حاجی غلام قادر عباسی مرحوم2020——1941

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان ایک خوب صورت اور اللہ کی نعمتوں سے مالا مال سرزمین ہے۔ اس ملک میں سیاحوں کے لیے بہت سے مقامات جاذبِ نظر ہیں۔ ان سب میں ملکہ کوہسار مری کا ایک نمایاں اور ممتاز مقام ہے۔ پاکستانی لوگوں اور بیرونی ممالک سے آنے والے سیاحوں کو یہاں کے پہاڑ اور وادیاں، چشمے اور سبزہ زار، خوب صورت مناظر اور برف پوش چوٹیاں اپنی طرف کھینچتی ہیں، مگر میرے دل میں اس کی کشش ان چیزوں سے کہیں زیادہ اُن افراد کی وجہ سے ہے جو اس بلند و بالا وادی میں رہائش پذیر ہیں۔ ان بستیوں میں میرے بہت سے دوست مقیم ہیں۔ آج قلم ہاتھ میں ہے اور لکھنا مشکل ہورہا ہے۔ میرے محترم دوست اور حقیقی بھائیوں کی طرح محبت کرنے والے بزرگ حاجی غلام قادر عباسی کی یادیں دل میں جلوہ افروز ہیں۔
سانحۂ ارتحال:
آپ ایک مردِ کوہستانی تھے۔ اسلامی روایات کے امین اور انتہائی مہمان نواز اور مجلس آرائی کے ماہر۔ یہ پیارے بھائی 8 مارچ 2020ء بروز اتوار اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اُس روز میں سابق میئر کراچی نعمت اللہ خان مرحوم کے بیٹے برادر عزیز کلیم اقبال خان کے گھر ڈی ایچ اے فیز 6 لاہور میں منعقدہ ایک تعزیتی مجلس میں درسِ قرآن کے لیے حاضر ہوا تھا۔ درس قرآن کے دوران حاجی غلام قادر مرحوم کے بیٹوں عزیزانِ گرامی صفدر عباسی اور ساجد عباسی کے موبائلز سے کالیں آنا شروع ہوئیں، پروگرام کے بعد رابطہ کیا، غلام قادر صاحب کے بیٹے عزیزم ساجد عباسی نے بتایا کہ ابا جان اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں اور کل صبح 11بجے ان کا جنازہ راول ٹائون، اسلام آباد کے گرائونڈ میں ہوگا۔ والد صاحب کی وصیت تھی اور ہماری درخواست ہے کہ آپ جنازہ پڑھائیں۔
ساجد کی بات سن کر میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ عزیزان سے تعزیت کی اور ان کو تسلی دی۔ میں نے ان سے کہا کہ ان شاء اللہ میں وقتِ مقررہ پر حاضر ہوجائوں گا، کیوں کہ زندگی میں بارہا ہر ملاقات کے موقع پر وہ یہی فرماتے تھے کہ میرا جنازہ آپ ہی پڑھائیں گے۔ میں ہر مرتبہ ان سے کہتا کہ بھائی جان! کیا معلوم کون کس کا جنازہ پڑھے گا۔ فرماتے ’’یہ بات تو ٹھیک ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ اللہ آپ کو میری وفات تک سلامت رکھے گا۔‘‘ میں اس اپنائیت کے ماحول میں یہ کہتا کہ مجھے امید ہے آپ میرے جنازے کے وقت تک بقیدِ حیات ہوں گے۔ کبھی مسکرا کر چپ ہوجاتے اور کبھی فرماتے ’’اللہ خود فیصلہ کردے گا۔ بہرحال میری وصیت نوٹ فرما لیجیے‘‘۔ مرزا محمد خالد صاحب، ابو عمیر زاہد صاحب، عبدالحمید صاحب اور عباسی صاحب کے بیٹے بھی اس موقع پر ہماری گفتگو سے محظوظ ہوتے رہتے۔
نیک گواہیاں:
وفات کی خبر سننے کے بعد بار بار مرحوم کے ساتھ طویل تحریکی اور ذاتی تعلق کی جھلکیاں ذہن میں آتی رہیں۔ رات کو جب بھی آنکھ کھلتی عباسی صاحب ہی کا خیال ذہن میں آتا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق اگلے روز فجر کی نماز پڑھ کر لاہور سے صبح صبح روانہ ہوا۔ منصورہ کے رہائشی اور عباسی صاحب کے دوست حافظ نصیر الدین صاحب بھی میرے شریکِ سفر تھے۔ راستے بھر یا تو قرآن کی تلاوت ہوتی رہی یا مرحوم کے بارے میں یادوں کے دیپ جلائے جاتے رہے۔ جانے والا واقعی بہت عظیم انسان تھا۔ اسے جتنے لوگ بھی جانتے ہیں ان کی زبان سے یہی سنا کہ وہ انتہائی شفیق بزرگ، ہمدرد دوست اور ہر شخص کے لیے خیرخواہی سے مالا مال جذبات کا حامل داعیِ حق تھا۔ اس نے اپنی زندگی تحریک اسلامی کے لیے وقف کردی اور زندگی کے آخری لمحے تک بے مزد اس کام میں بھرپور حصہ لیا۔
امیر جماعت کی تذکیر:
جب ہم جنازہ گاہ میں پہنچے تو ہمارے ساتھ ہی امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سراج الحق اور دیگر دوست بھی وہاں پہنچے۔ جماعت کی پوری قیادت اس موقع پر موجود تھی۔ بہت بڑا اور وسیع گرائونڈ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا گیا کہ مرحوم کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ مجھے پڑھانا ہے۔ امیر جماعت سے درخواست کی گئی کہ وہ موقع کی مناسبت سے مختصر خطاب اور تذکیر فرمائیں۔ امیر جماعت نے حاجی صاحب کی خوبیاں اور ان سے وابستہ اپنی یادیں دردِ دل کے ساتھ بیان کیں۔ آخری دنوں میں کئی ملاقاتوں کا تذکرہ بھی کیا اور مرحوم کی انقلاب اسلامی کے لیے تڑپ اور کاوشوں کو بہترین الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
بڑے لوگوںکی پہچان:
میں نے نماز جنازہ پڑھانے سے پہلے حاجی صاحب کے بارے میں نہایت مختصر الفاظ میں اپنی حسین یادوں کے چند واقعات لوگوں کے سامنے پیش کیے۔ میں نے دیکھا کہ نوجوانوں اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اس موقع پر رو رہی تھی اور بعض کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ آج پورا کوہسار مری اور اس کے مکین یتیم ہوگئے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا کہ مرحوم کے اہل و عیال اور خاندانِ محمد آزاد عباسی کے دل بلاشبہ انتہائی غم زدہ ہیں، مگر سارے علاقے کی طرف سے ان جذبات کا اظہار اُن کے لیے یقیناً حوصلے کا باعث بھی ہے اور ان کے زخمی دلوں کے لیے مرہم بھی۔ بڑے لوگ مال و دولت سے نہیں پہچانے جاتے، بلکہ عام لوگوں کے دلوں میں عزت و احترام سے پتا چلتا ہے کہ کون عظمت کے مقام پر فائز ہے۔ دو تین احباب نے ازحد غمزدہ لہجے میں کہا کہ آج دخترانِ اسلام اکیڈیمی مری دوسری مرتبہ یتیم ہوگئی ہے۔ دراصل ان کا اشارہ حاجی غلام قادر مرحوم کے برادر اصغر جناب حاجی غلام نبی عباسی کی رحلت کی طرف تھا۔ اصل بانی غلام نبی عباسی مرحوم ہی تھے۔ حاجی غلام قادر مرحوم نے اپنے بھائی کی وفات کے بعد انہی کی طرح دن رات اس کارِ خیر کے لیے وقف کیے رکھے۔ اللہ تعالیٰ شرفِ قبولیت بخشے۔
پُرسکون چہرہ:
نماز جنازہ سے پہلے مرحوم کے خاندان کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ اگر کسی کا بھی لین دین ہو تو ان کے بیٹے اس کے ذمہ دار ہیں، اور اگر کسی کے ساتھ کوئی رنجش ہوئی ہو تو وہ خدا کے لیے معاف کردے۔ پہلی صف میں کھڑے ایک شخص کی آواز مجھ تک پہنچی کہ جانے والا کسی کو ناراض کرنے کے بجائے ہمیشہ آپس میں جھگڑنے والوں کو بھی اپنی دانش مندی اور محبت سے ایک کردیا کرتا تھا۔ وہ کسی کا دل دکھانے کے بجائے دکھی دلوں کو سکون پہنچانے میں لگا رہتا تھا۔ نہ معلوم کتنے لوگ ہرصف میں ایسے ہی جذبات کا اظہار کررہے تھے۔ جن کی زبانوں سے یہ تذکرہ نہ سنا گیا ان کے بھی دلوں کے اندر یہی جذبات موجزن تھے۔ نماز جنازہ کے بعد مرحوم کے پُرسکون چہرے کی زیارت ہوئی، تو دل نے گواہی دی کہ اللہ کا یہ مخلص بندہ، اس کے دین کا بے لوث سپاہی اور خلقِ خدا کا غمگسار، دخترانِ اسلام اکیڈیمی کا سرپرست اور تحریکِ اسلامی کے لیے دن رات تڑپنے والا آج اللہ کی رحمتوں کے سائے میں خوش و خرم ہے۔ اصل حقیقت تو اللہ جانتا ہے، مگر مخلوقِ خدا جس کے بارے میں اس طرح بے ریا تحسین کے کلمات ادا کرے، تو حدیث کے مطابق یہ گواہیاں اللہ کے دربار میں قبول ہوجاتی ہیں اور جانے والا اللہ کی رحمتوں کا مستحق قرار پاتا ہے۔
اپنائیت اور قرب:
اس موقع پر احباب اتنی بڑی تعداد میں گلے ملے اور بے ساختہ روئے کہ وہ منظر اب بھی آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو اپنے پیارے دوست کی خوش قسمتی پر رشک آتا ہے۔ ظاہر ہے یہ بچھڑنے والے کی محبت تھی جو ان کے احباب کی آنکھوں سے رواں تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے مرحوم کو اعلیٰ علیین اور جنت الفردوس سے سرفراز فرمائے۔ غلام قادر عباسی اور ان کے خاندان کے ہر بڑے چھوٹے فرد کے ساتھ ایسا تعلق ہے، جیسا کہ اپنے خاندان کے قریبی عزیرواقارب کے ساتھ ہوتا ہے۔ حاجی غلام قادر عباسی صاحب کی زندگی کے چند گوشے احباب کے سامنے پیش کررہا ہوں، ان میں سے اکثر میری ذاتی معلومات ہیں اور بعض چیزیں ان کی وفات کے بعد ان کے بچوں سے معلوم ہوئیں۔
رحمت اور نعمت:
حاجی صاحب نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ کوہسار مری کے گائوں موہڑہ عیسوال کے دین دار اور معزز گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ آپ کے والد محمد آزاد خان عباسی اپنی برادری کے معتبر فرد اور سب کے لیے محترم تھے۔ موصوف کی آمدنی محدود اور متوسط درجے کی تھی، مگر مہمان نوازی اور اقرباپروری ان کا مستقل وتیرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مردِ کوہستانی کو یکے بعد دیگرے چھے بیٹیاں عطا فرمائیں۔ ہر بیٹی کی پیدائش کے بعد والدین اور اعزہ و اقربا کو امید ہوتی تھی کہ اللہ بہنوں کو بھائی عطا فرمائے گا، مگر اللہ کی مشیت یہی تھی کہ رحمت سے یہ گھر مالامال ہو جائے تو نعمت کا دروازہ کھولا جائے۔
مامتا کے آنسو:
چھٹی بہن کی پیدائش کے بعد خاندان کے بعض افراد خاصے مایوس ہوگئے۔ جب اگلے بچے کی پیدائش کا وقت آیا، تو والدہ کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو آگئے کہ نہ معلوم اللہ بیٹا عطا فرماتا ہے یا چھے بہنوں میں ایک اور بہن کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ کے والد محمد آزاد عباسی بہت سنجیدگی اور صبر کے ساتھ امید لگائے ہوئے تھے کہ اب اللہ گھر میں ان کلیوں کے ساتھ ایک غنچہ کھلائے گا۔ چناں چہ باپ کی اس امید اور والدہ کی تمنا کے مطابق اللہ تعالیٰ نے غنچہ کھلا دیا۔ ایک نہایت خوب صورت بیٹا پیدا ہوا۔ بیٹے کی پیدائش پر ہمارے معاشرے میں فطری طور پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ آپ اندازہ کریں جو بیٹا چھے بیٹیوں کے بعد دربارِ خداوندی سے عطا کیا جائے، تو اس کی پیدائش پر خوشی کا کیا سماں ہوگا۔
قادرِ مطلق کا غلام:
عباسی صاحب کی ایک بہن اس منظر کو یاد کرکے بتایا کرتی تھیں کہ نہ صرف ہمارے گائوں میں بلکہ عباسی برادری کی تمام آبادیوں میں بے انتہا خوشی کا اظہار کیا گیا۔ والد ہمیشہ کہتے تھے کہ اے قادرِ مطلق تیرا فیصلہ منظور ہے، مگر التجا یہ ہے کہ مجھے جانشین عطا فرما۔ میں نے آزاد خان مرحوم کی بیٹی کے حوالے سے ان کی اس دعا کے الفاظ سنے تو دل خوش ہوا، کیوںکہ ایسی دعا پیغمبروں کی سنت ہے۔ قادر مطلق نے دعا سن لی، تو محمد آزاد عباسی صاحب نے اپنے بیٹے کا نام اسی نسبت سے غلام قادر رکھا۔ غلام قادر اپنی بہنوں کی آنکھوں کا تارا اور والدین کے دلوں کی ٹھنڈک تھا۔ وہ پنگھوڑے میں خوب کھیلتا اور خوب صورت آوازیں نکالتا۔ ایسے میں بہنوں کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی کہ بھائی کے ساتھ ایک اور بھائی آجائے تو بھائیوں کی جوڑی بن جائے۔ یہ بھی ایک فطری خواہش تھی۔
بھائیوں کی مثالی جوڑی:
اللہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے۔ اس رحمان و رحیم نے یہ تمنا بھی پوری کردی اور تین سال بعد 1944ء میں دوسرے بھائی کی پیدائش ہوئی ، جس کا نام غلام نبی رکھا گیا۔ یہ دونوں بھائی آپس میں مثالی محبت کا مرقع تھے۔ آج تک پورے علاقے اور برادری میں ان کی باہمی محبت بطور مثال پیش کی جاتی ہے۔ دونوں بھائی زندگی بھر ایک دوسرے کی ڈھال اور سایہ بنے رہے۔ جب 2004ء میں چھوٹے بھائی حاجی غلام نبی عباسی ایک کامیاب بندۂ مومن اور مردِ مجاہد کی حیثیت سے زندگی گزار کر موت کی وادی میں اترے، تو بڑے بھائی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ’’وہ میرا بھائی تھا اور مجھ سے چھوٹا بھی تھا، مگر وہ اپنی شخصیت کے لحاظ سے میرا قائد تھا اور میرے ساتھ اس نے زندگی بھر ایسا سلوک کیا کہ آج مجھے محسوس ہوتا ہے میرا بازو ٹوٹ گیا ہے۔‘‘واقعی مخلص بھائی اپنے بھائیوں کا بازو ہوتے ہیں۔ غلام نبی صاحب کو تو جن لوگوں نے دیکھا وہ فوراً تسلیم کریں گے کہ وہ خاندان کا روشن ستارا تھے۔ غلام نبی صاحب کی عمر وفات کے وقت 60سال کے قریب تھی۔
حسین البم:
حاجی غلام نبی عباسی صاحب کے حالات ہم نے اپنی کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ جلد اول میں مارچ 2004ء میں لکھے تھے۔ یہ حالات صفحہ 157سے لے کر 172تک ان کی زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کے مقامی قائد اور خاندانِ عباسی کے سربراہ تھے۔ آج ہم ان کے برادر بزرگ جناب غلام قادر عباسی صاحب کے حالات پر قلم اٹھا رہے ہیں، تو دل کی عجیب کیفیت ہے۔ یادوں کے دریچے کھلنے پر اتنا وسیع و عریض البم سامنے آ جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اس میں سے کیا چنیں اور کیا چھوڑیں۔ حاجی غلام قادر عباسی صاحب 1941ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 86سال عمر پائی جس کا بیشتر حصہ اعلائے کلمۃ اللہ میں گزارا۔ آپ نے اپنے علاقے سے پرائمری اور پھر مڈل اور میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ذرائع آمدنی کم تھے اور خاندان خاصا بڑا تھا، اس لیے غلام قادر عباسی صاحب نے بالکل ابتدائی زندگی میں میٹرک کا امتحان دیتے ہی محنت مشقت شروع کردی۔ جوانی کی اسی عمر سے ان کے دوستوں کا وسیع حلقہ تھا۔ وہ مجلس سجانے اور دوست بنانے کے ماہر اور خوش اخلاق نوجوان تھے۔ بدن چھریرا اور دبلا پتلا، مگر اعضا مضبوط اور تنومند تھے۔ کبھی سرکاری ملازمت نہیں کی، حالاںکہ اس دور میں میٹرک پاس ہونا بھی ایک اعزاز ہوا کرتا تھا۔ غلام قادر عباسی صاحب کے چھوٹے بھائی غلام نبی بھی میٹرک پاس تھے۔ انھوں نے پہلے سرکاری ملازمت اختیار کی، مگر بہت جلد کاروبار کرنے کا منصوبہ بنایا اور ملازمت چھوڑ دی۔
مردِ حر:
چھوٹے بھائی گھر سے تلاش معاش کے لیے نکلے اور کسی واقف کار کے مشورے سے واہ فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی۔ اپنی طبیعت کے لحاظ سے مرنجاں مرنج انسان تھے مگر غالباً ان کو اللہ تعالیٰ نے ملازمت کے لیے پیدا ہی نہیں کیا تھا۔ وہ ذہنی لحاظ سے مردِ حر تھے۔ مردِ حر کو اپنی پرواز کے لیے قیود سے آزاد ہوکر کھلی فضاؤں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ واہ میں تھوڑا عرصہ ملازمت کرنے کے بعد عباسی صاحب نے استعفا دے دیا اور کراچی چلے گئے۔ کوہساروں سے چشمے پھوٹتے ہیں تو ندی نالوں اور دریائوں کی صورت میں ساحلِ سمندر کی طرف چل پڑتے ہیں۔ یہ مردِ کوہستانی بھی دیگر بے شمار لوگوں کی طرح چشمے کی مانند ساحلِ سمندر کو چل دیا۔ کراچی اب بھی پاکستان بھر کے محنتی لوگوں کے لیے روزگار کا بڑا مرکز ہے، مگر گزشتہ نصف صدی سے اس کے امن وسکون اور اخوت ومحبت کو ایک لسانی متعصب گروہ نے پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ آج سے چالیس پچاس سال قبل کراچی محبت کے زمزموں سے مالامال ہوا کرتا تھا۔ اس مسافر نواز شہر میں ہونہار، محنتی اور دیانت دار عباسی نوجوان نے مردِ کوہستانی کی حیثیت سے اپنا ایک مقام بنالیا۔ کاروبار معمولی تھا مگر بڑی عزت تھی، اور پھر دل مطمئن تھا کہ کسی کی غلامی یا باس اور ماتحت کا تعلق نہ تھا۔
(جاری ہے)
کوہساروں سے ساحل کی جانب:
مری کے سپوت اور مردِ آزاد کو کاروبار میں بڑا لطف آیا، تو اپنے بڑے بھائی جناب غلام قادر عباسی کو بھی دوسال بعد مری سے اپنے پاس کراچی بلا لیا۔ غلام قادر عباسی صاحب کہتے تھے کہ مرحوم سارا کام تو خود کرتے تھے مگر شراکت میں میرا حصہ برابر تھا۔ معمولی حیثیت سے انھوں نے آغاز کیا۔ ابتدائی سالوں میں زندگی جفاکشی کا نمونہ تھی مگر طمانیت سے طبیعت سرشار رہتی تھی۔ وہ کہتے کہ میں نے زندگی بھر غلام نبی صاحب کے ساتھ روپے میں دو آنے یا چار آنے کا کام کیا۔ بارہ، چودہ آنے کام ان کی محنت کا مرہونِ منت ہوا کرتا تھا مگر نفع وہ ہمیشہ برابر تقسیم کرتے رہے۔ یہ غلام قادر صاحب کے انکسار اور اپنے بھائی کی قدر افزائی کی مثال ہے۔ حقیقت میں آپ بھی کام میں پوری طرح دلچسپی اور سرگرمی دکھاتے تھے، مگر بھائی کے لیے سراپا تشکر رہتے تھے۔
کامیابی منزل بمنزل:
کراچی سے تجربہ حاصل کرنے کے بعد دونوں بھائیوں نے باہمی مشاورت سے بتدریج واپسی کا فیصلہ کیا۔ اب دارالحکومت کراچی کے بجائے اسلام آباد بن چکا تھا۔ اس نئے صدر مقام کی تعمیر کا کام جاری تھا۔ پہلے مرحلے میں کراچی سے چھوٹے بھائی اسلام آباد آگئے اور یہاں بھی معمولی سطح سے کام کا آغاز کیا۔ کراچی سے دونوں بھائیوں نے جو بچت کی تھی، اسے اسلام آباد میں کاروبار میں لگا دیا۔ یہاں غلام نبی صاحب نے ایک کھوکھا نما دکان سے آغاز کیا۔ اسی کے اندر رات کو سوجاتے تھے۔ کام میں اللہ نے برکت دی۔ کھوکھے سے ہٹی اور ہٹی سے دکان، دکان سے اسٹور اور پھر ہوٹل اور ریستوران کی دنیا میں قدم رکھا۔ ہر گام اور ہر مرحلے پر اللہ نے مدد فرمائی اور کامیابی نے قدم چومے۔ اس عرصے میں غلام نبی صاحب اسلام آباد میں جدوجہد کررہے تھے مگر احتیاطاً کراچی میں بھی کام چلتا رہا۔ باہمی مشورے کے مطابق بڑے بھائی غلام قادر کراچی ہی میں مصروفِ عمل رہے، تاآنکہ اسلام آباد میں 1973ء سے عباسی برادران مری کے تجارت پیشہ احباب کے درمیان ایک کامیاب کاروباری جوڑی کی حیثیت سے معروف ہوگئے۔ اب کراچی کا کاروبار بند کردیا گیا۔ اسلام آباد میں ایک ہوٹل، پھر دوسرا، اور پھر ہوٹلوں کی پوری ایک زنجیر! اللہ نے کاروبار میں برکت دی۔
پاکیزہ عہد:
دونوں بھائیوں نے آپس میں ایک عہد کیا کہ:(1)آپس میں ہمیشہ اتفاق واتحاد قائم رکھیں گے۔ (2)ہمیشہ کاروبار میں اسلامی اصولوں کو ملحوظ رکھیں گے۔ (3)آمدنی کا ایک حصہ اسلامی کاموں پر صرف کیا کریں گے۔ خلق خدا گواہ ہے کہ دونوں بھائیوں نے اس عہد کو خوب نبھایا اور اللہ نے بھی ان کو خوب نوازا۔ کھوکھے سے کام کا آغاز کرنے والے نوآموز عباسی برادران تاجروں کی برادری میں معززترین اور مقبول ترین شمار ہوئے۔ دونوں نے راول ٹاؤن میں اپنے رہائشی مکان تعمیر کیے اور خاصی کمرشل جائداد اللہ نے عطا فرمائی۔ اسلام آباد میں آغاز میں ذرا سی مشکلات رہیں مگر جلد ہی کام بڑھتے بڑھتے اتنا پھیل گیا کہ ہول سیل مارکیٹ میں سرگرم عمل ہوئے۔ اسلام آباد میں جمعہ اور اتوار بازار بڑے مقبول ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اس اختراع کے موجد عباسی برادران ہی تھے۔ پہلے یہ بازار انجمن تاجران نے لگانے شروع کیے، اس دور میں غلام نبی عباسی صاحب انجمن تاجران اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل تھے۔ بعد میں ان بازاروں کو سی ڈی اے نے اپنی سرپرستی میں لے لیا اور ان کی حیثیت باقاعدہ سرکاری بازاروں کی ہوگئی۔ کاروباری برادری کے مسائل کا صحیح ادراک اور انھیں حل کرانے کی جدوجہد کی بنیاد نوآباد دارالحکومت میں عباسی صاحبان ہی نے ڈالی تھی۔ وہ آج تک انجمن تاجران کے مقبول ترین عہدہ داروں میں شمار ہوتے ہیں۔
تحریکی سفر:
ہوٹلوں کی دنیا میں عباسی برادران کا پہلا ہوٹل الحبیب تھا۔ اس کے قیام کے ساتھ ہی یہاں معاشرتی و رفاہی سرگرمیاں بھی شروع ہوگئیں۔ دینی رجحان اور سیاسی سوچ کی وجہ سے چھوٹے بھائی جلد ہی جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے اور سیاسی محاذوں پر بڑے معرکے سر کیے۔ اس دور میں اسلام آباد جماعت کے امیر جناب صابرحسین شرفی صاحب تھے، جو ایک زمانے میں کراچی جماعت کے امیر رہ چکے تھے۔ وہ تاجر تھے اور اسلام آباد کے تجارتی حلقوں میں ان کی بڑی قدرومنزلت تھی۔ انھوں نے نوجوان غلام نبی عباسی کو جماعت میں شمولیت کی دعوت دی اور اپنا ربط بنا لیا۔ غلام نبی صاحب 1983ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنا لیے گئے۔ غلام نبی صاحب ہی کی دعوت اور ترغیب پر غلام قادر عباسی کاروانِ مودودی کا حصہ بنے۔ آپ اپنے چھوٹے بھائی سے نوسال بعد 1992ء میں جماعت کے رکن بنے۔
تصور حقیقت میں بدلا:
یہ گزشتہ صدی کا 80 کا عشرہ تھا جب غلام قادر صاحب کے بھائی غلام نبی صاحب نے محسوس کیا کہ کوہسار مری میں کوئی اسلامی و تعلیمی ادارہ بالخصوص طالبات کے لیے ضرور قائم ہونا چاہیے۔ حاجی غلام نبی مرحوم نے راقم کے ساتھ رابطہ قائم کیا۔ میں اس دور میں مرکز جماعت میں نائب قیم اور مولانا خلیل احمد حامدی مرحوم کے ساتھ حلقات قرآنیہ پاکستان کا نائب صدر بھی تھا۔ عباسی برادران سے تنظیمی دوروں کے دوران تعارف، مانوسیت اور دوستی قائم ہوگئی تھی۔ حاجی صاحب اور ان کے بڑے بھائی غلام قادر عباسی صاحب کے ساتھ مل کر ہم نے مری کے کوہساروں میں مختلف مقامات پر کئی جگہیں دیکھیں۔ دخترانِ اسلام اکیڈمی کا تصور، نام اور نقشہ ذہنوں میں متلاطم تھا۔ آخرکار بانسرہ گلی کی قسمت جاگ اٹھی اور یہاں ایک قطعہ زمین حاصل کرنے میں کامیابی ہوگئی۔ اس قطعہ کے حصول کے بعد یہاں ایک عمارت کھڑی کرنے کے لیے مری کے بلند وبالا پہاڑوں جیسا ہی نہیں بلکہ ہمالیہ سے بھی بلند حوصلہ درکار تھا۔ عباسی برادران کے دلوں میں جو جذبات کئی سال سے انگڑائیاں لے رہے تھے، اب ان کی تعبیر کا وقت آیا چاہتا تھا۔ وسائل زیادہ نہیں تھے مگر جذبہ صادق ہوتو کوئی کام ناممکن نہیں ہوتا۔
اکیڈیمی کا آغاز:
کوئی بھی ادارہ آنکھ جھپکنے میں نہیں بن جاتا۔ اس کے لیے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ ادارے کی تعمیر میں جو فطری عرصہ درکار تھا، مرحوم کے دل پر وہ ایک بوجھ سا بن گیا۔ انھوں نے کہا کہ مجوزہ پلاٹ سے متصل دو کمروں پر مشتمل ایک جگہ دستیاب ہے۔ اسے کرائے پر حاصل کرکے دفتر بنا لیا جائے اور ذرا فاصلے پر ایک اور عمارت ہے جس میں 80 سے لے کر 100 تک بچیاں تعلیم اور رہائش اختیار کرسکتی ہیں۔ یہ جگہ بھی مناسب کرائے پر دستیاب تھی۔ بچیوں کے کھانے کی فراہمی ایک کیٹرنگ فرم کے ساتھ مناسب نرخوں پر طے پاگئی۔ یوں دخترانِ اسلام اکیڈمی کا آغاز اپنی عمارت بننے سے قبل کرائے کی عمارتوں میں ہوگیا۔ اس کلاس کے آغاز کے دن مرحوم کی خوشیوں کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ اس ادارے کا تصور کرنے کے وقت سے لے کر آج تک مجھے اور جماعت کے تمام احباب وذمہ داران کو اس ادارے کے ساتھ وابستگی کا شرف حاصل رہا ہے۔
جماعتی سرپرستی:
ہم نے جب میرے دورِ امارت میں جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کے زیراہتمام 1996ء میں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تو عباسی برادران بہت خوش ہوئے۔ وہ روزِ اوّل سے مجھ سے مطالبہ کرنے لگے کہ دخترانِ اسلام اکیڈمی کو بھی غزالی سے ملحق کردیا جائے۔ چنانچہ ہم نے اپنی مجلس منتظمہ میں بخوشی اس کے الحاق کا فیصلہ کیا اور تحریراً ان کو یہ فیصلہ لکھ بھیجا۔ یہ ایک معمولی سی بات تھی، مگر ان مخلص برادران نے اس پر بھی بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔ محترم امیر جماعت قاضی حسین احمد صاحب اور دیگر اکابرینِ جماعت نے اس ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون اور سرپرستی فرمائی۔ ظاہر ہے یہ ادارہ کسی کے شخصی نفع و نقصان کے لیے نہیں، خالصتاً دینِ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے، اور اس مشن پر رواں دواں ہے۔ عباسی برادران نے اپنی اور اپنے خاندان کی جیب سے فنڈ جمع کرنے کا آغاز کیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا رجوع ہونے لگا۔ حاجی غلام نبی صاحب نے ملک اور بیرونِ ملک اس کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے دورے بھی کیے اور ہر جگہ آج تک لوگوں کے دلوں میں ان کی حسین یادیں موجزن ہیں۔ حاجی غلام نبی صاحب کی وفات سے دو سال قبل اکیڈمی اپنی تعمیرشدہ عمارت میں منتقل ہوکر علم کی روشنی پھیلارہی تھی، مگر تعمیرات کا کام ہنوز نامکمل تھا۔
صدقۂ جاریہ:
اب غلام قادر عباسی صاحب پر یہ ذمہ داری آن پڑی اور ان کی کاوش اور محنت سے اکیڈمی کی کئی منازل مکمل ہوئیں۔ انھوں نے اپنے بھائی کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا پُر کرنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔ کلاس روم، ہاسٹل، دفاتر وغیرہ بن گئے۔ شہدائے اسلام جامع مسجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے جو خوب آباد اور پُررونق ہے۔ دخترانِ اسلام اکیڈمی میں دینی وعصری تعلیم کا اہتمام ہے۔ بورڈ اور یونی ورسٹی کے امتحانات میں طالبات نے ہمیشہ اچھی اور نمایاں پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔ کئی سال قبل ایک طالبہ نے بی اے میں گولڈ میڈل لیا جو اس ادارے کا بڑا اعزاز ہے۔ اس کے بعد بھی طالبات بورڈ میں پوزیشن حاصل کرتی رہی ہیں۔ درس قرآن کی خصوصی تربیت اس ادارے کا اہم پہلو ہے۔ اس کے نتیجے میں یہاں سے فارغ ہونے والی طالبات نے گھر گھر اور بستی بستی حلقات درسِ قرآن قائم کرکے معاشرے کو نورِ قرآن سے منور کرنے کا بیڑا اٹھالیا ہے۔ یہ حاجی غلام نبی اور حاجی غلام قادر مرحومین کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
بابرکت نشست:
2004ء میں حاجی غلام نبی کی وفات پر سب لوگوں کے اندر مایوسی پیدا ہوگئی کہ اب اکیڈیمی کے نامکمل منصوبوں اور روزمرہ اخراجات کا انتظام کیسے ہوگا۔ اس موقع پر میں مری میں حاضر ہوا اور حاجی غلام نبی مرحوم کے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد ہوا۔ تقریب کے اختتام پر میں نے حاجی غلام نبی عباسی مرحوم کے پورے خاندان کو الگ سے بٹھا کر ان سے درخواست کی کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں اور اس کارِخیر کو مزید ترقی دیں۔ میں نے بالخصوص مرحوم کے برادرِ بزرگ حاجی غلام قادر عباسی صاحب سے کہا کہ اب آپ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ دیگر تمام دلچسپیوں سے ہاتھ اٹھا کر دخترانِ اسلام اکیڈیمی کے غیر تکمیل شدہ تعمیراتی منصوبے کو مکمل کریں۔ اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے بچوں نے کاروبار نہایت کامیابی سے سنبھال لیا ہے۔ اب آپ کو کوئی فکرِ معاش نہیں۔ جب آپ معاونین سے رابطے کریں گے، تو آپ حیران ہوں گے کہ اس نیک کام میں اللہ کے بندے کس فراخدلی کے ساتھ آپ کی طرف دستِ تعاون بڑھائیں گے۔ حاجی غلام قادر عباسی صاحب نے اس موقع پر یہ عزم کیا اور عہد باندھا کہ اپنی تمام توانائیاں تحریکِ اسلامی اور دخترانِ اسلام کے لیے وقف کردیں گے۔ الحمدللہ عباسی مرحوم نے اپنے عہد کو نبھایا اور آخری سالوں میں بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے انتہائی ضعف کے باوجود یہ سفر جاری رکھا۔
رازی ہسپتال پنڈی:
لطف کی بات یہ ہے کہ ان مصروفیات کے ساتھ ایک اور کارِخیر میں بھی غلام قادر عباسی مرحوم نے بھرپور دلچسپی لی۔ راولپنڈی میں الخدمت رازی ہسپتال جماعت اسلامی کا ایک کامیاب اور قابل تحسین ادارہ ہے۔ یہاں سے مستحقین کو جو سہولیات دی جاتی ہیں وہ مثالی ہیں۔ ہسپتال کے ذمہ داران جناب ابوعمیر زاہد اور برادر عزیز عبدالحمید صاحب حاجی غلام قادر عباسی صاحب کے بہت قریبی دوست بن گئے۔ میں جب کبھی پنڈی اسلام آباد جاتا، تو ان دوستوں کو بھی اطلاع کردیتا۔ کبھی عباسی صاحب کے گھر پر اور کبھی مرزا محمد خالد کی رہائش پر باہمی ملاقاتیں ہوتیں۔ کئی مرتبہ رازی ہسپتال کے اجلاسوں میں بھی عباسی صاحب کے ساتھ شرکت کا موقع ملا۔ مرحوم مخیر حضرات کو اس ہسپتال کے دورے کراتے اور ان سے عطیات وصول کرنے کا راستہ ہموار فرماتے۔ خود بذریعہ فون اہلِ خیر کو ترغیب دیتے رہتے کہ نیکی کے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
قابلِ تقلید مثال:
عباسی صاحب جماعت اسلامی کے بزرگ رکن تھے، ہر ملاقات میں جماعت کے کام کے حوالے سے جہاں خامیاں محسوس کرتے، بہت دردِ دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار فرماتے۔ انھیں اس بات کی بھی شدید تشویش تھی کہ جماعت کے قائدین اور کارکنان مطالعے کا شوق کھو چکے ہیں۔ ہماری جب کبھی کوئی نئی کتاب آتی، تو عباسی صاحب اپنے چند دوستوںکو اس کا ہدیہ بھیجتے اور اپنے حلقہ احباب میں اس کا تعارف کراتے۔ بعض کتابچے تو عباسی صاحب کی توجہ اور کاوش سے ان کے حلقہ احباب میں بہت بڑی تعداد میں پھیلے۔ وہ پہلے خود اپنا پسندیدہ کتابچہ جو عموماً سیرتِ نبویؐ یا دعوتِ جماعت اسلامی کے کسی موضوع پر ہوتا، ایک مخصوص تعداد میں خریدتے اور پھر دوسرے دوستوں کو تلقین کرتے کہ میں نے اتنے سو کتابچے خرید کر تقسیم کیے ہیں تم بھی یہ کام کرو۔ انھیں اس بات کی لگن تھی کہ جماعت کی دعوت گھر گھر پہنچے۔
تحفۂ درویش:
مری کے علاقے میں مجھے مرحوم کے ساتھ مختلف مقامات پر کئی پروگرامات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسی طرح کوہسار مری کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں کئی بار مرحومین کی تعزیت کے لیے جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جن لوگوں کے ہاں ہم تعزیت کے لیے گئے وہ پورا خاندان اب بھی اس ملاقات کو یاد کرتا اور جماعت کی تعریف کرتا ہے۔ کئی مرتبہ کشمیری بازار سے چلتے تو ایک گائوں، پھر دوسری بستی، پھر تیسری اور چوتھی جگہ جانا ہوتا۔ خود تو مردِ کوہستانی تھے، بچپن سے ان گھاٹیوں کو عبور کرنے کا تجربہ اور ڈھنگ آتا تھا، مجھے بھی اپنے ساتھ اس نشیب و فراز میں چلتے دیکھتے تو کبھی حیران ہوتے، کبھی تحسین فرماتے۔ ایک مرتبہ ایسے ہی سفر کے دوران ایک خوب صورت چھڑی (کھونڈی) مجھے دی جس کے نیچے نوک دار لوہا لگا ہوا تھا۔ میں نے اس چھڑی کو کبھی استعمال تو نہیں کیا، البتہ یادگار کے طور پر یہ میرے پاس محفوظ ہے۔ کئی بار کسی پہاڑی کے دامن میں گھاس پر چادر بچھاتے اور وہاں بیٹھ کر مجلس آرائی کرتے۔ قریب کی بستیوں میں آباد دوستوں کو فون کرکے بلاتے تو وہ اکل و شرب کے سامان کے ساتھ شاملِ محفل ہوجاتے۔ کیا ہی پیاری شخصیت تھی۔
آخری ایام:
غلام قادر عباسی مرحوم آخری سالوں میں بہت شدید بیماریوںکا شکار ہوئے۔ کبھی ہسپتال ہوتے اور کبھی گھر میں۔ میرا یہ معمول رہا کہ جب بھی اسلام آباد جانا ہوتا، تو عباسی صاحب سے ملاقات ضرور کرتا۔ کئی احباب اس نشست میں شریک ہوتے تھے۔ سب کے نام ذہن سے محو ہوگئے ہیں، البتہ مرزا محمد خالد، ابوعمیر زاہد اورعبدالحمید خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان دوستوں کے نزدیک بھی مرحوم سے وہ ملاقاتیں ان کی حسین یادوں کا البم ہے۔ غلام قادر عباسی صاحب بھلے وقتوں میں احبابِ مری کی بڑی تعداد کے ساتھ منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ میں شریک ہوا کرتے تھے۔ ان کا لگایا ہوا یہ پودا ان کے کمزور ہوجانے کے بعد بھی بارآور رہا ہے۔ اب بھی اس علاقے کے لوگ مرکزی تربیت گاہ کی زینت بنتے ہیں۔ غلام قادر عباسی صاحب کو سابق ناظم مرکزی شعبہ تربیت مولانا محمد سلطان مرحوم سے خصوصی نیازمندی حاصل تھی۔ مولانا مرحوم بھی راقم کے ساتھ کئی مرتبہ عباسی برادران کے گھر موہڑہ عیسوال (کشمیری بازار مری) میں قیام کرتے رہے۔ اسی طرح دخترانِ اسلام اکیڈیمی میں اور راول ٹائون میں غلام قادر صاحب کی اقامت گاہ پر بھی فیملی کے ساتھ قیام کے مواقع ملے۔ مرحوم کی طرح ان کے بچے بھی انتہائی مہمان نواز اور خوش خلق ہیں۔
شراکت کی تقسیم:
حاجی غلام قادر عباسی صاحب اور ان کے بھتیجوں جناب سجاد عباسی اور ظفر اقبال (ابنائے غلام نبی عباسی مرحوم) نے اپنے مشترکہ کاروبار کو الگ الگ کرنے کا فیصلہ کیا، تو نہایت خوش اسلوبی سے آپس میں تمام معاملات طے پا گئے۔ ہوٹلوں کا سلسلہ حاجی غلام نبی مرحوم کے صاحبزادگان کے حصے میں آیا اور آبپارہ میں بہت بڑی کمرشل عمارت غلام قادر صاحب اور ان کے خاندان کے حصے میں آئی۔ ہوٹل ماشاء اللہ کامیابی سے چل رہے ہیں اور آبپارہ کی قیمتی عمارت سے ہر مہینے لاکھوں روپے کرائے کی صورت میں وصول ہورہے ہیں۔ گویا دونوں خاندان اللہ کے فضل و کرم سے رزق حلال کے ساتھ خودکفیل اور خوش حال ہیں۔
اہل و عیال:
غلام قادر عباسی مرحوم کے بڑے بیٹے صفدر عباسی پنڈی میں حج عمرے کا کاروبار کرتے ہیں جب کہ دوسرے بیٹے ساجد عباسی بلیو ایریا اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام کرتے ہیں۔ مرحوم کو اللہ نے دو بیٹے اور چار بیٹیاں عطا فرمائیں۔ دونوں بیٹے اور تین بیٹیاں شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں۔ اللہ ان سب کو سلامت رکھے اور اپنے بزرگوں کے نقشِ پا پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
nn

Share this: