پاکستان ۔سعودی عرب تعلقات

Print Friendly, PDF & Email

ڈاکٹر نگار سجاد
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جموں وکشمیر کے مسئلے پر پاکستان۔ سعودی عرب تعلقات نچلی ترین سطح پر آگئے ہیں۔ سعودی حکومت نے اب یہ طے کیا ہے کہ اپنے 20 ریال والے نوٹ پر جموں وکشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے نقشے کی تصحیح کرے گی۔ اس تصحیح کی درخواست نریندر مودی نے سعودی حکومت سے کی تھی۔ اس تصحیح کے لیے سعودی حکومت جلد ہی اپنے 20ریال والے نوٹ کی گردش روک دے گی۔ گزشتہ ماہ G-20 سمٹ کے موقع کے حوالے سے یہ نوٹ جاری کیا گیا تھا۔ نوٹ کے ایک طرف دنیا کا جو نقشہ بنا ہوا ہے اُس میں جموں وکشمیر اور آزاد کشمیر کو ایک الگ ریاست کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ نیز اس نقشے میں گلگت بلتستان کو بھی پاکستانی حصے کے طور پر نہیں دکھایا گیا۔ اس نقشے نے پاکستان اور انڈیا دونوں کو ناراض کیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جموں وکشمیر کے مسئلے پر سعودی عرب نے کبھی پاکستانی مؤقف کی تائید نہیں کی، باوجود اس کے کہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں دونوں ملکوں کے تعلقات گرم جوشی کی انتہائوں کو چھو رہے تھے۔
لیکن اب سعودی حکومت کی طرف سے واضح تائیدی اشارے انڈین گورنمنٹ کے لیے مل رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ جب 20 ریال والے نوٹ پر چھپے نقشے کی تصحیح کی جائے گی تو اس میں متنازع جموں وکشمیر، نیز گلگت بلتستان کے علاقوں کو ہندوستان کا علاقہ دکھایا جائے گا۔ یہ بات اس بنیاد پر کہی جارہی ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران انڈیا-سعودی عرب تعلقات گرم جوشی کی انتہائوں پر ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی تجارت ہورہی ہے۔Economic Times کی 10اگست کی خبر کے مطابق سعودی عرب 15 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری انڈیا کی Reliance Industries میں کرنے جارہا ہے۔ اس کے علاوہ 60 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری انڈیا کی آئل ریفائنری میں کرنے کا منصوبہ ہے، اس کے علاوہ بھی دیگر شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات عروج پر ہیں۔ دوسری طرف پاکستان-سعودی عرب تعلقات کشمیر کے مسئلے پر کشیدہ ہوچکے ہیں، کیونکہ بار بار کی درخواست کے باوجود سعودی عرب نے اس مسئلے پر او آئی سی کے اجلاس کو ٹالا، اور جب نچلی سطح کا اجلاس بلایا تو اس میں سعودی رویہ انتہائی افسوسناک تھا، جس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے اعتراض کیا۔ سعودی عرب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جوبائیڈن کے آنے سے امریکہ کے ساتھ اس کے ہنی مون کے رنگ میں بھنگ بھی پڑ سکتی ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ و وزارت خارجہ کےتدبرکا اب ایک اور امتحان ہے۔

Share this: