’جادوئی کھمبی‘ سے آدھے سر کا درد بھی آدھا رہ جاتا ہے، تحقیق

Print Friendly, PDF & Email

امریکی طبی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ’جادوئی کھمبی‘ میں پائے جانے والے خصوصی مرکب ’سائیلوسائیبن‘ کی صرف ایک خوراک سے آدھے سر کا درد (مائیگرین) اگلے 15 دن تک نصف رہ جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ’جادوئی کھمبی‘ کا سائنسی نام ’سائیلوسائیبن مشروم‘ (psilocybin mushroom) ہے جو اسی نشہ آور مرکب کی موجودگی کے باعث اسے دیا گیا ہے۔
اگرچہ ’جادوئی کھمبی‘ (میجک مشروم) کا شمار منشیات میں کیا جاتا ہے، جبکہ اس کا استعمال بھی اکثر ممالک میں غیر قانونی ہے، لیکن حالیہ چند برسوں میں ہونے والی تحقیق میں سائیلوسائیبن کو مختلف دماغی، نفسیاتی اور اعصابی امراض کے علاج میں مفید پایا گیا ہے، جن میں تشویش (اینگزائٹی) اور اضمحلال (ڈپریشن) جیسی کیفیات بھی شامل ہیں۔ عشروں پر پھیلی ہوئی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مائیگرین کے بہت سے مریضوں نے سائیلوسائیبن کا نشہ کرنے کے بعد دردِ سر نمایاں طور پر کم ہونے کے بارے میں بتایا تھا، تاہم اس حوالے سے باضابطہ سائنسی تحقیق کی ضرورت باقی تھی۔ امید افزا نتائج کے باوجود ڈاکٹر شنڈلر نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے، لہٰذا جب تک اس حوالے سے کوئی تفصیلی اور فیصلہ کن مطالعہ نہیں کرلیا جاتا، تب تک سائیلوسائیبن کو مائیگرین کے علاج میں استعمال نہ کیا جائے۔

Share this: