تحریک لبیک کے امیرعلامہ خادم حسین رضوی کی رحلت

Print Friendly, PDF & Email

ناموسِ رسالت کی خاطر فیض آباد کے دھرنوں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا
زندگی کو موت کی امانت قرار دیا گیا ہے، ماں کی گود سے زمین کی گود تک، جو مہلتِ کار ملی ہے، انسان اس دوران جو کارکردگی دکھاتا ہے، جن افکار و خیالات کی روشنی میں اپنی گفتار و کردار کو استوار کرتا ہے، وہی اس کی حقیقی جمع پونجی ہے، بعد از مرگ دنیا میں بھی اسے اس حوالے سے یاد کیا جاتا ہے اور قبر اور حشر میں بھی اس کی ابدی زندگی سے متعلق مالکِ یوم الدین، زندگی کی اس جمع پونجی کے مطابق اپنا فیصلہ صادر فرمائے گا۔ موت بہرحال ہر ذی روح کے لیے لازم ہے، دنیا میں جو آیا اُسے ہر صورت واپس جانا ہے ؎
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ خادم حسین رضوی بھی اپنی زندگی کی اننگ بھرپور انداز میں کھیلنے کے بعد جمعرات 19 نومبر کی شب داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انہوں نے زندگی کے آخری چند برس میں اپنے جاندار اور جرأت مندانہ کردار کی بدولت اندرون و بیرون ملک زبردست شہرت حاصل کی۔ ان کی عوامی مقبولیت کا آغاز 2011ء میں ممتاز قادری کی گرفتاری کے بعد شروع ہونے والی تحریک سے ہوا، جنہوں نے رسول اکرمؐ کی شان میں گستاخی کی ملزمہ آسیہ بی بی کی حمایت اور سرپرستی کرنے پر اُس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کردیا تھا اور عدالت نے اس جرم میں موت کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد رکوانے اور ممتاز قادری کی رہائی کی تحریک کو علامہ خادم حسین رضوی نے جاندار قیادت فراہم کی۔ اس مرحلے پر پیر محمد افضل قادری اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی بھی ان کے ہم رکاب تھے۔ بعد ازاں جب ممتاز حسین قادری کو سزائے موت دے دی گئی تو ان کے چہلم کے موقع پر قادری رہائی تحریک کو ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ کی شکل دے دی گئی۔ کچھ عرصہ اکٹھے چلنے کے بعد تحریک تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے بعض فیصلوں پر علامہ خادم حسین رضوی اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی میں اختلافات پیدا ہوگئے اور دونوں کی راہیں جدا ہوگئیں، جس کے بعد علامہ خادم حسین رضوی تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ اور واحد رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ انہوں نے 2017ء میں اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا اور جڑواں شہروں کے سنگم پر واقع فیض آباد میں زبردست دھرنا دیا، جسے ختم کرانے کے لیے بعض فوجی افسران نے کردار ادا کیا۔ اس دھرنے کے بعد ان کی تحریک لبیک نے سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کردیا۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے اُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے باعث لاہور کے حلقہ این اے 120 کی خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں ’’تحریک لبیک‘‘ نے اپنا امیدوار نامزد کیا اور قابلِ لحاظ ووٹ حاصل کیے۔ تحریک نے 2018ء کے عام انتخابات میں بھی ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی بہت سی نشستوں پر اپنے امیدوار نامزد کیے۔ تحریک کا پہلا انتخابی معرکہ ہونے کے باوجود اس کے امیدواروں نے خاصے ووٹ حاصل کیے اور سندھ اسمبلی میں دو نشستوں پر کامیابی بھی تحریک کے حصے میں آئی۔ ان انتخابات میں تین بڑی جماعتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بعد ووٹوں کے تناسب سے تحریک لبیک چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ اپنی وفات سے محض ایک ہفتہ قبل علامہ خادم حسین رضوی نے فرانس کے صدر کی جانب سے رسول کریمؐ کی شانِ اقدس سے متعلق گستاخانہ طرزعمل اختیار کیے جانے کے خلاف لیاقت باغ راولپنڈی سے اسلام آباد کی جانب تحفظ ناموسِ رسالتؐ ریلی نکالی اور ایک بار پھر فیض آباد میں دھرنا دیا۔ علامہ رضوی اپنی ناسازیِ طبیعت کے باوجود خود اس دھرنے میں شریک ہوئے اور اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے رہے۔ آخر حکومت نے مذاکرات کے بعد ان کا موقف تسلیم کیا اور باقاعدہ معاہدے کے نتیجے میں دھرنا ختم کیا گیا۔
علامہ خادم حسین رضوی ضلع اٹک کے ایک گائوں نگا کلاں میں ایک زمیندار گھرانے میں 22 نومبر 1966 ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے اسکول میں صرف چار جماعتیں پڑھی تھیں اور آٹھ سال کی عمر میں ضلع جہلم کی طرف طلبِ علمِ دین کے لیے رختِ سفر باندھا، اور مدرسہ جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں قاری غلام یٰسین صاحب سے حفظِ قرآن شروع کیا۔ آپ نے چار سال کے عرصے میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔ اُس وقت آپ کی عمر 12 سال تھی۔ پھر آپ نے ضلع گجرات کے قصبے دینہ میں 2 سال قرات کورس کیا۔ پھر آپ لاہور تعلیم کے لیے آئے ۔
1988 ء میں آپ نے دورہ حدیث مکمل کیا۔ آپ عربی کے ساتھ ساتھ فارسی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ نے پہلی ملازمت 1993 ء میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی، اور داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ پھر ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت تحریک چلانے کی وجہ سے آپ نے نوکری چھوڑ دی اور یتیم خانہ روڈ لاہور کے قریب واقع مسجد رحمۃ للعالمین میں خطابت کرتے رہے، اور ساری زندگی مشاہرہ صرف 15000 روپے لیتے رہے۔
آپ کی شادی اپنی چچا زاد بہن سے ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے 2 بیٹوں اور 4 بیٹیوں سے نوازا۔ بڑے صاحب زادے کا نام حافظ سعد حسین رضوی اور چھوٹے صاحبزادے کا نام حافظ انس حسین رضوی ہے۔ آپ کے دونوں بیٹے حافظِ قرآن ہیں اور درسِ نظامی عالم کورس کیا ہوا ہے۔
علامہ خادم حسین رضوی کو مطالعے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ وہ خود بتاتے تھے کہ دورانِ تعلیم درسی کتب کے علاوہ جن کتب کا مطالعہ کرتا تھا ان میں ڈاکٹر اقبال کا فارسی مجموعہ کلام سرفہرست تھا۔ 1988 ء میں کلیاتِ اقبال خرید لی تھی اور نوعمری میں ہی اس قلندر شاعر کے افکار کا مطالعہ شروع کردیا تھا۔
آپ فرماتے ہیں کہ گویا کہ اقبال کی روح نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اقبال کے کلام کے بعد علامہ اقبال کے شاعری کے استاذ مولانا روم علیہ الرحمہ کو پڑھا اور ان کے بیشتر کلام کو یاد کرلیا تھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے اقبال، مولانا روم اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی شاعری نے بہت زیادہ متاثر کیا، اور یہ حضرات عشقِ رسولؐ کے وہ جام پلاتے ہیں جنھیں پینے کے بعد کسی چیز کی حاجت نہیں رہتی، اور اردو شعراء میں اکبر الہ آبادی کی شاعری پسند تھی۔
علامہ رضوی سفرنامے بھی بہت پڑھتے تھے۔ انہوں نے حکیم محمد سعید اور مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کے تمام سفرنامے پڑھ رکھے تھے۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ ان کی اولین ترجیح تھی اور تمام مسلم سپہ سالاروں کی سیرت کا مطالعہ شوق سے کرتے تھے۔ آپ کہتے تھے کہ اسلام کے تمام سپہ سالار اپنی مثال آپ ہیں لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔
علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کا منظر بھی دیدنی تھا۔ ایسا منظر لاہور کی فضائوں نے کم ہی دیکھا ہوگا۔ ملک بھر سے ان سے محبت کرنے والوں کا ایک جم غفیر لاہور میں مینارِ پاکستان کے سبزہ زار میں امڈ آیا تھا، اور جب اس وسیع و عریض تاریخی سبزہ زار کا دامن تنگ ہوگیا تو عقیدت مندوں نے ملحقہ سڑکوں پر ہی صفیں سیدھی کرلیں۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد علامہ خادم حسین رضوی کو ملتان روڈ پر واقع ان کی مسجد و مدرسہ رحمۃ للعالمین کے بالمقابل مدرسہ ایوارڈ غفاری میں سپردِ خاک کیا گیا۔ قبل ازیں میت کو ایمبولینس کے ذریعے سبزہ زار سے مینارِ پاکستان گرائونڈ لایا گیا، جہاں پہلے ہی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ علامہ خادم حسین رضوی کی نمازِ جنازہ ان کے بیٹے حافظ سعد رضوی نے پڑھائی۔ سبزہ زار سے مینارِ پاکستان قریباً 9 کلومیٹر کا فاصلہ چار گھنٹے سے زائد میں طے ہوا۔ سڑک کے دونوں طرف اور چھتوں پر کھڑے لوگوں نے گاڑی پر پھول برسائے۔ تحریک کے رضا کاروں نے ایمبولینس سمیت سیکورٹی کے دیگر انتظامات مثالی انداز میں سنبھال رکھے تھے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بھی سیکڑوں کی تعداد میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
تحریک لبیک پاکستان کے نائب امیر اور علامہ خادم حسین رضوی کے بڑے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی کو نیا امیر بنادیا گیا۔ ان کی امارت کا اعلان مینارِ پاکستان میں نمازِ جنازہ سے قبل پیر سید ظہیر الحسن شاہ نے کیا، جس کا فیصلہ تحریک کی مجلس شوریٰ نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ جنازہ پڑھانے سے قبل حافظ سعد رضوی نے کہا کہ تحریک کے بانی سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے مشن کو جاری رکھوں گا، مرکزی شوریٰ نے جو ذمہ داری دی ہے اس کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا، تحفظِ ناموسِ رسالت کا ادنیٰ کارکن بن کر تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے پہلی صف پر ہوں گا۔ اس موقع پر انہوں جنازے کے شرکاء سے حلف لیا کہ وہ تحفظِ ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کے خادم رضوی کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے تحریک کے وفادار رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ علامہ خادم حسین رضوی کے فرزندِ ارجمند اور جانشین حافظ سعد حسین رضوی کو اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے، ملک میں اسلامی نظام کو غالب کرنے اور ختمِ نبوت و ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کے مشن کی تکمیل کی توفیق نصیب فرمائے۔
علامہ خادم حسین رضوی کا عظیم الشان جنازہ جہاں ان کے چاہنے والوں کی بے پناہ عقیدت کا اظہار ہے، وہیں یہ ملک کے اندر اور باہر اُن لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے جو پاکستان میں قانونِ توہینِ رسالت اور ختمِ نبوت کی آئینی ترمیم کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، اور اپنے بیرونی آقائوں کے اشاروں اور سرمائے کے بل بوتے پر ان قوانین کے خاتمے کے لیے شور بپا کیے رکھتے ہیں۔
nn

Share this: