کورونا ایس او پی کی خلاف ورزی پر کارروائی

Print Friendly, PDF & Email

ایک عرصے سے شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہورہا ہے، مگر اس کا شکار صرف عام صارفین ہی بن رہے ہیں جن کی سائیکلیں، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اٹھالی جاتی ہیں اور پیسے لے کر تھانوں سے ان کے حوالے کی جاتی ہیں، جب کہ شہر کے مرکزی آٹھوں بازاروں میں تجاوزات کے ذمہ دار دکان دار بالکل محفوظ ہیں۔ یہ سب ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہورہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر محمد علی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی سید ایوب بخاری نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر 4 شادی ہالوں کے منیجرز کو حوالۂ پولیس کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کروا دیے۔ اے سی سٹی نے شہر بھر کے مختلف علاقوں میں شادی ہالوں اور مارکیز کا دورہ کیا جہاں پر شادی بیاہ کی تقریبات جاری تھیں۔ دورے کے دورانِ وزٹ شادی ہال اور مارکیز میں کورونا ایس او پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی تھی اور شادی کی تقریبات میں شریک مرد و خواتین نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے سماجی فاصلے کو بھی یکسر نظرانداز کیا جا رہا تھا، جبکہ شادی ہالز اور مارکیز کو حکومتِ پنجاب کی طرف سے کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس پر اے سی نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے خیام مارکی، چنیوٹ پیلس،کوہ نور مارکی، اور کیسل مارکی کے منیجرز کو حراست میں لے لیا اور ان کے خلاف شادی ایکٹ اور انفکشن ڈیزیز آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ اے سی سٹی کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے دوران کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے کاروباری مراکز اور شادی ہالز کو کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا پابند کیا گیا ہے، اور جہاں پر کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پائی گئی، ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
محکمہ خوراک نے سہولت بازار میں فلور ملوں کی جانب سے زیادہ نمی والا اور ناقص و غیر معیاری آٹا فراہم کرنے پر ملز کا 7 یوم کے لیے کوٹہ بند اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر علی عمران نے سہولت بازار ٹھیکریوالہ کا دورہ کیا اور فلور ملز کے نمائندے کی موجودگی میں فروخت کیے جانے والے آٹے کے معیار کو چیک کیا تو آٹے میں مقررکردہ 13 فیصد کے بجائے 16.1 فیصد نمی پائی گئی، جبکہ آٹے میں کیڑے بھی ملے، جس پر لائل پور فلور ملز کو شوکاز نوٹس دے کر وضاحت طلب کی گئی، لیکن ملز کی طرف سے کوئی ٹھوس وجہ پیش نہ کی جاسکی۔
فیصل آباد میں پندرہ ہزار سے زائد بچے گھروں میں نہ ملنے کی وجہ سے پولیو قطروں سے محروم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ 3400 سے زائد انسداد پولیو کی ٹیموں نے ضلع بھر میں 5 سال کی عمر تک کے 13 لاکھ 26 ہزار 9 سو37 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔ پولیو مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے نے پولیو مہم کو مانیٹر کیا۔ دوسرے اضلاع سے فیصل آباد میں اپنے رشتے داروں کے گھر آئے ہوئے 9 ہزار سے زائد بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ مہم کے دوران فیصل آباد سٹی کے 502796، جڑانوالہ کے 266219، فیصل آباد صدر کے 255801، تاندلیانوالہ کے 133286، سمندری کے 112043 اور چک جھمرہ کے 5672 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد کے مطابق پولیو مہم کافی حد تک کامیاب ثابت ہوئی اور پولیو ورکرز نے 100 فیصد ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت کی۔

Share this: