سید مودودیؒ کے خطوط

Print Friendly, PDF & Email

زیر نظر کتاب مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نام لکھے گئے 96 خطوط کے جوابات پر مشتمل ہے، جس کو ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے بڑی خوش اسلوبی اور عمدگی سے مرتب کردیا ہے، اور مولانا کے مکاتیب پر مشتمل کتابوں کے سلسلۃ الذہب میں وقیع اضافہ کیا ہے۔ کتاب سید مودودیؒ کے فکری ورثے کے امین پروفیسر خورشید احمد کے نام معنون کی گئی ہے۔ ڈاکٹر انیس احمد تحریر فرماتے ہیں:
’’بیسویں صدی میں ربِّ کریم نے اپنی فراخیِ رحمت و کرم سے امت میں سے ایسے افراد کو کھڑا کیا جو اسے سیاسی، اخلاقی اور فکری انحاط اور زوال سے نکال کر تجدید اصول ِدین کے ذریعے مستقبل کی طرف لے جانے والے تھے۔ ان افراد میں بدیع الزماں سعید نورسیؒ، علامہ محمد اقبالؒ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور امام حسن البناؒ چار ایسی شخصیات ہیں جن کا اثر نہ صرف حال بلکہ آنے والی کئی صدیوں تک رہنا ایک فطری عمل ہے۔ امت کے ان چار ستاروں کی روشنی میں تازگی، امید اور ایسی حرکی قوت ہے، جو وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوسکتی۔ ان شخصیات کی فکر، اسلامی احیا کے تناظر میں اپنی گہرائی اور تازگی کی بنا پر آئندہ نسلوں کو فکر و عمل کے لیے سوچنے کے نئے زاویے فراہم کرتی رہے گی۔
اپنے علمی و فکری اثاثے کے ساتھ برعظیم کے علما نے اپنے تحریر کردہ خطوط کا بھی ایک قیمتی سرمایہ چھوڑا ہے۔ جن میں حضرت شیخ احمدؒ سرہندی، حضرت شیخ معصوم، حضرت شاہ ولی اللہ، علامہ شبلی، اقبال، ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے خطوط ان کی شخصیت کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
مولانا مودودیؒ کے خطوط، ان کی شخصیت اور فکر کی ابلاغی صلاحیت کا مظہر ہیں۔ ان کے خطوط کا مزاج داعیانہ ہے۔ مولانا تسہیل کے بادشاہ ہیں، وہ ملّا صدرا جیسے متکلمین کی سنجیدہ فکر کو بھی سلیس اردو کے کوزے میں بند کرکے اپنے قارئین کو حیرت زدہ کرسکتے ہیں۔ ان کے خطوط میں تحریر کی پختگی کے ساتھ بے ساختگی، اختصار، حاضر دماغی اور لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔
علامہ اقبال، مولانا عبدالماجد دریا بادی اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ انہوں نے اپنے چاہنے والوں کو خطوط کے جواب فوری دینے کا اصول برقرار رکھا، چاہے جواب میں صرف ایک سطری جواب ہی کیوں نہ دیا ہو۔ اپنی تمام تر علمی، تحقیقی، دعوتی اور سیاسی ذمہ داریوں کے باوجود مولانا نے بھی خط کے جواب میں تاخیر نہیںکی، حتیٰ کہ اپنی آخری علالت کے دوران میں جب وہ اپنے صاحبزادے کے گھر پر بفیلو (نیویارک) میں مقیم تھے اور خود جواب دینے میں تھکن محسوس کرتے تھے، خطوط کے جوابات زبانی لکھوا کر روانہ کرتے رہے۔ ان کی علالت کے دوران میں تقریباً ہر ویک اینڈ پر ان کی خدمت میں مجھے حاضر ہونے کا موقع ملا، اور کئی مرتبہ مولانا نے خطوط کے جواب مجھے املا کروائے۔
مولانا مودودیؒ کے خطوط کے کئی مجموعے اس سے قبل آچکے ہیں۔ برادرِ عزیز ڈاکٹر ظفر صاحب نے بڑی محنت سے ان خطوط کو یکجا کیا ہے، ان پر ضروری حواشی تحریر کیے ہیں، سوائے ایک خط کے تمام خطوط محترم مولانا کی فکر کے ٹھیرائو کی زندہ مثال ہیں۔
ان کی شخصیت میں اصولوں پر مفاہمت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ایسی شخصیات سے واقفیت، ان سے براہِ راست فیض، اور ان کی محبت آمیز تحریر کی مخاطبت خود ایک اعزاز سے کم نہیں۔ میرے نام خطوط میں وہ ہمیشہ مجھے انیس میاں لکھتے رہے، حتیٰ کہ ان کے انتقال سے کچھ قبل جب میں اور میری اہلیہ ان کی عیادت کے لیے بفیلو اسپتال گئے اور کمرے کے باہر سے میں نے دستک دی تو انہوں نے پوچھا کہ: ’’کون؟‘‘ میرا جواب تھا ’’میں ہوں‘‘۔ مولانا نے فوراً کہا ’’انیس میاں! اچھا آجایئے‘‘۔ جس سے معلوم ہوتا ہے بیماری کی حالت میں بھی میرا اپنا نام بتائے بغیر صرف آواز سن کے کہ ’’میں ہوں‘‘، ان کی یادداشت کے لیے کافی تھا۔
ایسے افراد سے قرب ایک بڑی نعمت ہے، جس پر انسان کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر ظفر صاحب کی یہ کاوش علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرے گی‘‘۔
ڈاکٹر سفیر اختر رقم طراز ہیں:
’’اس بات سے قطع نظر کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (1903ء۔ 1979ء) کی فکر و دانش سے کسی کو اختلاف ہو یا اتفاق، کوئی باخبر انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ انہوں نے مسلمانانِ برعظیم کی ایک قابلِ لحاظ تعداد کو متاثر کیا اور انہیں دینِ اسلام کی خاطر اجتماعی جدوجہد کی جانب راغب کردیا، اور یہ روایت اب ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہورہی ہے، بلکہ دنیا میں جہاں کہیں احیا و تجدیدِ اسلام کی کوئی تحریک اٹھتی ہے اس کی نظریں سید مودودیؒ اور ان کی تحریک کے فراہم کردہ لٹریچر پر پڑتی ہیں۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ ان کے قلم سے نکلے ہوئے ایک ایک جملے کو محفوظ کیا جائے اور ان کے ارشادات و بیانات کو مناسب انداز میں مرتب کردیا جائے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ان کے بعض عقیدت مند ذاتی طور پر اس کام میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے سید مودودی کے یہ مکتوبات یکجا کیے ہیں اور انہیں اپنے حواشی کے ساتھ پیش کررہے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر ظفر حسین ظفر لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودیؒ نے اپنی زندگی میں ہزاروں خط لکھے ہوں گے۔ اب تک ان خطوط کے درجن بھر مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان مجموعوں کے علاوہ بہت سے خطوط کتب و رسائل میں موجود ہیں، جو مدون نہیں کیے جاسکے، ایک بڑی تعداد مکتوب الیہم کے کاغذات میں دبی ہوئی ہے اور سید مودودی کے خطوط کے مرتبین میں سے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور پروفیسر نورور جان کے پاس بہت سے غیر مطبوعہ خطوط محفوظ ہیں۔
مولانا کے مکاتیب سے دلچسپی کے سبب راقم نے بھی خطوط جمع کرنا شروع کیے، اور تقریباً پانچ سال کی کوشش کے نتیجے میں زیرنظر خطوط فراہم ہوگئے، جو ضروری تدوین اور حواشی کے بعد زیر نظر مجموعے کی شکل میں پیش کیے جارہے ہیں۔
٭ مولانا غلام رسول مہر، چودھری غلام محمد، نذیر احمد قریشی، پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر انیس احمد کے نام تحریر کیے گئے اکثر خطوط مولانا کے دست نوشت ہیں، جب کہ دیگر خطوط ٹائپ شدہ ہیں، لیکن اکثر خطوں پر مولانا کے دستخط (ابوالاعلیٰ) ثبت ہیں۔ بعض خط ان کے معاونین میاں طفیل محمد، محمد سلطان، محمد اسلم سلیمی اور ملک غلام علی صاحب کے املا کردہ ہیں۔
٭زیر نظر خطوط میں سے راقم نے سات خطوط ’’ارمغانِ رفیع الدین ہاشمی‘‘ (مؤلف: خالد ندیم) میں، 32 خطوط مجلہ ’’الایام‘‘ شمارہ 9، جنوری تا جون 2014ء، اور 24 خطوط علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے تحقیقی پرچے ’’تعبیر‘‘ (شمارہ3) میں شائع کرائے، پھر یہی خطوط فرائیڈے اسپیشل کی اشاعت:22 تا 28 ستمبر اور 29 تا 5 اکتوبر 2017ء میں شائع ہوئے۔ جب کہ 13 خطوط ’’الایام‘‘ شمارہ 18 (جولائی۔ دسمبر 2018ء) میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ دو مکتوبات ماہ نامہ ’’آئینہ‘‘ (لاہور) کے شمارہ 12 (جلد 15، دسمبر 1970ء) میں شائع ہوچکے ہیں۔
٭خطوط کی ترتیب زمانی ہے، جو مکتوب سب سے پرانا ہے وہ ترتیب میں پہلے رکھا گیا ہے، اور اس کے ساتھ اس مکتوب الیہ کے سارے خطوط بھی ایک ساتھ شامل کیے گئے ہیں۔
٭ خطوط کا متن پیش کرتے ہوئے متداول املا اختیار کیا گیا ہے۔
٭ خطوں پر تاریخ انگریزی ہندسوں میں (مثال کے طور پر 26-6-66) درج تھی، یہ اندازِ تحریر مولانا کا نہیں، دفتری عملے کا تھا۔ راقم نے تاریخ اور سنہ ہندسوں، جب کہ مہینہ لفظوں میں بدل دیا ہے۔
٭ خطوط کے متن کو نقل کرتے وقت امکانی حد تک احتیاط برتی گئی ہے۔ بعض خطوط کرمِ کتابی کی نذر ہوئے۔ عبارت کا جو حصہ نہیں پڑھا گیا وہاں نقطے […..] لگا دیئے گئے ہیں، یا قلابین میں قیاسی الفاظ درج کیے گئے ہیں۔
متن کی تفہیم اور وضاحت کے لیے کہیں مختصر اور کہیں تفصیل سے حواشی و تعلیقات کا اضافہ کیا گیا ہے۔
کتاب کے آخر میں اشاریہ دیا گیا ہے جو خطوط کے متن اور حواشی پر مشتمل ہے۔
٭ خطوں میں سب سے پرانا خط 30 اکتوبر 1926ء کا، اور آخری خط 16 فروری 1979ء کا ہے۔ مکتوب الیہم کی فہرست میں بہت تنوع ہے۔ جناب نذیر احمد قریشی ان کے بے تکلف دوست تھے، جب کہ چودھری غلام محمد کا شمار ان کے معتمد ترین احباب میں ہوتا تھا۔ پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر انیس احمد سے تعلق تو پیرو مرید جیسا رہا۔ محمد انور عباسی سمیت دیگر احباب خطوط کے ذریعے اشکالات بیان کرتے اور مولانا یا ان کا کوئی معاون انہیں جواب دے دیتا تھا۔
٭جہاں تک ان خطوں کے مآخذ کا تعلق ہے، جناب پروفیسر خورشید احمد کی عنایت ہے کہ انہوں نے اپنے ذخیرۂ نوادر سے اپنے والد گرامی (جناب نذیر احمد قریشی) کے نام تین خطوط، اپنے نام 27، چودھری غلام محمد کے نام 13، ڈاکٹر انیس احمد کے نام 11، ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی کے نام 2، مولانا حبیب الرحمٰن کے نام ایک، اور سید محمودالحسن خانپوری کے نام ایک خط راقم کے سپرد کیے۔ بقیہ خطوط میں سے 18 خطوط جناب محمد انور عباسی، اور7 خطوط جناب سید عالم کیانی سے راقم نے براہِ راست حاصل کیے، جب کہ ڈاکٹر صابر آفاقی کے نام تحریر کردہ 2 خطوط اُن کے بھائی مخلص وجدانی، ڈاکٹر شیخ خالد محمود کے نام ایک خط ڈاکٹر عبدالکریم، مولانا محمد رفیق کے نام تین خطوط سجاد انور، غلام حسن شاہ کاظمی کے نام دو خطوط اُن کے بیٹے حضور امام ایڈووکیٹ، ماہنامہ ’’آئینہ‘‘ میں شائع شدہ دو خطوط حسن نواز شاہ، ڈاکٹر جمیل جالبی کے نام ایک خط ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور ’’معارف‘‘ میں چھپنے والا ایک خط ظہیر احمد کے توسط سے ملا۔ میاں محمد اکرم کے نام ایک خط اصل حالت میں ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور عکس جناب ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کے توسط سے، مفتی محمد رضا انصاری کے نام ایک خط جناب حسن نواز شاہ، اور ایک خط اعجاز الحق قدوسی کی آپ بیتی: ’’میری زندگی کے پچھتر سال‘‘ سے حاصل ہوا۔ خطوط کی ترتیب آخری مراحل میں تھی کہ جناب حسن نواز شاہ نے مولانا کے ایک قدیم خط کی دریافت کی اطلاع دی۔ شاہ صاحب نے حواشی و تعلیقات کے ساتھ یہ خط راقم کے حوالے کیا، جو ضمیمہ کے زیر عنوان شاملِ کتاب ہے۔ ان تمام احباب کا میں بہ صمیمِ قلب شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
ڈاکٹر ظفر حسین ظفر مزید لکھتے ہیں:
’’بیسویں صدی چراغِ مصطفوی اور شرارِ بولہبی کے درمیان کشمکش سے عبارت رہی ہے۔ اس صدی میں انگریزوں اور ہندوئوں کی سیاسی بالادستی کے خاتمے کے لیے مسلمانوں کے اندر اپنی الگ شناخت قائم کرنے کا احساس ایک تحریک کی صورت منظم ہونا شروع ہوا تو ایک جانب مسلمانوں کے لیے حقوق و مراعات کے حصول کی تحریک جلوہ گر ہوئی، تو دوسری طرف فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا شدید احساس بھی پیدا ہوا۔ مغربی تہذیب اور انتہا پسند ہندو تحریکوں کے مقابل فکرِ اسلامی کے احیا کی منظم اور مربوط کوشش دراصل شہدا علی الناس کی تاریخی کشمکش کا اظہاریہ تھی۔ علامہ شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی، ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال اور آخر میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اسی کہکشاں کے ساتھ وابستہ رہے جس نے قرآن کے حرکی تصور کو عام کیا اور مسلم نوجوانوں کو حوصلہ ہوا کہ وہ خود اعتمادی سے اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکیں۔ سید مودودی نے اس سارے فکری اثاثے کو ایک مربوط نظام، منظم تحریک اور ملّی نظام تربیت کی شکل دی۔ ڈاکٹر خالد علوی کے مطابق: میرا تھیسس( thesis) ہے کہ پیغمبرانہ فریم ورک کا بنیادی نکتہ فرد کی روحانی اصلاح اور معاشرے کی عادلانہ تشکیل ہے۔ افسوس خلافتِ راشدہ کے بعد یہی نکتہ نظرانداز کردیا گیا۔ حضرت حسینؓ کی کا وش اس نقطہ نظر کو دوبارہ قائم کرنا تھا۔ ان کی شہادت سے یہ فریم ورک نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اس پیغمبرانہ فریم ورک کے احیا کی فکری اور عملی کوشش سید مودودی کی فکر اور ان کی بپاکردہ تحریک ہے، اس فضیلت میں ان کا کوئی شریک نہیں‘‘۔ (ترجمان القرآن۔ مئی2004ء،ص:461)
سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے علمی اور فکری کام کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اُس کے ابعاد اور آفاق کی وسعتوں کا احاطہ اس تعارفی شذرے میں ممکن نہیں ہے۔ انھیں بارگاہِ حق سے بیان اور اظہار کی ایسی قوت عطا ہوئی تھی کہ جب وہ گنجلک اور پیچیدہ علمی مسائل کی گرہیں کھولتے تو تفہیم و تعبیر کے نور سے قلب و ذہن منور ہوجاتے تھے۔ مولانا کوئی گوشہ نشین زاہد خشک اور مریدین کے مخصوص حلقے میں اسیر نہیں تھے، بلکہ وہ ایک مجلسی انسان تھے۔ ’5۔ اے ذیلدار پارک‘ کی عصری مجالس میں صلائے عام تھی، نہ کوئی پہرہ، نہ دربان، نہ پروٹوکول۔ عام آدمی سے لے کر وقت کے حکمران تک، ہر ایک کے لیے اچھرہ کے سبزہ زار سے علم و آگہی کی شمعیں فروزاں رہتی تھیں۔ ان کی عصری مجالس تک رسائی نہ پانے والے قلم و قرطاس کے ذریعے روشنی حاصل کرتے تھے۔
مولانا کے مکتوب الیہم کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ اردو، انگریزی اور عربی تینوں زبانوں میں مکتوب نگاری کا بڑا ذخیرہ ہے، جس کی دریافت کا سفر ابھی جاری ہے۔ خط لکھنے والوں میں معاصرمسلم اور غیر مسلم علمی شخصیات شامل تھیں۔ شاید ہی کوئی شخص جواب سے محروم رہا ہو۔ ہر خط میں علم و آگہی اور زندگی کے کسی نہ کسی عملی و نظری مسئلے پر ایسے دلائل دیئے گئے ہیں کہ انسانی ذہن اُن کی گرفت میں آئے بغیر رہ نہیں سکتا۔
مولانا کے مکتوب الیہم کا دائرہ آزاد کشمیر کے دور افتادہ علاقوں سے لے کر امریکہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس تناظر میں ان خطوں کے موضوعات بھی بہت اہم اور بنیادی ہیں: معوذتین، ایصالِ ثواب، شفاعت، پوتے کی وراثت، سود، انعامی اسکیمیں، رباء الفضل، پراویڈنٹ فنڈ، رکعاتِ تراویح کی تعداد، فرض نماز کے بعد نوافل کی ادائی، غیر آباد مسجد کے سامان کی منتقلی، ختمِ نبوت، ترسیلِ انبیا، نظامِ تعلیم، نصابِ تعلیم، سیدہ کا غیر سید سے نکاح، سانحہ مشرقی پاکستان، امریکہ اور برطانیہ میں دعوتی سرگرمیاں، جماعتی اختلافات، نزاعی امور اور آزاد کشمیر میں جماعت کا قیام، جیسے موضوعات پر فکر و خیال کے اتنے چراغ روشن کیے گئے ہیں کہ نصف صدی ہونے کو ہے، ان کی لَو میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔
کتاب سفید کاغذ پر خوب صورت طبع کی گئی ہے۔
nn

Share this: