اسرائیل کے عزائم

Print Friendly, PDF & Email

948ء سے 1972ء تک نہ جانے امن و صلح کی کتنی تجاویز بین الاقوامی سیاسیات کے مختلف حلقہ ہائے فکر سے پیش کی گئیں۔ مختلف ممالک نے مختلف اوقات میں یہ تجاویز پیش کیں، لیکن اسرائیل نے ایک نہ سنی۔ وہ بظاہر یہی تاثر دیتا رہا کہ وہ پیغام صلح کا علَم بردار ہے لیکن عملاً اس کی نفی کرتا رہا۔
انکارِ صلح کے بہت سے اسباب تھے۔ ایک تو بین الاقوامی مسیحی سازش، اسرائیل کی پشت پناہی اور پسِ پردہ سفاکی کی ترغیب۔ دوم: خود عرب ممالک کی باہمی رقابت، کشمکش، افتراق اور عدم اخلاص۔
گزشتہ ربع صدی کے اندر بین الاقوامی سطح پر قضیۂ فلسطین کے حل کی تلاش جاری رہی، مختلف تجاویز منظرعام پر آئیں، جو یا تو ناکام ہوئیں یا ان پر عمل نہیں ہوسکا، یا انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ ان تجاویز کی ناکامی کے 6 بین الاقوامی اسباب تھے:
-1 اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے عرب حکومتوں کی بے بسی اور اپنے ضعف کو دور کرنے کی عدم استطاعت۔
-2 اسرائیلی چیلنج کا مقابلہ کرنے اور اہلِ فلسطین کی مدد کے عوامی مطالبے سے عرب حکومتوں کا گریز۔
-3 عرب حکومتوں کے اس بنیادی ضعف سے اسرائیل اور اس کے مغربی حلیف کا استفادہ، نیز مفتوحہ علاقوں میں تحریک تہوید کے منصوبوں کی تکمیل۔
-4 بنیادی ضعف سے باخبر عرب حکومتوں کا بین الاقوامی تصفیے پر اعتماد اور اسرائیل کو فنا کردینے کے پُرفریب نعروں کے ذریعے عوامی جذبات کی تفنید۔
-5 مصالحت کے لیے بظاہر اسرائیلی رضامندی، لیکن بباطن (نہ جنگ نہ امن) کی صورتِ حال سے استفادہ۔
-6 عربوں کی باہمی رقابت و سازش اور تلاشِِ حل سے گریز۔ اقتدار میں رہنے کے لیے عرب حکومتیں صرف یہ کوشش کرتی رہیں کہ فلسطین کا قضیہ بین الاقوامی سطح پر زندہ رکھا جائے، بیرونی مصالحت کا سہارا لیا جائے، اقوام متحدہ پر اعتماد ظاہر کیا جائے تاکہ ان کی اصل نیتیں عوام سے پوشیدہ رہیں۔ حالانکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ وہ خفیہ معاہدات کرچکی ہیں اور انہی پر عمل پیرا ہیں۔
اسرائیل کی پروپیگنڈہ مشنری اس قدر طاقتور رہی کہ وہ موقع کے مطابق اپنی پالیسی کا پروپیگنڈہ کرتی رہی۔ جنگ کو کبھی زیست کی کشمکش (War of Survival) قرار دیا اور کبھی اسے اسرائیل کی مجبوری (No choice Slogan) وغیرہ ظاہر کی۔ 1967ء کی فتح کے بعد اسرائیلی مؤقف میں عظیم تبدیلی آئی۔ اُس نے شیر کی طرح اعلان کیا کہ یہ جنگ زیست کی جنگ نہ تھی بلکہ بین الاقوامی نفسیات پر فتح مندی کے لیے تھی۔ اسرائیل نے اس فتح سے سیاسی فوائد حاصل کیے۔ مفتوحہ علاقوں کی واپسی کا سوال ہی ختم کردیا۔ موشے دایان نے اعلان کردیا کہ اسرائیل کی سرحدیں خود اہلِ اسرائیل متعین کریں گے، ہماری قدیم نسل 1949ء کی سرحدوں تک پہنچی تھی، نئی نسل 67ء کی 6 روزہ جنگ میں سوئز، عمان اور مرتفع گولان تک پہنچ گئی۔ یہ ابتدا ہے انتہا نہیں، اسرائیل اب جنگ بندی سرحدوں سے پرے دیکھ رہا ہے، یہ سرحد عمان سے آگے تک جائے گی، لبنان بلکہ وسطی شام تک پہنچے گی۔ دیگر اقوام جنگوں کے بعد پیچھے ہٹتی ہیں، اسرائیل آگے بڑھتا ہے۔ وہ نئی سرحدوں کی تلاش نہیں ہے۔ مفتوحہ علاقے اب اسرائیلی مقبوضات ہیں۔ موشے دایان کی طرح وزیراعظم گولڈامیر بھی اعلانات کرتی رہی، اس نے فلسطینی عربوں کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا۔ ان عزائم اور بیانات کے بعد مصالحت اور شرائط کی کیا وقعت اہلِ اسرائیل کی نظروں میں ہوسکتی ہے؟ صدر ٹرومین کی طرح صدر نکسن کی یہود نواز پالیسی نے ہر طرح اسرائیل کی پشت پناہی کی۔ عسکری اور اقتصادی امداد کے ذریعے اسے اور شیر بنادیا۔
قاری کو یاد ہوگا کہ شرق اوسط میں فرانسیسی اور برطانوی رقابت نے بھی ریاست اسرائیل کو وجود میں لانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اب مڈل ایسٹ کی بین الاقوامی سیاسیات میں یہی رقابت امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اس درجہ بڑھی کہ دونوں مڈل ایسٹ میں یہودی مسئلے کو اپنے لیے سیاسی و عسکری چال یا دائو (Strategy) کا مسئلہ تصور کرنے لگے۔ ابتدا میں برطانیہ یہود کو اپنے لیے اسٹریٹجی تصور کرتا تھا۔ اب امریکہ کرنے لگا۔
اسی بین الاقوامی سیاسی کشمکش سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل نہ تو اقوام متحدہ کوخاطر میں لاتا ہے، نہ ہی امن مذاکرات کی پروا کرتا ہے۔ عالمی رائے عامہ کی اہانت اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے کہ اقوام متحدہ میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ منظور کی جانے والی تجاویز بھی اس کی نظر میں بے وقعت ہیں۔ مثال کے طور پر اسرائیل فلسطینی عربوں کے وجود کو ہی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، جب کہ خود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 8 دسمبر 1970ء کو نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق تسلیم کیے، ان کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا، بلکہ ان کی جدوجہدِ آزادی اور واپسیِ وطن کے مطالبے کو قانونی (Legal) بھی قرار دیا۔ 6 دسمبر 1971ء کو اقوام متحدہ نے تجویز نمبر 2787 بھی اسی سلسلے میں منظور کی تاکہ اہلِ فلسطین کی قومی شخصیت مسلّم رہے۔ اسرائیلی انکار کی وجہ سے آزادیِ فلسطین کی تحریک PLO نے ہمیشہ ایسی امن تحریک کی مخالفت کی جس میں اہلِ فلسطین کو محض پناہ گزین کی حیثیت دی گئی ہو، یا ان کی قومیت کا اعتراف نہ کیا گیا ہو۔ امن و صلح کے جملہ مذاکرات میں اسرائیلی مطالبہ ایک محور پر مرکوز رہا یعنی عرب اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔
(پروفیسر سید حبیب الحق ندوی،’’فلسطین اور بین الاقوامی سیاسیات‘‘۔صفحہ:395تا 398 ، سن اشاعت :1976ء)

Share this: