علمی ارمغان چھوڑا ہے وہ علمی خزانے کے طور پر شائقین سے داد و تحسین وصول کرتا رہے گا۔
اس کے باوجود وہ کشف کو باطنی صفائی، روحانی بالیدگی اور تزکیہ و احسان کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ صحیح فکر و مقصدیت کے قائل تھے۔ مذہب، ملت اور ملک کے بارے میں صحیح سوچ ابھارنے، اعلیٰ اوصاف و اخلاق کی طرف راغب کرنے،باطن کی اصلاح کرکے مردانگی، عالی ہمتی، بلند مقاصد اور علم میں کمال حاصل کرنے کی تڑپ اور جذبہ صادق کے حامل رہے۔ کشف و کرامات کے قائل ہونے کے باوجود ان کو صرف انفرادی حوالے کی حد تک لیتے تھے۔ خوش عقیدگی جیسی روایتوں سے نفور رہے۔
شعرا میں پسندیدہ شاعر سعدی، رومی، بیدل، نظیری، جامی اور اقبال شامل ہیں جس کے حوالے ان کی تصانیف میں کثرت سے ملتے ہیں۔
شاہ صاحب نفیس اور اعلیٰ ذوق کے مالک تھے۔ سید مغفور القادریؒ کی اولین تصنیف ’’عباد الرحمٰن‘‘ کا ٹائٹل ملک کے مایہ ناز خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی کی فن کارانہ صلاحیتوں اور شاہ صاحب کے اعلیٰ ذوق کا آئینہ دار ہے جو شاہ صاحب کے پاس آج سے چند سال پہلے تک اصل حالت میں محفوظ تھا۔ پھر اپنی تمام کتب کے ٹائٹل اور خانقاہ شاہ آباد شریف کے داخلی مین دروازے اور خانقاہ پر نصب سنگی کتبات کی خطاطی بقلم راقم الحروف ان کے ذوق خطاطی پر دلالت کرتے ہیں۔ اپنی کتب کی طباعت کے سلسلے میں مشاورت کے لیے راقم کے ہاں اکثر تشریف فرما ہوتے، مشورے کو شرفِ قبولیت سے نوازتے ہوئے اسے برقرار رکھتے۔ تازہ چھپنے والی کتاب (پر تحسینی حروف کے ساتھ) اپنے دستخط ثبت فرما کر بطور تحفہ دیتے جو مجھے ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔
علالت کے آخری ایام میں قلم و قرطاس سے رشتہ کمزور تو ہوا لیکن یکسر منقطع نہیں ہوا۔ 13 جون 2020ء بروز ہفتہ دارفانی سے دارِ بقا کو راہی ہوکر اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ یقیناً ان کی رحلت سے بہت بڑا علمی خلا پیدا ہوگیا ہے۔ امید ہے ان کے اخلاف اس شمع کو روشن رکھیں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی والدہ کا انتقال

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی والدہ انتقال کرگئیں۔ نماز جنازہ ثمر باغ ضلع دیر پائین میں ادا کی گئی،سراج الحق نے اپنی والدہ کی نماز جنازہخود پڑھائی۔موسم کی خرابی کے باوجود نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے کی شرکت کی۔ وہ کچھ عرصہ سے دل کے عارضہ میں مبتلا اور پشاور کے اسپتال میں زیر علاج رہیں۔ نماز جنازہ میں نائب جماعت اسلامی میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی صوبہ کے پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان ، ایم این اے مولانا عبد اکبر چترالی،چیف خطیب کے پی کے مولانا اسماعیل،مرکزی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف،ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی محمد اصغر،ساجد انور،سابق ایم این اے مولانا عبد المالک ڈاکٹر عطا الرحمان سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت،سماجی رہنمائوں علماء اکرام،صحافیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے بعد مرحومہ کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔والدہ کے انتقال پر سینیٹر سراج الحق سے صدر پاکستان عارف علوی، قمر باجوہ، شاہ محمود قریشی، یوسف رضا گیلانی،مولانا فضل الرحمنـ،طاہر القادری، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن بابر اعوان،عامر خان سابق وزیراعلیٰ کے پی کے آفتاب احمد خان شیر پاؤ، مولانا احمد لدھیانوی، جے یو آئی کے مولانا حمید الحق، میاں رضا ربانی، علامہ زبیر احمد ظہیر اور سندھ کے سابق گورنر عشرت العباد نے فون کرکے افسوس ا ور تعزیت کا اظہار کیا۔ ملک بھر سے سیاسی،مذہبی و سماجی حلقوںکی جانب سے اظہار افسوس کیا گیا۔سراج الحق نے اس موقع پر تعزیت کرنے والے دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوری قوم سے والدہ کے لیے دعائوں کی درخواست کی ہے۔

Share this: